خواجہ سرا علیشاہ کے جنازہ کے مشاہدات


Shafeeq Gigyaniچار دن پہلے علیشاہ کو اٹھ گولیاں ماری گئی جو آج صبح زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جان بحق ہوگیا۔ ہسپتال سے پوسٹ مارٹم اور پھر فقیر آباد تھانے کے سامنے مظاہرہ کیا گیا۔
مظاہرے کے دوران روڈ پر جتنے بھی تماشائی تھیں ان میں کسی کے چہرے پر کوئی افسردگی دکھائی نہیں دے رہی تھی بلکہ سب ہنس رہے تھے۔ عموماََ ایسے واقعات میں جب پوچھا جاتا ہے کہ یہ کیا ہو رہا ہے؟ اور جب ان کو فوتگی کے بارے میں بتایا جاتا ہے تو وہ دعا کے لئے ہاتھ اٹھا دیتے لیکن اس کے برعکس ان کے لئے دعا نہیں کی جا رہی تھی۔ تھانے کے ایس ایچ او نے کہا “بس ہم بے بس ہیں ہم جنگ سے گزر رہے ہیں اور ہمارےبھی جوان شہید ہو رہے ہیں”۔
ناکام مظاہرے کے بعد علیشاہ کو اٹھا دیا گیا۔ چونکہ علیشاہ کو گھر سے عاق کیا گیا تھا۔ (اکثر خواجہ سراوں کو گھروں سے بے دخل کیا جاتا ہے اور یہ تنگ کمروں میں اپنی زندگی کے دن گن رہے ہوتے ہیں) اسی اثنا میں قمر نسیم کے گھر میت کو لے گئے وہاں شہر اور دیگر اضلاع سے خواجہ سرا ماتم کیلئے جمع ہوتے گئے۔ ان کے ماتم میں ایک بد دعا بہت زیادہ چونکنے والی تھی
“اے خدا! قاتلوں کے گھر میں ہمارے جیسے پیدا کر” ۔
اس بد دعا میں خواجہ سراوں کی اپنی ذات اور نفس سے نفرت عیاں تھی۔ اور ایک حقیقت کی بات یہ بھی ہے کہ جس طرح عموماََ فوتگیوں میں جو ستائنے (میت پر رونے میں سسکیوں میں باتیں کرنا) ہوتی ہیں ان کو وہ طریقہ بھی نہیں آتا تھا۔ خیر خواجہ سرا جوق در جوق جمع ہوتے گئے۔
نماز جنازہ کا وقت ہوتا گیا۔ یہ تاریخ میں پہلی بار کھلے عام کسی خواجہ سرا کا جنازہ تھا۔ ایک بندہ کتنا ہی گناہگار، ظالم اور فاسق کیوں نہ ہو کبھی بھی ان کی موت پر ان کے خلاف بات نہیں کی جاتی۔ لیکن آج علیشاہ کو موت پر امام صاحب نماز سے پہلے کہنے لگے،
“جس طرح ایک گناہگار شرابی، زنا کار اور ان لوگوں کی جو داڑھیاں منڈواتے ہیں نماز جنازہ ہوتا ہے تو اسی طرح اس کی بھی ہوگی۔ آپ سب کو معلوم بھی ہے کہ یہ ناچ وغیرہ کرتا تھا لیکن یہ ان کا اپنا کام۔ ہم نے نماز جنازہ کرنا ہے”۔
جنازہ ہوگیا اور میت کو دفنایا گیا۔
اس صورت حال کو مد نظر رکھتے ہوئے۔ دو باتیں سامنے آتی ہیں۔
1۔ جیسے ہی کوئی خواجہ سرا کسی کے گھر پیدا ہوتا ہے تو اس کو اسی وقت مار دینا چاہیے کیونکہ یہ سماج ان کو انسان سمجھتا ہی نہیں بلکہ عجیب مخلوق سمجھا جاتی ہے ۔ تو روز روز مرنے سے بہتر ہے کہ ایک ہی بار مار دیا جائے کیونکہ نہ تو ان کو گھر میں جگہ دی جاتی ہے، نہ علاقے میں اور نہ ہی اس سماج میں۔ ان سے زبردستی زنا کیا جاتا ہے، ان کے ذریعہ سے زبردستی پیسے کمائے جاتے ہیں اور ساری عمر انہیں بے عزت بھی کیا جاتا ہے۔
2۔ اگر ان کو سماج انسان سمجھتا ہے تو معاشرے میں ان کے لئے جگہ بنانا پڑیگی۔ ان کو سوشل بنانا پڑھے گا۔ ان کی عزت ایک انسان اور اس معاشرے کے فرد کی طرح کرنا ہوگی۔ ان کو جینے کا حق دینا ہوگا۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “خواجہ سرا علیشاہ کے جنازہ کے مشاہدات

  • 27-05-2016 at 5:28 am
    Permalink

    ہمارا بس چلے تو ہم خدا کو بھی بتانے بیٹھ جائیں کہ کسے کیسے پیدا کرے . نعوذ بااللہ
    ہم اپنی شکل اور کرتوت دیکھے بنا دوسروں پر تبصرہ یوں کرتے ہیں جیسے سامنے والا دنیا کا سب سے کم ترین اور ہم سب سے اعلی ترین ہستی ہیں . اسی لیئے خود کو مرد کہنے والی ذات کبھی ہیجڑے تو کبھی عورت اور کبھی بچے پر اپنی مردانگی کا زور چلاتا ہے اور شرمندہ بھی نہیں ہوتا . ہے نہ کمال….

Comments are closed.