آہ ملا اختر منصور۔۔۔ ہوئے مر کے ہم جو رُسوا


ali arqamمُلّا منصور کی موت پر پاکستان اپنے ابتدائی صدمے یا حیرانی کی کیفیت سے باہر آگیا ہے اور سرحدوں کی خلاف ورزی اور اچھا پھر نہ کرنا کی تاکید کے ساتھ معاملات معمول پر آنے لگے ہیں۔ پاکستان میں اس پورے معاملے پر پائی جانے والی حیرت کی بات دلچسپ ضرور ہے لیکن ناقابل تفیم ہرگز نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی بلوچستان کے اضلاع میں طالبان قیادت کے افراد قتل ہوتے رہے ہیں فرق یہ تھا کہ انہیں ڈرون کے بجائے نامعلوم افراد نشانہ بناتے تھے اور امکان یہ ظاہر کیا جاتا تھا کہ شاید افغان انٹیلی جنس انہیں قتل کروا رہی ہے، اسلام آباد کے نواحی علاقے بارہ کہو میں حقّانی خاندان کے نصیرالدین حقّانی کا قتل بھی اسی سلسلے کی کڑی گردانا گیا تھا۔ اس بار امریکی فوج کا ایک براہ راست کارروائی کے ذریعے سے مُلّا منصور کو قتل کروانا بہر حال کسی حد تک پاکستانی پالیسی سازوں کے لئے اپنے اندر حیرت و استعجاب کا سامان رکھتا ہے۔ بالخُصوص جب امریکہ طالبان کو افغان گورنمنٹ کا سیاسی حریف قرار دے کر مذاکراتی عمل کی طرف لانے میں کوشاں بھی رہا ہے ۔ایسے میں ملّامنصور کی ہلاکت بدلتی حقیقتوں کا اشارہ ضرور ہے۔ خاص کر جب افغان حکومت سابق جہادی لیڈر اور حزب اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمت یار کے ساتھ معاہدہ کرنے میں بھی کامیاب ہوئی ہے تو اس تناظر میں تبدیلیاں آنا ناگزیر بھی ہے۔

پاکستان میں رسمی طور پر اس واقعے میں منصور کے مارے جانے کی تصدیق کا انتظار کرنے کے بجائے طالبان نے روحانی قوّت کے بل بوتے پر چلنے والے اسکائپ اور واٹز اپ کے ذریعے سے صلاح و مشورہ کےبعد نئے امیر کے نام کا اعلان کردیا ہے۔ جسے بلوچستان میں زراعت سے وابستہ ہمارے ایک دوست نے نئے آڑھتی یعنی کمیشن ایجنٹ کا تقرر قراردیا ہے ۔ کیوں کہ کوئٹہ و اطراف میں مقیم رہنے والی طالبان قیادت و شورٰی یا ان کے معتمدین پاک افغان سرحد پر ہونے والی رسمی اور غیر رسمی تجارت، لین دین کے امور میں ضمانتی اور تنازعات کی صورت میں مصالحت کار کا کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ بسا اوقات طالبان کی شورٰی اور امیر کے فرائض منصبی میں افیون کی کاشت میں مالی معاونت کا نظام مرتّب کرنے، پیداوار کی فروخت میں معاونت یعنی آڑھت اور باہمی معاملات اور لین دین کے تنازعات میں مصالحتی کرواناسرفہرست ہوتا ہے۔ اس لئے جب بھی معاملات علاقائی سطح پر طے نہ پائیں تو اسے طالبان کی شیڈو امارت کے گرمائی دارلخلافہ کوئٹہ اور اس کے مُلحقہ اضلاع میں مقیم طالبان قیادت کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔

نقل وحمل اور ترسیل کے معاملات کے لئے کراچی میں مسلسل آمدورفت بھی ایک معمول ہے جو کہ سرمائی دارالخلافے کا کردار بھی ادا کرتا ہے اور علاج و معالجے کے لئے بھی اس کے ہسپتالوں کو فوقیت دی جاتی ہے۔ اسی لئے طالبان کے سابقہ امیر اور حقیقی سے زیادہ ایک افسانوی کردار کے طور پر جانے جانے والے مُلّا عمر بھی تسلسل کے ساتھ کراچی آتے رہے اور دوران علاج ان کی موت بھی کراچی ہی کے ایک ہسپتال میں ہوئی۔ پھر ایمبولینس سروسز فراہم کرنے والے ادارے بھی کوئٹہ اور کراچی کے بیچ سفر کرتے رہتے ہیں۔ پھر کراچی کی بندرگاہ پاکستان افغانستان ٹرانزٹ ٹریڈ ایگریمینٹ کے تحت ہونے والی تجارتی سرگرمیوں اور ٹرانسپورٹیشن کا بھی محور ہے اس لئے اس ایگریمینٹ کے تحت مختلف اشیاء جیسے چائے کی پتّی، تمباکو، گاڑیوں کے پارٹس، غذائی اجناس، ادویات اور دیگراشیاء جیسے الیکٹرانک آئٹمز کی تجارت اور بھاری اسمگلنگ سےجُڑے فوائد ،کسٹم ڈیوٹیز اور اس حوالے سے رکھی جانے والی بے قاعدگیوں سے بھاری آمدنی کے اہم فریق سیکیورٹی کے ذمّہ دار اداروں کے ساتھ ساتھ طالبان کے قریب سمجھے جانے والے کاروباری افراد یا گروہ ہی ہوتے ہیں۔ اسی لئے وہ تمام علاقے جو اس پورے دھندے کی گزرگاہوں یا عارضی منازل کا کردار اداکرتے ہیں وہاں عموماً سیکیورٹی اداروں کی گرفت کافی مضبوط ہوتی ہے تاکہ ان معاملات کو کسی قسم کی مداخلت سے محفوظ رکھا جا سکے۔

پھر اس غیر رسمی (انفارمل) یعنی کسی آفیشل ریکارڈ سے اوجھل تجارت کی دوسری گزرگاہ پاکستان اور ایران میں شامل بلوچ علاقوں کی درمیانی سرحد بھی ہے، تفصیلات کے متلاشی احباب اگر اعداد و شمار دیکھیں گے تو انہیں معلوم ہوگا کہ پاکستان کی طرف مند کا علاقہ اور ایرانی علاقے تافتان کی سرحد اسمگلنگ کا ایک اہم پوائنٹ ہے جس کے ذریعے اگر ایرانی پٹرول و ڈیزل، ادویات وغیرہ یہاں آتا ہے تو غذائی اجناس اور گوشت کی خاطر جانور اور دیگر اشیاء ایران بھی اسمگل ہوتی ہے۔اس لئے اس گزرگاہ سے جڑے مالی فوائد کو نظر انداز کرنا کوئٹہ میں موجود شیڈو امارت کے لئے بہر طور ممکن نہیں ہوگا۔، جس سے مُلا منصور کی اس طرف آمدورفت کو سمجھا جا سکتا ہے۔ اچنبھے کی بات یہ ہے کہ مُلّا منصور کے کراچی میں موجود فلیٹ کے پڑوسی کہتے ہیں کہ جب مُلا منصور وہاں آتے تو ان کے پاس ایس یو وی ہوتی اور ساتھ میں مسلّح گارڈز بھی ہوتے تھے تو پھر یہ بندوبست اس وقت کیوں نہیں تھا جب وہ ڈرون حملے کا نشانہ بنے۔ تو بعض دوستوں کے نزدیک اس کی بڑی وجہ بلوچستان کی صورت حال بھی ہے کیوں کہ بلوچ اکثریت کے اضلاع میں اس انداز کی آمدورفت کو محسوس کئے جانے اور نظر میں آنے کے خدشات تھے اس لئے کسی ہائی پروفائل شخص کے طور پر جب بالخصوص آپ کے پاس فرضی نام و پتے کا شناختی کارڈ ہو ، اس طرح کا سفر شاید محفوظ نہ قرار پاتا۔

اس حوالے سے مُلا منصور کی ایران آمدورفت کو پاکستان میں طالبان اور جہادیوں کے حمایتی گروہوں کی لفاظی اور مذہبی و نظریاتی تقسیم کے تناظر میں دیکھا جائے تو معاملہ لاینحل ٹہرتا ہے۔ بلکہ ان گروہوں کی پیش کردہ تاویلات مضحکہ خیز سنائی دیتی ہیں ۔ لیکن منصور، اس کے رفقاء اور ان کے ہینڈلرز شاید اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ تجارتی فوائد اور مالی مفادات سامنے ہوں تو کسی قسم کی تفریق و تقسیم سامنے ٹک نہیں پاتی، وہ حضرت اقبال فرماتے ہیں نہ کہ ’نہ تورانی رہے باقی نہ ایرانی نہ افغانی’ تو سب مالی مفادات کے ذیل میں اسی پر کاربند ہیں مردہائے مومنین۔ پھر جب تک خراسان سے سیاہ اور سفید جھنڈے لئے لشکر برآمد نہ ہوں اور طاغوتی قوتوں کے خلاف طبل جنگ نہ بجے، لشکر کشی کا حکم عام صادر نہ ہو، تجارت سے اور اسمگلنگ سے چند سکے کما لینے میں کیا حرج ہے، اور ویسے بھی نتائج کا کیا ہے نیت درست ہونی چاہئے۔ ہاں اور غدّاروں کی سرکوبی وہ تو ہے ہی پہلی ترجیح!

 


Comments

FB Login Required - comments