کیا آپ لمس کی نفسیات سے واقف ہیں؟


 

بہت سے روایتی اور مذہبی خاندانوں میں جنس کے موضوع پر تبادلہِ خیال کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے اور بعض خاندان ایسے بھی ہیں جن میں آج بھی فرائڈ اور کنزی کی کتابوں کی جگہ ’بہشتی زیور‘ کو جنس کی نفسیات کے موضوع پر ایک مستند و معتبر کتاب مانا جاتا ہے۔ شاید اسی لیے ان خاندانوں میں پلنے بڑھنے والے بچے اور نوجوان لمس کی نفسیات سے واقف نہیں ہوتے۔

جب کسی گھرانے میں کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کے ماں باپ‘ خالہ ماموں‘ چچا پوپھی‘ نانی نانا‘ دادی دادا اس سے کھیلتے ہیں اسے چھوتے ہیں اسے گلے لگاتے ہیں۔ یہ لمس شفقت کا لمس ہوتا ہے اور جن بچوں کو اس لمس کا تجربہ ہو وہ اس لمس کو پہچانتے ہیں اور بھاگے بھاگے جا کر اس شفیق رشتہ دار سے گلے ملتے ہیں۔

یہی بچے جب نوجوان ہوتے ہیں تو لڑکے لڑکوں سے اور لڑکیاں لڑکیوں سے گلے ملتے ہیں اور ایک دوسرے کو چھوتے ہیں۔ جن نوجوانوں کو اس لمس کا تجربہ ہو وہ دوستی کے لمس کو پہچانتے ہیں۔

جن نوجوانوں کی شادی ہو جاتی ہے تو پھر وہ شریکِ حیات کو چھوتے ہیں گلے لگاتے ہیں اور ہمبستری کرتے ہیں۔ جن جوانوں کو اس کا تجربہ ہو وہ رومانوی لمس کو پہچانتے ہیں۔

جو نوجوان ان تجربات سے گزرے ہوں وہ لاشعوری طور پر لمس کی نفسیات کو جانتے اور پہچانتے ہیں۔

لیکن وہ بچے اور نوجوان جو ان تجربات سے نہیں گزرتے یا جن کے جسم کو کسی نے غلط طریقے سے چھوا ہوتا ہے اور ان کا نفسیاتی یا جنسی استحصال کیا ہوتا ہے انہیں شفقت‘ محبت‘ دوستی اور ہوس کے لمس میں فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ وہ اکثر خوفزدہ رہتے ہیں اور نفسیاتی مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں۔ وہ ہر لمس کو یا محبت کا لمس یا ہوس کا لمس سمجھنے لگتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو نفسیاتی علاج کی ضرورت پڑتی ہے۔

مشرق میں لمس کے تجربات پر آج بھی سماجی‘ مذہبی اور معاشرتی پابندیاں عاید ہیں اس لیے شفقت اور محبت کا لمس بھی گھٹن اور عدمِ اعتماد کا شکار ہے۔ بعض دفعہ ایک نوجوان عورت کا اپنے بھائی یا باپ کو بھی محبت سے گلے لگانا معیوب سمجھا جاتا ہے۔ سلمان اختر کا شعر ہے

بہت سے جسموں کو چھو نہ پایا

جو بعد مدت کے گھر گیا میں

مغرب میں لمس کسی حد تک آزاد ہو چکا ہے۔ بہت سے لوگ زندگی کے بہت سے تجربات سے گزرے ہیں جن کی وجہ سے وہ لمس کی نفسیات سے بہتر واقف ہو گئے ہیں اور اب شفقت‘ محبت‘دوستی اور ہوس کے لمس کو جانتے بھی ہیں اور ان کے فرق کو پہچانتے بھی ہیں۔ اب وہ کسی شخص کو اجازت کے بغیر اپنے جسم کو چھونے نہیں دیتے۔

انسانی لمس کی نفسیات کا کسی سماج‘ معاشرے‘ مذہب اور روایت سے کتنا گہرا تعلق ہے میں اسے ایک مثال سے واضح کرنا چاہتا ہوں۔ میں پچھلے ہفتے ایک ایسی محفل میں گیا جہاں مشرقی مرد اور عورتیں بھی موجود تھے اور مغربی مرد اور عورتیں بھی۔

مشرقی مردوں نے آگے بڑھ کر مجھے گلے لگایا

مغربی مردوں نے صرف ہاتھ ملایا

مشرقی عورتوں نے یا ہاتھ ملایا یا دور سے سلام کیا

مغربی عورتوں نے آگے بڑھ کر مجھے گلے لگایا۔

مغربی عورتیں جانتی تھیں کہ وہ لمس دوستی کا لمس تھا رومانس کا نہیں۔

بعض مغربی مرد مردوں سے گلے ملتے گھبراتے ہیں۔ ان میں سے بعض HOMOPHOBIA کا شکار ہوتے ہیں۔

مشرق میں چونکہ مردوں اور عورتوں کی دوستی نایاب نہیں تو کمیاب ضرور ہے اس لیے مشرقی عورتیں مردوں سے ہاتھ ملاتے بھی کتراتی ہیں۔ دوستی تو ایک طرف بعض مشرقی گھرانوں میں لڑکیوں کو اپنے ماں باپ سے اور عورتوں کو اپنے شوہروں سے اجازت نہیں ہوتی کہ وہ اپنے ان کزنز سے بھی ہاتھ ملائیں جن کے ساتھ وہ بچپن میں کھیلی ہوتی ہیں۔ جوان ہوتے ہی ان کزنز کو علیحدہ کر دیا جاتا ہے۔

میری نگاہ میں بچوں اور نوجوانوں کو لمس کی نفسیات سمجھانے کی ضرورت ہے تا کہ وہ شفقت‘ دوستی‘ رومانس اور ہوس کے لمس میں تمیز کر سکیں۔ میں انسانی جسم کو بہت محترم سمجھتا ہوں جس کی ہمیں عزت کرنی چاہیے۔

جوں جوں ہم انسانی نفسیات سے واقف ہو رہے ہیں ہم یہ جان رہے ہیں کہ ہمیں کسی کے جسم کو اس کی مرضی کے بغیر نہیں چھونا چاہیے چاہے وہ اپنی بیوی یا شوہر کا جسم ہی کیوں نہ ہو۔ کسی کے جسم کو چھونا اعتماد اور اعتبار کی نشاندہی کرتا ہے۔ ہر انسان کو اپنے جسم پر اختیار ہے وہ صرف اس شخص کو اسے چھونے کی اجازت دیتا ہے جس پر وہ اعتبار کرتا ہے۔

ہم سب جانتے ہیں کہ انسانی رشتوں میں اعتبار اور اعتماد کو کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ جب کوئی شخص ہمیں محبت سے چھوتا ہے تو دل کی کلی کھل اٹھتی ہے اور اگر بد نیتی سے چھوتا ہے تو دل کی کلی مرجھا جاتی ہے۔ صحتمند رشتوں میں عزت ‘احترام اور محبت آپس میں گھل مل جاتے ہیں۔ محبت میں دوستی بہت اہم ہے۔ چاہے دو مرد ہوں دو عورتیں ہوں یا ایک مرد اور ایک عورت۔ ان میں مخلص دوستی ہے تو لمس محبت کی کرامات دکھاتا ہے اور جسم ریشم بن جاتا ہے اور اگر رشتوں میں بے حرمتی ہے تو جسم کیکٹس کا پودا بن جاتا ہے اور پھر لمس سے خوشبو آنے کی بجائے دل زخمی ہو جا تا ہے۔ میں ایسے میاں بیوی کو بھی جانتا ہوں جن کے بے محبت کے لمس نے ان کے جسموں کو کیکٹس بنا رکھا ہے۔

اب آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ انسانی رشتوں میں لمس کی نفسیات کی کیا اہمیت ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 145 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail