بزدلی نے غیرت کا پرچم اٹھا رکھا ہے


farnoodزندگی اتنی بے وقعت چیز نہیں ہوتی کہ مرنے کی آرزو کی جائے۔ فرد اپنی ذات میں آزاد ہے، وہ اپنی خوشی سے خود کشی بھی کرلے تو کون روک سکتا ہے۔ افسوس مگر یہ ہے کہ سماج میں غیرت کے تمغے اکثر انہی سینوں پہ سجے ہیں جن کے اندر دھڑکتے دل ما یوسی کی آماج گاہیں ہیں۔

خود ہی دیکھ لیں۔!

یہاں ہر دوسری زبان پہ ایک جملہ ’’میں منافق نہیں ہوں‘‘ ملے گا۔ اب اس ’’منافق نہیں ہوں‘‘ کا مطلب یہ دریافت کیا گیا ہے کہ اپنا ہی پیٹ ننگا کر کے شہر کے سب سے بڑے چوک پہ کھڑے ہو جاؤ۔ ایک کے بعد ایک بوسیدہ کترنیں نکال کر پیر قحبہ کی طرح چیخو چلاو۔ خاندان بھر کے گندے کپڑے اٹھاؤ اور نہر والے پل پہ بونس سے دھلائی شروع کر دو۔ اسی سے ملتا جلتا ایک زعم ’’بھئی میں تو سچ بولتا ہوں اور جو بات ہو منہ پہ بول دیتا ہوں‘‘ کا بھی لاحق ہے۔ یہ جملہ جب کبھی کسی کے منہ سے سن لوں مجھے اندیشہ ہائے دور دراز لاحق ہوجاتے ہیں۔ فکر دامن گیر ہوجاتی ہے کہ کہیں تہذیب سے عاری کسی شخص سے تو واسطہ نہیں پڑ گیا؟ آپ کا مجھے علم نہیں ہے، مگر میرا تجربہ یہ ہے کہ اس طرح کے زعم میں مبتلا اکثریت انہی کی ہے جن کو ان کے بڑوں نے بولنا تو سکھا دیا ہے، مگر یہ نہ سکھا سکے کہ کب کہاں کیا اور کتنا بولنا ہے۔ اور یہ کہ بولنا بھی ہے کہ نہیں بولنا۔ چنانچہ سچائی کے اضافی جراثیم کے شکار یہ سچے افراد بے موقع و بے محل کچھ بھی در فنطنی چھوڑ کر آپ بھی شرمسار ہوتے ہیں دوسروں کو بھی کر دیتے ہیں۔ اس سچ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے معاشرتی مسائل کو وہ خدا کی طرف سے آزمائش سمجھ کر اور بھی بلند آہنگ کے ساتھ سچ بولنا شروع کردیتے ہیں۔ یہ دراصل خالص ڈھیٹ پن ہوتا ہے جسے وہ اپنے تئیں الولعزمی کا جامہ پہنا رہے ہوتے ہیں۔ انسان تو تہذیب کے دائروں میں بہت سلیقے سے چلتے حیوان کا نام ہے۔ اگر اس کا برتاؤ غیر مربوط ہوجائے، تو سماج کا رنگ اتنا ہی بے نور ہوتا ہے جتنا کہ ہم بھگت رہے ہیں۔

اب بات چل ہی پڑی ہے تو سنتے جائیں۔!

یہاں طنزومزاح کے نام پہ بھی کئی بازار گرم ہیں۔ اس بازار کا درجہ حرارت بھی جیکب آباد سے کسی طور کم نہیں۔ وہ لکھنے والے ہوں کہ اداکار ہوں، سبھی نے ایک اصول بنا رکھا ہے کہ ہم ہر اصول روند ڈالیں گے۔ اصرار یہ کہ انہیں مشتاق یوسفی کا سایہ، ابن انشا کا ثانی، چارلی چپلن کا عکس اور معین اختر یا لہری صاحب کا نعم البدل مان لیا جائے۔ اب انہیں کون سمجھائے کہ بھد اڑانے میں اور مذاق اڑانے میں کیا فرق ہوتا ہے۔ پھر یہ کون سمجھائے کہ مذاق اڑانے میں اور مذاق کرنے میں اتنا فرق تو کم از کم روا رکھنا چاہیئے جتنا فرق معین اختر اور عمر شریف میں ہے۔ یا پھر اتنا فرق کہ جو مذاق اور مزاح میں میں ہے۔ کیا آپ اسے المیہ نہیں سمجھیں گے کہ طنز ومزاح جیسی لطیف و ظریف حِس کے ساتھ ’’یار میرا سینس آف ہیومر بہت اچھا ہے‘‘ کہہ کر کھلواڑ کیا جاتا ہے؟

آمدم برسر مطلب۔!

ہمارے کچھ دوست جنہیں حالات نے مسلسل اذیت میں مبتلا رکھا ہوا ہے۔ اوپر تلے حادثات و واقعات کے سبب ان کے لاشعور میں خود کشی کے رجحانات بڑھتے جا رہے ہیں۔ موت کی انہیں تلاش ہے، مگر کوئی صورت نظر نہیں آتی کوئی امید بر نہیں آتی۔ اب ثروت حسین یا شکیپ جلالی تو ہر کوئی ہوتا نہیں، تو یہ مہذب لوگ مرنے کے ایک دوسرے طریقے کی آرزو رکھتے ہیں۔ وہ کیا؟

وہ یہ کہ۔!!

’’کوئی آئے، ہمیں مار دے‘‘

ایسا کیوں۔؟

کیونکہ ہم دراصل بزدل واقع ہوئے ہیں۔ یہ جو حالات درپیش ہیں، ان کا سامنا کرنے سے ہم عاجز آچکے ہیں۔ حادثات نے ہمارے اعصاب چٹخا دیئے ہیں۔ ہم مرجانا چاہتے ہیں اور مرنا ہمارے لیے آسان ہوگیا ہے۔ مگر اس طرح کہ غیرت کی کوئی مثال قائم کر کے مرا جائے۔ قحبہ خانوں کے جھنجھٹ جو لوگ نہیں پال سکتے وہ عشقِ مسلسل کے سایہِ ذوالجلال میں جنسی تسکین کا سامان کرتے ہیں۔ دوست بنایئے، اظہار کیجیئے، موقع دیکھیئے، کام اتاریئے اور یہ جا وہ جا۔ اپنا کام پورا تیل لینے گیا نورا۔ جذبات و احساسات کی اس قدر شائستگی سے تذلیل کرنے والی نستعلیق ہستیوں سے وہ ادھڑا گریبان اوباش کہیں بہتر ہے جو کوٹھوں کی رہداریوں میں پایا جاتا ہے۔ نائن الیون کے بعد کے حالات میں جگہ جگہ غیرت مندوں کی بریگیڈیں پیدا ہوئیں جو ’’میں ڈرتا ورتا تو کسی کے باپ سے بھی نہیں ہوں‘‘ کا بھاشن دیتی پھرتی ہیں۔ غیرت مندوں کے یہ جتھے مسلک فرقے علاقے عقیدے اور نظریئے سے بالاتر ہیں۔ مائیک ہاتھ لگ جائے تو ہتھے سے اکھڑ جائیں گے قلم مل جائے تو خون تھوکنے لگتے ہیں۔ کیا یہ واقعی کسی سچ کا ابلاغ چاہتے ہیں؟ اگر یہ سچ کا ابلاغ ہی چاہتے ہیں تو پھر مرنا کیوں چاہتے ہیں؟ حق اور سچ کے لئے مر جانا ضروری ہوتا ہے کہ زندہ رہنا ضروری ہوتا ہے؟ نہیں سمجھے؟

دیکھیں۔!

بدلحاظی اور بد تہذیبی کو بے باکی نہیں کہتے۔ مناظرے اور مباحثے کو مکالمہ نہیں کہتے۔ سر جس پہ نہ جھک جائے اسے در نہیں کہتے۔ ہر در پہ جو جھک جائے اسے سر نہیں کہتے۔ ٹھیک اسی طرح موت کی تلاش میں نکل جانے کو غیرت بھی نہیں کہتے۔ پھر اس ’’غیرت‘‘ کے زیر اثر چھیڑے گئے بے محل اور بے وقت کے راگ کو سچ بھی نہیں کہتے۔

بات یہ ہے کہ۔!!

آپ کتنے ہی بڑے عالم فاضل کیوں نہ ہوں، اگرمارے جانے کو آپ غیرت کی سند سمجھتے ہیں تو آپ دراصل مایوسی کی انتہا پہ کھڑے ہیں۔ نتائج سے صرف نظر کرکے کچھ بھی کہہ دینے اور لکھ دینے یا پھر کچھ بھی کر گزرنے کو آپ ہمتِ مرداں سمجھتے ہیں تو جان لیجیئے کہ آپ بہت ہی سہولت سے اس مقصد کی توہین کیے جارہے ہیں جس کے لئے مرنے کا آپ دعوی رکھتے ہیں۔ اگر صرف اپنے حصے کا بے سمت سچ ہی کہہ دینا چاہتے ہیں اور اس کے اچھے برے اثرات سے بے فکر رہنے کو بے نیازی کہتے ہیں تو سمجھ لیجیئے کہ آپ تدبیر جیسے اہم ترین فریضے سے مجرمانہ حد تک غافل ہو چکے ہیں۔ کبھی عرض کیا تھا، مکرر عرض کیے دیتے ہیں کہ فرد کا پہلا کلمہ روٹی ہوتا ہے۔ روٹی کا مسئلہ حل کردیں تو خود کشی اور خود کش حملے دونوں ہی قابو میں آجائیں گے۔ یعنی وہ خود کشی ہو کہ خود کش حملہ، دونوں کے پیچھے مایوسی کار فرما ہے۔ اب ستم دیکھیئے کہ جو کسی دوسرے کا نقصان کیے بغیر فقط اپنی جان کو پنکھے پہ ٹانگ دیتا ہے، وہ حرام کی موت مرا۔ جو اپنے ساتھ سینکڑوں معصوم جانیں لے گیا وہ شہادت کی موت مرا۔ یعنی انسانی معاشرے میں مایوس لوگوں کا ایک ایسا ٹولہ بھی ہے جو مایوسی کے بعد بھی موت کا کوئی باعزت راستہ تلاش کرتا ہے، خواہ اس کے لیے ایک جہان کیوں نہ اجاڑنا پڑے۔ یہی معاملہ ہمارے زندہ غیرت مندوں کا ہے جو دراصل مایوسیوں کے نگر میں ایک ایسی موت کا انتظار کر رہے ہیں جو جان لے لینے کے بعد طالبان کی طرح ذمہ داری بھی قبول کرے۔ جو لوگ حالات سے شکست تسلیم کر کے ہمت ہار گئے ہیں، ان کی زندگی کا واحد مقصد خود کشی رہ گیا ہے۔ اسی مقصد کے حصول میں وہ غیرت کے پیامبر بن گئے ہیں۔ اس غیرت کی کوکھ سے مسلسل مایوسی جنم لے رہی ہے جو اس خود کشی کو خود کش حملہ بنا رہی ہے۔ ان کا سفینہ تو ڈوبا ہے یہ صنم کو بھی لے ڈوبنا چاہ رہے ہیں۔ کوئی تو ہو جو ان سے کہے کہ اگر آپ واقعی سماج کا بھلا چاہتے ہیں تو ایک مہربانی کر دیجیئے۔ قلم اور مائیک چھوڑ دیجیئے، کیمرے کی جان بخش دیجئے، دودھ کی ایک مناسب سی دکان کر لیجیئے۔ اپنے اندر کی مایوسیوں کا زہر سماج میں بانٹنے پھرنے سے کہیں بہتر ہے کہ ملاوٹ والا دودھ بیچ لیا جائے۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “بزدلی نے غیرت کا پرچم اٹھا رکھا ہے

  • 26-05-2016 at 2:37 pm
    Permalink

    ﺳﺮ ﺟﺲ ﭘﮧ ﻧﮧ ﺟﮭﮏ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﺳﮯ ﺩﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮩﺘﮯ
    ﮨﺮ ﺩﺭ ﭘﮧ ﺟﻮ ﺟﮭﮏ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﺳﮯ ﺳﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮩﺘﮯ
    شاید یہی وہ رویہ ہے جسکا سماج میں فقدان ہے۔

Comments are closed.