مشکوک شناختی کارڈ اور لاؤڈ سپیکر پر اعلان


husnain jamal (3)بدقسمتی سے وطن عزیز کا دستور رہا ہے کہ سو پیازوں کے ساتھ اتنی ہی بار کفش کاری ہوتی ہے تب عقل آتی ہے۔ وہ عقل دراصل وہی مکا ہوتا ہے جو لڑائی کے بعد یاد آتا ہے۔ لکھنے والے لکھتے رہے، شور کرنے والے شور کرتے رہے، خود پشاور کے باسیوں نے کئی بار اعتراض کیا کہ بابا کابلی خطرناک حد تک شہر کے اندر آباد کاری کرتے جا رہے ہیں، جگہ جگہ لگے سائن بورڈ پشتو اور فارسی میں لکھے جانے لگے ہیں، جائیداد خریدنے کا سوچنا ایک عام آدمی کے بس سے باہر ہو چکا ہے، قصہ خوانی کے اندر دو دو مرلے کے وہ مکان جہاں موٹر سائیکل مشکل سے جاتی ہے، وہ بھی چالیس پچاس لاکھ کے ہو چکے ہیں، حیات آباد میں قیمتیں مصنوعی طور پر اوپر جا رہی ہیں، یہ لوگ اندھا دھند شہری جائیداد خریدتے جا رہے ہیں اور اپنے غیرقانونی پیسے کو سفید کرنے میں لگے ہیں، لگے ہاتھوں ان کی آس پاس کے لوگوں سے واقفیت بھی ہو جاتی ہے لیکن کوئی نہیں سنتا تھا۔ یہی حال بلوچستان اور پختون خواہ کے باقی علاقوں کا تھا، اور تھا کیا، باقاعدہ ہے!

کسی بھی علاقے میں جائیداد بنانے، گاڑی خریدنے یا کوئی بھی کاروبار کرنے کے لیے سب سے پہلے شناختی کارڈ کی ضرورت پڑتی ہے، سوال یہ ہے کہ انہیں شناختی کارڈ کون جاری کرتا تھا، اگر وہ تمام شناختی کارڈ دو نمبر تھے تو کیا ہی کہنے اور اگر وہ افغان شہریوں کو قانونی طور پر پاکستان کا رہائشی قرار دیتے تھے تو بھی سبحان اللہ! چوہدری نثار علی، وزیر داخلہ پاکستان نے حالیہ خبر کے مطابق نادرا کو تمام پاکستانیوں کے شناختی کارڈوں کی پڑتال دوبارہ کرنے کا حکم دیا ہے۔ اور یہ نادر شاہی اعلان ہمارے پورے کے پورے نظام پر فی الحال ایک سوالیہ نشان کی صورت موجود ہے۔ فرماتے ہیں کہ طالبان کمانڈر کے پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ استعمال کرنے سے دنیا کو یہ پیغام نہ دیا جائے کہ پاکستانی شناخت کوئی بھی استعمال کر سکتا ہے۔ حضور والا، دنیا کو یہ پیغام گذشتہ پندرہ برس سے بلاناغہ اور تقریباً روزانہ کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جب کہ اس سے پہلے اس پیغام سے دنیا کی انٹیلی جینس ایجینسیاں واقف تھیں، عام لوگوں تک پھر بھی کچھ پردہ موجود تھا۔ اور جب آپ میڈیا پر یہ بیان دیتے ہیں کہ دوبارہ پڑتال کی جائے تو بات مزید پکی ہو جاتی ہے۔ محتاط اندازے کے مطابق افغان بارڈر سے روزانہ پچیس سے تیس ہزار افراد کی آمد ہوتی ہے، وہ سب کے سب کیا پاکستان میں داخل ہو کر غائب ہو جاتے ہیں؟ اور کیا وہ سب واقعی افغانستان سے تعلق رکھتے ہیں؟ ان میں سے ننانوے فی صد بے شک دہشت گرد نہیں ہوں گے لیکن وہ جو ایک فی صد ولی محمد جیسے نکل آتے ہیں ان کا علاج آج تک کرنے کے لیے سوچا ہی نہیں گیا۔

جب بھی پاکستان کی سرحدوں کے اندر طالبان کے لیڈر مرتے ہیں ہماری غیرت جاگ اٹھتی ہے، کیا فوج کیا حکومت ایک سے بڑھ کر ایک بیانات دئیے جاتے ہیں، اصولی طور پر بات بھی درست ہے، ایک ملک کی داخلی خود مختاری کو بار بار روند ڈالنا بے شک قابل مذمت ہے لیکن، اگر وہ ملک مانے بھی نا اور پوری دنیا کو نقصان پہنچانے والے فتنہ پرور عناصر ایک ایک کر کے وہیں سے دست یاب ہوتے رہیں تو یہ معاملہ خود عام شہریوں کے لیے بھی تکلیف دہ ہو جاتا ہے۔

ڈرون حملے بے شک ایک ناریل کی صورت امریکہ کے ہاتھ میں ہیں اور وہ اپنے دشمنوں کو تاک تاک کر مار رہا ہے مگر سوال یہ ہے کہ وہ دشمن ہر بار ہمارے یہاں سے ہی کیوں نکل آتے ہیں۔ سب سے بڑی مثال مرحوم اسامہ بن لادن کی تھی جو پورے اطمینان سے مع اہل و عیال ایبٹ آباد میں فروکش تھے۔ چھاؤنی کی ناک کے نیچے تھے، پولیس وولیس بھی وہاں سے گزرتی ہو گی، نظر آئے تو امریکہ کو آئے اور مارا بھی تو امریکہ نے آن کر مارا، تو یہ بہرحال ایک بہت بڑا سوال ہے کہ ہماری پاک سرزمین پر آتے جاتے یہ لوگ ہمیں کیوں نہیں نظر آ جاتے۔

عام شہریوں کے لیے صورت حال اس لیے تکلیف دہ ہو جاتی ہے کیوں کہ نو گیارہ سے پہلے پاکستان کی پہچان جیسی بھی تھی بہرحال کئی چھوٹے موٹے ملک باقاعدہ عزت کیا کرتے تھے، ویزے وغیرہ کی پابندیاں نہیں لگاتے تھے اور گرم جوشیاں باقی تھیں۔ نو گیارہ کے بعد ہر سال آہستہ آہستہ ہماری شہرت پہلے سے زیادہ بری ہوتی گئی اور عنقریب وہ وقت آنے والا ہے جب باقاعدہ دنیا کے بڑے شہر یا تو ہماری آمد پر پابندی لگا دیں گے اور یا انڈیا کی طرح ہر ملک میں ہمارا ویزہ پولیس رپورٹنگ ہوا کرے گا جس کے بعد کوئی نہ کوئی ایجنسی باقاعدہ ہماری خوشبو سونگھتی پھرے گی۔ سبز پاسپورٹ دیکھ کر ویسے بھی اکثر ممالک کے امیگریشن حکام ریڈ الرٹ ہو جاتے ہیں جس کا تجربہ قارئین میں سے کئی لوگوں کو ایک سے زیادہ مرتبہ ہو چکا ہو گا۔

ہمیں اس وقت شدت سے یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جو شدت پسندی پوری دنیا کے لیے ایٹم بم سے بڑا خطرہ بن چکی ہے اس کی جڑیں ہمارے یہاں موجود ہیں تو انہیں فوری طور پر تلف کیا جائے۔ ایک بار کا کڑوا گھونٹ پینا روز روز کی بے عزتی سے بہتر ہو گا۔ اسی طرح شناختی کارڈ، پاسپورٹ اور موبائل سمز کے معاملات اب مزید سستی کے متحمل نہیں ہو سکتے، بجائے اعلانات کرنے کے، ہر محکمے میں اندرخانے ایک آڈٹ کا سلسلہ بنایا جائے اور مرحلہ وار تمام تفصیلات کی پڑتال دوبارہ کی جائے۔ دیکھیے اس طرح اعلان کر دینے سے کہ شناختی کارڈ دوبارہ چیک کیے جائیں، کام تو بے شک ہو جائے گا مگر جن کے لیے کر رہے ہیں وہ بھی الرٹ ہو جائیں گے اور جن کے طعنوں سے بچنا چاہ رہے ہیں، وہ بھی مزید چوڑے ہو جائیں گے کہ ہمیں تو پہلے ہی پتہ تھا۔

بہرحال، سی پیک شروع کرنے والی حکومت حکومت پانامہ لیکس کے بعد ایک اور دلدل میں پھنس چکی ہے، وزیر اعظم ایک مرتبہ پھر لندن میں ہیں جہاں ان کی صحت کا مسئلہ ایک اخباری سرخی کے مطابق ابتدائی تشخیص سے زیادہ پیچیدہ ہو چکا ہے۔ سیانے کہتے ہیں، ہر بات کے بیچ میں ایک بات ہوتی ہے، اور وہی ساری بات ہوتی ہے! رہے نام سائیں کا!


Comments

FB Login Required - comments

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 149 posts and counting.See all posts by husnain