ماما قادر نے اخبار پڑھا


zafar kakar

 اپنے ماما قادر کی آنکھیں کمزور ہو گئی ہیں۔ اسلام آباد تشریف لائے تھے۔ آنکھوں کا آپریشن کروا کر آج صبح ناشتے کے لئے وارد ہوئے۔ ناشتے سے فارغ ہو کر کہنے لگے، ’ یارا تین دن سے اخبار نہیں پڑھا۔ ذرا میرے کو اخبار تو پڑھ کر سناﺅ‘۔ مرتے کیا نہ کرتے کہ ماما کو ٹالنا آسان کام نہیں ہے اوپر سے ذود رنج واقع ہوئے ہیں۔ جہاں لوگ افسوس میں صرف سر ہلاتے ہیں وہاں نہ صرف روتے ہیں بلکہ ساتھ گنگناتے ہیں، ’ہم اپنے آنسوﺅں میں چاند تاروں کو ڈبو دیں گے‘۔ ماما کی مگر ایک عادت اور ہے۔ کسی بھی خبر پر تجزیہ کئے بنا رہ نہیں سکتے۔ اب آج کی کی کارگزاری دیکھ لیجیے۔ بولے پہلے سرخیاں سناﺅ۔

پاکستان نے ملا منصور اخترکی ہلاکت کی تصدیق کر دی۔ خبر

(کیسے تصدیق کر دی؟ مذاق ہے کوئی۔ وہ ولی محمد کا کیا بنا پھر؟ اچھا چلو وہ جو پوٹھوہار کا چوہدری صاحب دھاڑ رہا تھا کہ ڈی این اے ہوئے گا اس کا کیا بنا؟)

ڈرون حملہ ملکی سالمیت پرحملہ ہے۔ عابد شیر علی

(ٹھیک بیان دیا ہے۔ اخبار والوں سے غلطی ہوا ہے۔ ڈرون حملہ کی بجائے ’ یہ ڈرون حملہ‘ کہنا مقصد تھا۔ ڈرون، ہیلی کاپٹر، جہاز ملا کر 325 بار اس ملک میں حملہ ہوا ہے۔ اس میں سے صرف چار حملے سالمیت پر حملہ تھا۔ ایک سلالہ چیک پوسٹ والا، ایک اسامہ بن لادن والا، ایک حکیم اللہ محسود والا اور ایک یہ ولی محمد والا۔ اوہ! معاف کرو ملا اختر منصور والا۔ باقی صرف حملے تھے۔ سالمیت والا نہیں تھے۔ )

ماما پوری خبر تو پڑھنے دو!

اچھا آگے بھی کچھ بولا ہے شیر علی بھائی؟

جی ! آگے کہتے ہیں، ’ حکومت نے بھرپور ردعمل کا اظہار کیا‘۔

(واقعی واقعی تین دن بعد تو بہت بھرپور ردعمل کا مظاہرہ کیا۔ تین دن تک حکومت اور فوج کو ایک صفحے پر کرنے کی کوشش کرتے رہے ہوں گے۔ تم ذرا دیکھو ہو سکتا ہے کسی نے بیان دیا ہو کہ فوج اور حکومت ایک صفحے پر ہے)

جی ماما عابد شیر علی نے ہی کہا ہے کہ، ’پاکستانی سیاسی و عسکری قیادت ایک پیج پر ہیں‘۔

(میں بولا نا کہ تین دن ایک پیج پر کرتے رہے۔ اچھا! حکومت کے اس بھرپور ردعمل پر عمران خان یا پیپلز پارٹی کا کوئی بیان ہے کہ نہیں؟)

ماما عمران خان عالمی معاملات پر بیان بازی نہیں کرتے۔

کیوں نہیں کرتے عمران خان؟

عالمی معاملات میں عمران خان عسکری قیادت کے پیج پر ہیں۔

( بالکل بجا بولا لیکن دیکھو کہیں اخبار میں ہارون رشید یا حسن نثار کا بیان نہیں چھپا کہ ساری باتیں ٹھیک ہیں لیکن عمران خان چور نہیں ہے)

ماما ان بزرگوں کا کالم چھپتا ہے خبر نہیں۔

اچھا چھوڑو۔ پیپلز پارٹی کا کوئی بیان ہے یا نہیں؟

مولا بخش چانڈیو کا بیان ہے کہ، ’ امریکی ڈرون حملوں پر وزیراعظم کی خاموشی معنی خیز ہے‘۔

(

 ہاں ہاں ان کے دو وزرائے اعظم نے تو جیسے ڈرون حملوں پر کرسی چھوڑا تھا۔ چھوڑو منڑا! دیکھو اپنے سراج الحق صاب نے کہیں ڈنڈا منڈا ہاتھ میں لے کر احتجاجی ریلی تو نہیں نکالا ڈرون حملے کے خلاف۔ مودی کے لاہور آنے پر تو پانچ منٹ میں پہنچ گیا تھا۔ ادھر کیا چار دن عسکری قیادت کے صفحے پر کھڑا ہونے کو جگہ ڈھونڈ رہا تھا؟)

ماما آپ بھی بس شروع ہو جاتے ہیں۔

منڑا کیا شروع ہو جاتا ہے۔ اتنا سا تو صفحہ ہوتا ہے اور دنیا کھڑی ہے اس پر۔ عسکری قیادت بولتی ہے پوری قوم ان کے صفحے پر ہے۔ ادھر حکومت بھی ان کے صفحے پر بالکل ایسی کھڑی ہے جیسے ہمارے پی ٹی ماسٹر ہم کو صبح اسکول کے اسمبلی میں زبردستی کھڑا کرواتا تھا۔ ادھر صالحین ضیاءالحق کے دور سے ان کے صفحے پر سے اترنے کو تیار نہیں ہے۔ ادھر تم بولتا ہے کہ عمران خان بھی ان کے صفحے پر ہے۔ ادھر امریکہ الزام لگاتاہے کہ افغانی طالبان ان کے صفحے پر ہیں۔ ادھر ہندوستان الزام لگاتا ہے کہ جیش، لشکر مشکر وغیرہ سارے ان کے صفحے پر ہیں۔ منڑا صفحہ نہ ہوا انسائیکلوپیڈیا کا کتاب ہو گیا۔

ماما چھوڑو بھی کہاں نکل گئے ہو۔ اخبار سنو میں نے کام پر جانا ہے۔

اچھا سناﺅ سناﺅ۔ مگر سراج الحق کا تو سنایا نہیں؟

جی سراج الحق نے ریلی نکالی ہے مگر ڈرون کے خلاف نہیں بلکہ کرپشن فری پاکستان ٹرین مارچ کر رہے ہیں اور اوکاڑہ میں شرکاءسے خطاب کی تصویر اور بیان چھپے ہیں۔

(اچھا اچھا۔ بھئی کرپشن فری پاکستان توصرف اس وقت ممکن ہو گا جب حکومت صالحین کے ہاتھ میں دی جائے گی اور مشیروں میں بھائی مقبول صاحب بھی ہوں گے)

کون سے مقبول صاحب؟

منڑا وہ صالح زبرگ(بزرگ) نہیں ہے جو بلوچستان میں بڑا افسر ہوتا تھا۔

ماما وہ آپ کے دور کی باتیں ہوں گی مجھے تو یاد نہیں ہے۔

منڑا تمہارے دور میں تھا۔ جب تم کالج میں تھا وہ واسا بلوچستان کا وڈا افسر تھا۔ محکمے کا وزیر پیپلز پارٹی کا تھا۔ مشرف کا دور میں اس کو نیب نے غیر قانونی بھرتیوں پر جیل میں ڈالا تھا مگر واسا کا چئیرمین کو کچھ نہیں بولا۔ لگتا ہے وہ بھی اسی صفحے پر تھا جس پر پوری قوم کھڑی ہے۔ ہمارے دور میں تو وہ کوئٹہ سے چلنے والے ایک ڈرامے میں نیکر پہن کر انگریز افسر کا کردار کرتا تھا۔

ماما چھوڑو کہاں نکل گئے ہو؟

ارے کدھر کہاں نکل گیا ہوں۔ ابھی پچھلے دنوں اس نے لکھا تھا کہ ’ طاغوت صرف طاغوت ہے۔ طاقت سے حکمرانی حاصل کرے یا ووٹ سے۔ اس کا انکار ہر مسلمان پر فرض ہے ورنہ وہ مسلمان نہیں۔ ہمارے حکمران اس کے کاسہ لیس اور حواری ہیں۔ طاغوت سے بھی بدتر‘۔ ابھی ہم کو کہا جا رہا ہے کہ حکمرانوں کے خلاف نکلو ورنہ تو تم مسلمان نہیں ہے۔ یہ کہاں کا شرافت ہے کہ اب سرکاری دانشور منہ میں پائپ لے کر فتوی بازی پر اتر آیا ہے۔

ماما چھوڑو سراج الحق کا بیان سنو۔

اچھا سناﺅ سناﺅ۔

برسراقتدار آکر سرکاری اراضی مزارعین میں تقسیم کریں گے۔ سراج الحق

( ٹھیک بولا ہے۔ ہمارا بھی اخبار میں بیان چھپواﺅ کہ ماما بولتا ہے، والا کہ (قسم سے) مزارعین کو پچاس سال مزید یہ زمین ملے۔ )

کیا مطلب؟

مطلب کو چھوڑو۔ قوم مطلب خوب سمجھتا ہے اور ان کو بھی ہر الیکشن میں سمجھاتا ہے۔ اپنے مولانا صاحب جاہ و جلال ، امام سیاست کا کوئی بیان ہے تو سناﺅ۔

ماما !مولانا صاحب لندن میں ہیں۔ ان کا تو کوئی بیان نہیں ہے مگر خورشید شاہ صاحب کا بیان ہے کہ، ’ مولانا فضل الرحمن زرداری صاحب کو منانے نہیں گئے‘۔

(ٹھیک بولتا ہے شاہ صاحب۔ مولانا صاحب لندن کے مسلمانوں کو یہ بتانے گئے ہیں کہ مسلمانان ہند نے قائداعظم محمد علی جناح کی ولولہ انگیز قیادت میں یہ پاک سرزمین اسلام کے لئے حاصل کیا تھا۔ اسلام کے نفاذ کے لئے حکومت ہمارے حوالے کی جائے تاکہ مولانا شیرانی کو وزیر قانون بنا کر قوم کو بتایا جائے کہ اب ہم اس نتیجے پر پہنچ گیا ہے کہ غیرت کا نام پر قتل اور کاروکاری کو قتل مانتے ہیں۔ مزید یہ کہ اب اگر کوئی عورت پر تیزاب پھینکے گا تو اس کی مکمل تحقیقات ہوں گی۔ )

جاﺅ منڑا بند کرو یہ اخبار اور چائے پلاﺅ ایک کپ۔


Comments

FB Login Required - comments

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 82 posts and counting.See all posts by zafarullah