اسلامی نظریاتی کونسل کے تحفظ نسواں بل کے بارہ آنے


adnan-khan-kakar-mukalima-3

اسلامی نظریاتی کونسل نے اپنا تحفظ نسواں بل پیش کر دیا ہے۔ صوبہ پنجاب کے تحفظ نسواں بل پر کونسل کو شدید اعتراض تھا، اور اس سے گھبرا کر عمران خان نے پختونخوا کی حکومت کو حکم دیا تھا کہ کونسل سے تیار شدہ بل نافذ کیا جائے۔ واضح رہے کہ کونسل ایک مشاورتی ادارہ ہے جس کی سفارشات پر عمل کرنے کی اسمبلی پابند نہیں ہے۔

اس بل کی چند سفارشات نے ہمیں کنفیوز کر دیا ہے اور کئی سفارشات پر خوب تحسین کرنے کو جی چاہتا ہے۔ جیسے ایک سفارش ہے کہ اسلام یا کوئی اور مذہب چھوڑنے پر عورت قتل نہیں کی جائے گی۔ کیا اس وقت ملکی قانون کے تحت مذہب کی تبدیلی پر عورت قتل کی جا سکتی ہے؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر یہ شق عدالت عظمی میں لے جا کر کسی مرد نے برابر کے حقوق کا مطالبہ کر دیا تو اسلامی نظریاتی کونسل کا اس پر کیا موقف ہو گا؟

ایک سفارش یہ بھی ہے کہ باشعور لڑکی کو قبول اسلام کاحق حاصل ہوگا اور عورت کے زبردستی تبدیلی مذہب کرانے پر تین سال سزا ہوگی۔ زبردستی کا تعین کون کرے گا؟ آج بھی یہ جو ہندو لڑکیوں کو اغوا کر کے اسلام قبول کرایا جاتا ہے تو معاملہ اچھلنے پر عدالت ان سے یہی پوچھتی ہے کہ زبردستی مذہب تبدیل تو نہیں کرایا گیا ہے، مگر لڑکی ہمیشہ یہی بتاتی ہے کہ راضی خوشی مذہب کی تبدیلی کی گئی ہے۔ کہتے ہیں کہ زبردست مارے اور رونے بھی نہ دے۔ تو کیا طریقہ ہو گا کہ آزادانہ بیان لیا جائے؟

مزید دو شقوں کو ملا کر پڑھا جائے تو آدمی کنفیوز ہو جاتا ہے۔ ایک جگہ کہا گیا ہے کہ عاقلہ، بالغ لڑکی ولی کی اجازت کے بغیر ازخود نکاح کرسکے گی، جبکہ ایک دوسری جگہ یہ بتایا گیا ہے کہ عورتوں کے غیر محرم افراد کے ساتھ تفریحی دوروں اور آزادانہ میل جول پر پابندی ہوگی۔ حضرات یہ عاقلہ و بالغ لڑکی اگر کسی سے میل جول نہیں کرے گی تو نکاح کے لیے کیا اسے یہ شوہر لاٹری کے ذریعے الاٹ کیا جائے گا؟ دوسری بات یہ کہ کیا اسلامی نظریاتی کونسل ان ’گھر سے بھاگی ہوئی لڑکیوں‘ کے تحفظ کے لیے کوئی ادارہ بنانے کی سفارش بھی کرے گی جہاں ان کو تحفظ فراہم کیا جا سکے گا؟

workshop-of-aima

یہ بات قابل تعریف ہے کہ کونسل کے علما کو اس بات کا خیال آیا کہ کاروکاری، ونی اور سیاہ کاری وغیرہ کے نام پر خواتین کے ساتھ برا سلوک کیا جا رہا ہے۔ اسی لیے اب وہ کہتے ہیں کہ غیرت کے نام پر عورت کے قتل، کاروکاری اور سیاہ کاری کو قتل گردانا جائے گا۔ ونی یا صلح کے لیے لڑکی کی زبردستی شادی قابل تعزیر جرم ہوگا۔ عورت کی قرآن پاک سے شادی جرم اور اس کے مرتکب افراد کو دس سال کی سزا دی جائے گی۔

ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ آرٹ کے نام پر رقص، موسیقی، مجسمہ سازی کی تعلیم پر پابندی ہوگی، لیکن اب جبکہ اسلامی نظریاتی کونسل کے علما اور دوسرے مفتی حضرات بھی فوٹو سیشن کرانے لگے ہیں اور اپنی تصاویر کی نشر و اشاعت سے خوش ہونے لگے ہیں، تو اب غالباً ان کی نظر میں تصویر حرام نہیں رہی ہے، اور تصویر کشی پر کوئی پابندی نہیں ہو گی۔

quadrouplets

یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ شوہر اہلیہ کی اجازت کے بغیر نس بندی نہیں کروا سکے گا۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ اسلامی نظریاتی کونسل یہ بھی کہہ دیتی کہ ’نامرد‘ بنانے کی افواہ سن کر ہی پولیو ورکر کو قتل کرنا بھی بری بات ہوتی ہے۔ ایک طرف تو کونسل نس بندی کی اجازت دے رہی ہے، اور دوسری طرف محض پیدائش کی شرح میں کمی کے شبے میں ہی پولیو ورکر قتل کیے جا رہے ہیں۔ مزید تماشا یہ ہے کہ افغانستان میں طالبان کو پولیو کی ویکسین پر کوئی اعتراض نہیں ہے اور وہ اس کی وجہ سے نامردی کا شکار نہیں ہوتے ہیں، یہ علت پولیو ویکسین سے صرف پاکستانی طالبان کو ہی لاحق ہوتی ہے۔

طالبان کا ذکر آیا تو پھر شبہ ہوتا ہے کہ غالباً یہ شرط تو انہیں کو مخاطب کر کے لکھی گئی ہے کہ دوران جنگ عورت کو قتل کرنے کا حق نہیں ہوگا۔ کیا ہی اچھا ہوتا اگر بچوں اور مردوں کے قتل پر بھی پابندی لگانے کی سفارش کر دی جاتی۔

خواتین کے کام کرنے پر بھی اب علما کو اعتراض نہیں ہے، بس شرط یہی ہے کہ بیگار نہ لی جائے اور زبردستی کام نہ کروایا جائے۔ کیونکہ ’عورت سے زبردستی مشقت لینے پر مکمل پابندی عائد ہوگی‘، لیکن راضی خوشی کوئی عورت محنت مزدوری کر رہی ہے، تو وہ جرم تصویر نہیں کیا جائے گا۔

daagh

ایک شق بہت اچھی ہے۔ وہ یہ ہے کہ ’معاشرتی بگاڑ سے متعلق اشتہارات میں عورت کے کام کرنے پر پابندی ہوگی‘۔ معاشرتی بگاڑ والی شرط غالباً اس شریر عورت کے خلاف لگائی گئی ہے جو کہتی ہے کہ ’داغ تو اچھے ہوتے ہیں‘۔ اگر وہ اپنے بگڑے ہوئے بچوں کی دھلائی کرنے کی بجائی کپڑوں کی دھلائی کرتی رہی تو پوری قوم میں معاشرتی بگاڑ پیدا ہو جائے گا اور انجام کار وہ گمراہ عورت جیل میں چکی پیسا کرے گی۔

عورت کی حکمرانی کا مسئلہ بھی حل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ کیونکہ سفارش کے مطابق ’عورتوں کو سیاسی عمل میں حصہ لینے کی اجازت ہوگی‘۔ سیاسی عمل تو وزیراعظم اور صدر بننے کا بھی ہوتا ہے۔ سو عورت کی حکمرانی کا مسئلہ بھی حل ہو چکا ہے اور محترمہ شیریں مزاری اب پاکستان کی پہلی دبنگ وزیراعظم بن سکتی ہیں اور محترمہ فردوش عاشق اعوان ایک مدبر اسلامی صدر مملکت کی حیثیت سے حکومت کر سکتی ہیں۔

doctor-treating-patient

ایک شق کچھ ادھوری سی لگ رہی ہے۔ ’خاتون نرس سے مردوں کی تیمارداری پر پابندی ہوگی‘، لیکن کیا مرد نرسوں سے خواتین کی تیمار داری پر پابندی کچھ زیادہ ضروری نہیں تھی؟ نیز یہ لگتا ہے کہ اگر خواتین ڈاکٹروں سے مرد مریضوں کی تیمارداری اسلامی نظریاتی کونسل کے نقطہ نگاہ سے درست ہے، مگر تیمارداری اگر نرس کرے تو غیر اسلامی ہے۔ کیا شرع میں اب تیمار دار کی تعلیمی ڈگری دیکھی جانے لگی ہے؟ مزید یہ کہ کیا مرد حضرات کو تعلیمی سند دیکھے بغیر ہی میل نرس یا میل ڈاکٹر کی حیثیت سے کھلی اجازت ہے کہ نامحرمات کی تیمارداری کرتے پھریں؟

یہ بھی کہا گیا ہے کہ پرائمری کے بعد مخلوط تعلیم پر پابندی ہوگی۔ غالباً فرانس وغیرہ میں نقابی حجاب پر پابندی کو دیکھتے ہوئے اور حکومت پنجاب کے لاہور کو پیرس بنا دینے کے وعدوں سے پریشان ہو کر سب پر یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ پاکستان میں حجاب کی اجازت ہو گی اور طالبات کو حجاب لینے سے کوئی نہ روکے۔

school

ہمیں یہ سفارش پڑھنے سے پہلے علم نہیں تھا کہ پاکستان میں لڑکیوں کو حجاب لینے سے روکا جانے لگا ہے۔ دوسری طرف گو کہ نہایت واشگاف الفاظ میں یہ بتا دیا گیا ہے کہ پرائمری کے بعد مخلوط تعلیم پر پابندی ہو گی، مگر آگے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ آزادانہ میل جول پر پابندی کی شرط پوری کرنے پر مخلوط تعلیم کی اجازت ہوگی۔ ان دونوں شقوں کو ملا کر پڑھنے سے اس ناچیز کو یہی سمجھ آیا ہے کہ اگر پرائمری کے بچے بچیاں آزادانہ میل جول سے احتراز کریں اور بچیاں حجاب لیں، تو وہ مخلوط پرائمری سکول میں اکٹھے پڑھ سکتے ہیں۔

ملک کی عصری تعلیم یافتہ اور جاہل خواتین پر واضح کر دیا گیا ہے کہ عورت بچے کو دو سال تک اپنا دودھ پلانے کی پابند ہوگی اور ماں کے متبادل دودھ پر مبنی اشتہارات پر پابندی ہوگی۔ ہمیں یہ سمجھ نہیں آیا ہے کہ کیا حکومتی کارندوں کو یہ اختیار دیا جا رہا ہے کہ وہ کسی بھی ایسی راہ چلی عورت سے تفتیش شروع کر سکتے ہیں جو بچہ گود میں اٹھائے ہوئے ہو، یا پھر اب شیر خوار بچوں اور ان کی ماؤں کو پکڑ پکڑ کر ان کا میڈیکل کیا جائے گا کہ پتہ چل سکے کہ بچہ کس کے دودھ پر پل رہا ہے۔ ہم ٹی وی کم دیکھتے ہیں، یہی دن میں کوئی پانچ دس گھنٹے، اس لیے بچوں کے دودھ کا کوئی ایسا اشتہار دیکھنے سے محروم ہیں جس میں یہ دعوی کیا گیا ہو کہ وہ ماں کے دودھ کا نعم البدل ہے۔ غالباً مسلسل ٹی وی دیکھنے والے کونسل کے علما کی نظر سے ایسے اشتہار گزرے ہوں گے۔

punjab-women-protection-bill

آپ یہ مت سمجھیں کہ اس بل میں وہ مسئلہ رہ گیا ہے جس سے یہ سارا فضیحتہ شروع ہوا تھا۔ جی ہاں، شریر عورتوں کی ٹھکائی کا قضیہ۔ تو اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ تادیب کے لیے شوہر عورت پر ہلکا تشدد کرسکے گا۔ اگر کوئی عورت نہاتی دھوتی نہیں ہے، شوہر کے من چاہے کپڑے پہننے سے انکار کرتی ہے، لوگوں سے بات چیت کرتی ہے یا خدمت خلق کے نام پر صدقہ خیرات کرتی ہے، تو اس کی ٹھکائی عین حق ہے۔ بس پیٹتے ہوئے یہ خیال رکھا جائے کہ تادیب سے تجاوز نہ کیا جائے۔ تادیب سے مراد غالباً یہی ہے کہ چہرے پر نہ مارا جائے اور بقیہ جسم کی ہڈی نہ توڑی جائے۔ بل میں واضح کر دیا گیا ہے کہ اگر کوئی مفسد شخص تادیب سے تجاوز اتر آئے تو مظلوم عورت شوہر کے خلاف کارروائی کے لیے عدالت سے رجوع کرسکتی ہے۔

broken-glass

سوال یہ ہے کہ عدالت سے رجوع کرنے کے بعد کیا ہو گا؟ ہمیں تو یہی سمجھ آیا ہے کہ اس کے بعد وہی ہو گا جو کہ حکومت پنجاب نے تحفظ نسواں بل میں لکھا تھا۔ یعنی عدالتی افسر کی جانب سے ایسے تشدد پسند شخص کے اپنی بیوی کے پاس جانے پر پابندی لگائی جا سکتی ہے اور اس مقصد کے لیے اس کے ہاتھ میں جی پی ایس والا ’کڑا‘ پہنایا جا سکتا ہے، اس کو بیوی کو خرچہ دینے کا پابند کیا جا سکتا ہے، وغیرہ وغیرہ۔

تو کونسل کے علما حضرات، سوال یہ ہے کہ پھر جھگڑا کس بات کا تھا؟ کیا آپ یہ کہنا چاہتے تھے کہ گھر سے بھاگ کر شادی کرنے کی اجازت واضح الفاظ میں نہ دینے کی وجہ سے حکومت پنجاب کا تحفظ نسواں بل ناقص تھا، یا پھر کوئی اور معاملہ ہے۔

اسلامی نظریاتی کونسل کی جانب سے پیدا کی گئی اس صورت حال کو بیان کرنے کے معاملے میں اردو زبان ہرگز بھی تہی داماں نہیں ہے۔ ہمارے سیانے اتنے فساد کے بعد ایسا بل بناتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’کھایا پیا کچھ نہیں، گلاس توڑا بارہ آنے‘۔


Comments

FB Login Required - comments

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 326 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

2 thoughts on “اسلامی نظریاتی کونسل کے تحفظ نسواں بل کے بارہ آنے

  • 26-05-2016 at 6:19 pm
    Permalink

    ’’اسلام یا کوئی اور مذہب چھوڑنے پر عورت قتل نہیں کی جائے گی‘‘۔ دوسرے مذاہب کا ذکر تو خیر یونہی ہےکیونکہ مذہب اسلام میں داخل ہونے پر تو کوئی قتل کی بات نہیں کرتا، خواہ عورت ہو یا مرد۔ البتہ عورت کے ترک اسلام پر اسے قتل نہ کرنے والی بات ایسے لگتا ہے کہ سبک ہندی کے اسلوب میں کی گئی ہے جو کسی قدر تفصیل کا تقاضا کرتی ہے۔بعض عورتیں اپنے خاوند سے چھٹکارا پانے کے لیے تبدیلی مذہب کو بہانہ بناتی ہیں۔ ان کے بارے میں بعض فقہائے احناف کا فتوی ہے کہ عورت کو قید کیا جائے گا تاوقتیکہ کہ وہ توبہ کرلے اور دوبارا اسی خاوند سے اس کے نکاح کی تجدید کر دی جائے گی۔ اگر وہ توبہ نہ کرے تو اسے لونڈی بنا کر اسی شوہر کے حوالے کر دیا جائے۔ نکاح ایسا میثاق غلیظ (عربی معنوں میں) ہے جس کو عورت کی بہانہ سازی فسخ نہیں کر سکتی۔

  • 27-05-2016 at 6:10 am
    Permalink

    جناب کاکٹر صاحب اس بل کی چند ایک شقیں ہمیں ہی کنفیوز نہیں کرتیں بلکہ اپنے آپ میں یہ سارا قانونی مسودہ کنفیوز ذہنوں کی پیداوار دکھائی دیتا ہے ۔ آپ نے جو سوالات اٹھائے ہیں، یہ مذہبی پیشوا ان کا کیا جواب دیں گے تاہم آپ نے اپنے حصے کا جو چراغ روشن کیا ہے امید کہ اس سے کچھ تو روشنی ہو گی اور پاکستانی خواتین خود بھی آگے بڑھیں گے ۔

Comments are closed.