پانی مر رہا ہے


آکسفورڈ کے ڈاکٹر فیصل بتا رہے تھے کہ نیورالوجی کی اپنی ایک دنیا ہے۔ کچھ مریض ایسے ہوتے ہیں کہ بینائی کھونے کے باوجود ضد کرتے ہیں کہ انہیں صاف دکھائی دے رہا ہے۔ ایسے میں کبھی کبھار ڈاکٹر، ان کے تیقن کی بنیاد پہ انہیں واپس جانے کی اجازت بھی دے دیتا ہے مگر جونہی وہ کسی دیوار سے ٹکرا کر گرتے ہیں تو انہیں اندازہ ہوتا ہے کہ ہسپتال کی دیوار، ذہن میں اٹھی دیوار سے زیادہ مضبوط ہے۔

مریضوں کی ایک قسم ایسی بھی ہے جن کی یادداشت کا سلسلہ، ایک واقعے سے آگے نہیں بڑھتا۔ انہیں اس منظر کے بعد کچھ یاد نہیں، البتہ یہ منظر، اپنی تمام جزئیات کے ساتھ، ذہن کے کینوس پہ صاف صاف نقش ہوتا ہے۔

بہت برس ہوتے ہیں جب ہمارے گھر، گرمیوں میں دوپہر کو سونے کی سخت پابندی تھی۔ ابا دفتر سے آتے، موٹر سائیکل، کھمبے اور چاچا رفیق کے دروازے کے درمیان بن چکی سایہ دار جگہ پہ کھڑا کرتے اور کھانا کھا کر کچھ دیر سستاتے۔ پورے چوبیس گھنٹوں میں یہی وہ وقت ہوتا جب دادی، مجھ سے زیادہ، ابا کی سگی ہو جاتی۔ اپنے محنت کش بیٹے کی نیند، اسے ہر قسم کے سچ اور ہرطرح کی عبادت سے بے نیاز کر دیتی۔ جب تک ابا سوتے، دادی ایک طرف بیٹھ کر تسبیح گیڑتی اور کسی کو شور نہ کرنے دیتی۔ ایسے موقعوں پہ جب میں دادی سے کہانی کی ضد کرتا تو کچھ دیر نظر اندز کرنے کے بعد وہ تنبیہہ کرتی۔
”نا کاکا۔ شکر دوپہرے کہانیاں نئیں سنی دیاں۔ سفر پیاں دے پینڈے کھوٹے ہو جاندے نیں۔ “ (دوپہر کو کہانیاں نہیں سنا کرتے، مسافر اپنا رستہ بھول جاتے ہیں۔)

یہ منظر، ذہن کے کینوس پہ ایسے صاف صاف نقش ہے کہ کئی سال گزرنے کے باوجود، اب بھی کبھی کبھار ائیر کنڈیشنر کی مخصوص یخ بستہ خوشبو، دوپہر کے کھانے کی باقی رہ جانے والی مشک سے مل کر حواس پہ حملہ آور ہوتی ہے۔ شاید اسی کا نام
olfactory hallucination
ہے۔

ہجرت کرنے والوں کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ وہ ہر وقت تقابل کی کیفیت میں رہتے ہیں۔ یہاں کی سڑکیں اچھی ہیں، مگر وہاں کے پھل ذائقہ دار ہیں، یہاں قانون کی حکمرانی ہے، مگر وہاں من چاہا کرنے کی آزادی ہے، یہاں دلیل کا سلسلہ ہے، مگر وہاں دادی کی کہانیاں تھی۔ اور کہانیاں بھی وہ، جنہیں بے وقت سننے پہ مسافر راستہ بھول جاتے تھے۔

آمنہ مفتی کی نئی کتاب، دوپہر کی وہی پرانی کہانی ہے۔
سر ورق، ممتاز حسین کی اس گفتگو سے مستعار لیا گیا ہے جو وہ نہیں کرتے۔ اب پانی کی نیلاہٹ اور زندگی کی کائی، اندھیرے سے اجالے کی طرف سفر کر رہی ہے یا روشنی سے تاریکی کو لوٹ رہی ہے، ہر آنکھ اپنا اپنا جواب تلاشنے پہ قادر ہے۔

رہی بات ناول کی تو ایسا ہے کہ پچھلے چند مہینوں میں پلوں کے نیچے بہت سا پانی بہہ گیا ہے۔
چناؤ کی مارا مار مہم، جمہوریت کے حق میں ایک جماعت کے دلائل اور کرپشن کے خلاف دوسری تحریک کا غصہ یاد آتا ہے تو ناول کا پہلا صفحہ کھل جاتا ہے۔

”سڑک ویران تھی کیونکہ اس طرف والے سارے کلوں میں پنیری لگ چکی تھی۔ نہری پانی کے کھالوں کے کنارے، ٹٹیر اور بگلے اپنی لمبی لمبی ٹانگیں جھلاتے پھر رہے تھے، جن میں بہتی ننھی منی مچھلیاں من و سلوی کی صورت ان کا بھوجن بننے کو چلی آئی تھیں۔ “

عقیدے کا استحقاق جب آئینی ترمیم، ختم نبوت کی حرمت، خادم حسین رضوی کے جلوس اور عاطف میاں کے کھیل جیسی چار گھر کی گوٹ پھر لیتا ہے تو دانے کا چھ یوں سامنے آتا ہے
”مجھے معلوم ہو گیا ہے کہ وہ تمام لوگ جو عام انسانوں سے مختلف ہوتے ہیں۔ ان سے دور رہنا چاہیے اور ممکن ہو تو انہیں مار دینا چاہیےِ، جیسے سب دنیا کرتی ہے۔ ہم نے پڑھا تھا پرانے رومن، ایبنارمل بچوں کو مار دیا کرتے تھے۔ “

ففتھ جنریشن وارفئیر کی حکمت سے بھرے، آئت کریمہ کے سلسلوں کی مانند، آگے ہی آگے، سفر کرتے پیغامات، نوجوان شہیدوں کی باوردی تصویریں اور رجمنٹل تاریخوں کے انبساط میں ڈوبے، واٹس ایپ گروپس جب قرمزی روشنی کی صورت نئے پیغام ملنے کا مژدہ سناتے ہیں تو کتاب، اپنی تین چوتھائی ان جملوں میں مکمل کرتی ہے۔

”بحث زوروں پہ تھی، سرحد پہ جنگ تلی کھڑی تھی اور اس بار ہندوستان پانی بند کرنے کی دھمکی دے رہا تھا۔ بھاری گالوں اور گھنی مونچھوں والے جرنیل چہرہ سرخ کیے انگلی لہرا لہرا کر بتا رہے تھے کہ بس نوے سیکنڈ کے اندر وہ ہندوستان کو صفحہ ہستی سے مٹا سکتے ہیں۔ فوج ہوتی ہےِ اگر آپ کی اپنی نہیں، تو ہمسایہ ملک کی ہوتی ہے، فیصلہ آپ کا ہے، اپنی فوج یا ہمسایہ ملک کی۔“

قاضی صاحب کا چندہ، ایک دن کی تنخواہ، شاہد خان کے ڈالر اور پراسرار مقامات پہ بننے والے پر امید ذخیروں کا شور جب دنیا بھر میں پانی پہ مچی ہاہا کار سے اونچا سنائی دیتا ہے تو ناول کا انتم سنسنکار ان کڑکڑاتی لکڑیوں جیسے جملوں پہ ہوجاتا ہے۔
”اندر ہی اندر سب منتظر ہیں کہ ایک دن یہ سب ٹھیک ہو جائے گا، پانی لوٹ آئے گا۔ اسرار اور نازنین نے اپنے منہ سی لئے اور کسی کو بھی نہیں بتایا کہ پانی مر رہا ہے“

ڈاکٹر فیصل کا کہنا تھا کہ
Anterograde Amnesia
میں ایک مخصوص واقعے کے بعد کے منظر یادداشت کا حصہ نہیں بنتے۔ شناسا چہرے اجنبی ہو جاتے ہیں اور دھندلائے نین نقش، صاف دکھائی دیتے ہیں۔

رات گہری ہو رہی تھی اور ننھے داور نے اگلے دن سکول جانا تھا۔ اجازت لیتے لیتے میں نے کئی بار سوچا کہ دوپہر کی کہانی اور راستہ بھولتے مسافروں کی پہیلی فیصل سے بھی پوچھوں۔ ذہن کی پیچیدہ غلام گردشوں میں تحیر سے وقت گزارنے والے اس معنک مسیحا سے پوچھوں کہ انسان جانتے بوجھتے کیوں بھٹکتا ہے، جنگ کیوں کرتا ہے، اپنے علاوہ سب کو غیرضروری کیونکر سمجھتا ہے۔ مگر عجلت اور تکلف نے سوال کے سب امکان رد کر دیے۔ پھر جیسے پرانے وقتوں میں گلستان بوستان سے فال نکلتے تھے، ایسے ہی جواب بھی مل ہی گیا۔

”جنگ انسان کی پسپائی ہے۔ جب اس کے اعصاب پہ فطرت کو برباد کرنے کا احساس جرم حاوی آ جاتا ہے تو وہ اپنی نوع کو ختم کرنے نکل پڑتا ہے۔ اصل میں انسان ازل سے ہی خود کو تباہ کرنا چاہتا ہے۔ اور جانتی ہو بار بار تباہ کر چکا ہے“۔
یہ کہانی سننا اس لئے بھی تو ضروری ہے کہ عقلمند آدمی، کبھی سانپ کی لکیر اور دریا کے راستے پہ پیر نہیں رکھتا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں