ملک چندے سے نہیں چلتے مگر پراجیکٹ چل جاتے ہیں


چیف جسٹس اور وزیر اعظم کی طرف سے ڈیم فنڈ کی اپیل پر بے تکے اعتراضات اور اس کام کی حوصلہ شکنی کا عمل اپنے اپنے ظرف کے مطابق جاری ہے اگرچہ چیف جسٹس صاحب آغاز میں ہی دس لاکھ خود فنڈ دے چکے ہیں لیکن کچھ دوست اس بات پر بھی اعتراض کر رہے ہیں کہ وزیراعظم کو خود بھی فورا فنڈ دینے کا اعلان کرنا چاہیے تھا جو کہ ابھی تک نہیں ہوا۔ یہ بات درست ہے کہ ملک خیرات پر نہیں چلتے لیکن عوامی مفاد کے لئے کسی خاص پروجیکٹ کی خاطر فنڈ اکٹھا کرنے کی اپیل کرنا نہ تو کوئی نئی بات ہے اور نہ ہی اس کا مذاق اڑانا کوئی سمجھداری کی بات ہے۔

اسلامی تاریخ میں بہت سے واقعات میں مذکور ہے کہ خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مفاد عامہ کے خاص پروجیکٹس کی خاطر صحابہ اکرام رضی اللہ عنہم سے فنڈ ریزنگ کی اپیل کی۔ مثلا غلاموں کو آزاد کروانے کی ترغیب، مدینہ میں میٹھے پانی کا کنواں مسلمانوں کے لئے خرید کر دینےکی اپیل، مسجد نبوی کی جگہ خرید کر مسلمانوں کے لئے وقف کرنے کے متعلق فنڈ دینے کی اپیل، مختلف غزوات کے موقع پر سازوسامان لے کر دینے کی خاطر کی گئی اپیلیں وغیرہ جو کہ خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے۔ قرآن کی تو واضح آیت ہے۔ وتعاونوا علی البر والتقوی۔ نیکی اور تقوی کے لئے ایک دوسرے سے تعاون کرو۔ تویہ جان لیں کہ اس سے بڑی نیکی اور کیا ہو سکتی ہے کہ عوام اور ان کی آنے والی نسلیں بلا امتیاز اس سے مستفید ہوں گی۔

چلیں کچھ لوگ اگر ان واقعات کو ایک خاص تناظر سے دیکھنے کے عادی ہیں تو ذرا دورحاضر میں نظر دوڑائیں تو یہ حقیقت اب ساری دنیا پر آشکار ہو چکی ہے کہ کچھ پراجیکٹس جو اپنا ایک خاص مقام رکھتے ہیں ان میں عوام کو بھی ایک خاص طرح سے متحرک رکھا جانا ضروری ہے اور ان کی شمولیت کی حوصلہ افزائی کی جانی اشد ضروری ہو جاتی ہے۔ ہمارے ملک میں بھی اس کی مثالیں نظر آتی ہیں جیسے عوامی خدمت کے بہت سارے ادارے جن میں ایدھی فاؤنڈیشن، شوکت خانم، اخوت فاؤنڈیشن اور طلباء کو تعلیمی میدان میں ملنے والے اسکالرشپس ’مختلف این جی اوز کے تحت چلنے والے سوشل ویلفئر کے پروگرام وغیرہ اگر ان سب کا اسی طرح مذاق اڑانا اور تنقید کرنی شروع کر دی جائے تو یقین کریں معاشرے میں ایسا خلا پیدا ہو جائے گا جو ریاستی ادارے شہریوں پر ٹیکس در ٹیکس لگا کر بھی پورا نہیں کر سکیں گے۔

اب دوسری طرف اگر باقی اقوام عالم کا جائزہ لیں تو اس بات سے بھلا کون انکاری ہے کہ چیریٹی کے نام پر دنیا کے کتنے ہی ممالک فنڈ اکٹھا کرنا باعث فخر سمجھتے ہیں۔ ابھی حال ہی میں سوشل میڈیا پر چلنے والی ایک تصویر نے سب کو حیران کر دیا کہ امریکہ کے تین سابق صدور سیلاب متاثرین کے لئے فنڈ ریزنگ پروگرامز میں شرکت کر رہے ہیں۔ اسی طرح بہت سارے فلمی سٹارز، نامور کھلاڑی اور دیگر مشہور شخصیات بھی وقتا فوقتا مختلف پروگرامز کے مطابق فنڈ ریزنگ میں شریک ہوتے ہیں اور عوام کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ پوری دنیا میں کالجز اور یونیورسٹیز اسکالرشپس کے نام پر طلباء کی مدد کرتی ہیں تو کیا یہ سب صرف حکومتیں برداشت کرتی ہیں۔ یقینا ایسا نہیں ہے بلکہ تمام مخیر حضرات اس میں حصہ ڈالتے ہیں۔

اصل میں افسوس اس بات کا ہے کہ سیاست نے لوگوں کو اس قدر تقسیم کر دیا ہے کہ کوئی بھی اس بنیادی سے نکتہ کو سمجھ نہیں پارہا اور اس سے بھی زیادہ افسوس یہ کہ بہت ہی سمجھدار لوگ بھی اس کا مذاق اڑانے میں لگے ہیں۔ طنزو مزاح سے بھرپور لطائف اور مختلف انداز سے سوشل میڈیا کا سہارا لے کر کی جانے والی بے ہودہ جملہ بازی کہیں ہمیں اپنے مقصد سے دور ہی نہ کر دے اور جو کام غیروں نے کرنا ہے وہ اپنے ہی ہاتھوں انجام پائے۔

یہ جان لیں کہ پبلک کے مفاد کے لئے فنڈ کی اپیل کرنا اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت تو ہے ہی اور جو کام اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہو اس میں شرمندگی تو قطعا نہیں ہونی چاہیے بلکہ باعث فخر ہونا چاہیے۔

باقی فیصلہ ہم پاکستانی قوم نے کرنا ہے کہ اتنا شاندار ماضی رکھتے ہوئے کیا اب ہم اس طرح اپنا مذاق بنائیں گے یا ان شاندار روایات کو آنے والی نسلوں میں فخریہ انداز میں جاری رکھ پائیں گے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

زاہد امین عارفوالا کی دیگر تحریریں
زاہد امین عارفوالا کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں