اسلامی نظریاتی کونسل کو خدا حافظ کہہ دینا چاہیے


khaldune shahidستم یہ نہیں کہ اسلامی نظریاتی کونسل نے ایک بار پھر نہ صرف آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے بلکہ اپنے زعم میں قانون کی بالادستی قائم کرتے ہوئے خواتین کے خلاف تشدد کا نعرہ بلند کیا ہے۔ ستم یہ بھی نہیں کہ 163 نکات پر مشتمل اس فرسودہ اور لرزہ خیز نفرت کے انبار کو تحفظ نسواں بل کہا جا رہا ہے۔ اور ستم یہ بھی نہیں کہ ایک ایسا ادارہ جس پر مردوں کا غلبہ ہے خواتین کے حقوق کی نمائندگی کر رہا ہے۔ ستم یہ ہے کہ اس بے تکے ادارے کو اپنی نفرت انگیز مشاورت کا غیر متنازعہ حق ریاست کی جانب سے ملا ہوا ہے۔

اسلامی نظریاتی کونسل کو غیر اسلامی کہنا اتنا ہی غیر مناسب ہوگا جتنا کہ اس ادارے کو اسلام کا اکلوتا نمائندہ کہنا غیر منصفانہ ہے۔ بے شک اسلامی نظریاتی کونسل ایک طرز اسلام کی عکاسی کرتی ہے اور اپنے فیصلے قران و سنت کی اپنی ذاتی تشریح کی بنا پر سناتی ہے۔ لیکن ایسی تشریح جس میں خواتین پر تشدد، نابالغ بچوں سے نکاح اور اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کو فروغ دیا جائے۔ کیا ایسے اسلام کی ایسی تشریح کی جدید دنیا میں کوئی جگہ ہے؟ کس فخر کے ساتھ ہم مسلمان اس مذہبی انتہا پسندی کو اکیسویں صدی میں مذہب کی متفقہ و واحد تشریح قرار دے رہے ہیں۔

پچھلے پانچ مہینوں میں اسلامی نظریاتی کونسل پنجاب کے تحفظ نسواں ایکٹ کو اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کی کم عمری کی شادی کے خلاف قانون میں ترمیم کو “غیر اسلامی” قرار دے چکی ہے۔

انہی پانچ مہینوں میں مولانا شیرانی نے اسلامی نظریاتی کونسل کی جانب سے اس بحث کا آغاذ بھی کیا کہ کیا احمدیہ برادری محض “غیر مسلم” ہیں، جیسا کہ پاکستانی آئین کہتا ہے، یا وہ مرتدین میں شمار ہوتے ہیں۔ اس سوال کے جواب پر جماعت احمدیہ کا ریاستی طور پر واجب القتل ہونا یا نہ ہونا منحصر ہے۔ جب اسلام کی آڑ میں ملک کی آدھی آبادی پر تشدد اور ایک مذہبی برادری کی نسل کشی کی توثیق کی جا رہی ہو تو ظاہر ہے کہ ایسے ادارے کا وجود ملک میں امن کی بقا کے لیے خطرہ ہے۔ لہذا اسلامی نظریاتی کونسل کی اب چھٹی ہو جانی چاہیے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کی تحلیل کی تجویز کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ راسخ العقیدہ مذہبی تشریحات کو زبردستی خاموش کر دینا چاہیے۔ اس سے مراد یہ بھی نہیں کہ قانون سازی میں اسلامی فقہ پہ بحث پر پابندی لگا دینی چاہیئے۔ اسلامی تاریخ میں اس بحث کی اتنی ضرورت شاید ہی کبھی رہی ہو جتنی آج ہے۔ لیکن جب ہم قانون سازی کو کسی مذہبی گروہ کے ماتحت کر دیتے ہیں اور اس مذہب کی کسی ایک تشریح کو اس کے تمام پیروکاروں کی نمائندگی سونپ دیتے ہیں تو ہم عملی طور پر بحث کا خاتمہ کر دیتے ہیں۔

 سنہ 2016 ء میں یہ بحث بھی کیسے کی جا سکتی ہے کہ کمسن بچی کی شادی ہونی چاہیے یا نہیں، شوہروں کو اپنی بیویوں کو مارنے کی قانونی اجازت ہونی چاہیے یا نہیں اور نظریاتی اختلافات کی بنا پر انسانوں کا قتل ہونا چاہیے یا نہیں۔ اگر کوئی بھی نظریہ یا مذہبی تشریح ان میں سے کسی مظالم کی توثیق یا بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کو فروغ دیتی ہے تو اس تشریح کو ارتقا اور اجتہاد کی ضرورت ہے نا کہ ان حقوق پر نظرثانی کرنے کی۔

اسلامی نظریاتی کونسل کے ماضی قریب میں سنائے گئے چند ممتاز فیصلے مندرجہ ذیل ہیں۔ سنہ 2006 ء میں اس ادارے نے پہلے تحفظ نسواں بل کو “غیر اسلامی” قرار دیا کیونکہ اس میں ریپ کو فوجداری قانون کے زمرے میں لایا گیا تھا۔ سنہ 2013 ء میں اسلامی نظریاتی کونسل نے ریپ کے مقدموں میں ڈی این اے ٹیسٹ کے استعمال کو “غیر اسلامی” قرار دیا۔

 سنہ 2014 ء میں انہوں نے بیوی کے اپنے شوہر کی دوسری شادی پہ اعتراض کو “غیر اسلامی” قرار دیا۔ یوں معلوم ہوتا ہے گویا مولانا شیرانی اور اسلامی نظریاتی کونسل کا تصور مذہب محض حقوق نسواں کی مخالفت کو ہی اپنی توجہ کا مرکز بنائے رکھتا ہے۔ بدھ کو کونسل کا اپنے “تحفظ نسواں بل” کو اپنی اکلوتی خاتون رکن ڈاکٹر سمیعہ راحیل قاضی کی عدم موجودگی میں حتمی شکل دینا بھی یہی واضح کرتا ہے۔

ویسے بھی کبھی سننے میں نہیں آیا کہ مولانا نے ریپ، کاروکاری، خودکش دھماکے، ہجومی تشدد، بچوں پر تشدد یا غیرمسلموں سے بد سلوکی کو ببانگ دہل “غیر اسلامی” قرار دیا ہو۔ بے شک اسلامی نظریاتی کونسل محض ایک مشاورتی ادارہ ہے اور اس کے فیصلوں کو قانونی شکل دینا پارلیمنٹ پر واجب نہیں۔ لیکن جب آئینی طور پر ریاست کا مذہب متعین کیا گیا ہو اور آئین کو مذہب کے تابع قرار دے دیا گیا ہو نیز اس کی تشریح پہ اجارہ داری کسی ایک گروہ کے سپرد کی گئی ہو تو عملی حقیقت مولانا شیرانی کی مسلمہ انتہا پسندی کی شکل میں ہی ظاہر ہوتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان اور مسلم دنیا کو ایسے اداروں کی ضرورت ہے جو جدیدیت اور اسلام کے مابین بظاہر تصادم پر قابو پا سکیں۔ اس تنازعہ کا مقابلہ راسخ العقیدہ اسلام کے اعتدال پسند متبادل کی شکل میں ہی کیا جا سکتا ہے۔ اور کوئی بھی نظریہ، مذہبی یا غیر مذہبی، جو کسی بھی طرح کی اجارہ داری کا دعویٰ کرے وہ حال اور مستقبل کے متنوع اور جامع معاشرے میں برقرار نہیں رہ سکتا۔

کسی جمہوری آئین میں ریاستی حاکمیت اعلیٰ کسی ایک مذہب سے مشروط نہیں ہو سکتی۔ جمہوریت میں حاکمیت اعلیٰ عوام کے پاس ہوتی ہے اور اس میں ہر فرد برابر کا حصہ دار ہوتا ہے اور عالمگیر انسانی حقوق کی بالادستی قانون سازی کی بنیاد۔ اگر ہم ایسے پاکستان کے لیے جدوجہد کرنا چاہتے ہیں تو آج نہیں تو کل اسلامی نظریاتی کونسل کو خیرباد کہنا ہی پڑے گا۔


Comments

FB Login Required - comments