جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے


(For whome the bell tolls)
یہ الفاظ سولہویں صدی عیسوی کے ایک مشہور انگریز شاعر جان ڈن(johan donne) کے کلام میں سے ہیں۔

ان الفاظ کا پس منظر کا یہ ہے، کہ عیسائیوں میں کسی کی موت کی اطلاع کرنے کے لئے گرجے کی گھنٹی بجائی جاتی ہے۔ اس کو (funeral toll) یعنی جنازے کی گھنٹی کہا جاتا ہے۔
شاعر کہتا ہے، کہ جب گرجے کی گھنٹی بجے، تو یہ معلوم کرنے کے لئے کسی کو مت بھیجو کہ، یہ کس کے لئے بجائی جا رہی ہے۔ بلکہ یہ تو تمہارے لئے بجائی جا رہی ہے۔
اس حقیقت سے کون واقف نہیں ہو گا کہ ایک دن سب نے اس دنیا سے چلے جانا ہے۔ مگر بہت کم لوگ اپنی طرف بڑھتی ہوئی موت کے لئے پہلے سے تیار ہوتے ہیں اور دنیا چھوڑنے سے پہلے اپنی گزری ہوئی زندگی پر پوری طرح سے مطمئن ہوتے ہیں۔ ان کو کوئی ملال نہیں ہوتا، اور کوئی حسرت ان کے ساتھ دفن نہیں ہوتی۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی سے وابستہ نوجوان اور دلکش چالیس سالہ خاتون صحافی ریچل بلینڈ اس کی تازہ مثال ہیں۔ بی بی سی کے چینل فائیو پر خبروں اور دیگر پروگراموں کی میزبان ریچل کے ٹویٹر پر ہزاروں فالورز بھی ہیں۔ دو سال قبل نومبر 2016ء میں ڈاکٹروں نے ریچل کو بتایا تھا کہ انہیں چھاتی کا کینسر ہے اور ان کے پاس بہت کم وقت باقی بچا ہے۔

لیکن اس بہادر خاتون نے نہ صرف یہ کہ اپنا کام جاری رکھنے کا فیصلہ کیا، بلکہ اپنی امیدوں، خوف، اور ایک ایسی بیماری جو کہ یقینی طور پر ان کی جان کے درپے تھی، کے خلاف اپنی جدوجہد کو کامیابی سے دنیا کے سامنے پیش کیا۔ ابھی چند ماہ پہلے ہی جبکہ انہوں نے اپنے شوہر سٹیو بلینڈ کے ساتھ اپنی شادی کی پانچویں سالگرہ منائی تھی۔ تیزی سے قریب آتی ہوئی موت کا سامنا کرنا کس قدر کٹھن کام تھا۔

ایک ماہ پہلے ہی انہوں نے برطانوی اخبار ٹیلیگراف میں اپنے تین سالہ بیٹے فریڈی کے لئے لکھا۔
”اب جبکہ میرے پاس ایک سال سے بھی کم وقت باقی بچا ہے، میں اس کے لئے وہ ساری کہانیاں اور صلاح مشورے چھوڑ کر جانا چاہتی ہوں جو میں اپنی غیر موجودگی کی وجہ سے اسے نہیں دے پاؤں گی“

اور کل انہوں نے اپنی آخری ٹویٹ میں لکھا ”فرینک ایس کے الفاظ میں دوستو، مجھے افسوس ہے کہ میرا وقت آگیا ہے۔ اچانک مجھے بتایا گیا ہے کہ میرے پاس چند دن اور ہیں۔ میں آپ سب کی بے حد شکر گزار ہوں“
اس ٹویٹ کے محض دوسرے دن ہی انہوں نے داعی اجل کو لبیک کہا۔

امریکی ریپلکن سیاستدان جان مکین 1983 ء میں پہلی بارامریکی سینٹ کے رکن منتخب ہوئے۔ اس کے بعد مسلسل چھ بار جان مکین سینیٹ کے رکن منتخب ہوتے رہے۔ 2000 میں صدارتی الیکشن کے امیدوار بننے کے لئے مقابلہ کیا مگر ناکام رہے۔ 2008میں ریپبلکن پارٹی کے امیدوار بننے میں کامیاب رہے۔ مگر ڈیموکریٹ امیدوار باراک اوبامہ سے صدارتی الیکشن میں ہار گئے۔ سینیٹر جان مکین کو 2017 ء میں ڈاکٹروں نے بتایا کہ انہیں دماغ کا کینسر ہے اور وہ زیادہ دن زندہ نہیں رہ پائیں گے۔ 2018 ء میں ان پر ایک ڈاکیومینٹری فلم بنائی گئی۔ جس میں ان کے پورے سیاسی کیریئر پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ کہ کس طرح اصولوں کے مطابق سیاست کی جاتی ہے۔ اور کس طرح قومی خدمت کا جذبہ ایک سیاستدان کو اپنی ذات اور پارٹی وابستگی سے بلند کر دیتا ہے۔

انہوں نے کئی بار اپنی پارٹی کی رائے کے خلاف قانون سازی میں حصہ لیا اور صرف اور صرف عوامی مفاد کو سامنے رکھا۔ جب ایک بار باراک اوبامہ کے خلاف انتخابی مہم میں ان کی ذاتی کمزوریوں اور کردار کشی پر مبنی انتخابی مہم چلانے کا مشورہ دیا گیا، تو انہوں نے سختی سے اس تجویز کو رد کیا۔ اور کبھی اپنے مخالف کے خلاف منفی مہم نہیں چلائی۔ اس با اصول شخص نے ایسی صاف ستھری سیاسی زندگی گزاری کہ یہ دنیا چھوڑتے ہوئے اسے کوئی ملال نہیں تھا۔ 18 اگست 2018 ء سے چند دن پہلے انہوں نے اپنا علاج بند کروا دیا تھا اور81 سال کی عمر میں اطمینان سے اس دنیا سے رخصت ہوئے۔

”ہیلو!
میں آرٹ بک والڈ ہوں، اور میں ابھی ابھی فوت ہوا ہوں“

یہ الفاظ مشہور امریکی کالم نگار آرٹ بک والڈ کے ہیں۔ اور یہ کالم ان کی موت کے دوسرے دن اخبارات میں شائع ہوا۔ آرٹ بک والڈ کی زندگی جہد مسلسل سے عبارت تھی۔ مختلف کام کیے مگر ناکام رہے۔ 1970ء کی دہائی میں ایک کالم نگار کے طور پر پہچان بننے لگی۔ سیاست اور سماجی مسائل پر طنزیہ انداز میں ایسے لکھتے کہ قاری زیرلب مسکرائے بغیر نہ رہتا۔ تحریر مختصر مگر پر اثر ہوتی۔ ان کے کالم بیک وقت دنیا بھر کے 600 سے زائد اخباروں میں شائع ہوتے۔ یہ ان اخبارات سے ہونے والی آمدنی کا چوتھا حصہ فلاحی کاموں پر صرف کر دیتے تھے۔ جس میں ضرورت مند طالب علموں کی تعلیم کے لئے امداد، بیماروں کا علاج، بے گھر افراد کے لئے گھر، اور دیگر فلاحی کام شامل تھے۔ پوری زندگی حق سچ اور مظلوموں کی آواز بنے۔ شگفتہ مزاجی مرتے دم تک برقرار رکھی اور ایک مطئمن اور با مقصد زندگی گزار کر18 جنوری 2007 کو راہی ملک عدم ہوئے۔

انسان ان جیسے لوگوں کے حالات پڑھ کر سوچتا ضرور ہے، کہ اس طرح مطمئن اور بغیر کسی ملال کے زندگی کو الوداع کہنا کیسے آسان ہوتا ہو گا؟
اس سوال کا جواب بہت آسان ہے۔ جب ساری زندگی ایسے کام نہ کیے جائیں جو آپ کے ضمیر پر بوجھ ہوں۔ تو اسی طرح سے زندگی کی گاڑی سے اتر کر مسکراتے ہوئے موت سے مصافحہ کیا جا سکتا ہے۔ لیکن کیا یہ بات ہمارے ملک کے سیاستدانوں، بیوروکریٹس، ججوں، جرنیلوں، صحافیوں، تاجروں اور دیگر صاحبان اقتدار و اختیار کو بھی سمجھائی جا سکتی ہے جو دن رات جائز و ناجائر طریقوں سے دولت کے انبار جمع کرنے میں لگے رہتے ہیں۔

آخر ایک انسان کو زندگی گزارنے کے لئے کتنی دولت چاہیے ہوتی ہے۔ اور کتنی دولت وہ ساتھ لے جا پائیں گے۔ جس کے حصول کے لئے وہ دن رات ایک کر کے ہر جائز و ناجائز حربہ اختیار کرتے ہیں۔ دوسروں کا حق کھاتے ہیں۔ اپنے سے کمزوروں پر جورو ستم روا رکھتے ہیں ہم کیوں ہر وقت گھنٹی کی آواز کے لئے تیار نہیں رہتے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں