بیگم صاحبہ


کسی سانحہ کی دل خراش ویڈیو کے ساتھ ٹی وی سکرین پر یہ الفاظ بھی ابھرتے ہیں، ”بچے نہ دیکھیں‘‘۔ 11 ستمبر کو بیگم کلثوم نواز کے انتقال کی خبر کے ساتھ وہ ویڈیو بھی کم دل خراش نہ تھی، لیکن اس کے لیے اس اہتمام کی ضرورت محسوس نہ کی گئی، ”خواتین اور کمزور دل حضرات نہ دیکھیں‘‘… لندن کے ہارلے سٹریٹ کلینک میں بیگم صاحبہ وینٹی لیٹر پر تھیں۔ ڈاکٹر آئندہ کچھ دنوں میں مریضہ کے ہوش میں آ جانے کی توقع رکھتے تھے… ٹوٹ کے چاہنے والا شوہر اپنی رفیقۂ حیات کی عیادت کے لیے لندن میں موجود تھا‘ جس کے ساتھ 47 سالہ ازدواجی زندگی مہر و وفا کی عظیم داستان تھی… لاڈلی بیٹی بھی باپ کے ساتھ وہیں تھی۔ والدین کے لیے سبھی بچے پیارے ہوتے ہیں لیکن ان میں کوئی ایک زیادہ ہی پیارا ہوتا ہے اور مریم کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی معاملہ رہا تھا۔

ادھر ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کیس میں سماعت مکمل ہو جانے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا گیا تھا۔ لندن میں موجود ”ملزم‘‘ کی درخواست تھی کہ فیصلے کا اعلان چند روز کے لیے ملتوی رکھا جائے کہ اس دوران بیگم صاحبہ کے آنکھیں کھولنے پر ان کے ساتھ ایک دو جملوں کا تبادلہ کر سکے‘ جس کے بعد اپنے مقدر کا فیصلہ سننے کے لیے وہ خود عدالت میں موجود ہو گا۔ لیکن وہ جو کہا جاتا ہے، انصاف میں تاخیر انصاف سے انکار کے مترادف ہوتی ہے، انصاف کی فراہمی میں تاخیر نہ کی گئی۔ تب وہ سات سمندر پار موت و حیات کی کشمکش سے دوچار اپنی رفیقۂ حیات کی پیشانی پر ہاتھ رکھے ہوئے تھا۔ شاعرہ کو، تپتی ہوئی پیشانی پر محبوب کے ہاتھ کے لمس سے یوں محسوس ہوا تھا، جیسے مسیحائی کی تاثیر روح تک اتر گئی ہو، لیکن یہاں مریضہ ایسے کسی احساس سے کوسوں دور تھی۔ باپ کو دس سال اور بیٹی کو سات سال قید کی سزا سنا دی گئی۔ واپس آ کر سیدھے جیل جانے کی بجائے وہیں بیٹھ رہنے کا جواز موجود تھا۔ یہاں سے ”پیغام‘‘ بھی بھیجا گیا کہ فی الحال (کم از کم الیکشن تک) وہیں مقیم رہیں لیکن باپ، بیٹی نے واپسی کا جرأت مندانہ فیصلہ کرنے میں تاخیر نہ کی۔

وطن واپسی سے پہلے اپنی عزیز ترین متاعِ ہستی سے آخری ملاقات کے لیے وہ ہارلے سٹریٹ کلینک پہنچے۔ اس نے کلثوم کو بار بار آواز دی کہ وہ اپنے ”بائو جی‘‘ کے لیے آنکھیں کھولے۔ پھر لاڈلی بیٹی کی باری تھی: ”امی! آنکھیں کھولیں۔ دیکھیں ابّو آئے ہیں‘‘۔ بیٹیاں مائوں کی خاص کمزوری ہوتی ہیں۔ ماں کسی بات پر روٹھ بھی جائے، تو خود ہی مان جاتی ہے کہ موم کے پگھلنے میں دیر کتنی لگتی ہے‘ لیکن یہاں بیٹی کی بار بار پکار بھی بے اثر رہی۔ بالآخر باپ بیٹی اپنی عزیز ترین ہستی کے لیے تندرستی کی دعائوں کے ساتھ رخصت ہو گئے۔

بیگم صاحبہ کی وفات کی خبر کے ساتھ یہی دل خراش اور جگر پاش ویڈیو تھی جو ہر حساس دل کو تڑپا گئی۔ خواتین تو ویسے بھی کچھ زیادہ ہی حساس ہوتی ہیں۔ مریم کی گرفتاری کتنی ہی غیر سیاسی خواتین کے لیے بھی گہرے اندوہ کا باعث بنی تھی۔ ان میں سلیم صافی کی والدہ بھی تھیں، جس پر سلیم نے دلگداز کالم لکھا، میری ماں کو کس نے رُلایا۔ کراچی میں ہمارے دانشور دوست نصیر سلیمی کی اہلیہ کا معاملہ بھی ایسا ہی تھا، سرگودھا کے میجر (ر) عمار یاسر نے بتایا کہ ان کی والدہ نے بھی اسے ذاتی سوگ بنا لیا تھا۔ ہمارے اپنے شہرِ جاناں ہارون آباد میں پروفیسر شاہد رشید کی والدہ کی کیفیت بھی مختلف نہ تھی۔ اور اب بیگم صاحبہ کی رحلت نے ان زخموں کو مزید گہرا کر دیا تھا۔

11 ستمبر کی دوپہر میاں صاحب نیب کورٹ میں تھے جب بیگم صاحبہ کی طبیعت بگڑ جانے کی اطلاع انہیں دی گئی… وفات کی خبر جیل میں ملی۔ پیرول پر رہائی کی درخواست نہ کرنے کا فیصلہ وہ پہلے ہی کر چکے تھے۔ بیٹی بھی اس سلسلے میں باپ کی ہم خیال تھی… چنانچہ یہ کارِ خیر شہباز شریف کو کرنا پڑا۔ بڑی بھابی نے دیور کو ہمیشہ چھوٹے بھائی جیسا پیار دیا تھا۔

اطلاعات کے وفاقی وزیر سپاٹ لہجے میں قانونی پوزیشن واضح فرما رہے تھے، پیرول پر بارہ گھنٹے کی رہائی ممکن ہے‘ جس سے یہ تاثر پختہ ہو رہا تھا کہ یہ سہولت، بیگم صاحبہ کی میت لاہور پہنچنے سے لے کر تدفین کے مراحل مکمل ہونے تک ہو گی۔ (اس سے پہلے نومنتخب حکومت کی کابینہ اپنے اوّلین اجلاس میں باپ، بیٹی اور داماد کو ECL پر ڈالنے کا فیصلہ بھی کر چکی تھی، جیل میں ہونے کے باعث جن کے بیرونِ ملک جانے کا کوئی امکان ہی نہ تھا) وزیر اطلاعات کو بھی شاید، پیرول پر رہائی کی اطلاع رات گئے ٹی وی چینلز ہی سے ملی۔ بارہ گھنٹے کی رہائی حالات کے مطابق قابلِ توسیع تھی۔ تادمِ تحریر اتوار کی شب تک توسیع مل چکی، ماضی میں ہفتوں تک توسیع کی مثال بھی موجود ہے۔ پیرول پر رہائی حکومت کی صوابدیدی وسیع القلبی اور فیاضی نہیں، بلکہ قانون کے مطابق شہری کا حق ہے۔ ڈکٹیٹر مشرف کے دور میں غداری اور بغاوت کے ملزم جاوید ہاشمی کو ان کی صاحبزادی کی شادی پر یہ سہولت فراہم کی گئی تھی۔ تب پرویز الٰہی وزیر اعلیٰ تھے، شامی صاحب ”نقطہ نظر‘‘ میں یہ کہانی بیان کر چکے کہ کس طرح رات گئے ان کی ٹیلی فون کال پر چودھری صاحب نے، اگلی صبح تک اس کا اہتمام کر دیا تھا۔ ہمیں یاد پڑتا ہے، ہاشمی صاحب کی بھانجی فضائی حادثے میں جاں بحق ہوئی تو اس کی آخری رسوم میں شرکت کے لیے بھی انہیں پیرول پر رہا کر دیا گیا تھا۔

خدا ترس بیگم کلثوم نواز نے ”الخلق عیال اللہ‘‘ والے فرمان کو ہمیشہ یاد رکھا، اور اللہ کے کنبے کے حاجت مندوں کے کام آنے میں کبھی کوتاہی نہ کی جس کے اجر میں مخلوقِ خدا کے ہر طبقے میں عزت اور احترام کی مستحق ٹھہریں۔ ان کی بیماری کا مذاق اڑانے والے کچھ بد بخت ذہنی مریضوں کی بات الگ، ان کی وفات پر سوشل میڈیا تعزیت ناموں سے بھر گیا تھا۔ ان میں ہر سیاسی نقطہ نظر کے لوگ تھے۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں بھی یہی کیفیت نظر آئی۔ اعتزاز احسن کو اللہ تعالیٰ نے ”سرِ عام‘‘ معافی مانگنے کی ہمت بھی عطا کر دی‘ جو ان کی عزت کی بحالی کا باعث بنی۔

اللہ تعالیٰ نے بیگم صاحبہ کو اعلیٰ انسانی اوصاف سے فیاضی سے نوازا تھا۔ وہ ایک کمپلیکس فری شخصیت تھیں، ”خاتونِ اوّل‘‘ ہونے کا احساس جسے چھو کر بھی نہ گزرا۔ عجز و انکساری، وضع داری و ملنساری ان کی شخصیت کے بنیادی عناصر تھے، حسبِ موقع اور حسبِ ضرورت ان میں جرأت و بہادری جیسے عظیم اوصاف بھی شامل ہو جاتے۔

پاکستان کے چوتھے ڈکٹیٹر کے دور میں، انہوں نے جس ”مردانگی‘‘ کا مظاہرہ کیا، ان دنوں میں اس کا تذکرہ ہو چکا۔ اس حوالے سے خود ان کی یادوں پر مشتمل ”جبر اور جمہوریت‘‘ کا پہلا ایڈیشن آتے ہی مارکیٹ سے غائب ہو گیا تھا۔ وہ ذاتی نمود و نمائش سے ہمیشہ دور رہیں؛ چنانچہ وطن واپسی کے ان دس برسوں میں بھی اس کی از سرِ نو اشاعت میں دلچسپی نہ لی۔

جدہ کے سرور پیلس میں فیملی بالائی منزل پر رہتی تھی۔ میاں صاحب کے مہمانوں میں بیگمات، اوپر چلی جاتیں، واپسی پر بیگم صاحبہ انہیں الوداع کہنے نیچے آتیں۔ ایک بار جنرل ضیاء الحق کے داماد ڈاکٹر عدنان مجید اپنی بیگم کے ساتھ آئے۔ عدنان نے ہم مردوں کے ساتھ ڈنرکیا، بیگم اوپر خواتین کے ساتھ رہیں۔ بیگم صاحبہ انہیں الوادع کہنے نیچے آئیں۔ انہیں بڑی محبت کے ساتھ گاڑی میں بٹھایا اور گاڑی کے سرور پیلس سے نکل جانے تک ہاتھ ہلاتی رہیں۔ یہی محبت اور چاہت جاوید ہاشمی کی صاحبزادی میمونہ کے لیے نظر آئی۔

مجھے بھی ذاتی طور پر ان کی شفقت حاصل رہی۔ کبھی آمنا سامنا ہوتا تو کسی کالم پر ناقدانہ تبصرہ بھی کرتیں۔ اپریل 2008 میں، میں جدہ سے چھٹی پر آیا ہوا تھا۔ میاں صاحب نے فیملی سمیت ناشتے پر بلا لیا۔ بیگم صاحبہ، میری اہلیہ (مرحومہ) اور بیٹی کے ساتھ خالص ”گھریلو‘‘ معاملات پر گفتگو کرتی رہیں۔ میری اہلیہ کی تدفین کے اگلے ہی روز میاں صاحب کے ساتھ تشریف لائیں (یہ ان کی وزارت عظمیٰ کا تیسرا دور تھا) کوئی ایک گھنٹہ قیام میں بیٹی کا ہاتھ تھامے رکھا اور اس کی دل جوئی کرتی رہیں۔ وزارت عظمیٰ کے اس دور میں ایک آدھ بار ملاقات ہوئی تو اس میں بیٹی کا خاص طور پر پوچھا۔ ہمارا گھر بھی ان لاکھوں گھروں میں ایک ہے، بیگم صاحبہ کی وفات کے بعد جس کے در و دیوار پر اُداسی بال کھولے سو رہی ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں