ایک لیڈر کے لئے جھوٹ بولنا اور غلط وعدے کرنا لازمی ہے


سیاسی لیڈروں کی دروغ بیانیاں

تبادلہ آبادی سے پہلے کا واقعہ ہے، کہ راولپنڈی جیل میں ایک بہت ہی شریف اور دیانتدار اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ سردار جاگیر سنگھ تھے، جو رشوت نہ لینے کے اعتبار سے اپنے تمام محکمہ میں شہرت رکھتے تھے، اور آج کل غالباً حصار میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ ہیں۔ میں جب دہلی جیل میں تھا، تو یہ اس وقت دہلی جیل میں تھے۔ اور بعد میں جب میں لاہور گیا، تو یہ اس وقت لاہو ر جیل میں تھے۔ دونوں جیلوں میں مجھے ان کو قریب سے دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ ان کی غیر معمولی دیانت داری کے باعث ان کے لئے میرے دل میں اتہائی غرت کے جذبات تھے، او ر یہ بھی مجھے اپنا مخلص دوست ا ور خیر خواہ سمجھتے، ا ور جب کبھی د ہلی آتے، تو مجھ سے ملے بغیر نہ جاتے۔

سردار جاگیر سنگھ ایک دفعہ راولپنڈی سے دہلی آئے، ا ور مجھ سے ملے، تو کچھ پریشان سے تھے۔ میں نے پوچھا کہ :۔
” کب آ ئے اور کیوں آئے؟ “
تو آپ نے بتا یا کہ :۔
۔ ”پنجاب گورنمنٹ جیلوں کے سٹاف میں تخفیف کر ر ہی ہے، اور یہ خطرہ ہے، کہ شا ئد آپ بھی اس تخفیف کی نذر ہو جا ئیں، اور آپ راولپنڈی سے دہلی اس لئے آ ئے ہیں، کہ آپ سردا ر منگل سنگھ ممبر مرکزی اسمبلی ( جو ان کے ہموطن یعنی لدھیانہ کے رہنے والے تھے ) سے مسٹر بھیم سین سچر وزیر جیل خانہ جات پنجاب سے سفارش کر دیں، کہ ان کو تخفیف کا شکار نہ ہونے دیا جائے“۔ میں نے پوچھا کہ۔ :۔
” سردار منگل سنگھ نے جواب دیا؟ “

تو آپ نے بتایا کہ :۔
” سردار منگل سنگھ نے وعدہ کیا ہے، کہ جب آپ لاہور جائیں گئے، تو مسٹر بھیم سین سچر سے زبانی کیں گے، اور وہ مسٹر بھیم سین سچر کو خط لکھنا مناسب نہیں سمجھتے“۔
میں نے سردار جاگیر سنگھ سے کہا کہ :۔
” میرے تجربہ کے مطابق لیڈر کلاس میں سے تو نوے فیصدی لوگ جھوٹ بولتے ہیں، اور اخبارات کے ایڈ یٹروں میں سے پچانوے فیصدی جھوٹ لکھتے ہیں۔ اس لئے آپ سردار منگل سنگھ کے زبانی وعدہ کا اعتبار نہ کیجئے۔ میری رائے یہ ہے، کہ اگر آپ ان سے سفارش کرونا ہی چاہتے ہیں، تو بہتر صورت یہ ہے، کہ ریلوے کا کرایہ خرچ کر کے آپ ان کو اپنے ساتھ لاہور لے جائیے، اور اپنے سامنے ان مسٹر بھیم سین سچر سے کہلوائیے“۔

سردار جاگیر سنگھ نے کہا کہ:۔
” سردار منگل سنگھ لدھیانہ کے رہنے والے ان کے ہم وطن ہیں، وہ ان سے جھوٹا وعدہ نہیں کر سکتے“۔

یہ کہہ کر اور چائے پی کر سردار جا گیر سنگھ چلے گئے۔ مجھے علم نہیں، کہ سردار منگل سنگھ نے سردار جاگیر سنگھ کے متعلق مسٹر بھیم سین سچر سے سفارش کی یا نہیں۔ 1947 کے فسادات سے چند ماہ پہلے کا واقعہ ہے۔ ایک مضمون کے سلسلہ میں ماسٹر تارا سنگھ نے مجھ پر امرتسر میں توہین کا ایک مقدمہ دائر کیا تھا، اس مقدمہ کے سلسلہ میں مجھے کئی بار دہلی سے امر تسر جانا پڑا۔

میرا معمول یہ تھا، کہ میں رات کو دہلی سے سوار ہوتا۔ صبح امر تسر پہنچتا، دن کے وقت عدالت میں حاضری دیتا، اور اسی شام کو چھ بجے کے قریب امرتسر سے سوار ہو کر اگلی صبح واپس دہلی پہنچ جاتا۔ جس روز میر ی پیشی ہوتی، اس کے متعلق میں جالندھر میں اپنے ایک دوست مسٹر اکرام الحق کو دو روز پیشتر اطلاع دے دیتا۔ مسٹر اکرام الحق اپنے بیوی بچوں کے ساتھ کھانا لے کر جالندھر شہر کے اسٹیشن پر آ جاتے۔ کھانے والا ٹفن کیرئیر تو یہ گاڑی میں رکھ دیتے، اور پچھلی پیشی والا خالی ٹفن کیرئیر واپس لے لیتے۔ چند منٹ ان سے باتیں ہو جا تیں، اور ہر پیشی پر ایسا ہی ہوتا۔

میں ایک روز پیشی پر امرتسر گیا۔ جالندھر مسٹر اکرام الحق سے مل کر اور کھانا لے کر واپس آ رہا تھا، تو لدھیانہ اسٹیش پر سردار منگل سنگھ مل گئے۔ یہ مرکزی اسمبلی کے سیشن میں شامل ہونے کے لئے دہلی آ رہے تھے۔ سردار منگل سنگھ میرے دیرینہ دوست تھے۔ بہت پتاک سے ملے، اور آپ نے اپنے ملازم سے جوان کو اسٹیشن پر چھوڑنے آہا تھا، کہا، کہ وہ فوراً جا کر ریفرشمنٹ روم سے میر ے لئے کھانا لے آئے۔
میں نے کہا کہ :۔
” کھانا میرے پاس رکھا ہے۔ ایک دوست نے جالندھر دے دیا تھا“۔

مگر سردار صاحب نے ایک نہ سنی، اور انہوں نے اپنے ملازم کو ریفرشمنٹ روم میں بھیج دیا، اور ملازم ایک تھالی میں کھانا لے کر آ گیا۔ ریلوے کے ہندو ریفرشمنٹ رومز میں کھانا جس قدر بدمزہ ہوتا ہے، مجھے اس کا پہلے تجربہ تھا، میں نے ان ریفرشمنٹ رومز کا کھانا کئی برس سے چھوڑ رکھا تھا، اور اگر کسی ریلوے ریفرشمنٹ روم کا کھانا کھاتا تو صرف انگریزی ریفرشمنٹ رومز کا۔ اب ادھر تو سردار منگل سنگھ کا اخلاص اور محبت کے ساتھ منگایا ہوا کھانا میری سیٹ پر پڑا تھا۔ اور ادھر اسی سیٹ کے نیچے ٹفن کیرئیر میں مسلمانوں کے گھر کا پکا ہوا لذیذ کھانا رکھا تھا۔ میں مجبور تھا، کہ سردار صاحب کا منگایا ہو ا بد مزہ کھانا کھاؤں، اور اپنے دہن اور ذائقہ دونوں پر ظلم کروں۔ بہر حال میں نے سردار صاحب کا منگایا ہوا کھانا کھایا، کیونکہ انکار نہ کر سکتا تھا۔

کھانا کھانے کے بعد سردار منگل سنگھ میرے سامنے والی برتھ اپنا بستر بچھا کر بیٹھ گئے۔ میں کھانے سے فارغ ہو چکا، تو کچھ دیر بعد گاڑی حرکت میں آئی۔ میرے اور سردار منگل سنگھ کے درمیان یہ بات چیت ہوئی :۔

میں :۔ سردار صاحب! یہ تو بتا ئیے، کہ آپ کے پاس سفارش کرانے والے کتنے ہر روز آتے ہیں۔ کیونکہ آپ مرکزی اسمبلی کے ممبر ہیں، اور آپ کی کانسٹی ٹیونسی کا حلقہ بھی بہت وسیع ہے۔
سردار منگل سنگھ :۔ روزانہ اوسط پچاس ساٹھ لوگوں کی ہے۔

میں:۔ تو پھر اس بڑی تعداد کا کیا کرتے ہیں۔
سردار منگل سنگھ :۔ کسی کو سفارشی خط دیا جاتا ہے، کسی سے زبانی سفارش کرنے کا وعدہ کیا جاتا ہے، کسی کو پھر آنے کے لئے کہہ کر ٹال دیا جا تا ہے، اور کسی سے کہا جاتا ہے، کہ آپ جب لدھیانہ جائیں، تو اس وقت ان کو یاد کرایا جائے۔ کیونکہ اکثر لوگ ایسے ہوتے ہیں، جو چاہتے ہیں، کہ ڈپٹی کمشنر لدھیانہ، یا وہاں کے کسی دوسرے افسر سے سفارش کی جائے، کیونکہ یہ میرے علاقہ ضلع لدھیانہ کے رہنے والے ہوتے ہیں۔

میں :۔ اور اگر آپ سفارش یا جھوٹا وعدہ نہ کریں، تو پھر؟
سردار منگل سنگھ :۔ پھر یہ لوگ دشمن ہو جائیں، اور انتخاب کے دنوں میں نہ صرف مجھے ووٹ نہ دیں، بلکہ دوسروں کو ووٹ نہ دینے کے لئے بھی ور غلاتے ہیں۔

میں :۔ تو گویا کہ ایک لیڈر کے لئے جھوٹ بولنا اور غلط وعدے کرنا لازمی ہے۔ اور اگر ایک لیڈر نہ بولے، اور غلط وعدے نہ کرے، تو وہ لیڈر نہیں رہ سکتا۔
سردار منگل سنگھ :۔ بلاشبہ۔

سردار منگل سنگھ سے میں یہ سننے کے بعد اپنی برتھ پر لیٹ گیا، اور دیر تک سوچتا رہا، کہ دنیا کے لوگ دن رات طوائفوں کو صرف اس لئے کوستے ہیں کہ ان کے ظاہر اور باطن میں فرق ہوتا ہے۔ کیا ہمارے ملک کے لیڈروں اور ایڈیٹروں کی حالت طوائفوں کے مقابلہ پر زیادہ بدتر نہیں؟ کیونکہ ایک طوائف کی مار کا حلقہ تو صرف ایک یا دو چار لوگوں تک محد ود ہوتا ہے، اور لیڈروں اور ایڈیٹروں کی زد میں ہزار ہا لوگ آتے ہیں۔
یہ سوچتے سوچتے میں سو گیا۔ اور صبح جب آنکھ کھلی، تو میرٹھ چھاؤنی کا اسٹیشن تھا۔

دیوان سنگھ مفتوں کی کتاب سیف و قلم سے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

دیوان سنگھ مفتوں

سردار دیوان سنگھ مفتوں، ایڈیٹر ہفتہ وار ”ریاست“ دہلی۔ کسی زمانے میں راجاؤں، مہاراجوں اور نوابوں کا دشمن، ان کے راز فاش کرنے والا مداری، صحافت میں ایک نئے خام مگر بہت زور دار انداز تحریر کا مالک، دوستوں کا دوست بلکہ خادم اور دشمنوں کا ظالم ترین دشمن۔ سعادت حسن منٹو کے الفاظ۔

dewan-singh-maftoon has 17 posts and counting.See all posts by dewan-singh-maftoon