امریکی عوام کے نام امریکی ادیبوں کا کُھلا خط


asif-farrukhi_1اسے معاشروں کا فرق کہہ لیجیے۔ امریکا میں ایسا بہت کم ہوتا ہے۔ اپنی انفرادی حیثیت میں ادیب کی مان جان تو ہوتی رہتی ہے اور وہ اس کے ذریعے سے کمرشل فائدے بھی حاصل کرسکتا ہے جن پر اس کی بقا کا دارومدار ہے۔ لیکن بہت عرصے کے بعد دیکھنے میں آیا ہے کہ ادیب یک زبان ہو کر بول اٹھے ہیں۔ انھوں نے ادیب کی حیثیت سے اجتماعی آواز اٹھائی ہے۔

تقریباً چار سو ادیبوں کے دستخط کے ساتھ ایک آن لائن دستاویز 24 مئی 2016ء کو جاری کی گئی ہے جس میں امریکی صدارت کے لیے ری پبلکن پارٹی کے متوقع امیدوار ڈونلڈٹرمپ کی مخالفت کی گئی ہے اس لیے کہ وہ امریکی معاشرے کے پست ترین اور تاریک عناصر کو یک جہتی کے لیے پکار رہا ہے۔

اس دستاویز پر چھوٹے بڑے ادیبوں نے ایک ساتھ دستخط کیے ہیں جن میں مشہور ناموں کے ساتھ نسبتاً کم معروف نام بھی شامل ہیں۔ اس دستاویز کو اینڈریو آلٹسشول Andrau Altschul اور مارک سلاؤکا Mark Slouka نے مرتّب کیا ہے۔ خیال یہ ہے کہ ابھی اس محضر پر اپنا نام درج کرنے والوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوگا۔

یہ دستاویز امریکی ادیبوں کی طرف سے اپنی قوم کو بحران کے لمحے میں ہمّت اور حوصلہ دینے کی کوشش ہے اور خبردار کرنے کی کاوش کہ اس راہ پر آگے نہ بڑھنا! استقامت اور یک جہتی کا ایسا اظہار کم دیکھنے میں آیا ہے۔ اس کھلے خط کا انداز بھی اپنی جانب ہماری توجہ مبذول کراتا ہے۔ اس میں فریقِ مخالف کو بُرا کہا گیا ہے اور نہ اپنے کو حق بجانب ثابت کرنے کے لیے زمین آسمان کے قلابے ملائے گئے ہیں۔ بہت دھیمے طریقے سے مگر بڑی قطعیت کے ساتھ زبان کے استحصال سے خبردار کیا گیا ہے اور یہ کہ اس سے طاقت کی خرابی جنم لیتی ہے۔ اس کے بعد جمہوریت کے اہم عناصر کو دہرایا گیا ہے تاکہ یہ سبق کوئی بھلائے بھی نہ بھول سکے۔

امریکی تاریخ کے تاریک گوشوں کو نظر انداز کرنے یا ان پر ریشمی الفاظ کا پردہ ڈالنے کے بجائے ان کو قبول کرتے ہوئے بات کی گئی ہے اور تاریخ کے مُثبت پہلوئوں کو اجاگر کیا گیا ہے۔ اس مختصر سی عبارت میں نہ زور خطابت ہے نہ جذباتی نعرے جو ہمارے لیے اکثر ایک سستا نُسخہ بن جاتا ہے، یہ سادگی بھی دیکھنے کے لائق ہے۔

معاشرے کے پست ترین اور اسفل عناصر کو اکٹھا کرنے والے امیدوار کو فوری اور بھرپور جواب کی ضرورت ہے، اس خط میں کہا گیا ہے۔

ادیبوں کے پاس سب سے بڑی طاقت ان کے الفاظ ہیں۔ ان الفاظ سے ڈونلڈٹرمپ کا عروج رُک سکے گا یا نہیں، یہ تو کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا لیکن ادب کی طاقت کا یہ برملا اعلان جمہوری قدروں کے زندہ و توانا ہونے کی ایسی دلیل ہے جس میں ہمارے معاشرے کے لیے بھی سبق موجود ہے۔ لیکن اگر ہم دیکھنا چاہیں، سُننا چاہیں۔

ہم کچھ بھی نہ کرنا چاہیں تب بھی یہ خط پڑھنے کے لائق ہے۔

امریکی عوام کے نام کُھلا خط

اس لیے کہ ادیب کی حیثیت سے ہم خاص طور پر واقف ہیں کہ طاقت کے نام پر کتنے بہت سے طریقوں سے زبان کا استحصال کیا جاسکتا ہے؛

اس لیے کہ ہم یقین رکھتے ہیں کہ کوئی بھی جمہوری حکومت، جو اس نام کے لائق ہو، اس کا انحصار تکثیریت اور بااصول اختلاف رائے کو خوش آمدید کہنے پر ہوتا ہے اور منطقی بحث کے ذریعے سے اتفاقِ رائے حاصل کرتی ہے؛

اس لیے کہ امریکا کی تاریخ تعصّب اور تفاخر کے وقفوں کے باوجود، ابتداء ہی سے اس بات کا شان دار تجربہ کرتی رہی ہے کہ مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو ایک دوسرے سے گتّھم گتّھا کر دینے کے بجائے ایک دوسرے کے قریب لایا جائے؛

اس لیے کہ آمریت کی تاریخ، سازش اور تقسیم، ہیجان خیزی اور جھوٹ کی تاریخ رہی ہے؛

اس لیے کہ ہم یقین رکھتے ہیں کہ معلومات، تجربہ، لچک دار روّیہ اور تاریخ سے واقفیت کی صفات ایک قومی راہ نما کے لیے ناگزیر ہیں؛

اس لیے کہ مال و دولت اور عوامی شہرت کا درجہ کسی شخص کو بھی یہ حق نہیں دیتے کہ وہ ریاست ہائے متحّدہ امریکا کی طرف سے بولنا شروع کر دے، اس کی افواج کی قیادت کرے، اس کے حلیفوں سے معاہدے قائم رکھے یا اس کے عوام کی نمائندگی کرے؛

اس لیے کہ ایسے کسی سیاسی امیدوار کا عروج، جو معاشرے کے پست ترین اور سب سے زیادہ پُرتشدّد عناصر کے لیے جان بوجھ کر توجہ حاصل کرنا چاہتا ہے، جو اپنے ماننے والوں میں تشدّد کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، مخالفین کو شور مچا کر چُپ کرا دینا چاہتا ہے، اختلاف کرنے والوں کو ڈراتا دھمکاتا ہے، عورتوں اور اقلیتوں کی ذلّت کرتا ہے، ہم میں سے ہم ایک کی جانب سے ایک فوری اور طاقت ور جواب کا طلب گار ہے؛

ان تمام وجوہات کی بناء پر ہم جن کے نام درجِ ذیل ہیں، اس بات کو اپنے ضمیر کا معاملہ سمجھتے ہوئے امریکا کی صدارت کے لیے ڈونلڈ جے ٹرمپ کے امیدوار ہونے کی پوری شدومد سے اور بغیر کسی شک شُبہ کے مخالفت کرتے ہیں۔

 


Comments

FB Login Required - comments