مولانا شیرانی سے میری محبت


siftain_khanمولانا اور میرا بڑا پرانا رشتہ ہے۔ تب سے جب سے انہوں نے اسلامی نظریاتی کونسل کے پلیٹ فارم سے اپنے فرمودات عالیہ جاری کرنا شروع کیے۔ کبھی عورت کے حق طلاق کو شوہر کی اجازت سے منسوب کیا تو کہیں ریپ میں ڈی این اے ٹیسٹ کی حرمت کا اعلان کیا۔ کبھی نابالغ کے نکاح کو مشروع کیا تو کہیں چہرے کے پردے کی اجازت دی ورنہ عورتیں بے چاری چہرہ چھپائے پھرتیں۔ اس طرح کے اعلیٰ بیانات کے بعد اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں ان کو اسلام اور مغرب کے موضوع پر مہمان خصوصی کے طور پر مدعو کیا گیا اور جب کئی نامور اہل علم ان کی تعریف میں رطب اللسان ہوئے تو میں سمجھا میں کوڑھ مغز ہی ان کی اعلیٰ صلاحیتوں کو نہیں پہچان سکا اور ان کا رتبہ میری ذہنی صلاحیتوں سے بالاتر ہے۔ مگر شکر ہے ان کے تازہ ارشادات عالیہ کا کہ انہوں نے میری غلط فہمی دور کر دی۔ اس بار انہوں نے بیک وقت اتنے زیادہ کیمیائی حملے کیے ہیں کہ ان کے اثرات سے بچنے کے لیے زمین دوز ایٹمی مرکز کی ضرورت ہے۔

ایک بات تو ثابت ہو گئی کہ مولوی حضرات کو صنف نازک کے معاملات سے بہت زیادہ دلچسپی ہے۔ باقی مظلوم طبقات ان کی توجہ سے محروم ہی رہے ہیں ابھی تک۔ مگر اس دفعہ انہوں نے اس کا ازالہ کرنے کی کوشش کی اور شوہر جیسی مظلوم مخلوق کو شرعی سہارا فراہم کیا۔ ہلکی پھلکی مار کی اجازت دی اور ظاہر ہے “ہلکی” کی تشریح ہر شخص اپنے اور بیوی کے حجم اور استطاعت کے مطابق ہی کرے گا۔ خواتین نرسوں پر مردوں کی نگہداشت ممنوع قرار دے کر اپنی تاریخ فہمی کا اعلیٰ ثبوت دیا۔ رسول ﷺ اور صحابہ کے دور میں تو غزوات میں تیمارداری پر عورتوں کی شرکت عام بات تھی اور شکر ہے ان کو کوئی مولانا شیرانی نہیں میسر ہوا۔ پھر عورتوں کو اسلام قبول کرنے اور ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کی آزادی دے کر ان پر احسان عظیم کیا ورنہ جس کے “ناقص العقل” ہونے پر شرعی دلیل موجود ہو اس کے لیے یہ کسی معجزہ سے کم نہیں۔ غیر ملکی مہمانوں کے استقبال کے لیے عورتوں کی شمولیت ممنوع قرار دے کر ان کی عزت بچا لی گئی ورنہ تو لوگ اتنی دور سے ان کے دیدار کے لیے ہی جلوہ افروز ہوتے تھے۔

سب سے بڑا حملہ آرٹ کے نام پر موسیقی، مجسمہ سازی اور رقص پر پابندی لگا کر کیا گیا۔ پتہ نہیں مردوں کا رقص کب سے حرام ہو گیا یہ ہم جاہلوں کو معلوم نہیں ہو سکا۔ ورنہ حبشیوں کا رقص مدینہ میں نہ ہوتا۔ موسیقی اور مجسمہ سازی تو ازل سے حرام ہیں اگرچہ حضرت داودؑ جیسا پیغیمبر موسیقی سے اللہ کے نغمیہ کلام زبور کو مزین کرے. سیاسی عمل میں حصہ لینے کی آزادی ہے مگر مرد و زن کے اختلاط کے بغیر کیسے ممکن ہو گا یہ معجزہ بھی ابھی پردہ امکان میں ہے۔ الغرض ناقابل عمل اور متضاد سفارشات کا مجموعہ ہے یہ سب۔ پھر کہتے ہیں لوگ سیکولرزم کی طرف مائل کیوں ہوتے ہیں۔ غالب رہ رہ کر یاد آرہا ہے۔

حیراں ہوں، دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو مَیں

مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو مَیں


Comments

FB Login Required - comments