چابہار کی بندرگاہ اور ایران کے ساتھ تعاون


editپاکستان میں ایران کے سفیر مہدی ہنر دوست نے ان اندیشوں کو مسترد کیا ہے کہ چابہار منصوبے پر بھارت اور افغانستان کے ساتھ معاہدہ پاکستان کے مفادات کے خلاف ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبہ میں نئے ملکوں کو شامل کیا جا سکتا ہے۔ اسلام آباد میں انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز ISSI میں پاک ایران تعلقات پر بات کرتے ہوئے ایرانی سفارتکار کا کہنا تھا کہ چابہار منصوبے کے بارے میں سب سے پہلے پاکستان اور چین کو دعوت دی گئی تھی۔ یہ پیشکش اب بھی موجود ہے اور وہ بھی اس تعاون اور ترقیاتی منصوبے میں حصہ دار بن سکتے ہیں۔

ایرانی سفیر کا یہ بیان حال ہی میں ایران ، بھارت اور افغانستان کے درمیان ایک معاہدے کے بعد سامنے آیا ہے۔ یہ معاہدہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ ایران کے موقع پر طے پایا تھا۔ اس میں افغانستان کو بھی شامل کرلیا گیا تھا اور افغان صدر اشرف غنی، صدر حسن روحانی اور نریندر مودی کے ساتھ معاہدے پر دستخط کرنے کے لئے تہران بھی گئے تھے۔ معاہدے کے تحت بھارت چا بہار منصوبے کی تکمیل کے لئے 500 ملین ڈالر صرف کرے گا تاہم اس منصوبے کی مزید ترقی کے لئے گراں قدر وسائل ضروری ہوں گے۔ منصوبے کے تحت چابہار سے براستہ افغانستان وسطی ایشیا تک رسائی کے لئے مواصلاتی روٹ استوار کیا جائے گا۔ پاکستان میں عام خیال کیا جا رہا ہے کہ چابہار منصوبہ دراصل گوادر بندرگاہ کا مد مقابل ہو گا۔ گوادر کو پاک چین راہداری منصوبے کے تحت ترقی دی جارہی ہے اور یہ پورا منصوبہ آئیندہ دس برس میں مکمل کرنے کا پروگرام بنایا گیا ہے۔ چا بہار اور گوادر کے درمیان چند گھنٹے کی مسافت ہے اور دونوں کو خلیج اومان کے راستے براہ راست بحر ہند تک رسائی حاصل ہے۔ چابہار منصوبے کے تحت افغانستان اور وسطی ایشیا تک سہولت سے پہنچا جا سکے گا۔ جبکہ گوادر منصوبہ اگرچہ ابتدائی طور پر شاہراہ ریشم کے راستے چین تک رابطہ استوار کرے گا لیکن مستقبل میں اس مواصلاتی نظام کو افغانستان اور وسطی ایشیا سے بھی جوڑا جا سکے گا۔ بھارت، افغانستان اور وسطی ایشیا کی منڈیوں تک رسائی میں بہت دلچسپی رکھتا ہے۔ اس لئے اس کے لئے یہ دونوں منصوبے بہت اہم ہیں۔ لیکن پاکستان دشمنی اور چین کے ساتھ کاروباری اور عسکری مخاصمت کی وجہ سے بھارتی حکومت پاک چین راہداری کی مخالفت کرتی رہی ہے۔

اسی پس منظر کی وجہ سے پاکستان میں شبہات جنم لے رہے ہیں اور یہ بات کی جا رہی ہے کہ چابہار کے ذریعے متبادل مواصلاتی نظام استوار ہونے سے گوادر کی اہمیت کم ہو جائے گی۔ حالانکہ وسطی ایشیا تک مواصلت کی ضروریات کے پیش نظر دونوں منصوبے اس پورے خطے میں اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ ایران کے سفیر ہنر دوست نے اپنے لیکچر میں اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے تعاون کی پیشکش کی ہے اور کہا ہے کہ تجارت اور سیاست میں فرق کرنا ضروری ہے۔ تاہم دنیا کی سیاست اس وقت ملکوں کے اقتصادی مفادات اور تجارتی ضرورتوں ہی کی محتاج ہے۔ لیکن پاکستان کے لئے ایران جیسے قریبی ہمسایہ ملک کے ساتھ تعاون اور دوستی برقرار رکھنا بے حد ضروری ہے۔ چین پہلے ہی گوادر اور چا بہار کے درمیان تعاون کی بات کرچکا ہے۔ ایک دوسرے سے ساڑھے تین سو کلو میٹر کی مسافت پر واقع ان دونوں منصوبوں کے درمیان تعاون اور اشتراک ہی سب ملکوں کے لئے سود مند ہو سکتا ہے۔

پاک چین راہداری کا بنیادی مقصد گوادر اور چین کے صوبے چنکیانگ کے درمیان شاہراہوں اور ریلوے کے ذریعے رابطہ استوار کرنا ہے۔ اس لئے ابتدائی طور پر چا بہار اور گوادر کا کاروباری مقابلہ نہیں ہو گا۔ البتہ افغانستان اور وسطی ایشیا تک رسائی کے لئے دونوں راستے مناسب ہوں گے۔ تاہم وسطی ایشیا تک پہنچنے کے لئے کسی بھی منصوبے پر عمل درآمد کے لئے افغانستان میں امن کا قیام بے حد ضروری ہے۔ ایرانی سفیر کی باتوں پر غور کیا جائے تو یہ قیاس کیاجا سکتا ہے کہ ایران کو اس معاملہ کی نزاکت کا احساس ہے۔ افغانستان میں امن کے لئے پاکستان، ایران اور بھارت ، سب ہی اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

یہ تینوں ملک اگر اپنی سیاست کو اس خطے کے عوام کی اقتصادی ضرورتوں کے تناظر میں دیکھنا شروع کرسکیں تو سیاسی حالات بھی تیزی سے بہتر ہو سکتے ہیں اور نہ صرف اس پورے خطے میں امن بحال ہو سکتا ہے بلکہ موجودہ مقابلے بازی کی صورت حال دوستانہ مسابقت میں بدل سکتی ہے۔ اسی میں سب کی بھلائی ہوگی۔ اسی طرح جنگ کی بجائے کاروبار اور صنعتیں فروغ پائیں گی اور سب ملکوں کے لوگوں کو روزگار کے وسیع مواقع حاصل ہو سکیں گے۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 411 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali