مُلا ہیبت اللہ خون بہانے کی دھمکی دیتا ہے


Rizwan Saleemiہر طرف شور برپا ہے کہ افغان طالبان کا امیر ملا منصور بلوچستان میں ایک ڈرون حملہ میں مارا گیا، ہر چینل پر حب الوطنی سے سرشار اینکرز کو قومی غیرت کے دورے پڑنے شروع ہو گئے، کسی نے کہا کہ امریکہ کی ہمت کیسے ہوئی پاکستان کی سرحد میں ڈرون حملہ کرنے کی، اور ایک دیوانے سیاستدان نے وہی کہا جس کی اس سے امید تھی کہ ڈرون حملوں سے کچھ حاصل نہیں۔

میں چینل پر چینل چینج کرتا گیا لیکن کسی بھی چینل پر مجھے کوئی بھی اینکر یہ کہتے ہوئے نہیں ملا، کہ آخر ملا منصور جیسے لوگ پاکستان سے ہی کیوں پکڑے یا مارے جاتے ہیں۔ لیکن پھر مجھے ڈیجا وو کی کیفیت کا احساس ہوا، یعنی ایسا تو پہلے بھی ہو چکا ہے، جب بیت اللہ محسود ڈرون حملے میں مارا گیا تب بھی کچھ ‘یہودی ایجنٹ’ لبرلوں کے علاوہ کسی نے کوئی سوال نہ کیا۔ حکیم اللہ محسود کی موت پر بھی کئی لوگوں نے بین کیا لیکن سوال کوئی نہ پوچھا۔

پھر جب اسامہ بن لادن چراغ تلے اندھیرے کی مثال کو زندگی دیتے ہوئے ایبٹ آباد سے برآمد ہوا تو تب بھی سب سوال قومی غیرت اور خودمختاری کے گرد ہی گھومتے رہے۔

اسامہ بن لادن کی برآمدگی اور موت سے پہلے اور بعد میں طالبان لیڈرز کی ڈرون حملوں میں ہلاکت کی کئی مثالیں ملتی ہیں۔ لیکن ہر بار پاکستانیوں کی اکثریت کا بیانیہ ایک جیسا ہی رہا ہے، ان پاکستانیوں کے بیانیہ کو نا کوئی دبئی چوک اور آر اے بازار کے حملوں میں چیتھڑے ہوتے جسم بدل سکے ہیں، نہ ہی اے پی ایس کے معصوم بچے۔

آخر یہ اینکر خواتین حضرات چیخ چیخ کر ارباب اختیار اور ہمارے محافظوں سے یہ سوال کیوں نہیں کر رہے کہ یہ ملا منصور جیسے لوگ پاکستان میں کیسے آزاد گھوم رہے ہیں۔

پاکستانیوں کو ایک بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیئے کہ طالبان کی اکثریت امن نہیں چاہتی، وہ عام ہنستے کھیلتے متوازن اور معتدل معاشرے کا حصہ نہیں بننا چاہتے، پاکستانی ریاست سوات میں ایسا ایک تجربہ کر کے دیکھ چکی ہے، جب حکومت پاکستان نے صوفی محمد کے ساتھ معاہدہ کیا اور سوات میں شریعت نافذ کر دی گئی۔

اب وہ شریعت کس فرقہ کی تشریح کے مطابق تھی؟ خدا جانے لیکن اس نظام میں انسانیت نام کی کوئی چیز نہ تھی۔ اس معاہدہ کے ساتھ جو ہوا اور جس طرح سے طالبان نے ہتھیار نہ پھینکے اور آخر کار پاک فوج کو وہاں آپریشن کرنا پڑا، سب جانتے ہیں۔ اس معاہدے کی کاپی انٹر نیٹ پر موجود ہے، وقت ملے تو پڑھیں، اگر نہ سمجھ آئے تو تحریک انصاف کی رکن شیریں مزاری سے پوچھ لیں، جو کہ اس معاہدے کے حامیوں کے ہراول دستے کی رکن تھیں۔

اس معاہدے سے اچھی ڈیل طالبان کو نہیں مل سکتی تھی، لیکن وہ سب کچھ بھی ان کے لئے ناکافی تھا۔

طالبان کی جنگ ایک طرز زندگی کے خلاف ہے، جس طرز زندگی میں عورتیں بھیڑ بکریاں نہیں سمجھی جاتیں، جہاں عورت اور مرد دونوں تعلیم کے حصول سے اپنی تقدیریں بدلتے ہیں، جہاں مسلم و غیر مسلم کا فرق بے جا کی نفرتیں پیدا نہیں کرتا، جہاں انفرادیت کو قبول کیا جاتا ہے، ان سب باتوں میں سے کسی ایک پر بھی آپ کسی مذہبی جنونی طالب کو رام نہیں کر سکتے۔

تو اب آپ لوگوں کے ذہن میں سوال اٹھ رہا ہو گا تو کیا ڈرون حملے اس مسئلہ کا حل ہیں؟ جی بالکل نہیں لیکن یہ بھی تو سوچیں کہ پاکستانی ریاست ایسے عناصر کو کیوں پناہ دیتی ہے؟

کیوں منور حسن کہتا ہے کہ میں تو طالبان سے لڑنے والے پاک فوج کے جوانوں کو شہید نہیں سمجھتا؟ کیوں ایک مولوی پاکستان کے دارالحکومت میں ایک مدرسہ بنائے بیٹھا ہے جس کی لائیبریری اسامہ بن لادن کے نام پر ہے۔ کیوں جمعہ کے خطبوں میں فرقہ وارانہ اعلانات ہوتے ہیں؟ کیوں اور کیسے اے پی ایس پر حملہ کرنے والے طالبان حملہ سے ایک دن قبل اسی سکول کی قریبی مسجد میں آکر پناہ لیتے ہیں؟

یہ چند سوال ہیں جو کہ ہر پاکستانی کو اپنے آپ سے بھی پوچھنے کی ضروروت ہے۔ ڈرون اٹیک میں مارے جانے والے طالبان لیڈرز کے علاوہ آج تک ریاست پاکستان نے کتنے ہائی ویلیو طالبان لیڈر پکڑے ہیں؟ جواب ملے تو مجھے ضرور بتائے گا۔

ملا منصور تو مر گیا لیکن اس کا جانشین بھی منظر عام پر آ گیا، اس کے جانشین نے آتے ہی ایک تقریر کی جس میں اس نے کہا ہے، ذرا غور سے پڑھنا ہے آپ نے پاکستانیو “ہم نے آنسو نہیں خون بہانا ہے”۔

اسی لئے میرے وہ ہم وطن جو اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ طالبان کسی دن ٹیبل پر بیٹھ کر مذاکرات کریں گے، اپنے خیالات کو درست کر لیں۔ طالبان کا نظریہ انسانیت کی نفی ہے، اب فیصلہ آپ نے کرنا ہے کہ آپ صابن، تیل، سرف، موبائیل بیچتے قومی غیرت کے ٹھیکیدار اینکرز کی ہی سنتے رہیں گے یا کھل کر ریاست، حکومت یا اسٹیبلشمنٹ سے وطن عزیز میں طالبان اور ایسے دوسرے عناصر کی موجودگی پر سوال اٹھائیں گے؟

ضرورت اس امر کی ہے کہ طالبان اور ان جیسے دوسرے جنونی گروہوں کے خلاف ایک طاقتور معتدل معاشرتی بیانیہ سامنے لایا جائے، حکومت اور اسٹیبلشمنٹ ان عناصر کے خلاف بوقت ضرورت کارروائی کرے، تا کہ پوری دنیا میں یہ پیغام جائے کہ پاکستانی بھی اس بدلتی دنیا کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔

فٹ نوٹ: اگر آپ میں سے کچھ احباب بلاگ پڑھنے کے دوران ہی آپریشن راہ راست اور ضرب عضب کی مثالیں دینے کے لئے بے چین ہوں تو براہ کرم جان لیں میں ان سب ناموں سے واقف ہوں۔ شکریہ


Comments

FB Login Required - comments