جھوٹ سچ پر غالب آ رہا ہے


naeem iqbalجس معاشرے میں جھوٹ‘ سچ کا لبادہ اوڑھ کر سچ پر غالب آنے لگے۔ جب کرپشن اتنی کھلم کھلا اور ڈنکے کی چوٹ پر کی جانے لگے کہ ایسا گمان گزرے جیسے کارخیر ہو۔ جب غریب کا استحصال‘ مال مفت دل بے رحم کی بنیاد پر ہونے لگے۔ جب وڈیرے ووٹ نہ دینے کی پاداش میں اپنی انا کی تسکین کی خاطر‘ اپنے کمیوں کے منہ میں جوتے دے کر ان کے سر اپنے قدموں میں رکھوائیں اورجہاں نابینا خاتون کو بھی نہ بخشا جاتا ہو‘ وہ معاشرہ پستی کی کن حدوں کو چھورہا ہے؟ اس کا ادراک کرنا کوئی مشکل نہیں۔

سب سے پہلے جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ ثابت کرتے ہیں۔ آپ ذرا سی کوشش کریں تو اب یہ کوئی مشکل کا م نہیں رہا۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ میں کس قسم کا انسان ہے کہ آپ کو جھوٹ سچ کے چکر میں ڈال کر خود سچا بننے میں لگا ہوا ہے۔ یقین نہیں آتا ناں۔ پہلے مجھے بھی نہیں آتا تھا ۔ کسی نے سچ ہی کہا ہے کہ جھوٹ اتنے تواتر اور روانی سے بولو کہ وہ سچ لگنے لگے۔واقعی‘ اب مجھے ان صاحب کی کہی ہوئی بات سچ لگ رہی ہے۔ چلیں آپ کو بھی یقین دلاتے ہیں۔ چند روز قبل‘ افغان طالبان کے امیر ملا اختر منصور کی ہلاکت ایک معمہ بن کر رہ گئی۔ان کی ہلاکت پر دونوں اطراف یعنی امریکہ اور پاکستان سے خبریںآرہی تھیں۔ امریکہ کے مطابق‘ ملاصاحب ڈرون حملے میں مارے جا چکے ہیں اور اس حملے کی پیشگی اطلاع پاکستان کو کر دی گئی تھی۔یہ ہے امریکہ کی طرف سے جاری کیا جانے والا سچ۔ اب رخ کرتے ہیں پاکستان کے سچ کا۔دفتر خارجہ کے مطابق‘ ملا اختر کی ہلاکت کی تصدیق نہیں ہوئی اور نہ ہی امریکہ نے ڈرون حملے کی پیشگی اطلاع دی تھی۔ چونکہ امریکہ سپر پاور ہے اور اس کے سچ کو جھٹلانے کی بھلا کون ہمت کر سکتا ہے؟اور دوسری طرف ہماری وطن عزیز سے محبت۔ہم اس کا سچ کیونکرسچ نہیں مانیں گے کیونکہ ہمیں اپنا وطن جان سے بھی زیادہ عزیز ہے۔ لہٰذا ہم سپر پاور امریکہ اور وطن عزیز دونوں کے سچ کو سچ بلاعذر تسلیم کرتے ہیں اور یہ نتیجہ اخذ کرنے پر مجبور ہیں کہ دونوں ہی اپنے اپنے حصے کا سچ بول رہے ہیں۔

آئیے!ایک اور مثال سے جھوٹ سچ اور سچ جھوٹ کا کھیل کھیلتے ہیں۔آ پ ٹی وی چینلز پر ٹاک شوز تو ضرور دیکھتے ہوں گے۔ ان ٹاک شوزمیں ہر سیاسی پارٹی ا نمائندہ شریک گفتگو ہوتا ہے۔آپ جس پارٹی کے نمائندے کا موقف بھی سنیں گے وہ آپ کو سچ کا پرچار کرتا ہی دکھائی دے گا ۔ آپ پروگرام کے اختتام پر سر پکڑ کر‘ اس نتیجے پر پہنچنے پر مجبور ہو جائیں گے کہ سیاسی پارٹیوں کے بیٹھے سارے نمائندوں کا موقف درست ہے اور سبھی ڈنکے کی چوٹ پر سچ کا پرچار کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔اگر سبھی نمائندے سچ کا پرچارکر رہے ہیں تو ان میں سے جھوٹا کون ہے؟شاید کوئی بھی نہیں۔ تو ہو گئی ناں میرے موقف کی تائید کہ جھوٹ سچ کا لبادہ اوڑھ کر سچ پر غالب آرہا ہے بلکہ آچکا ہے۔

چلیں! ٹی وی ٹاک شوز سے جان چھڑا کر اب آپ کو لئے چلتے ہیں عوامی جلسوں میں۔ جب الیکشن کی گہما گہمی ہو تو ہر امیدوار اپنے اپنے حلقوں میں جوش خطابت کے جوہر دکھاتے ہیں۔ اکثر دیکھنے میں یہ بھی آیا ہے کہ مسلسل دو دو‘ تین تین بار جیتنے والا امیدوار بھی یہی دعوی کر رہا ہوتا ہے کہ اگر اب وہ کامیاب ہو گیا تو علاقے کو پیرس جیسا بنا دے گا حالانکہ وہ پہلے بھی دو دفعہ”پیرس“ بنا چکا ہوتا ہے لیکن عوام کو ان کا یہ دلفریب جھوٹ اتنا سچ لگتا ہے کہ وہ بار بار اس پر اعتبار کرتے ہیں۔بیچارے عوام کو بھی جھوٹ کو سچ مان کر خوابوں کی دنیا میں اپنا مسکن تلاش کرنے کی لت پڑ چکی ہے۔جب عوام ہی ایسی لت میں پڑجائے تو بھلا لیڈر انہیں لت پت کئے بغیر چھوڑیں گے۔

اب تھوڑا ساغریبوں کا استحصال بھی کرتے ہیں تاکہ انہیں بھی لاچارگی اور بے بسی کی زندگی گزارنے کی ”سزا“ تو ملے۔ میں یار دوستوں سے اکثر کہتا ہوں کہ جہاں امیر‘ غریب کا استحصال کرنا اپنا پیدائشی حق سمجھتا ہے وہیں غریب‘ غریب کا دشمن بنا ہواہے۔ہر سال بجٹ آتا ہے۔بجٹ آنے سے پہلے سرمایہ دار‘ مہنگی ہونے والی اشیا ذخیرہ کر لیتے ہیں تاکہ بعد میں زیادہ منافع کماسکےں۔اب چھوٹے دکانداروں نے بھی یہ وتیرہ اپنا لیا ہے کہ بجٹ سے پہلے ہی مصنوعی مہنگائی کر دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر آپ دکاندار سے بوتل‘ سگریٹ‘ جوس وغیرہ خریدیں تو وہ اس کی قیمت میں ازخود اضافہ کردے گا۔ جب آپ دکاندار سے کہیں گے کہ بھائی یہ اشیا ابھی مہنگی نہیں ہوئیں تو آپ کیوں مہنگے داموں فروخت کر رہے ہو؟ تو موصوف جواب دیںگا کہ پیچھے سے ہی مہنگی ہو گئی ہیں لہٰذا اسی ریٹ پر ملیں گے۔اس طرح کی بے شمار مثالیں ہیں جن سے ہم پر یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ غریب‘ غریب کا ازلی دشمن بنا بیٹھا ہے۔ مثال کے طور پر رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں ہر ملک میں اشیائے خورو نوش کی قیمتیں حد درجے کم کر کے ‘ غریب کو ریلیف مہیا کیا جاتا ہے لیکن ہمارے ہاں گنگا الٹی ہی بہتی ہے۔ حکومت رمضان کے مقدس مہینے میں اپنی بساط کے مطابق ‘قیمتیں کم کرتی ہے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے لیکن یہی ریلیف عوام کے لئے تکلیف میں بدل جاتا ہے کیونکہ بنیادی وجہ ہے غریب چھوٹا دکاندار‘ جو سارا ریلیف خود ہڑپ کر کے‘ غریب کی جیب پر ڈاکہ ڈالتا ہے۔ یہ ہے وہ استحصال جو محض چند ٹکوں کی خاطر غریب‘ غریب کا کر کے اس کی زندگی کی سانسیں مزید کم کر رہا ہے۔

اب کیوں نہ تھوڑ ی بہت کرپشن بھی کر لیتے ہیں۔ یہ ہمارے بس کی بات نہیں کیونکہ ابھی تک ہمارا ہاتھ ہی نہیں پڑا۔ کرپشن کے بارے میں کیا عرض کریں۔ بس یہی کہہ سکتے ہیںکہ گلشن کا سارا کاروبار ہی اسی کا مرہون منت ہے۔حکومت سے لے کر اپوزیشن تک‘ وفاقی وزیر سے لے کر مشیر تک‘ سیکرٹری سے لے کر اسسٹنٹ تک‘ حوالدار سے لے کر پٹواری تک‘ شاید ہی کوئی ایسا ہوجس نے اس کا مزہ نہ چکھا ہو۔اگر نہیں چکھا تو چکھنے کے لئے بے تاب بیٹھا ہو گا۔ لیکن مجال ہے وطن عزیز میں آج تک کسی پر کرپشن ثابت ہوئی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ہر کوئی بلاخوف و خطر ڈنکے کی چوٹ پر‘ اس حمام میں ننگا ہونے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتا ہے۔گزشتہ ادوار میں جس طرح ملک کو باپ کی جاگیر سمجھ کر لوٹا گیا‘اس کی نظیر ڈھونڈے سے بھی نہ مل پائے گی۔لیکن جنہوں نے لوٹا‘ ان کا کوئی بال بھی بیکا نہ کر پایا‘ سوائے پیشیوں کے ۔اس ملک میں یہی کچھ ہی ہونا ہے کیو نکہ جس معاشرے میں جھوٹ‘ سچ کا لبادہ اوڑھ کر سچ پر غالب آنے لگے۔ اس کی پستیوں کی کوئی حد نہیں ہوتی۔ وہ نئی حدوں کے تعین میں نیچے گرتا ہی چلا جاتا ہے جیسے ہم۔


Comments

FB Login Required - comments