مفتی عبد القوی کی رنگینیاں


طارق عمر چوہدری

\"Tariqلیجئے صاحب! رویت ہلال کمیٹی کے رکن، مذہبی سکالر، جامعہ عبیدیہ ملتان کے مہتمم مفتی عبد القوی نے ایک اور انوکھا انکشاف کیا ہے کہ میں دعا کروانے کے لئے خوبصورت چہروں کی تلاش میں رہتا ہوں۔ یہاں تک کہ وہ ایئر پورٹ پر بھی خوبصورت خواتین کی تلاش کرتے رہتے ہیں تاکہ خوب صورت خاتون سے اپنے حق میں دعا کروائی جائے۔ گویا اللہ خوبصورت چہروں کی زیادہ سنتا ہے۔ مفتی عبد القوی کے مطابق حدیث شریف ہے کہ کوئی خوبصورت چہرہ دیکھو تو اس سے کہو کہ میرے لئے دعا کرو۔ ان کا یہ بھی فرمان ہے کہ میں جہاز میں بھی خوبصورت ایئر ہوسٹس کی تلاش میں رہتا ہوں۔ یہ ارشادات انہوں نے ایک نجی ٹی وی پر گفتگو کے دوران کئے۔

کھلے دل و دماغ کا دعویٰ کرنے والے مفتی عبد القوی ایسے مذہبی سکالر ہیں جو اپنے مزاج کی رنگینیاں بدل بدل کر پیش کرنے کے عادی ہو گئے ہیں۔ ان کا فورم اکثر نجی ٹی وی چینل ہوتے ہیں۔ ان حرکتوں سے وہ اپنی علمیت اور ڈگری کو مشکوک بنا رہے ہیں۔ ایک ٹی وی چینل پر فلمسٹار وینا ملک نے انٹرویو کے دوران مفتی عبد القوی کے فتویٰ کو آڑھے ہاتھوں لیا۔ فلمسٹار وینا ملک نے ان کی اتنی خاطر کی کہ موصوف کے لئے جان چھڑانا مشکل ہو گئی۔ ابھی حال ہی میں انہوں نے ایک فتوے میں غیر محرم عورتوں کے ساتھ جنسی تعلقات کو حلال قرار دے دیا۔ انہوں نے کہا کہ بحیثیت طالب علم قرآن و سنت سے جو کچھ انہوں نے سمجھا ہے وہ یہ ہے کہ آج اکیسویں صدی کے اندر ہم نے بدکرداری اور بد اخلاقی کا دروازہ بند کرنا ہے تو ان کے نزدیک قرآن و سنت کا خلاصہ یہ ہے کہ شادی ایک ہو اور نکاح متعدد ہوں گے۔ اسی طرح انہوں نے گرل فرینڈ سے جنسی تعلقات کو بھی حلال قرار دے دیا۔

کچھ لوگ سعودی عرب کے مفتی عبداللہ کا حوالہ دے کر مفتی عبد القوی کا کہا سخت نہیں مانتے۔ حالانکہ مفتی عبداللہ نے ایک الگ نظریہ پیش کیا ہے۔ مفتی عبداللہ نے کہا ہے کہ جو شخص زیادہ شادیوں کی قدرت رکھتا ہے اور پھر وہ بیوہ اور بے سہارہ عورتوں کا وارث نہیں بنتا۔ جس کی وجہ سے کفار یا بد کردار لوگ ایسی عورتوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ ایسے شخص سے روز محشر سوال ہو گا کہ تو نے نکاح کے ذریعے ایسی مسلمان عورتوں کی عفت اور پاک دامنی کا انتظام کیوں نہیں کیا۔ مفتی عبد القوی کا استدلال عیاشی اور بے ہودگی کے ذمرے میں آتا ہے۔

\"mufti\"کسی بھی مسئلے پر شرعی نقطہ نظر سے فتویٰ دینے کا اہل وہ مفتی ہے جو قرآن و حدیث پڑھ چکا ہو اور اس پر مکمل عبور رکھتا ہو۔ مفتی عبد القوی اپنے فتووں سے اسلامی معاشرے اور اس کے خدوخال کے منافی نوجوان نسل کو بد اخلاقی کی ایسی راہ دکھا رہے ہیں جو اسلامی شعائر اور دینی تعلیمات کے سراسر منافی ہیں۔ مفتی عبد القوی جیسے عالم اپنی رنگین مزاجی کی وجہ سے اور میڈیا پر آنے کے چکر میں ایسی لغو گفتگو فرماتے ہیں جو کچے ذہنوں اور دینی تعلیمات سے محروم لوگوں کے لئے حوالہ بن جاتی ہے اور وہ ایسے مکروہ عوامل میں پڑ سکتے ہیں جنہیں ختم کرنے کے لئے اللہ نے اسلام کے ذریعے ہمیں راہ دکھائی۔ عورت کی حرمت اسلام کی عظمت کی دلیل ہے۔ میڈیا زدہ نام نہاد سکالروں نے اپنے اندر کی شیطانیت کو دین کا لبادہ اوڑھانے کی جدوجہد میں لگے ہیں۔ کھلے دل و دماغ کا استعمال اچھی بات ہے لیکن اس سے اپنے اعمال کے ضائع ہونے کی فکر بھی دامن گیر ہونی چاہئے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

One thought on “مفتی عبد القوی کی رنگینیاں

  • 29-05-2016 at 7:37 pm
    Permalink

    نہ صاحب، آپ پاکستانی مفتی پر سعودی مفتی کو ترجیح نہیں دے سکتے۔ پاکستانی کہتا ہے کہ الله خوبصورت لوگوں کی سفارش فوراً قبول کرتا ہے، لیکن یہ نہیں بتاتا کہ الله کے نزدیک خوبصورتی کا معیار کیا ہے۔ اب اگر میں یہ سمجھ لوں کہ وہی جو اس مفتی کا ہے تو پھر یہ سوال ستانے لگتا ہے کہ پھر ان تمام غیر خوبصورت لوگوں کو، جن میں یہ مفتی خود کو شامل سمجھتا ہے، دنیا میں کیوں بھیجا گیا۔ اگر اسلام تناسخ پر عقیدے کی اجازت دیتا تو یہ کہہ لیتے کہ اس مفتی کو کسی پہلے جنم کی کسی غلطی کی سزا دی گئی ہے۔
    رہی سعودی مفتی کی بات تو اسکے قول “چار شادیوں کی قدرت” کی وضاحت ضروری ہے۔ اگر یہ قدرت دولت کے پیمانے سے ناپی ہوئی ہے تو شادی اور ہم بستری کی ضرورت نہیں، اس دولت سے رفاہی اور مددگار ادارے قائم کرکےبھی بیوائوں اور بے سہارا کنواریوں کی مدد کی جاسکتی ہے۔ اور اگر اس قدرت سے اس مفتی کی مراد کسی اور طرح کی قدرت ہے جسکا ذکر یھاں نہیں کیا جا سکتا تو بھئی میرے خیال میں شاید ہی کوئی الله کا بندہ مرد دنیا میں ایسا ہوگا جس نے عمر کی کسی منزل پر یہ گمان نہ کیا ہو کہ وہ اس قدرت کا حامل ہے۔

Comments are closed.