باراک اوباما کا جاپانی شہر ہیروشیما کا تاریخی دورہ


amrica japanامریکا کے صدر باراک اوباما نے دنیا کے پہلے ایٹمی حملے کے نتیجے میں تباہ ہونے والے جاپانی شہر ہیروشیما کے دورے کے موقع پر کہا کہ 71 سال پہلے آسمان سے زمین پر گرنے والی موت نے دنیا کا منظر نامہ تبدیل کردیا تھا۔ساتھ ہی انھوں نے مستقبل میں اس قسم کی صورتحال سے بچنے کے لیے اقدامات کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔
یاد رہے کہ جنگ عظیم دوئم کے دوران 6 اگست 1945 کو امریکا نے جاپان کے شہر ہیروشیما پر ایٹم بم گرایا تھا، جس کے نتیجے میں ایک لاکھ 40 ہزار سے زائد لوگ ہلاک ہوگئے تھے۔یہ دنیا کا پہلا ایٹمی حملہ تھا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق دورہ جاپان کے دوران امریکی صدر باراک اوباما نے جنگ دوئم میں ہلاک ہونے والوں کی یادگار پر پھول چڑھائے، 1945 کے بعد سے جاپان کا دورہ کرنے والے وہ پہلے امریکی صدرہیں۔اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ وہ دنیا کو پر امن بنانے کے لیے کوشاں ہیں اور ان کا یہ دورہ بھی انسانی بنیادوں پر ہے۔باراک اوباما کا کہنا تھا کہ امریکا اور جاپان صرف اتحادی نہیں بلکہ دوست بھی ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ انسانی اداروں میں برابر کی ترقی کے بغیر تکنیکی ترقی ہمارے لیے عذاب بن سکتی ہے، سائنسی انقلاب کے ساتھ ساتھ اخلاقی انقلاب کی بھی ضرورت ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق براک اوباما کا اس سے قبل کہنا تھا کہ وہ ہیروشیما پر ایٹمی حملے کی معافی نہیں مانگیں گے۔


Comments

FB Login Required - comments