ڈرون، ملا منصور اور ہماری خارجہ پالیسی


asif Mehmoodزندہ اور پائندہ قوم کے پاس وقت ہو تو اسے خود سے ایک سوال ضرور پوچھنا چاہیے۔ آخر ہم چاہتے کیا ہیں؟ اپنے ان رویوں کے ساتھ اقوام عالم میں ایک باوقارمقام تو رہا ایک طرف کیا ہم بقا کے لوازمات بھی فراہم کر پائیں گے؟ ہمارے دودھ کے دانت کب گریں گے؟ ہم کب بڑے ہوں گے اور بڑے ہو کر ہم کیا بنیں گے؟

ملا منصور کے واقعے کو لے لیجیے۔ دنیا میں اٹھنے والا سوال کچھ اور ہے اور ہمارے ہاں جوابی بیانیہ کچھ اور ہے۔ سوال یہ ہے کہ ملا منصور پاکستان میں کیا کر رہے تھے اور جواب میں ہم اپنی خود مختاری کا قصہ لے کر بیٹھ گئے ہیں۔ اقوام عالم کے ساتھ مل کر چلنا ہو تو اس طرح کا رویہ کیا سود مند ثابت ہو سکتا ہے۔ ہم کب تک حقائق سے منہ موڑ کر ریت میں سر دبائے یہ سمجھتے رہیں گے کہ طوفان ٹل جائے گا۔ کب تک ہماری خارجہ پالیسی کا محور صرف یہ ایک نکتہ رہے گا کہ چاہے ساری دنیا میں شور مچا ہو اپنے عوام کو اندھیرے میں رکھنا ہے اور ان کے ہاتھ ڈور کا کوئی سرا نہیں آنے دینا۔ دنیا میں جو سوال اٹھ رہا ہے وہ یہ ہے کہ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ اسامہ بن لادن ایبٹ آباد میں پائے جاتے ہیں، جلال حقانی کے صاحبزادے بارہ کہو میں قتل ہوتے ہیں، ملا منصور بلوچستان میں ڈرون حملے کا نشانہ بنتے ہیں اور خود ملا عمر کے بارے میں ایسی اطلاعات گردش میں رہیں کہ وہ کراچی کے ایک ہسپتال میں زیر علاج رہے اور یہیں فوت ہوئے۔ یہ محض چند سوالات نہیں ہیں۔ ان سوالات کے پیچھے ایک طوفان ہے جس کی سنگینی کو محسوس کیا جانا چاہیے اور ان سوالات کا جواب دیا جانا چاہیے۔ صاف نظر آ رہا ہے کہ پاکستان کا ہانکا مقصود ہے اور دھیرے دھیرے فرد جرم مرتب ہو رہی ہے۔ ابھی امریکی فوجی امداد کے لیے جو شرائط عائد کی گئی ہیں ان میں یہ شرط بھی شامل ہے کہ تسلی کی جائے کہیں ایسا تو نہیں کہ پاکستان کو دی جانے والی امداد اور اسلحہ پاکستان میں اقلیتوں کے خلاف استعمال ہو رہا ہو۔ اندھے کو بھی اندھیرے میں اتنی دور کی نہ سوجھے جتنی دور کی امریکی پالیسی سازوں کو سوجھی ہے۔ اور یہ بلا وجہ نہیں سوجھی۔ اسے آپ حوادث آئندہ کا انتساب سمجھیے۔ یہ ایک نئی فرد جرم ہے جس کے خدوخال وضع کیے جا رہے ہیں۔ بیرونی دنیا میں پاکستان کے کردار کے حوالے سے ایک بیانیہ مرتب ہو رہا ہے۔ لیکن آفرین ہے ہم پر ہمارے ہاں اس بیانیے کے نکات کبھی زیر بحث ہی نہیں آ ئے۔ کبھی بات ہوتی بھی ہے تو اپنی خود مختاری کی پامالی کے ایک طویل نوحے تک محدود رہتی ہے اور وزیر داخلہ کی ضرورت سے کچھ زیادہ ہی طویل اور کچھ زیادہ ہی لایعنی وعظ نما پریس کانفرنس میں اہل وطن سے بس ایک ہی مطالبہ ہوتا ہے کہ عزیز ہم وطنو! اس گلوبل ویلیج میں کیا ہو رہا ہے اس سے بے نیاز رہیے۔ جو مزہ اپنے کنویں کے مینڈک بن کر رہنے میں ہے وہ مزہ اور کسی کام میں نہیں۔ حقیقی موضوعات ہمارے ہاں کبھی زیر بحث ہی نہیں آ ئے۔ ہم ہمیشہ ساری توانائیاں خود کو دھوکہ دینے میں صرف کر دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دنیا تو مان کر نہیں دیتی خود اپنا معاشرہ بھی کنفیوز ہو جاتا ہے۔ چنانچہ ابھی جب پاکستان اپنی خود مختاری کے حوالے سے سراپا احتجاج ہے بعض اہل دانش ٹی وی سکرینوں پر بیٹھ کر کہہ رہے ہیں کہ یہ ڈرون حملہ پاکستان کی مرضی سے ہوا ہے۔ گویا نہ باہر کی دنیا میں ہمارا اعتبار نہ ملک کے اندر کوئی اعتبار۔۔۔۔ کیا یہ لمحہ فکریہ نہیں ہونا چاہیے۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ مغربی دنیا کا ایک تیسرے درجے کا اخبار ہمارے بارے میں کوئی اناپ شناپ چھاپ دے جس کی ہمارے اعلی سطحی اہلکار باجماعت تردیدیں کرتے رہیں تو شاید ہمارے ہی معاشرے میں وہ خبر معتبر ٹھہرے اور تردیدیں غیر معتبر۔ قوم کو ہمیشہ اندھیرے میں رکھنے کی پالیسی کا یہ منطقی نتیجہ ہے۔ معاشرہ اب کسی بھی پروپیگنڈے کا آسان ترین شکار بن کر رہ گیا ہے۔ کیوںکہ صاحبان منصب نے بہت کم اس سے سچ بولا ہے۔ اعتبار کا یہ بحران اگر کوئی سمجھ سکے تو بہت بڑا بحران ہے۔

پاک امریکی تعلقات ہماری نفسیاتی گرہوں میں سے ایک ہے۔ یہ گرہ اس وقت تک نہیں کھلے گی جب تک قوم کو ان تعلقات کے بارے میں حقائق سے آ گاہ نہیں کیا جائے گا۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ ہمیں سب سے زیادہ امداد امریکہ نے دی ہے لیکن عوام میں سب سے زیادہ نفرت امریکہ سے ہے۔ قیام پاکستان سے آج تک ہم نے امریکہ سے جو کچھ لیا ہے اس کی فہرست بنائیں آپ کے چودہ طبق روشن ہو جائیں گے۔ ہم اپنا کشکول بھی امریکہ سے بھرواتے ہیں اور گالیاں بھی اسی کو دیتے ہیں۔ یہ کیسی غیرت ہے اور یہ کیسی خود داری ہے؟ امریکہ اگر عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے ہمارا کشکول بھرتا ہے تو ظاہر ہے اس کی ایک قیمت ہے جو ہمیں ادا کرنا پڑ تی ہے۔ نہ ہم اس کی لیلی ہیں نہ وہ ہمارا مجنوں۔ بین الاقوامی تعلقات ویسے ہی مفادات باہمی کی بنیاد پر استوار ہوتے ہیں۔ لیکن ہمارے ہاں عوام کو اندھیرے میں رکھا گیا ہے۔ بالعموم عوام صرف یہ جانتے ہیں کہ امریکہ ناجائز دباﺅ ڈالتا ہے۔ انہیں یہ علم نہیں ہوتا کہ ناجائز دباﺅ کے ساتھ ساتھ وہ ہمارے کشکول میں کیا کچھ ڈالتا ہے۔ ابھی بھی امریکہ لاکھوں ڈالر کی فوجی امداد دے رہا ہے اور اس نے کچھ شرائط عائد کر رکھی ہیں۔ یہ شرائط غیر موزوں ہیں تو امداد لینے سے انکار کر دیجیے۔ لیکن ہم نے امداد بھی لینی ہے اور چودھری نثار صاحب نے خود مختاری کا نوحہ بھی پڑھنا ہے۔ پاک امریکہ تعلقات بطور ایک سنجیدہ موضوع ہمارے کبھی زیر بحث نہیں آیا۔ آئے بھی کیسے؟ یہ حقائق قومی بیانیے کا حصہ بن جائیں تو اس امداد کے استعمال کے حوالے سے سوال اٹھیں گے۔ چنانچہ آسان طریقہ یہ ہے امداد لیتے جاﺅ، گالیاں دیتے جاﺅ۔ ہمیں یہ بات جان لینی چاہیے کہ امریکہ ہمیں امداد اور قرض کیوں دیتا ہے۔ قیام پاکستان کے بعد میر لائق علی خان معاشی امداد کی درخواست لے کر امریکہ تشریف لے گئے تو ان کی درخواست انتہائی نچلی سطح پر ہی رد کر دی گئی تھی۔ بعد میں اسسٹنٹ سیکرٹری آف سٹیٹ مک گھی نے امداد دینے والے شعبے کے کوآرڈی نیٹر کو تنبیہ کی جنوبی ایشیا میں امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے ایسی درخواستوں پر ہمدردانہ غور کیا جائے۔ چنانچہ 13 اپریل 1950 کو اس ضمن میں امریکہ نے کسی لگی لپٹی کے بغیر واضح پالیسی بیان جاری کر دیا کہ پاکستان کو امداد دینا کیوں ضروری ہے۔ ذرا آپ بھی اس کے دو اہم نکات پڑھ لیجیے :

 ”1۔ پاکستان سے تعلقات میں ہمارا مقصد یہ ہے کہ اس کی حکومت اور لوگوں کا رخ امریکہ اور دیگر مغربی جمہوریتوں کی طرف رہے۔

 2 .۔ پاکستان سیاسی طورپر آزاد رہے مگر دفاع اور معیشت کے لیے بیرونی امداد کا محتاج رہے “۔

ابھی بھی امریکہ کی جانب سے ملنی والی امداد زیر بحث ہے جسے امریکہ نے فی الوقت روک رکھا ہے۔ یہ کوئی معمولی امداد نہیں ہے۔ یہ 450 ملین ڈالر کی امداد ہے۔ آپ نہ لیں یہ امداد۔ امریکہ سے کہ دیں تمہاری شرائط ناقابل قبول ہیں۔ لیکن ہم نے امداد بھی لینی ہے اور خود مختاری کا نوحہ بھی پڑھنا ہے۔ ہمیں کہیں تو باٹم لائن بنانا ہو گی۔ یا اسی طرح کام چلانا ہے؟

عالم یہ ہے کہ بھارت افغانستان اور ایران چاہ بہار بندر گاہ کے حوالے سے معاہدہ کر چکے ہیں۔ یہ معمولی معاہدہ نہیں۔ یوں سمجھیے پاکستان کے گرد ایک گھیرا ڈال لیا گیا ہے۔ سوائے سمندر کے یا چین کی سرحدی پٹی ہم ہر طرف سے گھیرے میں ہیں۔ ایک طرف بھارت دوسری جانب افغانستان اور ایران۔ تینوں سے ہمارے تعلقات خراب اور ان تینوں کے آ پس میں بڑھتے تعلقات کار۔ ہم کس رخ پر جا رہے ہیں۔ ہم نے حکمت اور بصیرت کو طلاق بائن کبری کیوں دے رکھی ہے۔ کیا ہمیں افغانستان اور ایران کو انگیج نہیں کرنا چاہیے تھا۔ ہم ٍایسا کیوں نہ کر سکے۔ ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن منصوبہ کیوں مکمل نہ ہو سکا۔ کیا وجہ ہے کہ بھارت بیک وقت سعودی عرب اور ایران سے مثالی تعلقات قائم کر لیتا ہے لیکن ہمیں بتایا جاتا ہے ایران کے قریب ہوئے تو فلان ناراض ہو جائے گا۔ ہم دنیا کی واحد نیوکلیر ریاست ہیں جس کا کوئی وزیر خارجہ ہی نہیں۔ پارلیمنٹ بالعموم امور خارجہ سے یکسر لاتعلق نظر آتی ہے۔ ہو سکتا ہے اس کی وجہ اہلیت کا فقدان ہو۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وقت نے انہیں سمجھا دیا ہو کہ امور خارجہ اتنے نازک ہوتے ہیں کہ کبھی بھی منتخب نمائندوں کے حوالے نہیں کیے جا سکتے۔ تاہم وجہ جو بھی رہی ہو حقیقت یہی ہے کہ پارلیمان میں کبھی امور خارجہ کی نزاکتیں زیر بحث ہی نہیں آ ئیں۔ نہ ہی کسی سیاسی جماعت کے ہاں کوئی فورم ہے جہاں ان پر بحث مباحثہ ہوتا ہو۔ بے نیازی دیکھیے جس وقت بھارت ایران اور افغانستان کی قیادت مل کر خطے میں نئی تزویراتی اور معاشی صف بندی کر رہی تھی ہمارے وزیر اعظم برطانیہ میں بچوں کے ساتھ شاپنگ اور لذیز کھانوں سے لطف اندوز ہونے میں مصروف تھے۔ جمہوریت کو امور خارجہ کی پرواہ ہی نہیں۔ وہ صرف اس ملک سے ’ بہترین انتقام ‘ لینے میں مصروف ہے۔


Comments

FB Login Required - comments