شناختی کارڈ نہیں، افغان پالیسی پر نظر ثانی کریں


editپاکستان کے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے ملک کے سارے باشندوں کے شناختی کارڈز کی ازسر نو پڑتال کرنے کے عزم کو دہرایا ہے اور کہا ہے کہ میں اس بارے میں تنقید کے باوجود چھ ماہ میں یہ اہم کام مکمل کر کے دکھاؤں گا۔ وزیر داخلہ نے یہ اعلان 21 مئی کو ایک ڈرون حملہ میں طالبان رہنما ملا اختر منصور کی ہلاکت کے بعد یہ اطلاع سامنے آنے کے بعد کیا تھا کہ وہ ولی محمد کے نام سے جعلی پاکستانی دستاویزات پر سفر کر رہا تھا۔ وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ اس خبر سے دنیا بھر میں پاکستان کی شہرت کو نقصان پہنچا ہے اس لئے یہ سلسلہ بند کرنا ہو گا۔ چوہدری نثار کی اس بات سے انکار ممکن نہیں ہے لیکن وہ مرض کی تشخیص کئے بغیر ملک بھر کے شہریوں اور نادرا کے پورے نظام کو ایک نئی اور مشکل کارروائی کا حصہ بنانے پر مصر ہیں۔ ملا اختر منصور کوئی عام مجرم نہیں تھا اور نہ ہی اس نے کسی نادرا دفتر میں کسی ایجنٹ کو رشوت دے کر پاکستانی دستاویزات حاصل کی ہوں گی۔ طالبان کے ساتھ ربط اور تعلق کا معاملہ ملک کی سیاسی اور سکیورٹی حکمت عملی سے تعلق رکھتا ہے۔ وزیر داخلہ اصل وجوہ پر بات کرنے کی بجائے عام شہریوں کے شناختی کارڈز کی از سر نو شناخت کا ہنگامہ برپا کر رہے ہیں۔

اس دوران بلوچستان سے افغانستان کے چھ جاسوس بھی پکڑے گئے ہیں۔ ان کے پاس بھی پاکستانی دستاویزات تھیں اور انہوں نے پاکستان میں تخریب کاری کی وارداتوں کا اعتراف بھی کر لیا ہے۔ اس طرح جس بحث کا آغاز دو روز قبل مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے کیا تھا کہ ملک سے افغان مہاجرین کو نکالنے کا کوئی مناسب راستہ تلاش کرنا چاہئے، افغان جاسوسوں کی گرفتاری کے بعد بلوچستان کے وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے نہایت کرخت اور سخت لہجہ میں افغان پناہ گزینوں کو ملک سے باہر نکالنے کی بات کی۔ اب وزیر داخلہ جعلی دستاویزات سے نجات حاصل کرنے کے لئے ملک کے عوام کو جس مشکل سے گزارنا چاہتے ہیں، اس سے وہ مقاصد حاصل نہیں ہو سکتے جن کی وجہ سے پاکستان دنیا بھر میں بدنام ہو رہا ہے اور اس کی سکیورٹی کو نت نئے خطرات کا سامنا ہے۔ اگرچہ آرمی چیف نے پاک افواج کی صلاحیت کا اعلان کرتے ہوئے ایک بار پھر ضرب عضب کی تکمیل اور ملک سے دہشت گردی کے خاتمہ تک جنگ جاری رکھنے کا قصد کیا ہے۔ لیکن جنرل راحیل شریف بھی ان مقاصد میں اسی وقت کامیاب ہو سکتے ہیں جب ملک کی خارجی پالیسی اور علاقائی سلامتی کے بارے میں حکمت عملی پر نظر ثانی کرتے ہوئے واضح اور دوٹوک مقصد کے لئے اقدامات کا آغاز کیا جا سکے۔ ملک کی مجموعی پالیسی پر از سر نو غور کئے بغیر خواہ ملک کے سب لوگوں کے شناختی کارڈ کی ہر ماہ پڑتال کرنے کا نظام متعارف کروا لیا جائے اور فوج کا عزم جس قدر بھی جوان ہو، ملک ان اندیشوں اور خطرات سے نجات نہیں پا سکتا جو اسے لاحق ہیں۔

ان مسائل میں سرفہرست ملک کے اندر موجود ایسے مذہبی انتہا پسند گروہوں کے ساتھ سرکار، ریاست، فوج یا سیاسی قیادت کے تعلقات کا معاملہ ہے۔ یہ گروہ 80 کی دہائی میں اسلام اور آزادی کشمیر کے نام پر اس وقت کی فوجی آمریت کے دور میں استوار کئے گئے تھے۔ اس طرح ان مذہبی گروہوں نے افغان جہاد کی طرز پر مقبوضہ کشمیر میں جہادی تحریک چلانے کے لئے سرگرمیوں کا آغاز کیا تا کہ بھارتی حکومت اس مسئلہ پر پاکستان کے ساتھ مفاہمت پر راضی ہو جائے۔ یہ طریقہ کار کامیاب نہیں ہو سکا بلکہ بیرونی مداخلت کی وجہ سے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو بھی شک و شبہ سے دیکھا جانے لگا۔ تاہم ان مذہبی عسکری گروہوں نے جن میں لشکر طیبہ (جو اب جماعت الدعوۃ کے نام سے کام کر رہی ہے) اور جیش محمد سرفہرست تھے، نئی دہلی ، ممبئی اور اس سال کے شروع میں پٹھان کوٹ پر دہشت گردی کی کارروائیوں میں حصہ لیا۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ مملکت پاکستان کے ادارے ان کارروائیوں کی منصوبہ بندی میں شامل تھے لیکن ان گھناؤنے حملوں میں ملوث لوگوں کو بہرحال پاکستان میں عزت اور تحفظ فراہم کیا جاتا رہا ہے۔ یہ صورتحال بدستور قائم ہے۔ ان جماعتوں کے عزائم اور خیالات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جماعت الدعوۃ نے امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والے ملا اختر منصور کی غائبانہ نماز جنازہ کا اہتمام کیا ہے۔ آج ہی امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نے پاکستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو ممبئی حملوں کے ملزموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے اقدام کرنا چاہئے۔

اس حوالے سے دوسرا اہم مسئلہ افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کا معاملہ ہے۔ پاکستان کا دعویٰ ہے کہ 2014 میں آپریشن ضرب عضب شروع کرنے کے بعد سے اچھے اور برے طالبان کی تخصیص ختم کر دی گئی ہے۔ اب سب دہشت گردوں کا یکساں طور سے پیچھا کیا جا رہا ہے۔ لیکن امریکہ اور افغانستان اس دعوے کو قبول نہیں کرتے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ پاکستان نے شمالی وزیرستان میں کارروائی کی ہے اور وہاں پر موجود دہشت گرد گروہوں کا خاتمہ کیا ہے لیکن حقانی نیٹ ورک کو بدستور پاکستانی افواج کی اعانت اور سرپرستی حاصل ہے۔ اس حوالے سے مسلسل پاکستان کو متنبہ کیا جاتا رہا ہے جسے پاکستانی سیاستدان اور میڈیا امریکہ کی ’’ڈو مور‘‘ DO MORE کی پالیسی قرار دے کر مسترد کرتے رہے ہیں۔ تاہم 19 اپریل کو کابل میں ملٹری ہیڈکوارٹرز پر جان لیوا حملہ سے امریکہ کے شبہات کو تقویت ملی ہے۔ اس دہشت گردی میں 64 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے۔ امریکہ اور افغانستان کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی حقانی نیٹ ورک نے کی تھی۔ اس گروہ کا لیڈر سراج الدین حقانی گزشتہ جولائی میں ملا اختر منصور کے طالبان کا امیر بننے کے بعد نائب امیر مقرر ہوا تھا۔ اب نئے امیر مولوی ہیبت اللہ اخونزادہ نے بھی اسے اپنا نائب بنایا ہے۔ نیویارک ٹائمز اس ماہ کے شروع میں ایک اداریے میں یہ اندیشہ ظاہر کر چکا ہے کہ پاکستان، حقانی نیٹ ورک کے ذریعے افغان طالبان میں رسوخ حاصل کرتا ہے۔

امریکہ کے لئے یہ تعلقات صرف اس صورت میں پریشانی کا سبب بنتے ہیں جب پاکستان طالبان یا حقانی نیٹ ورک کے ساتھ اپنے رابطوں اور مراسم کے باوجود انہیں مذاکرات پر آمادہ کرنے میں کامیاب نہیں ہوتا۔ اور وہ بدستور اتحادی فوجوں کے خلاف برسر جنگ ہیں۔ ان حالات میں طالبان کا لیڈر ملا اختر منصور پاکستانی سرزمین پر مارا جاتا ہے اور اس کے پاس سے پاکستانی دستاویزات برآمد ہوتی ہیں اور یہ خبریں سامنے آتی ہیں کہ طالبان کا رہنما پاکستانی پاسپورٹ پر گزشتہ کئی برسوں سے ایران اور مشرق وسطیٰ کا سفر کرتا رہا ہے۔ ان حقائق کو تسلیم کرنے کے باوجود جب ملا اختر منصور کی ہلاکت پر کہا جاتا ہے کہ امریکہ نے امن کی کوششوں کو نقصان پہنچایا ہے تو پاکستان کی پالیسی کے بارے میں شبہات پیدا ہونا لازمی ہے۔

اس حوالے سے تیسرا اہم ترین مسئلہ افغان طالبان کی پاکستان میں موجودگی ہے۔ یہ پناہ گزین 30 برس سے زائد مدت سے ملک کے مختلف حصوں میں آباد ہیں۔ ان میں سے اکثر پاکستان بھر میں مختلف کاروبار بھی کرتے ہیں۔ پاکستان ان لوگوں کی حیثیت کا تعین کرنے میں ناکام رہا ہے۔ اس لئے یہ شکایت درست ہونے کے باوجود کہ افغان پناہ گزینوں کی موجودگی کی وجہ سے افغانستان سے دہشتگرد پاکستان آتے جاتے رہتے ہیں اور سرحد کے دونوں طرف تخریب کاری میں ملوث ہوتے ہیں، پاکستان کی اس بات کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی۔ کیونکہ پاکستان خود اعتراف کرتا ہے کہ اس نے افغان طالبان کے ساتھ مواصلت کا سلسلہ بحال رکھا ہوا ہے اور ان کی قیادت کے اہل خانہ بلوچستان میں مقیم ہیں۔ اس طرح پاکستان کا موقف غیر واضح اور کمزور ہو جاتا ہے۔ اسی لئے امریکہ کی طرف سے اصرار کیا جاتا ہے کہ پاکستان اگر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی میں سنجیدہ ہے تو وہ اپنے ملک میں بھی ان کی نگرانی کرے اور ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ پاکستان نے ہمیشہ اس تقاصے کا صاف جواب دینے سے گریز کیا ہے۔

جوابی ہتھکنڈے کے طور پر تحریک طالبان پاکستان کی قیادت کی افغانستان میں موجودگی اور وہاں سے پاکستان میں حملوں کا حوالہ دیا جاتا ہے یا یہ کہا جاتا ہے کہ بھارت افغانستان کی سرزمین استعمال کرتے ہوئے بلوچستان اور دیگر علاقوں میں تخریب کاری میں ملوث ہے۔ یہ شکایات درست ہونے کے باوجود ان پر اس لئے غور نہیں ہوتا کیونکہ پاکستان بھی افغانستان میں جنگ جوئی کرنے والے گروہوں کے خلاف کارروائی سے انکار کرتا ہے۔ اس کے علاوہ ٹی ٹی پی کے لیڈر جن میں اس گروہ کا سربراہ ملا فضل اللہ بھی شامل ہے، افغانستان کے ہلمند صوبے میں موجود ہیں۔ یہ صوبہ افغان طالبان کے کنٹرول میں ہے۔

یہ صورت حال تبدیل کرنے کے لئے پاکستان کو افغانستان کے حوالے سے اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کرنا پڑے گی۔ حکومت اور فوج کو مل کر ساری صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ افغان طالبان کی نئی قیادت کو کیا پیغام دینا ضروری ہے۔ اسی طرح پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین کے بارے میں سب سے پہلے حکومت کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ اس مسئلہ کو کیسے حل کرنا چاہتی ہے۔ ان پناہ گزینوں کے ہاں پیدا ہونے والی ایک نسل جوان ہو چکی ہے اور تیسری نسل پروان چڑھ رہی ہے۔ ان لوگوں کو افغانستان روانہ کرنا آسان نہیں ہو گا۔ بہتر ہو گا کہ جن افغان شہریوں کو پاکستانی شہریت دینا ضروری ہے، انہیں پاکستانی شناخت دی جائے اور باقی ماندہ لوگوں کی مناسب رجسٹریشن کر کے، عالمی اداروں کے تعاون سے ان کی واپسی کے لئے کام کیا جائے۔ البتہ اس کام کا آغاز صرف اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب افغانستان میں جنگی حالات ختم ہوں گے اور حکومت سے برسر پیکار طالبان گروہ جنگ بندی پر آمادہ ہو جائیں گے۔ پاکستان اگر طالبان کو امن پر آمادہ نہیں کر سکتا تو وقت آ گیا ہے کہ پاکستان ان عناصر سے مکمل قطع تعلق کا اعلان کرے اور پاکستان میں ان کے قیام اور آمدورفت کو روکا جائے۔

پاک فوج اگر اپنی تمام صلاحیتیں اس کام پر صرف کر سکے تو وہ دیگر کامیابیوں کی طرح یہ مقصد بھی حاصل کر سکتی ہے۔ اس صورت میں چوہدری نثار علی خان کو پاکستان کے 20 کروڑ شہریوں کےشناختی کارڈوں کی از سر نو تصدیق بھی نہیں کرنا پڑے گی۔ تاہم پاکستان اگر افغان پالیسی کو 30 سال پرانی ڈگر پر قائم رکھے گا تو علاقے اور دنیا میں اس کی خوفناک تنہائی میں اضافہ ہو گا۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 416 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

One thought on “شناختی کارڈ نہیں، افغان پالیسی پر نظر ثانی کریں

  • 10-06-2016 at 12:01 am
    Permalink

    How can i write an artical to this blog.Please send email adress of the editor to whome i can write an artical

Comments are closed.