اسلامی نظریاتی کونسل: ’’بس کردے، اب ہنسائے گا کیا؟‘‘


\"farnood\"عورتوں کے حقوق کے حوالے اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پہ بہت کچھ کہا گیا بہت کچھ کہا جائے گا۔ حسب توفیق ہم بھی تبصرہ کیئے دیتے ہیں، سن لیں آپ کا کیا چلا جائے گا

فرمایا

’’تادیب کے لیے شوہر عورت پر ہلکا پھلکا تشدد کرسکتا ہے‘‘

ہم جب سیل فون کی عیاشی میں مبتلا ہوئے تو ہاسٹل میں دور دور تک ڈنکے پٹ گئے۔ سیل فون کے آنے سے ہمیں کم، ضلع مظفر گڑھ سے تعلق رکھنے والے ہمارے ایک چوکیدار کے لیے زیادہ سہولت ہوگئی۔ ہفتے میں تین چار فون تو وہ آرام سے کھڑکا دیا کرتا تھا۔ جب فون کی ضرورت ہوتی تو آکر کہتا

’’یار آپ کا موبیل چاہیئے، زیادہ دور نہیں بس ادھر بالکل قریب میں ہی ایک جگہ فون کرنا ہے میرے کو‘‘

نہیں سمجھے؟ اچھا جانے دو. یہ بتاؤ کہ یہ جو ہلکی پھلکی بھوک میں ہلکا پھکا ٹک جو کونسل کے ممبران نے رکھا ہے، اس کی مقدار کیا ہے؟ میرا مطلب ہے کہ اگر شوہر نامدار کی کھوپڑی گھوم جائے اور وہ مولانا محمد خان شیرانی کی طرح عورت کا گریبان پھاڑ دے اور سارے بٹن توڑ دے تو یہ ہلکے پھلکے کے زمرے میں آئے گا کہ اچھے خاصے کے زمرے میں ۔ کیا کہتے ہو؟ اس سوال کا ممکنہ جواب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اگر عورت مولانا طاہر اشرفی صاحب کی طرح ’’ہمہ تن گوشت‘‘ ہوئیں تو پھر یہ ہلکا پھلکا تشدد ہی کہلائے گا، مگر اس جواب کے آتے ہی یہ سوال پیدا ہوجائے گا کہ اگر عورت نے آسمان اتنا ہی سر پہ اٹھا لیا جتنا کہ علامہ نے اٹھایا تھا تو پھر کیا فرمائیں گے علمائے دینِ متین بیچ اس تشدد کے؟

فرمایا

’’خاتون نرس کو مردوں کی تیمارداری کی اجازت نہیں ہوگی‘‘

یہ شق شامل کرنے سے پہلے کونسل کے ممبر لوگ کو چاہیئے تھا کہ مولانا فضل الرحمن صاحب سے احتیاطا مشورہ کرلیتے کہ تہتر کے آئین کے تناظر میں وہ کیا فرماتے ہیں۔ کچھ ناہنجاروں کا خیال ہے کہ کونسل کے بدنیت و بدذوق ممبران نے مولانا صاحب کی وجہ سے ہی یہ شق شامل کی ہے۔ اگر ایسا ہے تو پھر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جمعیت علمائے اسلام کی اندرونی تقسیم کس قدر گہری ہوچکی ہے۔ بیشک عورت ایک فتنہ ہے جس کے سبب علمائے امت بھی باہم دست وگریبان ہیں۔

فرمایا

’’عورت کو حجاب کی آزادی ہوگی‘‘

یعنی کہ سبحان تیری قدرت۔ میں کل شام سے سوچ رہا ہوں کہ پاکستان میں حجاب پر پابندی کب تھی؟ جس چیز کی آزادی پہلے سے میسر ہے، اسی کی پھر سے آزادی؟ اچھا اب لگے ہاتھوں ایک لطیفہ ہی سنتے جاؤ۔

ایک صاحب نے سر شام دارو چڑھائی تو یکدم جھولے لعل ہوگئے۔ شام ہی کے وقت انہیں باہر صحن میں بندھے گھوڑے کھول کر اندر اصطبل میں لانے ہوتے تھے۔ اسی مستی میں جھومتے جھامتے صحن کی طرف جانے لگے تو ابا نے آواز دی

’’یہ اٹکتے مٹکتے کہاں جارہا ہے بے؟‘‘

گھوڑے اندر کرنے جارہا ہوں، اور کہاں جارہا ہوں

’’ابے پگلے دیکھ نہیں رہا وہ تو میں کب کے اندر کرچکا ہوں‘‘

ہاں تو میں پھر سے اندر کرنے جارہا ہوں کوئی کچھ بگاڑ سکتا ہے میرا تو بگاڑ لے

فرمایا کہ

’’عورت پر تیزاب پھینکے جانے جیسے واقعات کی مکمل تحقیقات ہوں گیں‘‘

ایک ہے تحقیقات، اور ایک ہے مکمل تحقیقات۔ کبھی عرض کیا تھا کہ اس ملک میں ایک تحقیقاتی کمیٹی قائم کرنے کی اشد ضرورت ہے جو تحقیقات کرے کہ آج تک کتنی تحقیقاتی کمیٹیاں اس ملک میں بنی ہیں۔ اور یہ کہ ان تحقیقات کا نتیجہ کیا ہوا؟ کیونکہ یہاں تو ماتاثرہ شخص کو الجھانے کا اور کیس سے دستبردار کروانے کا یا پھر امت کی توجہ بٹانے کا آسان ترین طریقہ یہ ہے کہ تحقیقات شروع کردو۔ یار اب ایمان داری کے ساتھ ذرا اللہ رسول کو حاجر ناجر مان کر بتاؤ کہ جو شخص تحقیقات افورڈ نہیں کر سکتا، وہ مکمل تحیقیقات کیسے افورڈ کرے گا؟ یعنی فیر میں ناں ہی سمجھاں؟

فرمایا کہ

’’باشعور لڑکی کو قبول اسلام کا حق حاصل ہوگا‘‘

بہت اچھے بھئی بہت اچھے۔ بول تو ایسے رہے ہیں جیسے باشعور عورتوں کو یہ حق آج تک حاصل ہی نہیں تھا۔ بھئی میرے آپ باشعور کی بات کررہے ہو یہاں تو بے شعور لڑکی تک کو کو قبول اسلام کا مکمل حق حاصل ہے۔ یقین مانو اس حق کے معاملے میں تو ہم اتنے حساس ہیں کہ متھا گھومنے پہ عورتوں کو یہ حق زبردستی بھی دے دیتے ہیں۔ کوئی یہ حق لینے سے انکار تو کر کے دکھائے۔ اس کو تو رہنے ہی دو ممبرو اگلی بات کرلو۔ سوال یہ ہے کہ باشعور لڑکی کو اسلام کے علاوہ کوئی اور مذھب اختیار کرنے کا بھی حق حاصل ہے کیا؟ اچھا سوری نا یار۔ بس مزاخ کر ریا تھا میں تو، تیرے سر کی کسم۔

فرمایا کہ

’’غیر ملکی مہمانوں کے استقبال میں عورتیں شامل نہیں ہوں گیں‘‘

اچھا مان لیا۔ اب اگر غیر ملکی مہمان ہی خواتین ہوں تو پھر۔؟ ایسے میں مرد ذمہ داران کی جگہ بھابیوں سالیوں بھانجیوں بھتیجیوں کو ٹرک میں بھر کے بھیجنا ہوگا کیا؟ یا پھر مرد ذمہ اداران کو بدنظری سے بچاؤ کیلیے دعوتِ اسلامی کا ایجاد کردہ چشمہ ’’قفلِ مدینہ‘‘ پہننا ہوگا؟ یار مجھے کیوں لگ رہا کہ یہ والی شق شامل کرتے ہوئے بھی مولانا فضل الرحمن سے جان بوجھ کر رائے نہیں لی گئی۔ یہ تو سراسر جازتی ہے باس۔

فرمایا کہ

’’آزادانہ میل جول پہ پابندی ہوگی‘‘

یار یہاں تو کم از کم جماعت اسلامی سے مشورہ بنتا تھا۔ کیونکہ آزادانہ میل جول کی تشریح تو کرنی پڑے گی ورنہ بات بنے گی نہیں۔ سچ بتارہا ہوں اگر بغیر تشریح کے کارروائی شروع کی نا کسی نے، تو یقین جانو لپیٹے میں خالی پیلی شریف شرفا لوگ ہی آجائیں گے۔ ورنہ سیانے گنہگار تو اس صفائی سے میل جول رکھتے ہیں کہ اکتالیس ملکوں کی پولیس بھی ہاتھ ڈالنا چاہے تو بندہ صابن کی طرح ہاتھ سے پھسل جائے۔ بس متقی پرہیزگار لوگ ہی ہاتھ آتے جائیں گے اور قافلہ بنتا جائے گا۔ پھر بولو گے ہمیں بدنام کرنے کی سازش ہورہی ہے۔ پھر مت کہیئو کہ بتایا نہیں تھا۔ بابو میں نے بتادیا باقی مرضی تمہاری۔

فرمایا کہ

’’عورتیں عسکری خدمات میں براہ راست حصہ لینے کی ذمہ دار نہیں ہوں گیں‘‘

اچھا لیکن آپ تو یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ عورتوں کو سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی اجازت ہوگی۔ نہیں؟ یار ایک بات بتاؤ، کہیں آپ لوگوں کو کسی نے یہ تو نہیں بتا دیا کہ عسکری اداروں کے افسران خواتین سے بھنبھور میں رکھی محمد بن قاسم کی بوسیدہ منجنیقیں چلوا رہے ہیں؟ اچھا ایک اور بات بتاؤ، اب اگر ایک عورت خود سے جنگ میں براہ راست حصہ لینا چاہے تو؟ بس ایک آخری بات مزاخ سے ہٹ کے، بازاروں میں شاپنگ کرتے وقت دکانداروں کو اپنے نکاح فارم بھی دکھانے پڑیں گے کیا؟ بس ویسے ہی میں نے کہا کہ پوچھ لوں ذرا۔ اچھا چل خیر ہے نا، سوچ کے آرام سے جواب دے دیجیو، اپنے کو کون سی جلدی ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

One thought on “اسلامی نظریاتی کونسل: ’’بس کردے، اب ہنسائے گا کیا؟‘‘

  • 27-05-2016 at 7:34 pm
    Permalink

    اصلی فرنودی سٹائل، بڑے عرصے بعد نظر آیا، مزا آ گیا

Comments are closed.