ظلم کے وکیلوں سے ڈیڑھ بات


jamil abbasiبات بڑھانا کبھی پیش نظر نہ رہا۔ پتا نہیں کیوں ایسی صورتحال اٹ پٹے پن میں ڈال دیتی ہے۔ پر آج کچھ یوں ہوا، ہم سب پر نینا عادل صاحبہ کی لکھی تحریر “ہماری عورت دشمنی کی جڑیں گہری ہیں” پڑھی اور تحریر نے ہمیں استدلالی اور منطقی طور پر متاثر کر دیا۔ ہم نے تحریر کواٹھا کر ایک ادبی گروپ میں ڈال دیا۔ تحریر کو کچھ نے پسند کیا اور اختلافی رائے بیاں کرنے والے ایک آدھ رہے۔ بیان شدہ آرا میں سے ایک میں مستعمل الفاظ نےاس بات پر ابھارا کہ بات کو تھوڑا آگے بڑھانا مناسب رہے گا۔ لکھنے والے نے لکھا عورت کی مظلومیت پاکستان میں ایک آسان موضوع ہےاور یوں لگتا ہے کہ مرد کو بس بھیڑیا ہی ثابت کرنا ہے۔ بات کو آگے لے جاتے ہوئے فرمانے لگےیہ سچ ہے کہ عورت پر تیزاب بھی پھینکا جاتا ہے، عورت کو ہوس کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے، اسے گالم گلوچ اور ظلم کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے مگر اس کا تناسب کیا ہوگا؟

اب بات تو تناسب پر آ رکی۔ مگر دھیان رہے کہ تناسب کو زیر بحث لاتے ہمیں سروے وغیرہ کو چھوڑنا ہی پڑے گا۔ کیونکہ این جی اوز، جو وقت صرف کر کے اور ریسرچ کر کے رپورٹ پیش کرتی ہیں اورمعاشرے میں بہتری کے لئے جو آرا سامنے لاتی ہیں، یار لوگ ان پر ایک نظر صرف اس نیت سے ڈالتے ہیں کہ ہمارے خلاف اب کی بار کیا سازش ہوئی۔ اس تحقیق پر غور کرنا اور اپنے طرز کہن کو بدلنا تو گناہ کبیرہ ٹہرایا گیا۔

چلئے حضور کسی این جی او کی رپورٹ نہیں دیکھتے۔ آپ یوں کریں تناسب کے پیمانہ کے لئے اپنے گلی محلے کی ہی خبر لے لیں۔ آپ کو عورت نامی انسان کی حالت ناگفتہ کا اندازہ ہوجائے گا۔ سچ کہوں یہ تجربے سے آزمودہ بات ہے اور بڑے دکھ کی ہے۔ لیکن میں تناسب کی بجائے مذکورہ دوست کے ان الفاظ پر بات کرنا چاہوں گا جس میں انہوں نے عورت پر ظلم کی تفسیر کی ہے۔ یعنی ان کے بقول ظلم یہ ہوا کہ عورت پر تیزاب پھینکا جائے، اسے ہوس کا نشانہ بنایا جائے، اس پر ظلم و تشدد کیا جائے۔ بس۔ اور کچھ بھی ظلم نہ ٹہرا؟ افسوس کہ ہماری معاشرتی سوچ کس انتہا کا رخ کر لیتی ہے۔ حضور یہ تو آخر الاخیر ہے۔ پاتال کی تہہ۔ اور دیکھیں بقول آپ کے ہمارے پاس روز شب ایسا ظلم دھرایا جا رہا ہے۔ یہ بات شرمندگی میں ڈبوتی ہوئی ایک سچائی ہے۔ لیکن خدارا آپ تناسب کو چھوڑ کر اپنے ظلم کی تعریف پر نظر ثانی تو کریں۔

قبلہ جو آپ نے کہا وہ ظلم ہے لیکن ظلم یہ بھی ہے کہ معاشرتی دباؤ میں عورت اپنی مرضی سے فیصلہ نہ کر پاتی ہو، ظلم یہ بھی ہے عورت کو اپنا راستہ چننے کے حق سے محروم کر دیا گیا ہو، ظلم یہ بھی ہے عورت گھر کے فیصلے میں مرد کے برابر اختیار نہ رکھتی ہو، ظلم یہ بھی ہےعورت کو ادھوری زندگی گذارنے پر قانع ہونے کی حکمتوں پر قائل کیا جاتا ہو، ظلم یہ بھی ہے بیٹی بیٹے سے الگ خانے میں رکھی جاتی ہو، ظلم یہ بھی ہےعورت اپنے ارادے سے اپنے شریک حیات کا انتخاب کرنے کے تصور سے ہی محروم ہو، ظلم یہ بھی ہےعورت کو صلاحیت کے اعتبار سے کم تر گردانا جاتا ہو، ظلم یہ بھی ہے کہ عورت کا خوش ہونا ہمارے لئے ناقابل قبول ہو، ظلم یہ بھی ہے عورت کو صرف حسن و جمال سے منسلک کرکے اس طرح کے استعارات اور تشبیہات میں استعمال میں لایا جاتا ہو، ظلم یہ بھی ہے کہ آپ عورت کی معراج ہانڈی چولہا مقرر فرما دیں، ظلم یہ بھی ہے کہ عورت یا تو کھیتی ٹھہرائی جائے یا پاؤں کی جوتی، ظلم یہ ہے کہ عورت عورت ہونے کی وجہ سے اپنے آپ کو خوش قسمت نہ سمجھتی ہو۔ حضور خدارا اپنی لغت میں ظلم کی معانی تبدیل فرمانے پر غور کریں۔ میں تناسب کا ذمہ لے لیتا ہوں۔


Comments

FB Login Required - comments