احمدی آئین کو نہیں مانتے, ایک اور مغالطہ


عاطف میاں کی بطور رکن اقتصادی مشاورتی کونسل تقرری سے شروع ہونے والی بحث نے کیا کیا رخ نہ لیا۔ جمعے کی تقریروں سے لے کر سالانہ اجتماعات کے وعظوں میں یہی سنتے آئے تھے کہ مسئلہ احمدیت ہمیشہ کے لئے ختم ہو چکا۔ احمدی غیر مسلم اقلیت قرار پا چکے اللہ اللہ خیر سلا۔ عاطف میاں کی تقرری سے یہ معاملہ پھر سے الجھا تو بھانت بھانت کے دلائل اور رنگ برنگے بھاشن سننے کو ملے انہی میں سے ایک دلیل جو بہت بکی اور خریدی گئی وہ کچھ یوں تھی ”کہ آئین پاکستان نے احمدیوں کو اقلیت قرار دے دیا اب چونکہ احمدی خود کو اقلیت تسیلم نہیں کرتے تو گویا وہ آئین شکنی کرتے ہیں لہذا انہیں وہ حقوق نہیں دیے جا سکتے جو آئین دیگر پاکستانی شہریوں اور اقلیتوں کو دیتا ہے“

اگر اسی دلیل کو اصول مان لیا جائے تو شاید پاکستانی آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ آئینی حقوق سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔

قصہ یوں ہے کہ دستور پاکستان نے پاکستان میں عدالتوں کا ایک نظام رائج کیا ہے جس میں سپریم کورٹ کو تمام عدالتوں سے برتر قرار دیا گیا ہے اسی آئینی عدالت نے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے خلاف ایک فیصلہ دیا اور انہیں بطور وزیراعظم نا اہل قرار دیا جسے ن لیگ کی اکثریت نے ماننے سے انکار کیا اور فیصلے کے خلاف معمولی ہی سہی مگر عملی ردعمل بھی سامنے آیا۔ بالخصوص سوشل میڈیا کے بہت سے بڑے ناموں نے اسے کھل کر حدف تنقید بنایا حتی کے فیصلہ دینے والے ججوں پہ رکیک جملے تک کسے گئیے کیا اس معاملے میں بھی ن لیگی کے حامیوں اور ورکرز کو آئین شکن قرار دیتے ہوئی آئینی حقوق سلب کر لئے گئے؟

آگے بڑھیں آئین کا آرٹیکل 25 یہ اصول طے کرتا ہے کہ تمام پاکستانی شہری قانون کی نظر میں برابر ہیں اور ان کے مابین جنس کی بنیاد پہ کوئی تفریق نہیں کی جا سکتی ذرا اپنے اردگر دیکھیں اور بتائیں کہ آپ اور مجھ سمیت کون کون اس اصول کا پابند ہے اور ریاست آج تک شہریوں کو یہ حق دلوانے میں کتنی کامیاب رہی ہے۔ اب کیوں نہ اس معاملے میں بھی اُسی اصول کا اطلاق کیا جائے اور جو ادارے۔ افراد اور عہدیدار اس آئینی اصول کو روندنے میں شریک رہے یا معاون ثابت ہوئے ان سے بھی آئینی حقوق چھین لئے جائیں

معاملہ یوں ہے کہ آئین پاکستان نے تمام معاملات کو اصول کی حد تک طے کر دیا ہے اور ان اصولوں کی عملی اطلاق کے لئے انہی کی روشنی میں مزید قانون سازی کی ہے اب اگر کسی فرد کو سزا دینا مقصود ہو گا تو ان قوانین کو عمل میں لایا جائے گا نہ کہ اس فرد کے جملہ حقوق سلب کر لئے جائیں گے۔

اسے یوں سمجھییے کہ آئین نے آرٹیکل 25 میں ہر شہری کو آزادی اور ذندگی کا حق دے رکھا ہے جب اس ریاست ہی کا ایک شہری اٹھ کر کسی دوسرے شہری کو قتل کر دیتا ہے تو ایسے میں قاتل کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302 کے تحت مقدمہ رجسٹر ہو گا یہ مقدمہ درج ہونے کے بعد وہ قاتل آئین میں دیے گئے دیگر حقوق کا حقدار ہوتا ہے جن میں ایک حق شفاف ٹرائل کا بھی ہے (آرٹیکل 10 اے)۔

مختصر یہ کہ کسی ایک قانون کی خلاف ورزی فرد سے اس کے دیگر حقوق کسی طور نہیں چھین سکتی۔

احمدیوں کے معاملے میں ایک آئینی ترمیم کر کے انہیں اقلیت قراد دیا گیا اس کے بعد اس آئینی اصول کی روشنی کچھ ذیلی قانون سازی کر دی گئی جس میں تعزیرات پاکستان میں دفعہ 298 بی اور سی شامل کر دی گئیں۔ اب جو احمدی خود کو مسلمان کہے گا یا ان دفعات میں بیان کردہ دیگر جرائم کا ارتکاب کرے گا تو اسے ان جرائم کی سزا بھگتنی ہو گی اور یہ سزا تین سال قید اور جرمانہ ہے۔ (بالکل اسی طرح جن لوگوں نے میاں نواز شریف کے فیصلے کے خلاف حدود کو پھلانگا ان کے خلاف بھی توہین عدالت اور دیگر دفعات کے تحت مقدمے درج ہوئے )
احمدیوں کے معاملے میں قانون اس کے سوا اور کوئی سزا بیان یا متعین نہیں کرتا۔

اب اگر تعزیرات پاکستان کی ان دفعات کی روشنی میں کسی احمدی نے جرم کا ارتکاب کیا ہے تو اس پہ مقدمہ چلائیں اور سزا دلوائیں اور اگر ان کے آئینی حقوق دینے سے انکار ہی کرنا ہے تو کوئی بہتر بہانہ تراش لائیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

محمد عثمان، ایبٹ آباد کی دیگر تحریریں
محمد عثمان، ایبٹ آباد کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں