یاسر پیرزادہ کی تنقید کے جواب میں


zunaira-saqib-3یاسر پیرزادہ میرے پسندیدہ کالم نگاروں میں سے ایک ہیں۔ معروف اخبارات میں جب کچھ لوگ طالبان اور اسلامی نظریاتی کونسل کی تعریفوں کے پل باندھ رہے ہوتے ہیں تو اکثر یاسر اپنی طنزیہ تحریروں سے قوم کو ان کا اصلی چہرہ دیکھا رہے ہوتے ہیں۔ لیکن ایک معاملے پر ان سے پہلے بھی ایک دفعہ اختلاف ہو چکا ہے جب انھوں نے جنگ میں ایک کالم میں یونیورسٹیوں کے زوال کے اوپر بات کی تاہم اس میں بہت سی باتیں حقیقت سے دور تھیں۔ اسی اختلاف کی بنیاد پر ان سے گفتگو بھی ہوئی اور انھوں نے کچھ باتوں کو تسلیم بھی کیا تھا۔ آج یہ جواب اس لئے لکھ رہی ہوں اب “ہم سب” پر انھوں نے کم و بیش وہی باتیں لکھ ڈالیں ہیں جو کہ کچھ عرصہ پہلے وہ جنگ میں لکھ چکے ہیں اور اس میں سے بیشتر باتیں محض سنی سنائی باتوں پر مبنی ہیں۔

میں پچھلے 6 برس سے تدریس کے شعبہ سے وابستہ ہوں۔ پاکستان کی چند بہترین یونیورسٹیوں میں سے ایک میں پڑھاتی ہوں۔ یاسر کا کالم پڑھ کر مجھے سخت تکلیف پہنچی۔ اس بات کا احساس بھی ہوا کہ کبھی کبھی لکھنے والے، اس بات کا احساس کیے بغیر کہ وہ پڑھنے والوں کی رائے بنا رہے ہیں، کچھ بھی لکھ دیتے ہیں۔ جس پر ان کے پڑھنے والے یقین بھی کر لیتے ہیں کیوں کہ وہ ایک معتبر لکھنے والے ہیں۔

یاسر فرماتے ہیں کہ امپیکٹ فیکٹر جرنل کا تو یہ حال ہے کہ گوجرانوالہ سے 12 جرنل شایع ہوتے ہیں۔ نہ معلوم ان کو امپیکٹ فیکٹر جرنل کا کچھ اندازہ بھی ہے یا نہیں۔۔ ہائر ایجوکیشن کے ریکارڈ کے مطابق پاکستان کے کل ملا کر 12 جرنل امپیکٹ فیکٹر ہیں۔ یاسر صاحب کی معلومات میں اضافے کے لئے عرض ہے کہ امپیکٹ فیکٹر جرنل بننے کے لئے بے انتہا کشٹ کاٹنا پڑتے ہیں۔ ہر جرنل امپیکٹ فیکٹر نہیں ہوتا۔ نہ ہی گوجرانوالہ سے 12 امپیکٹ فیکٹر جرنل نکلتے ہیں۔ جہاں تک ان جرنل میں پبلش کرنے کی بات ہے تو عرض یہ ہے کہ یہ پاکستان نہیں دنیا کی تمام جامعات کا المیہ ہے کہ وہ ان جرنل میں پبلش کرنے پر زور دیتی ہیں اس کی سادی سی وجہ ہے رینکنگ۔۔۔ جس یونیورسٹی کی زیادہ پبلیکیشنز ہوتی ہیں وہ رینکنگ میں اوپر آ جاتی ہے۔ تو یہ شایع کرنے کی بیماری ساری دنیا میں ہے اور پاکستان بھی اسی کا شکار ہے۔ جس رینکنگ کا حوالہ دے کر آپ نے چندی گڑھ کی بات کی ہے اسی رینکنگ میں اوپر جانے کے لئے  ان جرنلز میں شایع ہونا ضروری ہیں۔ ( جس سے میں بلکل اتفاق نہیں کرتی، تاہم وہ ایک اور بحث ہے)۔ چندی گڑھ سے یاد آیا معلوم نہیں آپ کو کس نے کہا کہ چندی گڑھ یونیورسٹی ایشیا میں 38 نمبر پر ہے۔ جامعات کی دو معتبر رینکنگ ہیں اس میں سے ایک ٹائمز ہائر ایجوکیشن کی رینکنگ ہے اور ایک کیو ایس کی رینکنگ ہے۔ دونوں میں چندی گڑھ یونیورسٹی کا نام و نشان نہیں ہے۔ ہاں انڈیا کی 9 بڑی جامعات اس لسٹ میں ضرور موجود ہیں۔

پاکستان میں پی ایچ ڈی اساتذہ کا فقدان رہا ہے اور اس وجہ سے ریسرچ کا بھی۔ ایچ ای سی کی مہربانی سے پاکستان نے پچھلے 15 سالوں میں پی ایچ ڈی پیدا کرنے شروع کیے ہیں۔ جب ایچ ای سی نے غیر ملکی اسکالر شپ دینا شروع کیے اس کے بعد ہمارے یہاں وہ فیکلٹی آنا شروع ہوئی جو کہ ریسرچ کر سکتی تھی۔۔10 سال کے عرصے میں 5000 پی ایچ ڈی اسکالر پاکستان میں پڑھ کر واپس آئے۔ پاکستان کے قیام کے آغاز کے بعد سے 55 سال کے ساتھ اس کا موازنہ کرتے ہیں، 55 سال میں پاکستان نے کل ملا کر 3500 پی ایچ ڈی پیدا کیے تھے۔ ایچ ای سی کی مرہون منّت یہ تعداد کچھ ہی سالوں میں دو گنا ہو گئی۔۔ یہ لوگ اب ہماری جامعات کے ساتھ پچھلے 5-6 سالوں سے کام کر رہے ہیں۔۔ ظاہر ہے جب پی ایچ ڈی اب آنا شروع ہوئے ہیں تو یک دم ریسرچ پیدا نہیں کی جا سکتی اس میں وقت لگتا ہے۔ جی ہاں پاکستان کی جامعات کو اپنی ریسرچ بہتر بنانے کی اشد ضرورت ہے لیکن اب آپ ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر یہ تبصرہ فرما دیں کہ ان کا تو کوئی حال ہی نہیں، یہ بھی زیادتی کی بات ہے۔

اب ذرا بجٹ پر بات ہو جائے۔ آپ کا فرمانا ہے کہ کارنامہ تو یہی ہے کم پیسوں میں جامعات کو چلا کر دکھایا جائے۔ آپ خیر سے پاکستان کے سب سے بڑے میڈیا نیٹ ورک سے وابستہ ہیں۔ مجھے پتا تو نہیں لیکن اندازہ ہے۔ (جیسے کہ آپ کو ہے) ہے کہ آپ کی تنخواہ لاکھوں میں ہو گی۔ جس دن آپ کو کوئی اس سے دو گنا دے گا آپ ادھر چلے جائیں گے (بول کا کیس تو سب کو یاد ہو گا) اسی طرح پاکستان میں جامعات کے پاس اتنا بجٹ نہیں ہے کہ وہ اپنے پی ایچ ڈی اساتذہ کو بہت زیادہ پیسے دے سکیں۔ ان استادوں کو جب دبئی یا سعودیہ سے لاکھوں کی ٹیکس فری تنخواہ کی آفر آتی ہے تو یہ وہاں چلے جاتے ہیں۔ جہاں تک ٹینور ٹریک کی بات ہے تو دوبارہ عرض ہے کہ ٹریک والے استاد کی تنخواہ ایک لاکھ تیس ہزار ہے۔۔ پی ایچ ڈی کے مقالے کے لئے 50 ہزار ہر سال نہیں بلکہ پورے پی ایچ ڈی کے لئے دیے جاتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ 50 ہزار مجھے 4-5 سال کے پورے عرصے کے لئے ملیں گے، اگر میں پی ایچ ڈی کے مقالوں کی نگراں بنتی ہوں تو۔ اس سے آپ کو یہ بات تو سمجھ آگئی ہو گی کہ استاد ہرگز لاکھوں میں نہیں کھیل رہے۔ ہمارے بہت سارے طالب علم گریجویٹ کر کے ہم سے زیادہ پیسے کما لیتے ہیں۔ تو اگر آپ کا خیال ہے کہ استاد کم ریسورسز میں پڑھا نہیں رہے تو انتہائی غلط خیال ہے۔

آپ کی اس بات سے بلکل اتفاق ہے کے پی ایچ ڈی کا جو معیار یہاں پیدا ہونا چاہیے وہ نہیں ہو رہا۔ اس بات سے بھی اتفاق ہے کہ دھڑا دھڑ جامعات کھولنے کے بجائے موجودہ جامعات کی حالت زار بہتر بنائی جائے۔ لیکن جناب اس عمل میں وقت لگتا ہے۔ جس طرح میڈیا کو پاکستان میں آزاد ہوئے ابھی صرف 15 سال ہوئے ہیں اور ہم یہ توقع نہیں کر سکتے کہ وہ بی بی سی جیسی رپورٹنگ کرنا سیکھ لے ویسے ہی آپ بھی یہ توقع نہ رکھیں کہ 20 سال پرانی جامعات ہارورڈ سے ٹکّر لے لیں۔ تنقید ضرور کریں آپ کو حق حاصل ہے لیکن تنقید سے پہلے ریسرچ کرنا لازم ہے۔ جس طرح پیسوں کی ریل پیل کی وجہ سے صحافت کا حال برا ہے اسی طرح تعلیم کا شعبہ بھی مشکلات کا شکار ہے۔ لیکن جس طرح آپ، وسعت اللہ خان اور وجاہت مسعود جیسے لوگ دن رات اس کی بہتری کی کوشش میں لگے ہیں اسی طرح یقین رکھیے کہ ہماری جامعات میں بھی ایسے اساتذہ کی کوئی کمی نہیں ہے جو کم وسائل اور نامساعد حالات کے باوجود اپنی بہترین کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “یاسر پیرزادہ کی تنقید کے جواب میں

  • 27-05-2016 at 7:37 pm
    Permalink

    میرے خیال میں یاسر پیرزادہ کے کالم میں ایک ہی غلطی ہے اور وہ یہ کے انہوں نے امپیکٹ فیکٹر جرنلز کی تعداد غلط بتائی ہے۔ گوجرانوالہ سے منسوب کرنے کی وجہ شاید یہ ہو کہ یاسر پیرزاہ خوش خوراک کشمیری ہیں اور گوجرانوالہ ماکولات کے باب میں شہرت رکھتا ہے۔

    چندی گڑھ کی پنجاب یونیورسٹی ٹائمز ہائیر ایجوکیشن رینکنگ کے مطابق ایشیا میںحقیقتا“ اڑتیسویں نمبر پر ہے۔ اس تبصرے کے آخر میں ویب پیچ کا لنک لکھ رہا ہوں۔ خود دیکھ لیجیے کہ یہ سچ ہے یا نہیں۔

    تحقیق کے حوالے سے اساتذہ اور طلبا کا رویہ بھی کم و بیش ویسا ہی ہے جیسا یاسر پیرزادہ نے لکھا ہے۔ اساتذہ کرام کو (مستثنیات سے معذرت) بنیادی لالج یہی ہوتا ہے کہ انہیں اپنے ریسرچ پراجیکٹ کے لیے ایک مفت کا مزدور مل جائے گا اور طلبا کے پیش نظر تحقیق نہیں بلکہ ڈاکٹر کا سابقہ اور مبلغ دس ہزار روپے پی ایچ ڈی الاؤنس ہوتا ہے۔ دونوں کی خواہشات بہرحال کسی نہ کسی حد تک فطری ہیں۔لیکن خرابی یہ ہے کہ منفعت سے جڑی اس تحقیق کی وجہ سے اساتذہ تدریس کے کام سے قریب قریب لاتعلق ہو چکے ہیں۔ گریجوایشن اور پوسٹ گریجوایشن کے دوران ہمارے اکثر اساتذہ کبھی پڑھانے کی غرض سے کلاس میں تشریف ہی نہیں لاتے تھے۔یہ کام ان کے پی ایچ ڈی کررہے شاگردوں کے ذمے ہوتا تھا۔

    شومئ قسمت سے میں بھی ایک پاکستانی یونیورسٹی سے انجنئیرنگ میں پی ایچ ڈی کر رہا ہوں۔ یا یوں کہیے کہ کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ پاکستانی جامعات کا اصل مسئلہ سوچ کا غلط انداز ہے۔ تحقیق کے معیار سے زیادہ زور “لش پش“ پر ہوتا ہے۔ معاصرانہ چشمک اپنے عروج پر ہے اور ایک پروفیسر اچھا کام کررہا ہوتو دیگر خواتین و حضرات مین میخ نکالنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ باہر سے پڑھ کر آنے والے بھی اس سے مستثنٰی نہیں۔ بلکہ ان کے رویوں میں چوہدری حشمت زیادہ واضح طریقے سے نظر آتا ہے۔ فارن کوالیفائیڈ پروفیسر حضرات اپنی توانائیوں کا ایک قابل ذکر حصہ طلبا کو یہ باور کروانے میں صرف کرتے ہیں کہ وہ نہایت کند ذہن، گاؤدی اور کوڑھ مغز واقع ہوئے ہیں۔ جب طالب علم اس بات کو تسلیم کر چکتا ہے تو اس سے یہ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ اب “کوالٹی ریسرچ ورک“ لے کرآؤ۔ہمارے فارن کوالیفائیڈ لوگوں کا المیہ یہ ہے کہ یہ یورپ اور امریکہ سے سب کچھ سیکھ کر آتے ہیں سوائے ان کی وسعت نظری اور وسیع القلبی کے۔ پروٹوکول کی بدعت اب بابوؤں کے اداروں سے ہوتی ہوئی جامعات تک بھی پہنچ چکی ہے۔

    میڈم زنیرہ اور یاسر صاحب دونوں نے جس اہم بات کو نظرانداز کیا ہے وہ یہ ہے کہ پاکستان سے پی ایچ ڈی کرنا سراسر خسارے کا سودا ہے۔ فنی اور انتظامی وجوہات کی بنیاد پر پاکستان سے پی ایچ ڈی کرنے میں کسی دوسرے ملک کی نسبت دو یا تین سال زیادہ درکار ہوتے ہیں۔ ہر سپروائزر اپنے طلبا پر اپنی مرضی کا ریسرج پراجیکٹ ٹھونسنا چاہتا ہے۔ اساتذہ کرام کے باہمی مناقشات طالب علم کے راستے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ آپ خواہ کسی اچھوتے موضوع پر کتنی ہی اچھی ریسرچ کیوں نہ کرلیں، آپ کے سپر وائزر کے حریف اساتذہ پوری کوشش کریں گے کہ آپ کو ہر مرحلے پر پل صراط سے گذارا جائے۔ کمپری ہینسو امتحان سے لے کر تھیسز کے دفاع تک آپ کو ذہنی طور پر اتنا زچ کیا جائے گا کہ آپ کانوں کو ہاتھ لگا لیں۔ جب آپ یہ سب کر چکیں گے تو آپ کی پیشانی پر ٹھپہ لگادیا جائے گا کہ آپ کی پی ایچ ڈی پاکستان سے ہے۔ اس کے بعد امتیازی سلوک کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوگا کہ آپ جہاں کہیں کسی ملازمت کے لیے درخواست گذاریں، فارن کوالیفائیڈ لوگوں کو آپ پر ترجیح دی جائے گی کیونکہ ملازمت کے اشتہار ہی میں اس بات کی تصریح کردی گئی ہوتی ہے کہ فارن کوالیفیکیشن کو ترجیح دی جائے گی۔

    ان اسباب کی بنا پر ہر پی ایچ ڈی کرنے کا خواہاں ہر طالب علم بیرون ملک سے پی ایچ ڈی کرنا چاہتا ہے۔ لہٰذا پاکستانی یونیورسٹیوں کو پی ایچ ڈی کے ایسے طالب علم ملتے ہیں جنہیں یا تو بیرون ملک داخلہ یا سکالرشپ نہیں ملتا یا پھر وہ اپنی ملازمت یا گھریلو مجبوریوں کی بنا پر بیرون ملک نہیں جا پاتے اور محض اس غرض سے کسی پاکستانی یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کروا لیتے ہیں کہ چلو کچھ نہ ہونے سے کچھ ہونا بہتر ہے۔ کم ازکم کمپیٹیشن میں رہیں گے۔

    لہٰذا تحقیق کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ یونیورسٹیاں انتظامی اڑچنیں دور کریں۔ ڈائریکٹوریٹ آف ریسرچ اور ڈائریکٹوریٹ آف ایڈوانسڈ سٹڈیز کوان کے اصل کام پر لگائیں۔ ریسرچ کے لیے مطلوب سازوسامان مہیا کرنے کے لیے غیر ضروری اخراجات پر روک لگائیں۔ گملوں کو رنگ کرنے، واش رومز کی کنڈیاں بدلنے، سبز نمبر پلیٹ والی گاڑیاں خریدنے، زائد از ضرورت عمارات تعمیر کرنے اور مقامی سیاستدانوں کے زیر صدارت خوامخواہ کی تقریبات منعقد کرنے سے زیادہ اہم یہ ہے کہ لیبارٹریوں میں ضرروی سامان اور کمپیوٹرز میں ریسرچ کے لیے لازم سافٹ وئیرز موجود ہوں۔

    لیکن یہ سب کرنے کے لیے ایسے وائس چانسلرز چاہییں جو یاسر صاحب کے الفاظ میں گیان بانٹنا چاہتے ہوں اور ضلع کی انتظامیہ اور سیاستدانوں سے تعلق پالنے کے زیادہ شوقین نہ ہوں۔

    ہے کوئی رجل رشید؟

    https://www.timeshighereducation.com/world-university-rankings/2015/regional-ranking#!/page/1/length/25/sort_by/rank_label/sort_order/asc/cols/rank_only

Comments are closed.