تارڑ: نکلے حسن کی تلاش میں


\"DSC_0985b\"

مستنصر حسین تارڑ صاحب سے ہماری ملاقات بس کچھ اتفاقیہ سے انداز میں ہوئی۔ ہوا یہ کہ ’سفر ہے شرط‘ والے وقار احمد ملک گزشتہ ہفتے سے ہمیں قائل کر رہے تھے کہ شمالی پاکستان دیکھنا ہر عاقل و بالغ پاکستانی پر فرض ہے۔ ہم نے عذر پیش کیا کہ پاکستانی ہونے کی شرط تو ہم پوری کرتے ہیں مگر ہماری تحریروں پر ہمیں ایسے تبصرے ملتے رہتے ہیں کہ پہلی دو شرائط کے پورا ہونے کا ہمیں اب یقین نہیں ہے اس لیے شمالی پاکستان جانا ہم پر فرض نہیں ہے۔ پہلے تو لبھاتے رہے کہ وہاں کی خوبصورتی ایسی ہے اور فضا ویسی ہے۔ گھاٹیاں دلکش ہیں تو چوٹیاں مبہوت کر دیتی ہیں۔ مگر ہم ٹھہرے تن آسان شخص، اگر کسی پہاڑی یا چوٹی پر ہماری گاڑی بغیر کسی دقت کے جا سکتی ہے تو ہمیں وہاں کی سیر پر ہرگز بھی کوئی اعتراض نہیں ہے، بلکہ بہت خوش ہو کر کھڑکی کا شیشہ نیچے کر کے وہاں کی ہوا اور خوشبو سے لطف بھی اٹھا لیں گے، مگر اپنے پیروں کو ایسی مشقت میں ڈالنا ہمیں قبول نہیں ہے۔ تارڑ صاحب ہی ’نکلے تیری تلاش میں‘ کہہ چکے ہیں کہ سیاح ہو کر ڈرنا مناسب نہیں ہے، کوئی اتنا ہی دلیر ہو تو مال روڈ کے کسی خوبصورت ریستوران میں بیٹھ کر چائے پیے، باسی پیسٹریاں کھائے، اور بڑی محفوظ قسم کی زندگی گزارے۔ تو ہم باسی پیسٹری کھا کر محفوظ زندگی گزارنا مناسب جانتے ہیں۔

جب وہ تھک ہار گئے تو کہنے لگے کہ کسی ادیب کی تحریر میں اس وقت تک گہرائی نہیں آ سکتی ہے جب تک کہ وہ فطرت کا خود سے مشاہدہ نہ کر لے۔ ہمیں استہزائیہ انداز میں مسکراتے دیکھا تو کہنے لگے کہ اپنے مستنصر حسین تارڑ صاحب کو ہی دیکھ لو کہ کتنا بہترین لکھتے ہیں۔ لفظوں سے فسوں باندھتے ہیں۔ منشی محمد حسین جاہ کے زمانے میں ہوتے تو ان کا ذکر طلسم ہوشربا میں قلم کش جادو کے نام سے کیا جاتا اور سحر ان کا بھی ویسا ہی بیان ہوتا جیسا کہ ملکہ بہار جادو کا تھا۔ یہ قلم سے لفظوں کا گلستان بناتے ہیں اور پڑھنے والے جوق در جوق اس باغ میں داخل ہوتے ہیں اور ہوش و حواس سے بیگانہ ہوئے جاتے ہیں۔

ہم حیران ہوئے اور کہنے لگے کہ تارڑ صاحب کی چند کتابیں جو ہم نے اوائل جوانی میں پڑھی تھیں، ان میں تو وہ اچھا بھلا بسوں اور ٹرینوں پر سفر کیا کرتے تھے، دیس دیس کے تماشے دیکھتے تھے، حسیناؤں سے غزل الغزلات کہتے تھے، اور البرز پہاڑ وغیرہ دیکھنا بھی ہوتا تھا تو اپنی بس کی کھڑکی سے باہر جھانک کر دیکھنا بہت کافی سمجھتے تھے، اتاؤلے ہو کر بس نہیں رکواتے تھے کہ تم چلے چلو میں ذرا اس پہاڑ کو سر کر کے آتا ہوں۔

\"DSC_0983b\"

وقار ملک کہنے لگے کہ ایسی بات نہیں ہے۔ اب ان کے بیشتر سفرنامے ملک کے شمالی علاقوں پر ہی ہیں۔ وہ اب اس علاقے کے سحر میں مبتلا ہوئے ہیں تو بس اسی کے ہو کر رہ گئے ہیں۔ کبھی ’سفر شمال کے‘ کرتے ہیں، تو کبھی ’ہنزہ داستان‘ کہتے ہیں۔ کبھی ’دیوسائی‘ کی یاد میں دیوانے ہوتے ہیں تو کبھی ’کالاش‘ کی ’برفیلی بلندیاں‘ انہیں لبھاتی ہیں۔ ’کے ٹو کہانی‘ ان کی زبان سے سننے کا جو مزا ہے، وہ ’نانگا پربت‘ کا سا مبہوت کن سحر طاری کر دیتا ہے۔ وہ اپنا رک سیک اٹھاتے ہیں، اور یورپ کی بجائے فیری میڈوز نکل جاتے ہیں یا کسی دوسرے دشوار گزار ٹریک پر۔ یوسفی صاحب نے تو تہذیبی رچاؤ کا ولایتی نسخہ بتایا تھا، مگر نروان پانے کا نسخہ تو تارڑ صاحب کے پاس ہے۔

ہمیں وقار ملک کی بات پر یقین نہ آیا تو انہوں نے ہمیں تارڑ صاحب سے ملانے کی حامی بھر لی۔ کہنے لگے کہ ملنے کا مناسب وقت تو صبح پانچ بجے ہے، میں کل اسی وقت مل کر آیا ہوں، تم تیار رہنا۔ ہم طبیعت کے شکی مزاج ہیں، کچھ یقین نہ آیا کہ اتنی صبح بھی کوئی شخص راضی خوشی کسی مہمان سے مل سکتا ہے، سو ہمارے اصرار پر دوپہر کا وقت رکھا گیا۔ کہنے لگے کہ بس تین بجے تارڑ صاحب کے گھر پہنچ جائیں گے۔ ہمیں طے شدہ وقت کی پابندی کرنے کی قبیح عادت لاحق ہے، اور جس انداز سے وقار نے تین بجے کی تاکید کی تھی، اس پر ہم اور پکے ہو گئے اور وقار سے جس جگہ سوا دو بجے ملنے کا وقت طے ہوا تھا، اس جگہ دو بجے ہی پہنچ گئے۔ وقار سے فون پر بات ہوئی تو علم ہوا کہ وہ بھی شدید وہمی قسم کے انسان ہیں، انہیں تارڑ صاحب نے ساڑھے تین بجے کا وقت دیا تھا، اور وقت کی پابندی کرنے کی خاطر انہوں نے ہمیں تین بجے کا بتایا تھا۔ خیر تین بجے سے کچھ پہلے ہم ان کے گھر جا پہنچے۔

دروازہ تارڑ صاحب نے خود کھولا۔ لاہور کی تپتی دوپہر، تین بجے دوپہر کا وقت، ہم دھوپ سے پریشان تھے تو وہ بھی کچھ تھکے تھکے سے محسوس ہوئے۔ وقار سے تقابل کیا جائے تو اچھے بھلے لحیم شحیم شخص ہیں، لیکن ایسے بھی نہیں ہیں کہ دیکھنے والے کو شائبہ بھی ہو کہ وہ سو دو سو کلومیٹر کے قراقرم کے پہاڑی ٹریک کو عبور کرنے کا حوصلہ و توانائی رکھتے ہیں۔ بخدا پہلے پہل تو یہی شبہ ہوا کہ کہیں وہ ہمارے جیسے سفرنامہ نگار تو نہیں ہیں جو کہ گوگل ارتھ اور وکی پیڈیا کو دیکھ کر پہاڑوں کا سفر نامہ لکھ ڈالتے ہیں، مگر جب ان کی وقار سے گفتگو شروع ہوئی تو جس محبت اور تفصیل سے دونوں حضرات مل کر شمال کے نشیب و فراز کی تفصیل ایک دوسرے سے بیان کرنے لگے، تو پھر الٹا یہ شبہ ہونے لگا کہ یہ پہاڑوں سے اسی وقت اترتے ہیں جب انہوں نے اپنا سفرنامہ پبلشر کے حوالے کرنا ہو۔

\"DSC_0969\"

اگر آپ کو کھرے شخص پسند ہوں تو شخصیت ان کی دل لبھانے والی ہے۔ اپنی پسند اور ناپسند کو بے دھڑک بیان کر دیتے ہیں اور مخاطب کے احمقانہ دعوے کو بیچ میں ہی قطع کر ڈالتے ہیں۔ ان سے پوچھا کہ ساٹھ اور ستر کی دہائی کے سنہرے دور میں آپ نے یورپ گھوما، ایران توران دیکھا، ہپی ٹریل پر چلتے ہوئے یورپ سے پاکستان پہنچے، ایک تحیر اور تجسس کی کیفیت تھی ان ابتدائی سفرناموں میں۔ پوچھنے لگے کہ سنہرے دور سے آپ کی کیا مراد ہے؟ ہم نے بیان کیا کہ عجب وقت تھا وہ بھی۔ ہر شخص ایک جوش سے بھرا ہوا اپنی ذات کا اظہار کر رہا تھا۔ گلابی جامنی رنگ برنگی کاریں ہوتی تھیں۔ لمبے بال اور چوڑے بیل باٹم پتلون پاجامے ہوتے تھے۔ زندگی ہر طرح سے رنگین نظر آتی تھی۔ کہنے لگے کہ ’ہر دور سنہرا دور ہوتا ہے۔ ہر دور کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں، اپنے فائدے ہوتے ہیں۔ چیزیں بدلتی رہتی ہیں۔ ان میں کمپیریزن نہیں ہوتا۔ آج بھی آپ کے دور میں وہ چیزیں اتنی ہی فیسی نیٹنگ (مسحور کن) ہیں لیکن پرسپیکٹو (زاویہ نگاہ) مختلف ہو گیا ہے نہ۔ یہ نہیں کہ وہ گولڈن ایج تھی اور اب نہیں ہے۔ ہر ایک عہد اپنی چیزیں ساتھ لے کر آتا ہے۔ میں یہ نہیں کہتا ہوں کہ اس زمانے میں خوراکیں بڑی اچھی تھیں ہمارے جوتے بڑے اچھے تھے ہم نے یہ کیا، آپ کو کیا پتہ، یہ سب احمقانہ ہوتا ہے۔ چیزیں جو ہوتی ہیں ان کی ایک فضا ہوتی ہے، ایک بہاؤ ہوتا ہے، پیٹرن بدل جاتے ہیں‘۔

ہم متاثر ہو کر بولے کہ آپ کے بعد کے دور کے شمالی علاقہ جات کے سفرناموں میں، تحیر کی بجائے نروان کا سا تاثر ملتا ہے۔ خود اپنی روح کو فطرت میں ملا دینے کا سا تاثر۔ فنا فی الذات کی سی کیفیت۔ آپ کو اپنا تجسس اور تحیر والا پہلا دور پسند ہے یا نروان پا جانے والا دوسرا دور۔ تارڑ صاحب گویا ہوئے کہ میں جس وقت میں جی رہا ہوتا ہوں، وہی میرا پسندیدہ ترین دور ہے۔ لمحہ موجود سے لذت حاصل کرنا ہی اصل زندگی ہے۔

ہم کچھ حیران ہوئے کہ بندہ زندگی کے ہر دور میں تو اسی وقت خوش رہ سکتا ہے جب وہ صوفی یا جوگی ہو جائے۔ پھر خیال آیا کہ یہ جوگی وغیرہ ہی تو ان برفیلے پہاڑوں پر چڑھ کر جاپ کرتے تھے، تارڑ صاحب محض کسر نفسی سے کام لے کر اپنے درجات نہیں بتا رہے ہیں۔ اس کی تصدیق کچھ یوں بھی ہوئی کہ ایک خاتون حج کے سفرناموں سے متعلق اپنا تھیسس مکمل کرنے کے لیے اسی وقت وہاں پہنچی تھیں۔ جب بھی وہ تارڑ صاحب کی تعریف کرنا شروع کرتی تھیں تو وہ بات کاٹ دیتے تھے کہ مجھے اس میں کوئی دلچسپی نہیں ہے اور میں یہ سب کچھ بہت سن چکا ہوں۔ ان کے حج کے سفرناموں ’منہ ول کعبہ شریف دے‘ اور ’غار حرا میں ایک رات‘ پر اسی وجہ سے تفصیل سے بات سننے کا موقع ملا، مگر وہ ایک الگ تحریر کا متقاضی ہے۔

بہرحال ہم نے پوچھا کہ آپ مصنف ہیں، سیاح ہیں، اور اداکار ہیں۔ آپ نے زندگی میں اپنے کس کردار کو سب سے زیادہ پسند کیا ہے۔ اس پر ان کا وہی جواب تھا کہ میں لمحہ موجود سے لذت حاصل کرتا ہوں، جس وقت جو بھی کر رہا تھا، اس سے حظ اٹھا رہا تھا۔ تارڑ صاحب سے ملنے والا ہر شخص ان سے ان خواتین کے بارے میں ضرور پوچھتا ہے جو کہ ان کے سفرناموں کی زینت رہی تھیں۔ سو ان خاتون نے بھی یہی سوال کیا۔ کہنے لگیں کہ آپ کے سفرنامے پڑھے ہیں، آپ کو محبت بھی تو بہت زیادہ ہوتی ہے۔ آپ کو محبت ابھی بھِی ہوتی ہے یا نہیں؟

کہنے لگے کہ ہوتی نہیں ہے، ابھی بھی ہے۔ آئی ایم کونٹینیوسلی ان لو (میں مسلسل محبت کا شکار ہوں)۔ اس کو آپ مسٹک (صوفیانہ) حوالے سے بھی لے سکتے ہیں اور اس کو دنیاوی حوالے سے بھی لے سکتے ہیں۔ ابھی بھی سیر کرتے ہوئے کوئی لڑکی خوبصورت آتی ہے، کوئی عورت آتی ہے، میں اس کو دیکھتا ہوں۔ میرا دل خوش ہو جاتا ہے، میرا سارا دن اچھا گزرتا ہے۔ ایک سفید گھوڑا اگر دیکھ لوں نا کاغان میں ندی کنارے، وہاں ندی کنارہ وہاں بھی گھوڑے بھاگ رہے ہیں آٹھ دس، ان میں ایک سفید گھوڑا۔ اس بات کو دس سال ہو گئے ہیں۔ آئی ایم سٹل ان لو ود دیٹ ہارس (میں ابھی بھی اس گھوڑے کی محبت کا شکار ہوں)۔ وہ ویڈیو اتنا کلئیر ہے، ادھر سے روشنی آ رہی ہے، وہائٹ ندی ہے، پیچھے بطخیں ہیں اور گھوڑے بھاگ رہے ہیں اور ان میں وہ پرامیننٹ (نمایاں) ہے۔ تو محبت تو آل دا ٹائم از دئیر (سارا وقت موجود ہوتی ہے)۔ محبت کے بغیر تو آپ لکھ نہیں سکتے ہیں۔ جب میں لکھ رہا ہوتا ہوں تو میں انوالو ہوتا ہوں۔ اس لمحے کے عشق میں مبتلا ہوتا ہوں۔

وہ خاتون مختلف سوال کرتی رہیں اور تارڑ صاحب جواب دیتے رہے۔ کہنے لگے کہ

’میں سٹیریو ٹائپ نہیں ہوں کہ ماں کے قدموں کے نیچے ہی جنت ہے۔ مجھے ماں اچھی لگتی تھی مگر ماں سے زیادہ باپ اچھا لگتا تھا۔ میں جو ہوں وہ میں ہوں۔ پلیز مجھے ایکسیپٹ (قبول) کریں۔ والد صاحب میرے زیادہ قریب تھے اور ان سے محبت زیادہ تھی۔ جب ان کی ڈیتھ ہوئی تو دفن کے وقت میں قبر میں نیچے جھکا۔ وہ جو کفن کے بند کھولتے ہیں تو میں نے دیکھ کہ ان کے بال ماتھے پر تھے اور آنکھیں نیم وا سی تھیں۔ آنکھوں میں نیلاہٹ تھی۔ میں نے یک دم خود پر بہت لعن طعن کی کہ یہ تو تمہاری سب سے قیمتی متاع ہے جو دفن کی جا رہی ہے۔ تمہیں تو ہوش نہیں ہونا چاہیے تھا۔ تمہیں تو چیخیں مار مار کر اس کی قبر کے ساتھ لپٹنا چاہیے کہ ابا کتھے جا رئے او (ابا کہاں جا رہے ہیں)۔ اور تم آرام سے دیکھ رہے ہو کہ ان کے بال کتنے ہیں اور آنکھیں کتنی کھلی ہوئی ہیں۔ یہ ہماری مجبوری ہوتی ہے۔ رائٹر کی یہ مجبوری ہوتی ہے کہ مشاہدہ آٹو میٹکلی اس کے اندر ہے۔ وہ آبزرو کرتا ہے۔ چاہے اس کی قیمتی ترین متاع ہو، وہ اپنے آپ کو اس (مشاہدے) سے الگ نہیں کر سکتا ہے‘۔

ایک طرف سے سوال پوچھا گیا کہ آپ پچاس سال سے لکھ رہے ہیں، اس کا بنیادی محرک کیا تھا۔ کہنے لگے کہ ’اور کچھ کرنے کو آتا نہیں تھا۔ یہ شوق نہیں ہے۔ اور کوئی کام آتا نہیں تھا۔ ایک بندہ ہے، وہ شروع سے جوتے گانٹھنا شروع کر دیتا ہے۔ یہ بھی جوتے گانٹھنا ہے نہ۔ کبھی آپ نے ایسا شاندار جوتا کھسہ بنا لیا تو سبھی بیٹھ کر دیکھتے ہیں کہ سبحان اللہ ایسا کبھی کسی نے نہیں بنایا اور کبھی چھتر بنا لیا‘۔

’میں اس لیگ سے نہیں ہوں جو شور مچاتی ہے کہ دیکھیں جی ادب کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ مجھے فلاں ایوارڈ نہیں دیا وہ فلاں صاحب چیئرمین ہو گئے فلاں صاحب ڈی جی ہو گئے ہیں میرا اس دوڑ سے تعلق نہیں ہے‘۔

ان سے پوچھا گیا کہ نئے لکھنے والوں کو کوئی پیغام دینا چاہتے ہیں، تو وہ کہنے لگے کہ ’میں کوئی پیغام نہیں دینا چاہتا ہوں، میں اس لائق نہیں ہوں۔ پیغام وہ دیتے ہیں جو مینار کے اوپر بیٹھے ہوتے ہیں، میں تو ابھی زمین کے ساتھ جڑنا چاہتا ہوں۔ دوسرا یہ کہ میرے پیام سے کوئی اچھا افسانہ نہیں لکھے گا۔ میری یہ خواہش ہوتی ہے کہ جو لکھنا چاہتا ہے لکھے، اچھا لکھے یا برا لکھے لیکن لکھے۔ سفر نامے کی کوئی فارمیٹ نہیں ہوتی ہے، یہ تو کیفیت ہے دل کی۔ جو دل پر گزرتی ہے وہ بندہ لکھتا چلا جاتا ہے۔ وہ جگہ جہاں میں بار بار جانا چاہتا ہوں وہ یہ دنیا ہے۔ میں نے جس جگہ کو دیکھا اسے آخری بار دیکھا‘۔

’انسان کو ان شہروں میں جہاں اس سے محبت کی گئی ہو، جہاں اس نے وقت گزارا ہو، جہاں اس پر مختلف کیفیات گزری ہوں، وہاں اسے دوبارہ نہیں جانا چاہیے۔ کیونکہ لوگ بدل چکے ہوتے ہیں، جا چکے ہوتے ہیں، نئی عمارتیں تعمیر ہو چکی ہوتی ہیں، شہر وہ نہیں رہتے۔ بہت حماقت ہوتی ہے کہ خوشی کی تلاش میں آپ پھر وہیں جائیں‘۔

ہمیں زندگی میں پہلا بزرگ شخص ملا جو ناسٹیلجیا میں مبتلا نہیں ہے بلکہ زمانہ حال سے محبت کرتا ہے۔

تارڑ صاحب کی بات جاری ہے۔ یہ ملاقات ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔

مستنصر حسین تارڑ : شادی آن لائن 


Comments

FB Login Required - comments

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 494 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar