خواجہ سراﺅں کا نیا پاکستان


asif Mehmoodپشاور میں علیشا کا قتل بتا رہا ہے کہ خواجہ سراﺅں کا نیا پاکستان کیسا ہو گا۔گرو کے بلند بانگ دعووں کے ہنگام چیلوں کا ’نچنے‘ کو کتنا ہی دل کیوں نہ کرتا ہو ان کے ٹھمکوں سے کچھ نہیں ہوتا ،یہ حقائق ہوتے ہیں جو حتمی رائے کی بنیاد فراہم کرتے ہیں اورپشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں زخمی علیشا کے ساتھ جس درندگی کا مظاہرہ کیا گیا وہ چیخ چیخ کر بتا رہا ہے کہ خواجہ سراﺅں کے نئے پاکستان کے خدوخال کیا ہوں گے۔

مردانہ معاشرے کی بیمار نفسیات کی آسودگی کے لیے علیشا کو چند مناظر فلمانے کا کہا گیا ۔روشن خیالی اب اسے چھو کر نہیں گزری تھی اس لیے اس نے انکار کر دیا۔ورنہ اس نے بھی ہمارے بعض اہل دانش کی طرح لہرا کے اور بل کھا کے کہا ہوتا کہ فحاشی تو دیکھنے والے کی آنکھ میں ہوتی ہے اور ابھی تک کسی نے اس کی تعریف بھی متعین نہیں کی تو جناب جو چاہے فلما لو مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔خیر دقیانوسی خواجہ سرا نے انکار کیا اور بھرے بازار میں نصف درجن سے زائد گولیاں اس کے جسم میں اتار دی گئیں۔’ نیک اورغیرت مند ‘ معاشرے میں ایک خواجہ سرا کی اوقات ہی کتنی ہوتی ہے۔

اس کی سہیلیاں اس کے زخمی وجود کو اٹھا کر لیڈی ریڈنگ ہسپتال بھاگیں۔شایدان کے ذہن میں خان اعظم کی سوات میں کی گئی تقریرابھی تازہ ہو گی جس میںانہوں نے مخالفین کو طعنہ دیا کہ تمہیں نیا کے پی اس لیے نظر نہیں آیا کہ تم ہیلی کاپٹر سے اسے دیکھتے رہے جب کہ ہم نے نیا پاکستان ہسپتالوں اور سکولوں میں بنایا ہے ۔تم اسے پلوں میں تلاش کر تے ہو۔اس دعوے کے بعد انہوں نے تفصیل سے بیان فرمایا کہ کیسے انہوں نے ڈاکٹرز سے مل کر صوبے کے ہسپتالوں میں انقلاب کی بنیاد رکھ دی ہے۔تو یہ روتے پیٹتے چیختے چلاتے خواجہ سرا لیڈی ریڈنگ ہسپتال کی طرف بھاگے۔زندگی کی تلاش میںنئے پاکستان کی طرف بھاگے ۔جب وہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال ،معاف کیجیے نئے پاکستان، پہنچے تو ان کے ساتھ کیا ہوا۔پڑھیے اور چاہے تو سر پیٹ لیجیے اور چاہے تو نئے پاکستان کے تان سین کے ساتھ مل کرخوب گنگنائیے : ” عمران خاں دے جلسے اچ اج میرا نچنے نوں جی کردا “

علیشا کے لہو لہو وجود کو جب سٹریچرپر ڈال کر ڈاکٹرز کے حضور پیش کیا گیا تو انہوں نے کہا ،جب تک اس کی جنس کا تعین نہیں ہو جاتا کہ یہ مرد ہے یا عورت، تب تک اس کا علاج شروع نہیں ہو سکتا۔ایک انسانی وجود جس میں نصف درجن گولیاں اتر چکی تھیں ڈاکٹرز کے سامنے رکھاتھا اور وہ اٹکھیلیاں کر رہے تھے کہ پہلے ہم اس کی جنس کا تعین کریں گے۔ اگر ڈاکٹروں کے جذبہ انسانیت کا یہی عالم ہے تو کیوں نہ نعیم الحق صاحب کی سربراہی میں ایک جنسی تعین کمیشن بنا دیا جائے جو فوری طور پر مشاہدہ کر کے مریضوں کی جنس کا تعین کر دیا کرے تا کہ علاج میں بلاوجہ تاخیر نہ ہو اور قیمتی انسانی جانیں بچائی جا سکیں۔ایک ڈاکٹر صاحب اس حد تک نفسیاتی مریض واقع ہوئے کہ زخمی علیشا سے پوچھنے لگے تم صرف رقص کرتی ہو یا کچھ اور خدمات بھی بجا لاتی ہو اور تمہارا ایک رات کا معاوضہ کیا ہوتا ہے۔ذرا تصور کیجیے یہ سوال اس انسان سے پوچھا جا رہا ہے جس کے جسم میں نصف درجن گولیاں گھس چکی ہیں اور وہ درد سے تڑپ رہا ہے۔ڈاکٹرز کا بھی کیا قصور جب جلسوں میں نوید دی جاتی ہو کہ” عمران خاں دے جلسے اچ اج میرا نچنے نوں جی کردا “ تو ڈاکٹرز بھلا کیوں پیچھے رہیں۔بس ایک جنون ہے اور سربازار می رقصم ۔ساڑھے نو بجے اس مظلوم علیشا کو ہسپتال پہنچایا گیا اور ڈیڑھ بجے تک ڈاکٹرز یہ فیصلہ نہ کر سکے کہ اس کو کہاں رکھنا ہے۔کبھی اس کا سٹریچر زنانہ وارڈ لے جایا جاتا تو کبھی مردانہ وارڈ۔کبھی اوپر کی منزل پر بھیجا جاتا کبھی نیچے کی منزل پر۔چار گھنٹے اس کا لہو لیڈی ریڈنگ ہسپتال کی راہداریوں میں بہتا رہا۔لیکن اس بے چاری کے زخمی وجود کو عمران خان کے نئے پاکستان میں کوئی جگہ نہ مل سکی۔چار گھنٹوں کے بعد فیصلہ ہوا یہ’ متقی منافق ‘ لوگوں کا معاشرہ ہے یہاں ایک خواجہ سرا کو نہ مردانہ وارڈ میں رکھا جا سکتا ہے نہ ہی زنانہ وارڈ میں۔برآمدے کے ایک کونے میں پبلک ٹوائلٹ کے آگے اسے رکھ دیا گیا۔اور یہیں اس نے جان اپنے اللہ کو سپرد کر دی جس نے اسے عمران خان کی طرح مردانہ یا سیتا وائٹ کی طرح زنانہ اوصاف سے مالا مال نہیں کیا تھا بلکہ ایک امتحان میں ڈال دیا تھا ۔اسے خواجہ سرا بنا دیا تھا۔یہ محرومی اس کا وہ گناہ بن گئی کہ ’ متقی منافق ‘ معاشرے نے اسے مرنے کے لیے پبلک ٹوائلٹ کے سامنے پھینک دیا۔کیا ٹائیگرز کا اب بھی نچنے کو دل کر رہا ہے؟

خوااجہ سراﺅں کے بارے میں اس ’ متقی منافق ‘ معاشرے میں عجیب ظالمانہ اور غیر انسانی رویے پائے جاتے ہیں۔انہیں ایک انسان سمجھا ہی نہیں جاتا۔ایسا نہیں ہے کہ ان کے ساتھ یہ ظالمانہ برتاﺅ صرف کے پی کے میں ہوتا ہے۔قریب قریب ہر جگہ ان کی اس محرومی کی بنیاد پر انہیں ذلیل کیا جا تا ہے جس میں ان کا کوئی قصور نہیں۔لیکن کے پی کے کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں جو کچھ ہوا یہ وہ درندگی ہے جس کا شاید ہی کہیں تصور کیا جا سکتا ہو۔عمران خان کی نیم سنجیدہ سیاست تکلیف کے اس احساس کو مزید بڑھا دیتی ہے۔ان کی حکومت کے پی کے میں ڈھنگ کا کوئی کام نہیں کر سکی۔اتنی صلاحیت نہیں کہ ترقیاتی فنڈ ہی استعمال کر لیا جاتا۔ لگتا ہے صرف نچنے ہی کو اس کا دل کرتا ہے۔جب اعتراض ہوتا ہے کہ آپ اتنے غیر سنجیدہ حکمران ہیں کہ ترقیاتی فنڈز ہی استعمال نہیں کر سکے تو غلطی تسلیم کرنے کی بجائے کمال ڈھٹائی کے ساتھ کہا جاتا ہے کہ ہم سڑکیں اور پل بنانے پر یقین نہیں رکھتے بلکہ ہم نے سکولوں اور ہسپتالوں پر توجہ دی ہے جو لوگوں کو نظر نہیں آتی۔کہا جاتا ہے ہم نے ہسپتالوں میں ایک انقلاب بر پا کر دیا ہے۔۔۔تو جناب یہ ہے وہ انقلاب اور یہ ہے عمران خان کے دعووں کی حقیقت۔چھ گولیاں جسم میں ہیں مریض تڑپ رہا ہے لیکن چار گھنٹے یہ فیصلہ نہیں ہو پاتا کہ اس کو کہاں رکھنا ہے اور ڈاکٹر صاحبان علاج کرنے سے زیادہ اس بات میں دل چسپی لے رہے ہوتے ہیں کہ زخمی خواجہ سرا صرف رقص کرتی ہے یا دیگر خدمات بھی بجا لاتی ہے اور اگر بجا لاتی ہے تو اس کا معاوضہ کیا ہے۔تحریک انصاف کی حکومت معلوم انسانی تاریخ کا سب سے مضحکہ خیز لطیفہ ہے۔یہ صرف سوشل میڈیا پر کامیابی کے جھنڈے گاڑتی نظر آتی ہے۔ان کی جھوٹ بولنے کی مہارت کا یہ عالم ہے کہ کسی مغربی ملک میں صفائی کرنے والی ایک گاڑی کی تصویر پر فوٹو شاپ کے ذریعے پشاور ڈیویلپمنٹ اتھارٹی لکھ کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ نونہالان انقلاب نے پشاور میں انقلاب برپا کر یا ہے۔سوشل میڈیا پر انقلاب لانے کا یہ عمل اتنا تیز ہے کہ کسی نے ڈرائیور کو دیکھنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی جو ایک انگریز ہے۔تو کیا لندن میئر کے انتخاب میں شکست کے بعد زیک گولڈ سمتھ صاحب نے یہ ٹھیکہ تو نہیں لے لیا؟

اس منافق متقی اور مردانہ معاشرے کی فکری غلاظت دیکھیے یہاں آ ج تک کسی خواجہ سرا کا جنازہ نہیں اٹھایا گیا۔ رات کی تاریکی میں انہیں خاموشی سے دفن کرد یا جاتا ہے۔اس سماج نے نہ انہیں ڈھنگ سے جینے دیا نہ ڈھنگ سے مرنے دیا۔ اہل جبہ و دستار میں کسی سے کہہ دیکھیے اس ظلم کی مذمت کرے۔ خواجہ سراﺅں کے نام ہی سے اہل تقوی کی غیرت ایمانی خطرے میں پڑ جائے گی اور وہ توبہ توبہ پکار اٹھیں گے۔

مرنے والی نہیں …. یہ معاشرہ خواجہ سرا ہے۔گونگے خواجہ سرا۔ منافق خواجہ سرا۔متقی خواجہ سرا۔

اس خواجہ سرا سماج کو اس وقت سے ڈرنا چاہیے جب خدا کی عدالت میں علیشا اپنا مقدمہ رکھے گی ۔سب اپنا اپنا جواب سوچ رکھیں۔ویسے کیا فرماتے ہیں قبلہ منور حسن بیچ اس مسئلے کے : ” کیا خواجہ سرا شہید ہو سکتا ہے؟ یا وہ کم بخت مردود ہی رہے گا بھلے اپنی عزت بچاتا ہوا مارا جائے ؟ “


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “خواجہ سراﺅں کا نیا پاکستان

  • 28-05-2016 at 11:33 pm
    Permalink

    ویسے کیا فرماتے ہیں قبلہ منور حسن بیچ اس مسئلے کے : ” کیا خواجہ سرا شہید ہو سکتا ہے؟ یا وہ کم بخت مردود ہی رہے گا بھلے اپنی عزت بچاتا ہوا مارا جائے ؟ “

Comments are closed.