جدید مذہبی شعورکی اخلاقی افادیت پسندی


     aasimمادیت پسندی اس اعتقادی یقین کا نام ہے کہ ہمارے تمام تجربات و احساست مادی طور پر بیان کئے جا سکتے ہیں یعنی ان کی مادی توجیہات نہ صرف ممکن ہیں بلکہ صرف اور صرف وہی مستند ترین توجیہات ہیں۔ مادیت پسندی کا یہ بنیادی مفروضہ انسانی نفسیات کا قدیم  مسئلہ ہے کیوں یہ ایک ایسا نفسِ انسانی ہے جو شے سے اپنے مخصوص تعلق کے باعث شے سے اوپر اٹھ کر دیکھنے سے قاصر ہے۔ دوسری طرف اخلاق کا معاملہ خیر و شر سے تعلق رکھتا ہے۔ یہاں بنیادی سوال یہی ہوتا ہے کہ خیر کیا ہے یا کیا نہیں ہے؟  اگر مادیت پسند انسانی نفسیات غیر مذہبی ہو تو اس کا  مخصوص فلسفۂ اخلاق ایک ایسے ’افادیت پسند‘ سماج کو متصور کرتا ہے جہاں شے کا حصول بہت بامعنی ٹھہرتا ہے اور اس حصول سے حاصل ہونے والا ’فائدہ‘ ہی دراصل مبنی بر خیر ہوتا ہے۔

                دوسری طرف اسی قسم کی مادیت پسند انسانی نفسیات اگر مذہبی ہو تو اس کا اپنے مخصوص مابعدالطبیعاتی مفروضوں پر ایمان بھی ایک پیچیدہ مادی کیفیت لئے ہوتا ہے۔ یہاں تمام الوہی متون، تاریخ و آثار، تعبیر کا عمل اور تعبیر کے اطلاقی مسائل دراصل ایک ’شے‘ کی طرح تصور کر لئے جاتے ہیں جس سے اوپر اٹھنا (یعنی تہہ میں اترنا) محال ہوتا ہے۔  مذہب مخالف روایتی مادیت پسندی کے مقابل عصرِ حاضر میں رائج ’افادیت پسندی‘ کی اس  تیزی سے  مقبول ہوتی مخصوص مذہبی جہت کو ہم ’اخلاقی افادیت پسندی‘ یا ’اخلاقی مادیت پسندی‘ کہہ سکتے ہیں۔ اس کے مظاہر ہمارے سماج میں عام ہیں اور ہمارے ہاں تقریباً نصف صدی سے کلیشوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ نیچے دی ہوئی دونوں مثالیں مختلف قسم کے مذہبی احباب کی ہیں۔

’’اچھا، تو آپ مترجم بھی  ہیں۔ ترجمے کا ’فائدہ‘؟‘‘

’’جی بس کیا عرض کروں! آپ کا مطلب معاشی فائدے سے ہے تو اس بارے میں کبھی خیال نہیں آیا، بس یونہی ذوق و شوق کا معاملہ ہے۔ اگر آپ ’مسرت‘، ’تسکین‘، ’کیفیتِ سرشاری‘، ’نفسیاتی سیرابی‘ کو کوئی فائدہ مانتے ہیں تو بہت فائدہ ہوتا ہے۔‘‘

’’ایک تو آپ لوگ فلسفہ بہت بگھارتے ہیں۔‘‘

نصاب  کی بات چھڑی  تو ایک صاحب فرمانے لگے کہ اردو کے نصاب میں بچوں کو شاعری پڑھانے کا ’فائدہ‘؟

عرض کیا جناب اس کے بغیر زبان کیسے سیکھی جا سکتی ہے؟ آپ ہی کوئی طریقہ بتائیے۔

کہنے لگے زبان انسان اس لئے سیکھتا ہے کہ زبان سے کئی سماجی فوائد جڑے ہیں اور اردو شاعری پڑھنے سے ایسا کیا حاصل ہو گا۔ کافی بحث و مباحثہ ہوا اور کسی تلخ کلامی کی نوبت نہیں آئی لیکن ان کی سوئی اسی سوال پر اٹکی رہی کہ آپ فلسفیانہ موشگافیاں چھوڑئیے، صرف اس سوال کا جواب دے دیجئے کہ ’ابن مریم ہوا کرے کوئی‘ سے میرا بچہ ایسا کیا سیکھ لے گا جس سے کوئی ’فائدہ‘ حاصل ہو سکے۔

اب دوسری  غیر مذہبی انتہا ملاحظہ کیجئے۔  یہ حضرت کہنے لگے کہ قرآن حفظ کرنے کا ’فائدہ‘؟ جیسے پچھلے صاحب کے لئے ’مسرت‘، ’تسکین‘، ’سرشاری‘ وغیرہ کے الفاظ فلسفیانہ موشگافیوں کے زمرے میں آتے تھے ویسے ہی ان حضرت کے ہاں ’برکت‘، ’حصولِ ثواب‘ وغیرہ بس کچھ ایسی ہی مبہم مذہبی لفاظی تھی۔

اس لئے ہم نے مذہبی زبان کی بجائے علم بشریات کی اصطلاحیں استعمال کرنے کو ترجیح دی اور تاریخ میں ’زبانی روایت‘ (oral tradition)، زبانی روایت کی تحریری روایت پر فوقیت وغیرہ جیسے دلائل کے ذریعے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ آج بھی قرآن کا حفظ کرنا حفاظتِ قرآن کے لئے ناگزیر ہے۔ اس سلسلے میں قدیم یونانی شاعری، شاعری میں حفظ کی مستحکم روایت اور ایسے کئی مباحث کی جانب بھی اشارہ کیا۔

کہنے لگے ایک تو آپ مذہبی لوگ بات کو گھمانے پھرانے کے ماہر ہوتے ہیں۔ ان کی سوئی آخر تک اس پر اٹکی ہوئی تھی کہ آج کسی بھی دستاویز کو محفوظ کرنے کے اتنے جدید طریقے آ چکے ہیں تو ہم دقیانوسی طریقوں سے طوطے کی طرح قرآنی سورتیں رٹنے اور اپنے بچوں کو رٹانے میں کیوں مشغول ہیں۔

اصل میں بے ذوق یا بدذوق ہونا کوئی معیوب بات نہیں کیوں کہ سراسر توفیقی معاملہ ہے۔ اللہ جسے چاہے جیسی شکل و صورت، فہم  و شعور اور ذوق سے نواز دے۔ ہر شخص کسی نہ کسی جمالیاتی جہت میں بدذوق ہوتا ہے، کسی کو پودوں میں دلچسپی نہیں ہوتی تو کسی کو شعر و ادب میں تو کسی کو صبح کی سیر میں یا مصوری و خطاطی میں۔ یہ بات بھی معیوب نہیں کہ اپنی بدذوقی پر فخر کیا جائے کیوں کہ یہ بنیادی انسانی حقوق کے زمرے میں آتا ہے کہ انسان اپنی کسی بھی فطری خاصیت کو مثبت یا منفی انداز میں دیکھے۔ مثال کے طور پر مجھے ٹکٹ جمع کرنے کا شوق ہے تو کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ کیا فضول شوق ہے۔ بھئی ٹکٹوں میں ایسی کیا خوبصورتی کہ انہیں سنبھال کر اپنے پاس رکھا جائے؟  ایسے میں بندہ مسکرا کر خاموش ہو سکتا ہے اور دعا دے کر اپنی راہ لے سکتا ہے۔

مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں اپنی بدذوقی پر قیاس کرتے ہوئے ایک پوری تہذیبی روایت کے  مذہبی اکابر کو بھی بدذوق ثابت کرنے کے لئے دلائل تراش لئے جاتے ہیں اور خیر و شر پر کچھ حتمی فیصلے اخذ کئے جاتے ہیں۔ یہاں یہ ایک سماجی اور اپنی حتمی صورتوں میں سیاسی مسئلہ بن جاتا ہے۔  یوں سمجھئے کہ ایک جدید ’اخلاقی مادیت پسند‘ مذہبی ذہن تاریخ میں جھانکتا ہے تو اسے سب اپنی ہی طرح مادیت پسند نظر آتے ہیں۔یہ مخصوص ذہن یہ تصور کرنے سے قاصر ہوتا ہے کہ   قصہ کہانی ،  شعر و سخن ، نقش و نگاری   وغیرہ   کے علاوہ  انسانوں کے پاس اپنی جمالیاتی تسکین کا کوئی ذریعہ نہیں۔ یہ بھی کھانے، پینے، سونے، جاگنے اور جنسی عمل کی طرح بنیادی انسانی ضروریات ہیں۔اس تناظر میں صرف  ’ثواب‘، ’برکت‘،  ’نیکی‘ وغیرہ جیسی  ’اشیاء‘ کا حصول  ہی  بامعنی  اور ’مطلوب‘ ٹھہرتا ہے۔  دوسری طرف فنونِ لطفیہ کے ذریعے ’حسن‘، ’مسرت‘، ’سرشاری‘، ’ جمالیاتی تسکین‘ وغیرہ کا حصول ’غیر مطلوب‘ ٹھہرتا ہے کیوں کہ ایک بدذوق ’اخلاقی افادیت پسند‘  مذہبی ذہن نفسیاتی طور پر یہ سوال پوچھنے پر مجبور ہوتا ہے کہ فلاں  شوق  کا ’فائدہ‘؟

 


Comments

FB Login Required - comments

عاصم بخشی

عاصم بخشی ایک قدامت پسند دیسی لبرل ہیں۔ پیشے کے لحاظ سے انجینئرنگ کی تدریس سے وابستہ ہیں۔ فلسفہ، ترجمہ اور کچھ بظاہر ناممکن پلوں کی تعمیر ان کے سنجیدہ مشاغل ہیں۔ تنہائی میں اپنی منظوم ابہام گوئی پر واہ واہ کرتے نہیں تھکتے۔

aasembakhshi has 46 posts and counting.See all posts by aasembakhshi

One thought on “جدید مذہبی شعورکی اخلاقی افادیت پسندی

  • 08-06-2016 at 9:50 am
    Permalink

    انسان اس زمین کے چھوٹے سے ٹکرے پر مادے کی خوبصورت تحلیق ہے ،جس نے اپنے وجود کی بقاء کی جنگ دوسرے جانداروں سے احسن طریقہ سے لڑ کر جیتی ہے پھر اس نے ایک غیر طبقاتی سماج تشکیل دیا اور اس سماج نے انتہائی تیزی سے ترقی کی پھر جب بعد میں وہ سماج طبقات میں تقسیم ہواتو اس کی ترقی کی رفتار ایک نئے آپسی تصادم میں تقسیم ہوگئی، انسان کے آپسی تصادم کے باوجود سماجی سائنسی علوم ترقی کرتے رہے ہیں ان تمام سماجی علوم کے انر آلات کی سائنس جمالیات ادب آرٹ فلسفہ اور مذہبی ادھیان بھی ترقی کرتے رہے ہیں ،موجودہ چند صدیوں کے دور کے اندر معاشی طبقاتی تصادم کی وجہ سے روحانی سائنس سے بیزار ہونے کی وجہ سے مادے کے آپسی تصادم کو ہی کائنات کی حقیقت سمجھ بیٹھا ہے ،حالانکہ مادے کے اس تصادم نے نظام شمسی اور اس نظام شمسی سے باہر کے نظام میں ایک اعتدال اور توازن پیدا کر دیا ہوا ہے تاکہ حضرت انسان جو اشرف مخلوق ہے آسانی سے اس تک رسائی حاصل کرسکے لیکن اس رسائی تک پہنچنے کا آسان طریقہ غیر طبقاتی سماج ہے وہ سماج جس کو انسان نے اپنے ابتدائی تمدنی زمانے میں قائم کیا اس بہترین دور میں تہذیب و تمدن نے انتہائی تیزی سے ترقی کی مصر یونان اٹلی اور ہندوستان کی قدیم تہذیبیں اس کا منہ بولتا ثبوت ہیں اس دور کے انسان نے سماجی علوم میں بے پناہ ترقی کی جس میں قدیم آرٹ کے نمونے آج بھی اپنی طرف سوچنے پر مجبور کرتے ہیں ان تمام قدیم سماجی علوم کے اندر روحانی سائنس نے بڑا اہم رول ادا کیا ۔اگر آج کا انسان اپنے درمیان سماجی معاشی انصاف قائم کر لے تو تمام عمرانی سماجی سائنسی علوم تیزی سے ترقی کی طرف گامزن ہوسکتے ہیں ،اس لیے کے اب انسان نے آلات کی سائنس میں انتہائی ترقی کی منازل طے کرلی ہیں ،انسان جو مادے کی بہترین تحلیق ہے یہ آلات کی مدد سے نا صرف کائنات کے حقائق تک رسائی حاصل کرسکتا ہے ،بلکہ دوسری جاندار مخلوق کے اندر آپسی تصادم کو بھی اعتدال پر لاسکتا ہے بلکہ کئی جانداروں کو انسان نے اپنے تہذیبی دائرے میں لا کر بہترین رزلٹ حاصل کیے ہیں اس وقت انسان کے اوپر چھائی ہوئی مایوسی طبقاتی معاشی ناہمواری کی وجہ سے ہے اگر انسان اپنی انقلابی جدوجہد اور تربیت سے کامیاب ہوگیا تو تو قدیم مذاہب کے اوپر چڑھے گروغبار کو بھی آسانی سے صاف کرنے میں کامیاب ہوسکتا ہے اس گرد وغبار کی صفائی سے اہل علم اور انبیاء کی سہی حقیقت کھل کر سامنے آسکتی ہے جس کو وقت کی ملائیت نے ہزاروں پردوں کے اندر چھپا دیا ہوا ہے مارکس کی جدلیاتی سائنس کی تعلیم اس میں ہترین رول ادا کر سکتی ہے داہریت کی زندگی انتہائی محدود ہے اس سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے صرف سماجی معاشی انصاف ہی اس کا بہترین تدارک ہے ۔

Comments are closed.