یونیورسٹیوں کا المیہ


1-yasir-pirzadaکیا یہ بات درست ہے کہ چونکہ پاکستان تعلیم پر جی ڈی پی کا صرف 2.7% خرچ کرتا ہے اس لئے ہمارا تعلیمی نظام انحطاط کا شکار ہے؟ کیا یہ دلیل قابل قبول ہے کہ چونکہ ہماری یونیورسٹیوں کا بجٹ باہر کی یونیورسٹیوں کے مقابلے میں بہت کم ہے اس لئے ہم ایشیا کی پہلی 100 جامعات کی فہرست میں شامل نہیں؟ کیا یہ بات صحیح ہے کہ موجودہ بجٹ اور محدود وسائل میں ہماری یونیورسٹیاں قابل رشک کام انجام دے رہی ہیں؟

اگلے روز پاکستان کی تمام جامعات کے وائس چانسلر صاحبان کا اکٹھ تھا، کل ملا کر تقریبا ًڈیڑھ سو شیوخ الجامعات (وائس چانسلر کا درست ترجمہ، بشکریہ حبیب اکرم ) موجود تھے، میڈیا سے متعلق ایک نشست، جس کی مدبّرانہ میزبانی علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے وی سی شاہد صدیقی نے کی، مجھ خاکسار کو بھی خیالات کے اظہار کا موقع ملا۔ ایک موقع پر بحث اس طرف نکل پڑی کہ ہماری یونیورسٹیاں اس لئے عالمی سطح پر نمایاں نہیں ہو پاتیں کیونکہ اِن کے پاس اتنے پیسے نہیں کہ وہ ہاورڈ یا کیمبرج کا مقابلہ کر سکیں، ایک قابل احترا م وی سی نے نہایت متاثر کن اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ کیمبرج یونیورسٹی کوسالانہ 2.6 ارب پاؤنڈ کی گرانٹ ملتی ہے جو تقریبا ً400 ارب روپے بنتے ہیں اور اگر ہم اسے پاکستان کی قوت خرید میں ڈھالیں تو کم ازکم 100ارب روپے بنتے ہیں جو پورے پاکستان کی تمام جامعات کو ملنے والی گرانٹ سے زیادہ ہے، کیمبرج یونیورسٹی میں پڑھنے والے طلبا کی تعداد پاکستان کی کسی بھی بڑی یونیورسٹی کے طلبا سے کم جبکہ وہاں پڑھانے والے پی ایچ ڈی اساتذہ کی تعداد زیادہ ہے، سو ان حالات میں پاکستان کی جامعات اپنے محدود وسائل میں جتنا کام کر رہی ہیں وہ اگر قابل رشک نہیں تو قابل قبول ضرور ہے۔ یہ ہے پاکستان کی یونیورسٹیوں کے مقدمے کا خلاصہ!

یہ بات درست ہے کہ پاکستان کی جامعات بہت کم بجٹ میں کام کر رہی ہیں، سوال صرف اتنا ہے کہ کیا محدود وسائل میں ممکنہ حد تک بہترین کام ہو رہا ہے؟ بد قسمتی سے اس کا جواب نفی میں ہے۔ کوئی نہیں کہتا کہ آپ ہاورڈ، کیمبرج یا آکسفورڈ سے مقابلہ کریں، مگر بھارتی پنجاب کے شہر چندی گڑھ کی پنجاب یونیورسٹی سے تو مقابلہ کیا جا سکتا ہے جس کا کُل بجٹ تقریبا ً پونے چار ارب پاکستانی روپے ہے جبکہ اس نے اپنے بجٹ سے زیادہ یعنی ٹوٹل ساڑھے آٹھ ارب پاکستانی روپے خرچ کئے، چندی گڑھ کی اس یونیورسٹی کا ایشیا میں 38واں نمبر ہے !تو کیا اب بھی ہم یہ کہیں گے کہ یونیورسٹیوں کی کارکردگی فقط بجٹ کی مرہون منت ہوتی ہے؟ ایشیا کی پہلی سو جامعات کی درجہ بندی پر اگر آپ نظر دوڑائیں تو پتہ چلے گا کہ بہت سی یونیورسٹیاں جن کا بجٹ کم ہے وہ درجہ بندی میں ان جامعات سے اوپر ہیں جن کا بجٹ زیادہ ہے لہذا اس دلیل میں تو جان نہیں کہ پہلے ہمیں ہاورڈ والے پیسے دو پھر کام کی امید رکھو۔ پاکستان جیسے ملک میں شاید ہی کوئی ادارہ ہو جسے مکمل بجٹ اور وسائل میسر ہوں، اگر کسی یونیوسٹی کو ہاورڈ کی طرح پیسہ مل جائے تو پھر کیا چیلنج باقی رہا، کسی منتظم کی اصل صلاحیتیں تو اُس وقت آشکار ہوتی ہیں جب وہ نا مساعد حالات میں کسی ادارے کی کایا کلپ کر دے، اگر سارا کام پیسوں نے ہی کرنا ہے تو پھر بے شک کسی کلرک کو وی سی لگا دیں وہ بھی کارکردگی دکھا دے گا۔

مالدیپ اپنے جی ڈی پی کا 11.2% اور ویت نا م 5.7% تعلیم پر خرچ کرتا ہے جبکہ سویڈن اپنی قومی پیداوار کا 6.6% تعلیم پر لگاتا ہے، مگر یہ بات ایک بچہ بھی جانتا ہے کہ سویڈن کا نظام تعلیم مالدیپ اور ویت نام سے کہیں بہتر ہے، سو بات یہ نہیں کہ تعلیم پر کتنے پیسے خرچ ہو رہے ہیں، سوال یہ ہے کہ جو پیسے دستیاب ہیں وہ خرچ کیسے کئے جا رہے ہیں۔ آج سے پندرہ برس پہلے پاکستان کی جامعات کووہ بجٹ میسر نہیں تھا جو آج انہیں ملتا ہے، اب ہم جس یونیورسٹی کی طرف نظر دوڑائیں ہمیں کم ازکم انفراسٹرکچر کے حوالے سے کافی ترقی دکھائی دیتی ہے، ایک پروفیسر اگر کسی کے پی ایچ ڈی مقالے کے نگرانی کرے تو اسے پچاس ہزار سے ایک لاکھ روپے ملتے ہیں اور واضح رہے کہ پروفیسر حضرات ایک وقت میں کئی مقالوں کے نگراں مقرر ہوتے ہیں، آج tenure trackکی بدولت یونیورسٹی اساتذہ کو لاکھوں روپے تنخواہ ملتی ہے، ہائر ایجوکیشن کمیشن کے کے توسط سے طلبا اندرون و بیرون ملک سکالر شپ حاصل کرکے تحقیق کر سکتے ہیں، کیا پیسے کی اس ریل پیل کا تصور آج سے پندرہ برس پہلے تھا؟ جواب پھر نفی میں ہے۔ یونیورسٹیوں کا المیہ یہ ہے کہ ان کے کیمپسوں کی تعداد اور پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والوں میں تو کئی گنا اضافہ ہوا ہے مگر میعار پاتال میں جا پہنچا ہے، آج سے پندرہ برس پہلے کے اساتذہ بھی فرشتے نہیں تھے مگر مقالہ جات نقل کرنے کی جو شرح آج کل نظر آتی ہے اس کی مثال پہلے نہیں ملتی تھی۔ اس وقت حال یہ ہے کہ یونیورسٹیاں دھڑا دھڑ پی ایچ ڈی پیدا کر رہی ہیں مگر ان کی تحقیق کا عالم یہ ہے کہ دنیا میں ان کے مقالوں کی کوئی حیثیت نہیں، اس کی مثال یوں ہے کہ گزشتہ دس پندرہ برسوں میں سیاسیات، بین الاقوامی تعلقات اور پاکستان سٹریٹیجک سٹڈیز کے شعبوں میں سب سے زیادہ مقالے 9/11کے موضوع پر لکھے گئے، مگرکیا پاکستان کی کوئی یونیورسٹی یہ دعوی کر سکتی ہے کہ ان مقالوں میں سے ایک بھی بین الاقوامی معیار کا تھا؟ جواب بد قسمتی سے پھر نفی میں ہے۔ ہم جتنے بھی دعوے کر لیں مگر دنیا بڑی ظالم ہے، یہ نہیں مانتی، ہمارا یہ کہنا کہ امسال ہمارے اتنے مضامین امپیکٹ جرنلز میں شائع کروائے جو ایک ریکارڈ ہے، فقط اپنے دل کے خوش رکھنے کا بہانہ ہے کیونکہ اگر دودھ اچھا ہو تو ملائی خود بخود اوپر آجاتی ہے، اس کے لئے ڈھنڈورا نہیں پیٹنا پڑتا، امپیکٹ جرنلز کا حال یہ ہے کہ گوجرانوالہ سے بھی تقریبا ً 12 امپیکٹ جرنل شائع ہوتے ہیں، باقی حساب آپ خود لگا لیں۔

یونیورسٹیوں کا المیہ یہ نہیں کہ ان کا بجٹ کم ہے کیونکہ جس بجٹ کا رونا رویا جاتا ہےاُس میں رہتے ہوئے جو کام کئے جا سکتے ہیں ان کا اثر بھی کہیں نظر نہیں آتا۔ کوئی ایسا طالب علم جو محنتی، ذہین اور نیک نیت ہو اور پاکستان کی کسی یونیورسٹی میں تحقیق کرنا چاہتا ہو اس کے لئے پیسے موجود ہیں، بجٹ اس میں کوئی رکاوٹ نہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ ہماری جامعات میں کوئی کام نہیں ہو رہا، بہت سے وی سی صاحبان اپنی اپنی کوشش میں لگے ہیں، ان کوششوں کو بارآور کرنے کے لئے ضروری ہے کہ یونیورسٹیوں کی تعداد کو نصف کرکے حاصل ہونے والے پیسوں کو بقیہ جامعات کے معیار کو بہتر بنانے کے لئے دے دیا جائے، گویا جو یونیورسٹی بہتر کارکردگی دکھائے ایچ ای سی اُسے اُتنی ہی زیادہ گرانٹ دے، اس سے مقابلے کی فضا بھی پیدا ہوگی اور معیار بھی بہتر ہوگا۔

 پاکستان کی جامعات کا المیہ یہ ہے کہ یہ محض ڈگری دینے والی مشینیں بن چکی ہیں جبکہ دنیا میں یونیورسٹیوں کا مقصد تحقیق کا فروغ اور جستجو کی لگن ہوتا ہے، یونیورسٹی کااستاد تو اُس گرو کی طرح ہوتا ہے جو گیان بانٹتا ہے جبکہ شاگرد ایسا ہوتا ہے جو تپسیا سے گیان حاصل کرتا ہے۔ بدقسمتی سے ہم نے استاد شاگرد کے رشتے کو کلائینٹ اور کمپنی کے رشتے میں تبدیل کر دیا ہے، ان حالات میں جو پی ایچ ڈی پیدا ہوں گے وہ پانی سے گاڑ ی چلانے کا تجربات ہی کریں گے، گیان نہیں بانٹیں گے!


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “یونیورسٹیوں کا المیہ

  • 26-05-2016 at 7:36 pm
    Permalink

    علم، دانش، مذہب جب پروڈکٹ بن جاے تو پھر یہی حال ہوتاہے۔۔

Comments are closed.