پشاور میں انسانیت قتل ہو گئی؟



ramish-fatima اللہ ان کے گھر بھی ہمارے جیسے بچے دے۔۔۔۔

علیشاہ کے جنازے پہ ساتھیوں نے یہ بددعا دی ہے اس کے قاتلوں کو۔اپنے جیسے ہونے کو ایک بددعا بنا دینے کی وجہ اس معاشرے کا رویہ ہے جو ہم نے خواجہ سرا کے ساتھ روا رکھا۔ ہم ان کی عزت کرتے ہیں؟ ہم انہیں انسان تسلیم کرتے ہیں؟ کسی محفل یا چوراہے پہ ہم ان کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں؟ بھوک ایسی حقیقت ہے جس سے فرار بےوقوفی ہے اور اس ایک ضرورت کو پورا کرنے کی خاطر اس معاشرے نے کیا راستہ چھوڑا ہے ان کے لئے؟ سوال کچھ زیادہ ہو گئے نا مگر جواب تو ہم سب جانتے ہیں پر جاننے کے باوجو ہم سمجھنے کو یا کچھ تبدیل کرنے کو تیار نہیں۔

علیشاہ کا مجرم کون ہے؟ وہ جس نے گولی ماری؟ وہ جس نے مسیحائی نہیں کی؟ وہ جس کیلئے کوائف یا جنس اہم ہے؟ وہ معاشرہ جو کسی چوک چوراہے پہ انہیں عزت نہیں دے سکتا؟ یہ فیصلہ آپ کریں۔ مجھے بس اتنا کہنا ہے کہ آپ انسان ہیں؟ آپ کو کسی بات سے فرق پڑتا ہے؟ اگر واقعی آپ کو لگتا ہے کہ علیشاہ کا مجرم صرف کوئی ڈاکٹر ہے تو امید ہے اگلی بار جب کسی علیشاہ کو آپ کسی چوک چوراہے پہ دیکھیں تو دبی دبی ہنسی، حقارت ، تضحیک اس سب سے گریز کریں گے۔اگر آپ انکے لئے یہ تبدیلی لا سکتے ہیں تو ہی ہم مان سکتے ہیں کہ آپ کو فرق پڑا ہے۔ لیکن اگر یہاں سوشل میڈیا پہ بیٹھ کر ڈاکٹروں کو گالی دینی ہے اور باہر سڑکوں پہ وہی کچھ کرنا ہے جو آپ کرتے ہیں تو پھر کوئی فائدہ نہیں اس ڈھونگ کا۔ جانتے ہیں کیوں؟ کیونکہ ڈاکٹر بھی اسی معاشرے کا حصہ ہے، کتاب اور ہسپتال کی تعلیم کے ساتھ کچھ رویے معاشرہ بھی طے کرتا ہے۔ جس معاشرے میں اخلاقیات گھروں میں نہیں ہے، چوک چوراہوں پہ نہیں ہے، گلی محلوں میں نہیں ہے، دفتروں میں نہیں ہے تو ہسپتالوں میں کیوں ہو گی؟

مسیحا کا کام مسیحائی ہے، کسی تعصب کسی تفریق سے بالاتر ہو کر مریض کی بہتری کیلیئے اقدامات کرنا۔ اگر وہ ایسا نہیں کر سکتا تو وہ سب کچھ ہے، مسیحا نہیں ہے۔ آپ بھی اسے مسیحا کہہ کر مسیحائی کی توہین نہ کریں ۔

مہذب معاشرے کا کام ہر فرد کی عزتِ نفس کا احترام ہے، جنس سمیت ہر طرح کی تفریق سے بالاتر ہو کر بنیادی احترام جو ہر انسان کا حق ہے۔ اگر معاشرے میں یہ تہذیب نہیں ہے تو وہ محض بدتہذیب لوگوں کا اکٹھ ہے جو ساتھ رہنے پہ مجبور ہیں۔

ہم انسانیت کے مر جانے کا رونا روئیں ، ہم مسیحائی کی موت پہ افسردہ ہوں ، ہم اخلاقیات کے مردہ ہو جانے پہ شکوہ کناں ہوں ، جو بھی ہو سب کی وجہ علیشاہ ہے لیکن کیا اس معاشرے میں علیشاہ کیلئے کبھی جگہ تھی؟ کبھی جگہ ہو گی؟ ہم ایک انسان کے قتل کو ساری انسانیت کا قتل قرار دیتے ہیں۔ پوچھنا صرف یہ ہے کہ پشاور میں انسانیت قتل ہو گئی ہے یا ابھی باقی ہے؟


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “پشاور میں انسانیت قتل ہو گئی؟

  • 26-05-2016 at 8:58 pm
    Permalink

    بات آپ کی کسی حد تک ٹھیک ہے کہ مسیحا کو معاشرے سے باہرنہیں رکھا جاسکتا وہ بھی اسی سماج کا حصہ ہے تاہم اگر جی ایٹ مرکز میں واقع کسی ورکشاپ میں کام کرنے والے ان پڑھ مکینک اورپورے کیرئیر میں اعلیٰ تعلیمی اورقابل فخر اداروں سے مسیحائی کا سند لینے والے مسیحا کا جنسی اقلیت سے تعلق رکھنے والے ایک انسان سے رویہ ایک سا رہتا ہے تو پھر شکوہ تو بنتا ہے اور افسوس بھی لازمی ہے۔پشاور میں جو کچھ ہوا وہ نہیں ہونا چاہئیے تھا

  • 27-05-2016 at 12:19 am
    Permalink

    سرکار بالکل شکوہ بنتا ہے، افسوس بھی لازم ہے، یہی تو کر سکتے ہیں، یہی تو کر رہے ہیں۔

Comments are closed.