ملا منصور زندہ ہے


Zaman Niazامریکہ نے ملا اختر منصور کی ہلاکت کی بھونڈی ڈرامہ بازی کی ہے۔ افغانستان میں پینتالیس ممالک کی ہٹی کٹی افواج کو چاروں شانے چت کرنے والے طالبان کا لیڈر بھلا ایسے ہی ہتھے چڑھ گیا؟ ایسے تو ہمارے میاں مسیتا کے کلفدار کپڑوں کو کوا اپنے عقبی میزائل سے نشانہ نہ بنائے جیسے ملا اختر منصور کھیت رہے۔ بھیا سب ناٹک ہے۔ سازش ہے۔ مملکت خداداد کے حصے کوئی خاص نیک نامی تو آئی نہیں کہ شمار ہو، لے دے کے بجنگ آمد گروپ بچا ہے، سو اس کے پیچھے سبھی ہاتھ دھو کے پڑے ہیں، لگے رہیں۔ پاکستان کو مزید بدنام کرنے کی کوئی سازش کامیاب رہی تو بتائیو۔

ہم ملا منصور کو ہلاک نہیں مانتے۔ بھلے امریکی سازشیوں نے رنگ بھرنے کے لیے خود طالبان ہی سے تجہیز و تکفین کروا چھوڑی ہو۔ نئے امیر کے بیان وغیرہ بھی دلوا لیے ہوں۔

آپ ہی بتائیے چابہار میں تین شیطانی مسکراہٹیں کس حقیقت کا پردہ چاک کر رہی ہیں؟ ہماری توجہ ملا منصور کے ڈرامے کی طرف پھیر کے خود چپکے سے بندر گاہ کے منصوبے بناتے پھر رہے ہیں۔ بندر کہیں کے۔ ویسے ہمارا دھیان نہ بھی بٹاتے تو بھی کیا فرق پڑجاتا، مگر ہتھکنڈے دیکھو۔

چور چاھے کتنا ہی ہشیار کیوں نہ ہو، کُھرا یعنی نشان چھوڑ ہی جاتا ہے۔ اور پھر ہمارے کھوجی تو نشان نہ بھی ہوں تو بھی چور ڈھونڈ نکالتے ہیں۔ بلکہ بعض دفعہ تو چوری سے بھی پیشتر کھرا نکال لیتے ہیں۔ اب بھلا آپ ہی بتائیے۔ اتنا بڑا جنگجو تسبیح لوٹا اور جائے نماز لیے تن تنہا سفر پہ نکلتا تھا تاکہ ترنوالہ ثابت ہو؟ کہانی ٹھیک سے بیٹھی نہیں۔ اسامہ بن لادن کا جعلی ریڈ بھی ایسی ہی غلطیوں کے کارن پکڑا گیا۔ یعنی اسامہ کو مارلیا مگر اسکی لاش ہمارے عوام کو دکھا کر سند حاصل نہ کی۔ یوں کیا دھرا غارت ہوا۔

ہمارے ایک انقلابی دوست نے خود اپنے کانوں سے اپنے صوبائی امیر کی زبانی سنا اور ہم تک پہنچایا ہے کہ ملا منصور الحمدللہ زندہ سلامت اپنی غار میں مقیم ہیں۔ اور تیسری بیوی اور بارہویں بچے کی فکر میں ہیں۔ امریکہ بشمول ہمارے دجالی میڈیا کے خواہ مخواہ میں ہذیان کا شکار ہے۔

یہ کیونکر ممکن ہے کہ ڈرون حملے سے ملا منصور کے ازاربند سے بندھے کنجیوں کے گچھے سمیت ہر چیز جل کر خاکستر ہوگئی ہو مگر بچ رھے تو صرف پاسپورٹ اور شناختی کارڈ۔ وہ بھی پاکستانی؟ بے وقوف سمجھا ہے کیا؟

ممکن ہے حملے کے فورًا بعد کسی امریکی ایجنٹ نے نمک حرامی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آگ بجھانے کے بہانے پاسپورٹ اور شناختی کارڈ وہاں گرا دیے ہوں۔ یہ بھی قرین قیاس ہے کہ امریکیوں نے سازش کو فول پروف بنانے کی غرض سے یہ دستاویزات اچھے سے لیمینیشن کروا کے ڈرون میزائیل کے ساتھ ہی نتھی کردی ہوں۔ بلکہ ملا منصور کو افغانستان میں نشانہ بنا کر اس کے جسد بے جان کو ہی ڈرون سے لٹکا کر بھیج دیا ہو تاکہ مملکت خداداد کی مکمل اور زیادہ سے زیادہ بدنامی ہو سکے۔

اسامہ کی بابت ہمارے دو ایک سرکردہ رہنماؤں نے تب یکسر لاعلمی کا اظہار کر کر کے امریکیوں کو کامیابی سے چکمہ دیے رکھا تھا۔ بعض تو اسامہ کے نام پر فرطِ حیرت سے یوں اچھل اچھل پڑتے تھے جیسے مکرمی عامر لیاقت رمضان شو میں سنجیدگی سے دین کی مشق فرماتے ہیں۔ بعد ازاں جب امریکی کے اذہان پر اسامہ کے معاملے میں گرد جم گئی تو ہمارے ان رہنماؤں نے یکلخت انکشاف کردیا کہ اسامہ تو زندہ ہے۔ ساتھ ہی دایاں ہاتھ بائیں پہلو پر مارا کہ یہاں۔

ہم امید سے بندھے ہیں کہ ہمارے روحانی بزرگ اس بابت دنیا کے کان کھولیں گے کہ 1-کوئی ڈرون حملہ نہیں ہوا یہ سارا ڈرامہ رچایا گیا ہے۔ تاکہ ڈومور کا مطالبہ دھرایا جاسکے اور بدنامی کے مذموم مقاصد کا حصول بھی ممکن ہو۔ 2- ڈرون حملے میں ولی محمد ہلاک ہوا ہے۔ ولی محمد ملا منصور کیسے ہوسکتا ہے واہ۔ یہ تو ایسے ہی ہے کہ جارج بش اور ابامہ ایک ہی شخص کے دونام ہیں۔ 3- ولی محمد جعلی کردار ہے۔ اگر کسی ولی محمد کا فی الحقیقت کوئی وجود ہوتا تو قلعہ عبداللہ میں اس کی رہائش ٹھکانے کا اتاپتا میسر آتا۔ 4- اگر واقعی ہی ملا منصور مارا جا چکا ہے تو اس کی لاش کی نمائش سے احتراز چہ معنی دارد؟ راتوں رات سرحد پار بھیجنا کیا ضرور تھا؟ 5- ملا منصور امت کا رجل عظیم تھا۔ اس جیسے مجاہد مائیں کافی کافی عرصے بعد پیدا کرتی ہیں وہ زندہ ہے۔ ہمارے دلوں میں۔ اور زندہ رہے گا۔ انشاءاللہ


Comments

FB Login Required - comments