تارڑ: نکلے حسن کی تلاش میں


مستنصر حسین تارڑ صاحب سے ہماری ملاقات بس کچھ اتفاقیہ سے انداز میں ہوئی۔ ہوا یہ کہ ’سفر ہے شرط‘ والے وقار احمد ملک گزشتہ ہفتے سے ہمیں قائل کر رہے تھے کہ شمالی پاکستان دیکھنا ہر عاقل و بالغ پاکستانی پر فرض ہے۔ ہم نے عذر پیش کیا کہ پاکستانی ہونے کی شرط تو ہم پوری کرتے ہیں مگر ہماری تحریروں پر ہمیں ایسے تبصرے ملتے رہتے ہیں کہ پہلی دو شرائط کے پورا ہونے کا ہمیں اب یقین نہیں ہے اس لیے شمالی پاکستان جانا ہم پر فرض نہیں ہے۔ پہلے تو لبھاتے رہے کہ وہاں کی خوبصورتی ایسی ہے اور فضا ویسی ہے۔ گھاٹیاں دلکش ہیں تو چوٹیاں مبہوت کر دیتی ہیں۔ مگر ہم ٹھہرے تن آسان شخص، اگر کسی پہاڑی یا چوٹی پر ہماری گاڑی بغیر کسی دقت کے جا سکتی ہے تو ہمیں وہاں کی سیر پر ہرگز بھی کوئی اعتراض نہیں ہے، بلکہ بہت خوش ہو کر کھڑکی کا شیشہ نیچے کر کے وہاں کی ہوا اور خوشبو سے لطف بھی اٹھا لیں گے، مگر اپنے پیروں کو ایسی مشقت میں ڈالنا ہمیں قبول نہیں ہے۔ تارڑ صاحب ہی ’نکلے تیری تلاش میں‘ کہہ چکے ہیں کہ سیاح ہو کر ڈرنا مناسب نہیں ہے، کوئی اتنا ہی دلیر ہو تو مال روڈ کے کسی خوبصورت ریستوران میں بیٹھ کر چائے پیے، باسی پیسٹریاں کھائے، اور بڑی محفوظ قسم کی زندگی گزارے۔ تو ہم باسی پیسٹری کھا کر محفوظ زندگی گزارنا مناسب جانتے ہیں۔

جب وہ تھک ہار گئے تو کہنے لگے کہ کسی ادیب کی تحریر میں اس وقت تک گہرائی نہیں آ سکتی ہے جب تک کہ وہ فطرت کا خود سے مشاہدہ نہ کر لے۔ ہمیں استہزائیہ انداز میں مسکراتے دیکھا تو کہنے لگے کہ اپنے مستنصر حسین تارڑ صاحب کو ہی دیکھ لو کہ کتنا بہترین لکھتے ہیں۔ لفظوں سے فسوں باندھتے ہیں۔ منشی محمد حسین جاہ کے زمانے میں ہوتے تو ان کا ذکر طلسم ہوشربا میں قلم کش جادو کے نام سے کیا جاتا اور سحر ان کا بھی ویسا ہی بیان ہوتا جیسا کہ ملکہ بہار جادو کا تھا۔ یہ قلم سے لفظوں کا گلستان بناتے ہیں اور پڑھنے والے جوق در جوق اس باغ میں داخل ہوتے ہیں اور ہوش و حواس سے بیگانہ ہوئے جاتے ہیں۔

ہم حیران ہوئے اور کہنے لگے کہ تارڑ صاحب کی چند کتابیں جو ہم نے اوائل جوانی میں پڑھی تھیں، ان میں تو وہ اچھا بھلا بسوں اور ٹرینوں پر سفر کیا کرتے تھے، دیس دیس کے تماشے دیکھتے تھے، حسیناؤں سے غزل الغزلات کہتے تھے، اور البرز پہاڑ وغیرہ دیکھنا بھی ہوتا تھا تو اپنی بس کی کھڑکی سے باہر جھانک کر دیکھنا بہت کافی سمجھتے تھے، اتاؤلے ہو کر بس نہیں رکواتے تھے کہ تم چلے چلو میں ذرا اس پہاڑ کو سر کر کے آتا ہوں۔

مستنصر حسین تارڑ (ممدوح) اور وقار احمد ملک (مداح)

وقار ملک کہنے لگے کہ ایسی بات نہیں ہے۔ اب ان کے بیشتر سفرنامے ملک کے شمالی علاقوں پر ہی ہیں۔ وہ اب اس علاقے کے سحر میں مبتلا ہوئے ہیں تو بس اسی کے ہو کر رہ گئے ہیں۔ کبھی ’سفر شمال کے‘ کرتے ہیں، تو کبھی ’ہنزہ داستان‘ کہتے ہیں۔ کبھی ’دیوسائی‘ کی یاد میں دیوانے ہوتے ہیں تو کبھی ’کالاش‘ کی ’برفیلی بلندیاں‘ انہیں لبھاتی ہیں۔ ’کے ٹو کہانی‘ ان کی زبان سے سننے کا جو مزا ہے، وہ ’نانگا پربت‘ کا سا مبہوت کن سحر طاری کر دیتا ہے۔ وہ اپنا رک سیک اٹھاتے ہیں، اور یورپ کی بجائے فیری میڈوز نکل جاتے ہیں یا کسی دوسرے دشوار گزار ٹریک پر۔ یوسفی صاحب نے تو تہذیبی رچاؤ کا ولایتی نسخہ بتایا تھا، مگر نروان پانے کا نسخہ تو تارڑ صاحب کے پاس ہے۔

ہمیں وقار ملک کی بات پر یقین نہ آیا تو انہوں نے ہمیں تارڑ صاحب سے ملانے کی حامی بھر لی۔ کہنے لگے کہ ملنے کا مناسب وقت تو صبح پانچ بجے ہے، میں کل اسی وقت مل کر آیا ہوں، تم تیار رہنا۔ ہم طبیعت کے شکی مزاج ہیں، کچھ یقین نہ آیا کہ اتنی صبح بھی کوئی شخص راضی خوشی کسی مہمان سے مل سکتا ہے، سو ہمارے اصرار پر دوپہر کا وقت رکھا گیا۔ کہنے لگے کہ بس تین بجے تارڑ صاحب کے گھر پہنچ جائیں گے۔ ہمیں طے شدہ وقت کی پابندی کرنے کی قبیح عادت لاحق ہے، اور جس انداز سے وقار نے تین بجے کی تاکید کی تھی، اس پر ہم اور پکے ہو گئے اور وقار سے جس جگہ سوا دو بجے ملنے کا وقت طے ہوا تھا، اس جگہ دو بجے ہی پہنچ گئے۔ وقار سے فون پر بات ہوئی تو علم ہوا کہ وہ بھی شدید وہمی قسم کے انسان ہیں، انہیں تارڑ صاحب نے ساڑھے تین بجے کا وقت دیا تھا، اور وقت کی پابندی کرنے کی خاطر انہوں نے ہمیں تین بجے کا بتایا تھا۔ خیر تین بجے سے کچھ پہلے ہم ان کے گھر جا پہنچے۔

باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 934 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar