اسلامی نظریاتی کونسل اور عورتوں کا تحفظ


wajahatاطلاعات کے مطابق اسلامی نظریاتی کونسل کے ارکان نے 163 دفعات پر مبنی ایک مسودہ قانون تیار کیا ہے جس کی مدد سے اسلامی نظریاتی کونسل پاکستانی عورتوں کے حقوق اور آزادیاں طے کرنا چاہتی ہے۔ اخبارات کو مبینہ 163 دفعات میں سےتقریباً تین درجن سفارشات جاری کی گئی ہیں۔ ان سفارشات پر ایک نظر ڈالنے سے جنوری 1951 ءکا وہ زمانہ یاد آتا ہے جب پاکستان کے ممتاز علماء کراچی میں ملک کا آئین مرتب کرنے بیٹھے تھے۔ 1950 ءکے آخری مہینوں میں دستور ساز اسمبلی کی بنیادی اصولوں کی کمیٹی نے اپنی سفارشات پیش کی تھیں۔ لیاقت حکومت کے سیاسی مخالفین نے ان سفارشات کو قرارداد مقاصد کے منافی قرار دے کر آسمان سر پر اٹھا لیا۔ کمیٹی کی سفارشات آئینی حقوق سے متعلق تھیں لیکن دستور ،قانون اور ذاتی عقائد میں فرق کرنے کا کسے دماغ تھا۔مولانا حضرات نے لیاقت علی خان کی گردن پر گھٹنا رکھ دیا۔ اس پر ناگزیر طور پر سوال اٹھایا گیا کہ علماء آئین کا متبادل خاکہ بیان کریں۔ مختلف مسالک کے چیدہ چیدہ رہنما جنوری 1951ء کے تیسرے ہفتے میں کراچی میں جمع ہوئے کیونکہ لیاقت علی خان نے آئین کے بارے میں سفارشات کے لیے 31 جنوری کی حتمی تاریخ کا اعلان کر رکھا تھا۔ سید ابوالاعلیٰ مودودی تو اس مجلس میں شریک ہی نہیں ہوئے۔ وہ اس زمانے میں اپنے مذہبی اور سیاسی تشخص کے درمیان ڈانواں ڈول تھے۔ مذہبی پیشواﺅں کی عوامی اپیل سے بھی فائدہ اٹھانا چاہتے تھے اور ایک سنجیدہ سیاسی متبادل کے طور پر بھی اپنا آپ منوانا چاہتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے علماءکے اس اجتماع میں شریک ہوئے بغیر ہی اعلان کر دیا کہ مجلس علماء کا اعلامیہ چند علمی نکات سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ کراچی میں جمع ہونے والے پیشواﺅں نے بائیس نکات پیش کیے تھے۔ جن میں ایک جدید وفاقی مملکت کی پیچیدگیوں کا دور دور تک کوئی نشان نہیں تھا۔ مختلف نکات باہم متصادم تھے اور صاف معلوم ہوتا تھا کہ علماء جدید دور کے معاشی ، علمی اور سیاسی حقائق سے چنداں تعلق نہیں رکھتے۔ ٹھیک 65 برس بعد اسلامی نظریاتی کونسل نے عورتوں کے حقوق کے بارے میں جو سفارشات جاری کی ہیں وہ نہ صرف یہ کہ آئین اور قانون سے متصادم ہیں بلکہ ان کا آپس میں بھی کوئی ربط نہیں ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اس دوران انسانی معاشرے، معیشت اور ذہانت نے سات دہائیوں کا سفر طے کر لیا ہے اور پاکستان کے مذہبی پیشوا حقائق سے اس قدر پیچھے ہیں کہ ان کی عملی حیثیت محض عوامی اشتعال انگیزی کی صلاحیت سے زیادہ کچھ نہیں۔ آئیے عورتوں کے حقوق کے بارے میں اسلامی نظریاتی کونسل کی سامنے آنے والی سفارشات کا جائزہ لیتے ہیں۔

 

اسلامی نظریاتی کونسل کہتی ہے اسلام یا کوئی اور مذہب چھوڑنے پر عورت قتل نہیں کی جائے گی۔یہ نکتہ بنیادی طور پر ارتداد کے سوال سے تعلق رکھتا ہے۔ پاکستان کے آئین میں تمام شہریوں کو مذہبی آزادی عطا کی گئی ہے۔ پاکستان کا آئین شہریت کے لیے مذہب کو بنیاد نہیں بناتا۔ بنیادی حقوق کے باب میں آئینی ضمانتیں دیتے ہوئے مذہب کی بنیاد پہ کوئی تخصیص نہیں کی گئی چنانچہ بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کے مرد شہریوں کو پیدائشی مذہب چھوڑنے یا کوئی عقیدہ اختیار کرنے پر قتل کیا جا سکتا ہے؟ اس میں عورت اور مرد کی کیا تخصیص ہے؟ کیا اسلامی نظریاتی کونسل عورتوں کے لیے خاص طور پر قتل سے مستثنیٰ ہونے کا اعلان کر کے بالواسطہ طور پر ارتداد کے لیے موت کی سزا تجویز کر رہی ہے۔اسی ضمن میں اسلامی نظریاتی کونسل کہتی ہے کہ باشعور لڑکی کو قبول اسلام کاحق حاصل ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ لڑکے یا لڑکی کی تخصیص کی ضرورت کیوں پیش آرہی ہے۔ پاکستان کا ہر بالغ شہری اپنے ضمیر کی روشنی میں کوئی بھی عقیدہ اختیار کرنے کا حق رکھتا ہے۔ ریاست کا کام شہریوں کا تحفظ ہے، عقیدہ انفرادی آزادی کے ذیل میں آتا ہے۔ کیا اس ضمن میں لڑکے یا لڑکی کی تخصیص کر کے اس تاثر کو تقویت دی جا رہی ہے کہ غیر مسلم لڑکیوں کے ساتھ زبردستی شادی کرنے کے لیے تبدیلی مذہب کا جواز تراشا جاتا ہے۔ کیا یہ امر حیران کن نہیں کہ اسلام کی روشنی باشعور غیر مسلم لڑکیوں تک پہنچ رہی ہے، باشعور غیر مسلم لڑکے اس روشنی سے بوجوہ محروم ہیں۔ اسلامی نظریاتی کونسل کہتی ہے کہ عورت کے زبردستی تبدیلی مذہب کرانے پر تین سال قید کی سزا ہوگی۔ سوال یہ ہے کہ یہ سزا کسے دی جائے گی۔ کیا یہ سزا اس مذہبی پیشوا کو دی جائے گی جس کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا جائے گا یا اس مرد کو دی جائے گی جس کے ساتھ قبول اسلام کے بعد شادی کی جائے گی یا اس بارسوخ شخص کو دی جائے جس کی سرپرستی میں یہ نیک کام انجام پائے گا۔ اسلامی نظریاتی کونسل قانونی تعزیرات میں خیال آرائی کر رہی ہے تو جرم کی ذمہ داری کا واضح تعین بھی ہونا چاہیے۔

اسلامی نظریاتی کونسل کہتی ہے کہ عاقلہ، بالغ لڑکی ولی کی اجازت کے بغیر ازخود نکاح کر سکے گی۔ گزشتہ بیس برس میں اسلامی نظریاتی کونسل ایک سے زیادہ مرتبہ سفارشات دے چکی ہے کہ بالغ لڑکی ولی کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں کر سکتی۔ اسلامی نظریاتی کونسل کی ان سفارشات سے گرد جھاڑ کر معلوم کرنا چاہیے کہ گزشتہ سفارشات کی بنیاد کیا تھی اور اب یہ اجازت کس بنیاد پر دی جا رہی ہے۔ اس ضمن میں یہ نکتہ بھی قابل غور ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کے ارکان کمسنی کی شادی پر کسی قسم کی پابندی کے سخت مخالف ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کمسنی کی شادی تو ازخود نہیں کی جاتی۔ اگر ولی کہلانے والے افراد کوکمسنی میں لڑکی کی شادی کرنے کا اختیار ہو گا تو عقل اور بلوغت تک پہنچنے کا مرحلہ ہی پیش نہیں آئے گا۔ پاکستان کے آئین میں ہر بالغ شہری کو اپنی مرضی سے شادی کرنے کا حق دیا گیا ہے۔ شادی کرنے کا حق بنیادی انسانی آزادیوں سے تعلق رکھتا ہے۔ اس ضمن میں ریاست کا فرض صرف یہ دیکھنا ہے کہ اس تعلق میں جبر کا کوئی پہلو شامل نہ ہو۔ اسلامی نظریاتی کونسل جس حق کی سفارش کر رہی ہے وہ پاکستان کی عورتوں کو پہلے سے حاصل ہے۔ زیادہ اہم یہ ہو گا کہ نظریاتی کونسل کمسنی کی شادی پر دو ٹوک موقف اختیار کرے۔

اسلامی نظریاتی کونسل کا کہنا ہے کہ عورتوں کے غیر محرم افراد کے ساتھ تفریحی دوروں اور آزادانہ میل جول پر پابندی ہو گی۔ اس میں تفریح کی تعریف متعین کرنی چاہیے۔ واضح رہے کہ تفریح انسانوں کے بنیادی حقوق میں شامل ہے۔ سیاحت تفریح میں شمار کی جائے گی یا نہیں؟ عورتوں اور مردوں کے آزادانہ میل جول پر پابندی سے کیا مراد ہے؟ کیا پیشہ ورانہ زندگی میں شہریوں کے باہم میل جول پر کوئی ایسی پابندی عائد کی جا سکتی ہے جس کے نتیجے میں ان کے معاشی، سیاسی اور علمی حقوق متاثر نہ ہوں۔ بنیادی سوال تو یہ ہے کہ کیا ریاست جنس کی بنیاد پر شہریوں کی نقل و حرکت اور آزادیوں کا دائرہ متعین کر سکتی ہے۔ کیا ایسا کرنا آئین کی شق 25 میں دی گئی صنفی مساوات کے منافی نہیں ہو گا۔

اسلامی نظریاتی کونسل کہتی ہے کہ غیرت کے نام پر عورت کے قتل، کاروکاری اور سیاہ کاری کو قتل گردانا جائے گا۔ پاکستان کے قوانین میں ایسی کوئی دفعہ شامل نہیں جو غیرت کے نام پر قتل کی تخصیص کرتی ہو۔ پاکستان کے کسی بھی شہری کا قتل جرم ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا عورت کے قتل کی صورت میں اس کا باپ، بھائی اور شوہر قاتل کو معاف کرنے کا اختیار رکھتے ہیں یا نہیں۔ یہاں قتل کی تعریف پر بحث نہیں۔ سوال یہ ہے کہ ایک عورت کا قتل ریاست کے خلاف جرم ہے یا عورت کے اہل خانہ کے ساتھ کوئی تنازع؟ کیا عورت مکمل قانونی شہری ہے یا کسی کی مفروضہ ملکیت؟ اسی سوال کے ساتھ ونی یا صلح کے لیے لڑکی کی زبردستی شادی نیز عورت کی قرآن سے شادی جیسی سفارشات کو بھی دیکھنا چاہیے۔ سوال یہ ہے کہ اس قسم کی شادی قانون کی نظر میں جائز شادی قرار پائے گی یا اسلامی نظریاتی کونسل ایسی شادی کو فسخ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

اسلامی نظریاتی کونسل کی یہ سفارش پورے مسودہ قانون میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے کہ شوہر عورت پر تشدد کر سکتا ہے یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کا کوئی شہری کسی دوسرے شہری پر تشدد کر سکتا ہے یا نہیں۔ یہ معاشرے کی تشدد کے بارے میں حساسیت کا سوال ہے۔ پاکستان کے آئین کے مطابق ریاست قانون کے مطابق اور شفاف سماعت کے ذریعے سزا دینے پر اجارہ رکھتی ہے۔ کیا کسی غیر ریاستی فرد یا گروہ کو کسی دوسرے فرد پر تشدد کا اختیار دیا جا سکتا ہے۔ یہ سوال شہریوں کے قانونی تشخص، آئینی رتبے اور بنیادی تحفظات سے تعلق رکھتا ہے۔ آج شوہر کے بیوی پر تشدد کا معاملہ سامنے آیا ہے پھر باپ اور بھائی کے لیے یہ اختیار مانگا جائے گا۔ پھر معروفات کے ضمن میں اس اختیار کا مطالبہ کیا جائے گا۔ سوال یہ ہے کہ کیا ریاست غیر ریاستی فرد کے تشدد کو جائز فعل قرار دیتی ہے یا اس کے خلاف قانونی اقدام کا ارادہ رکھتی ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کی یہ سفارش ریاست کی عمل داری کو تباہ کرنے کے مترادف ہے۔ چنانچہ کونسل کی یہ سفارش محض قافیہ پیمائی کی حیثیت رکھتی ہے کہ تادیب سے تجاوزپر عورت شوہر کے خلاف کارروائی کے لیے عدالت سے رجوع کر سکتی ہے۔ اگر معاشرہ شوہر کے لئے تشدد کا حق تسلیم کرتا ہے تو تشدد میں حدود کے تعین کا سوال بھی  تشدد کرنے والے کی صوابدید کے تابع ہو جاتا ہے۔

شادی مرد اور عورت کا رضاکارانہ باہم معاہدہ ہے اور معاہدے کے فریق اسے فسخ کرنے کا ناقابل تنسیخ اختیار رکھتے ہیں۔ اس ضمن میں قانونی ضوابط تشکیل دینا ریاست کا اختیار ہے۔ خاتون نرسوں سے مردوں کی تیمارداری، اور غیر ملکی مہمانوں کے استقبال میں عورتوں کی شمولیت نیز مخلوط تعلیم پر پابندی جیسے معاملات بھی عورتوں کی مساوی آئینی حیثیت سے تعلق رکھتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کی عورتیں آئینی طور پر معاشی، سماجی اور سیاسی حقوق میں برابر کا اختیار رکھتی ہیں یا ان کی حیثیت دوسرے درجے کے شہریوں کی ہے۔ یہ فیصلہ کرنا مذہبی پیشواﺅں کا کام نہیں کہ پاکستان کے شہری کون سا پیشہ اختیار کرتے ہیں۔ اگر متعلقہ پیشہ قانون کے مطابق جائز ہے تو اس میں عورتوں اور مردوں کی تخصیص کرنا غیر آئینی ہو گا۔

اسلامی نظریاتی کونسل کہتی ہے کہ آرٹ کے نام پر رقص، موسیقی، مجسمہ سازی کی تعلیم پر پابندی ہوگی۔ آرٹ انسانی زندگی کا بنیادی حصہ ہے۔ آرٹ انسانوں کے حق اظہار سے تعلق رکھتا ہے۔ آرٹ کی حدود انسانی ذہانت کے پھیلتے ہوئے آفاق سے متعین ہوتی ہیں۔ آرٹ فطرت میں موجود عناصر کی ترتیب اور امکانات کی عکاسی سے تعلق رکھتا ہے۔ انسانوں کو فنون لطیفہ کے ذریعے اپنے اظہار سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ حیرت کی بات ہے کہ آرٹ کی تصریحات میں ادب اور خطاطی کو شمار نہیں کیا گیا اور یہ بھی تصریح نہیں کی گئی کہ شعر میں عروض کی پابندی آرٹ کی تعلیم میں شمار ہو گی یا نہیں اور شعر میں موجود موسیقی کی تعلیم دینا قانونی ہو گا یا غیر قانونی۔ بات یہ ہے کہ مذہبی پیشوا انسانیت کے نامیاتی ارتقا سے بے نیاز ایک گروہ ہے جو ایک خاص عہد میں پائے جانے والے علم کے جامد تصور کا اسیر ہے۔ ہم دعویٰ کرتے ہیں کہ اسلامی نظریاتی کونسل یا دنیا کا کوئی ادارہ انسانوں کے فنون لطیفہ سے محظوظ ہونے کے حق پر پابندی نہیں لگا سکتا۔ ایسی پابندی عملی طور پر ممکن ہی نہیں ہے۔ جہاں انسان ہو گا وہاں آرٹ بھی ہو گا۔ آرٹ کی داخلی توانائی کسی مذہبی پیشوا کے شعور یا اختیار سے ماورا معاملہ ہے۔

اسلامی نظریاتی کونسل نے نس بندی اور اسقاط کے معاملات پر بھی خیال آرائی کی ہے لیکن یہ وضاحت نہیں کی کہ کیا بیوی شوہر کی اجازت کے بغیر مانع حمل تدابیر اختیار کر سکتی ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے اس سفارش کے ذریعے اپنے تئیں عورتوں کے حقوق کے تحفظ کا علم بلند کرنے کی کوشش کی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ بیوی اور شوہر میں مانع حمل تدابیر کا اختیار کسے حاصل ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اسلامی نظریاتی کونسل بچوں کی پیدائش میں وقفے کے ضمن میں انسانوں کا اختیار تسلیم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے یا نہیں۔ اسی ضمن میں یہ بالواسطہ نکتہ بھی قابل غور ہے کہ “بیرونی صدمے سے اسقاط حمل کا مرتکب دیت کا بیسواں حصہ دینے کا پابند ہو گا”۔ اس کا سادہ لفظوں میں مطلب یہ ہے کہ شوہر کے تشدد کے نتیجے میں عورت کا حمل ضائع ہو جائے تو دیت کا بیسواں حصہ دیا جائے گا۔ کیا اسلامی نظریاتی کونسل نے ہلکے تشدد کی جو اجازت دی ہے اس کی حدود “بیرونی صدمے سے اسقاط حمل” تک پہنچتی ہیں؟

اسلامی نظریاتی کونسل عورتوں کو سیاسی عمل میں حصہ لینے ، مالکانہ حقوق نیز جج بننے کی اجازت دے رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آزادانہ میل جول اور مخلوط تعلیم پر پابندیوں کی جو سفارشات کونسل نے پیش کی ہیں ان کی روشنی میں ان حقوق کی صورت کیا ہو گی۔ کیا سیاست میں حصہ لینے والی خاتون سرکاری عہدوں پر فائز ہو سکے گی؟ اور اگر صوبے کی گورنر یا ملک کی وزیراعظم غیر ملکی مہمانوں کا استقبال کرنے کے لیے ہوائی اڈے پر جائے گی تو اس سے معزز علمائے کرام کے احساس غیرت کو زک تو نہیں پہنچے گی؟ اسلامی نظریاتی کونسل کہتی ہے کہ دوران جنگ عورت کو قتل کرنے کا حق نہیں ہوگا۔ پاکستان تو جنیوا کنونشن کا پابند ہے اور پاکستان کی ریاست دوران جنگ عالمی قوانین کے بین الاقوامی معاہدوں میں فریق ہے۔ پاکستان کی ریاست جنگ کے یک طرفہ قوانین کیسے وضع کر سکتی ہے۔ نیز فضائی جنگ اور میزائلوں کے تبادلے میں عورتوں کے تحفظ کی ضمانت کیسے دی جا سکتی ہے۔ معزز علمائے کرام پلاسی کے میدان یا پانی پت کی لڑائی کو تصور میں لا کر جنگ کے قوانین طے کرنا چاہتے ہیں۔

ایک اہم سوال یہ ہے کہ عورت بچے کو دو سال تک اپنا دودھ پلانے کی پابند ہو گی۔ کیا معزز علمائے کرام اس معاملے کے حیاتیاتی اور قانونی پہلوﺅں کماحقہ طور پر آشنا ہیں؟ کیا انہیں یہ معلوم ہے کہ عورت کا جسم مویشی کی ملکیت سے مختلف نوعیت کا قانونی معاملہ ہے۔ ریاست شہریوں کی جسمانی آزادیوں پر پابندیاں عائد نہیں کر سکتی۔ یہ معاملات فرد کی صوابدید سے تعلق رکھتے ہیں۔ اگر ڈبے کا دودھ قانونی طور پر فروخت کیا جا سکتا ہے تو اس کے اشتہار پر پابندی کیسے لگائی جا سکتی ہے۔ الا یہ کہ نتیجہ نکالا جائے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کے معزز ارکان نے اکبر الٰہ آبادی کا شعر پڑھ رکھا ہے لیکن آج کی دنیا کے آئینی، قانونی اور معاشی حقائق نہیں جانتے۔

 


Comments

FB Login Required - comments

4 thoughts on “اسلامی نظریاتی کونسل اور عورتوں کا تحفظ

  • 27-05-2016 at 5:58 am
    Permalink

    اسلامی نظریاتی کونسل کی جانب سے حقوق نسواں کے تحفظ کے پیش کئے گئے مسودہ قانون کی اب تک سامنے آنے والی مجوزہ شقوں کا یوں خوربینی سے تجزیہ کیا جانا اور حقائق کو سامنے لانا بڑا کٹھن کام ہے لیکن آپ نے اسے بڑی خوش اسلوبی سے پورا کرتے ہوئے ایک اہم قومی فریضہ ادا کیا ہے ۔ آپ کا یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ ’’بات یہ ہے کہ مذہبی پیشوا انسانیت کے نامیاتی ارتقا سے بے نیاز ایک گروہ ہے جو ایک خاص عہد میں پائے جانے والے علم کے جامد تصور کا اسیر ہے‘‘۔ کاش مذہبی پیشواوں کا یہ گروہ بھی نامیاتی ارتقا کو سمجھنے، اس کے ساتھ چلنے اور اسے فروغ دینے میں شامل ہوتا۔
    آپ کا یہ کالم ایک دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے ۔ اور مذہبی پیشواؤں کے لیے ایک آئینہ بھی ہے۔

  • 27-05-2016 at 4:18 pm
    Permalink

    ایک روشن دماغ کی عالی شان تحریر۔۔۔۔

  • 30-05-2016 at 1:18 pm
    Permalink

    so very well written . one of the best analysis of all the points and not only that but also a great analysis on how all the points contradict each other and how nothing has been properly defined or elaborated upon by the CII.

  • 09-06-2016 at 6:42 pm
    Permalink

    “عورت بچے کو دو سال تک اپنا دودھ پلانے کی پابند ہو گی”
    حیرت ھے! کیا یہ معزز علمائے کرام اس بات سے بھی ناوا قف ہیں کہ مذہب کی رو سے عورت بچے کو اپنا دودھ پلانے کی پابند ہرگز نہیں ھے بلکہ چاہے تو شوہر سے بچے کودودھ پلانے کا معا وضہ طلب کرسکتی ہے کیونکہ بچے کی خورا ک وغیرہ کی ذمہ داری مرد کی ہے نہ کہ عورت کی-

Comments are closed.