افغان پالیسی میں ایک نکاتی یکسوئی کی ضرورت


sartajپاکستان نے ملا اختر منصور کی ہلاکت کے پانچ روز بعد بالآخر تسلیم کرلیا ہے کہ ہفتہ کے روز بلوچستان میں ہونے والے امریکی ڈرون حملے میں مارا جانے والا دوسرا شخص ملا اختر منصور ہی تھا۔ اس بارے میں بات کرتے ہوئے پاکستان کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے نے کہا ہے کہ ڈی این اے ٹیسٹ کی رپورٹ آنے سے پہلے لاش کسی کے حوالے نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے ایک بار پھر پاکستان کی طرف سے ریڈ لائن قرار دئے گئے علاقے پر ڈرون حملہ کرنے پر احتجاج کیا اور کہا کہ پاکستان یہ معاملہ اقوام متحدہ میں بھی اٹھائے گا۔

سرتاج عزیز نے ملا منصور کی ہلاکت کو افغانستان میں امن کے لئے بڑی رکاوٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک سال میں دوسری مرتبہ امن کے امکانات کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے۔ گزشتہ جولائی میں مذاکرات کا آغاز ہو چکا تھا لیکن اس کا دوسرا دور ہونے سے پہلے افغان ذرائع نے طالبان کے بانی لیڈر ملا عمر کی موت کا اعلان کرکے اس امکان کو ناکام بنا دیا۔ ملا عمر غالباً 2013 میں انتقال کرچکا تھا لیکن امن مذاکرات کو کامیاب بنانے کے نام پر اس خبر کو خفیہ رکھا گیا تھا۔ حالانکہ پاکستان کے حمایت یافتہ گروہ اگر امن معاہدہ کر بھی لیتے تو ملا عمر کے زندہ رہنے کا جھوٹ سامنے آنے کے بعد بھی مخالف عناصر اس معاہدہ سے منحرف ہو سکتے تھے۔ اس لئے اب اس دلیل کو بھول جانا ہی بہتر ہے۔ پاکستان نے ملا عمر کی موت کو خفیہ رکھ کر دراصل ملا اختر منصور کی مدد کی تھی تاکہ وہ طالبان پر اپنا کنٹرول مضبوط کرلے۔ تاہم ملا عمر کی موت کی خبر سامنے آنے کے بعد طالبان کے مختلف دھڑوں ، حتیٰ کہ ملا عمر کے اہل خاندان نے بھی ملا منصور کی قیادت کو چیلنج کیا تھا۔ ملا منصور کو خود کو طالبان کا متفقہ امیر قبول کروانے میں چھ ماہ صرف کرنا پڑے اور اس دوران اس کی قیادت میں طالبان نے جنگ جوئی اور دہشت گردی میں اضافہ کیا۔ اسی مرحلے پر ملا منصور پاکستان کے اثر و رسوخ سے باہر نکلا اور دہشت گردوں کے مسلمہ طریقے کے مطابق خود کو طاقتور سمجھتے ہوئے پاکستان کی صلاح اور رہنمائی کو قبول کرنے سے انکار کرنے لگا تھا۔ اسی صورت حال کی وجہ سے پاکستان امن مذاکرات میں طالبان کو واپس لانے میں مسلسل ناکام ہوتا رہا ہے۔

اب یہ دعویٰ کرنا کہ ملا منصور دراصل امن مذاکرات کا حامی تھا، حالات کی غلط تصویر کشی سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ ملا منصور نہ صرف یہ کہ پاکستان کے اثر سے نکل چکا تھا بلکہ وہ متبادل رابطے قائم کرنے میں بھی مستعد تھا۔ ایران کا سفر اور وہاں قیام اسی حکمت عملی کا مظہر ہے۔ پاکستان کو لامحالہ اس رویہ پر پریشانی اور تشویش تھی۔ اس لئے پس از ہلاکت یہ قرار دینا کہ ملا اختر زندہ رہتا تو مذاکرات شروع ہو سکتے تھے اور اب پاکستان یہ ضمانت نہیں دے سکتا کہ مذاکرات کا آغاز کب ہو سکے گا، خام خیالی اور صورت حال کی غلط تفہم پر مبنی منظر کشی ہے۔ پاکستان یہ سمجھنے سے قاصر رہا ہے کہ جس طرح دسمبر 2014 میں پشاور آرمی پبلک اسکول پر دہشت گرد حملہ کے بعد افواج پاکستان نے تحریک طالبان پاکستان کے بارے میں اپنی پالیسی تبدیل کی تھی ، اسی طرح اس سال 19 اپریل کو کابل میں ملٹری ہیڈ کوارٹرز پر دہشت گرد حملہ نے امریکہ اور افغانستان کے صبر کا پیمانہ لبریز کر دیا تھا۔ ملا اختر منصور کو مارنے کے لئے ڈرون حملہ امریکہ کی اسی ناراضگی کا اظہار ہے۔

موجودہ حالات میں پاکستان کو افغانستان میں امن مذاکرات کی ذمہ داری کے بارے میں پریشان ہونے کی بجائے خود کو اس بحران سے علیحدہ کرنے کی کوششوں کا آغاز کرنا چاہئے تاکہ یہ آگ پاکستان کی سرحدوں سے دور رکھی جا سکے۔ سرتاج عزیز کا یہ مؤقف بالکل درست ہے کہ پاکستان میں تیس لاکھ افغان مہاجرین کی موجودگی سرحد کے دونوں طرف دہشت گردی کا سبب بن رہی ہے۔ ان کی واپسی کے لئے فوری اور مؤثر کوششوں کا آغاز ہونا چاہئے۔ تاہم پاکستان کو بھی اپنی ساری صلاحیتیں افغانستان کے حوالے سے دیگر امور پر صرف کرنے کی بجائے صرف افغان مہاجرین کی ملک سے واپسی پر صرف کرنی چاہئیں۔

اس معاملہ پر اپنی سنجیدگی کا اظہار کرنے کے لئے سب سے پہلے افغان طالبان کے لیڈروں اور ان کے خاندانوں کو پاکستان سے افغانستان بھیجا جائے اور واضح اعلان کیا جائے کہ پاکستان کسی ایسے شخص یا اس کے اہل خاندان کو اپنے ملک میں پناہ گاہ فراہم نہیں کرسکتا جو ہمسایہ ملک میں دہشت گردی اور جنگ جوئی میں مصروف ہے۔ اگر پاکستانی حکام سنجیدگی سے یہ کام کرسکیں تو مہاجرین کی واپسی کے حوالے ان کے دلائل کو عالمی سطح پر زیادہ ہمدردی سے سنا جائے گا۔ بصورت دیگر امریکہ اپنی صوابدید کے مطابق ’امن دشمن‘ عناصر کو نشانہ بناتا رہے گا اور پاکستان اسے روک نہیں پائے گا۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 414 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali