روگ کٹے بیماروں کے


سوشل میڈیا پر جناب جبار مرزا کی ایک پوسٹ نظر سے گزری ہے… ”میں ایک ایسے معاشرے سے تعلق رکھتی ہوں، جہاں اپنی بیماری کا یقین دلانے کے لیے مرنا پڑتا ہے‘‘۔

یہ فکر انگیز جملہ ہماری مایہ ناز سنگدلی کی ارفع مثال ہے۔ آج بے نظیر بھٹو کی شہادت پر اپنے کالم ”کیا بے نظیر کے علاوہ کسی نے نہیں مرنا؟‘‘ سے چند جملے یاد آئے ہیں کہ گلوبل ویلیج کی مجبوریاں بڑی ظالم ہیں‘ ورنہ ہمارا بس چلے تو چند سطری رپورٹ لکھ کر قصہ ہی پاک کر دیں اور ایک ضیاء الحقی برانڈ پریس نوٹ جاری کر کے اس کی راکھ سے ساری دنیا کو اندھا کر دیں کہ ایک عورت لیاقت باغ کے قریب اپنی گاڑی میں جا رہی تھی۔ بچوں کے چلائے گئے پٹاخوں سے ڈر کر اس کا سر اپنی گاڑی کی چھت سے ٹکرایا اور وہ اللہ کو پیاری ہو گئی۔ متوفیہ کا نام بینظیر دختر ذوالفقار علی ساکن لاڑکانہ معلوم ہوا ہے۔ پولیس نے اسے اتفاقی حادثہ قرار دے کر کیس داخل دفتر کر دیا ہے۔ …اللہ اللہ، خیر سلا۔

نصرت بھٹو کی وفات پر ایک کالم ”پردیس نہ ہوندے چنگے‘‘ میں اپنے جذبات کا اظہار ایران میں اس کے آبائی شہر ”اصفہان، نصف جہان‘‘ کی سیاحت کے دوران ایک تاریخی گنبد کے تذکرے سے کیا۔ اس گنبد کی تعمیر میں یہ خاص تکنیک اپنائی گئی ہے کہ آج بھی اس میں کھڑے ہو کر آواز لگائی جائے تو مسلسل سات مرتبہ اس کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ عرض کیا، آج ہمیں خیال آیا ہے کہ ایک گنبد پر ہی کیا موقوف، اصفہان کی مٹی کے خمیر میں یہ تکنیک موجود ہے کہ اس کی دختر نصرت بھٹوکی قربانیوں، آہوں اور چیخوں کی بازگشت ہر با ضمیر انسان کو بار بار سنائی دیتی رہے گی۔

ہم بیگم کلثوم نواز کو جمہوری جدوجہد کے میدان میں بے نظیر یا نصرت بھٹو کے ہم پلہ قرار نہیں دیتے۔ وہ برسوں افتادگان خاک کا نوحہ پڑھتے گڑھی خدا بخش کے قبرستان میں انہی کے درمیان پیوند خاک ہوئی ہیں، جہاں ہر چند سال بعد ایک اور بھٹو کی قبر کا اضافہ ہوتا آیا ہے۔ دمِ وداع ماں بیٹی نے دنیا والوں سے تو کچھ نہ کہا، البتہ اپنے پیاروں کے درمیان جا کر ضرور کہا ہو گا ”امروز خوشنودی بسیار است کہ درمیاں شماہستم‘‘ …بیگم کلثوم نواز نے ان دکھوں کا عشر عشیر بھی نہیں دیکھا۔ ماں بیٹی کو تو اپنے خاوند اور باپ کے آخری دیدار کی اجازت بھی نہ ملی اور انہوں نے سہالہ جیل میں تنہا اس کا سوئم اور پھر چہلم بھی کیا۔ آج کلثوم نواز کے پیارے اسے قبر میں اتارنے کے لیے موجود ہیں؛ البتہ جمہوریت کے لیے اس نے اپنے حصے کی جو جدوجہد کی، اسے خراج تحسین پیش نہ کرنا بخل ہو گا۔ اگر ایوب خان کے آگے مادر ملت فاطمہ جناحؒ کھڑی ہوئیں، ضیاء الحق کے جبر کے سامنے نصرت بھٹو اور بے نظیر آئرن لیڈیز ثابت ہوئیں تو پرویز مشرف کی غیر آئینی حکومت کے خلاف بیگم کلثوم نواز نے مقدور بھر قیام کیا۔ ضمیر کا تقاضا ہے کہ ایک ایسے ملک میں جہاں آمریت نے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں، وہاں اگر کوئی انسان، خصوصاً خاتون جمہوریت کی بحالی کی خاطر تکالیف برداشت کرتی ہے تو اسے سلام کرنا چاہیے۔

بیگم کلثوم نواز نے پارٹی کی قیادت اس عہد ستم گر میں سنبھالی جب ملک کا سفینہ گرداب میں تھا۔ انہوں نے بد ترین آمریت کے ان نا مساعد حالات میں مصلحت کیشی اور گریز پائی کی بجائے جمہوریت کی بحالی کا خاردار رستہ اپنایا، جب زعمائے ملت جمہوریت پر شب خون مارنے والے آمر کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے رقصِ اقتدار میں مگن تھے۔ جب جمہوریت کے ”چیمپئن‘‘ اور اس کے ثمرات سے فیض یاب ہونے والے مصلحت کیشی کے بھاری بھرکم دوشالے اوڑھے کونے کھدروں میں دبکے پڑے تھے، کلثوم نواز کی ”جوانمردی‘‘ ان کا منہ چڑا رہی تھی۔ اس دوران اس نے انصاف کا خون ہوتے بھی دیکھا اور سلطانیٔ جمہور کو عدالتوں کی راہداریوں میں رُلتے بھی۔

تین مرتبہ خاتون اول رہنے والی محترمہ کلثوم نواز اپنے شوہر کے سیاست میں ہونے کے باوجود گھریلو ذمہ داریوں تک محدود رہیں، مگر 12 اکتوبر 1999ء میں پرویز مشرف نے ن لیگ کی منتخب حکومت پر شب خون مارا تو انہوں نے ملکی سیاست میں موثر کردار ادا کیا۔ تب شریف خاندان کے مردوں کو جیل اور خواتین گھر میں قید کر دیا گیا تھا۔ اس موقع پر کلثوم نواز تمام تر پابندیوں کو توڑ کر میدان عمل میں آئیں اور آمریت کے خلاف مزاحمت اور جمہوری جدوجہد کا استعارہ بن گئیں۔ ایک مزاحمتی ریلی کے دوران ان کی گاڑی کو لفٹر کے ذریعے اٹھا کر تادیر معلق رکھا گیا مگر کوئی دبائو انہیں اپنے مشن سے ہٹانے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ ن لیگ کی حکومت کے خاتمے کے بعد پارٹی شدید داخلی بحران کا شکار تھی۔ اس کی قیادت پسِ زنداں تھی اور پارٹی میں دھڑے بندیوں اور تقسیم کا عمل جاری تھا۔ ایسے میں اس جماعت کو کسی ایسے رہنما کی ضرورت تھی، جو پارٹی کو انتشار سے بچائے اور اسے منظم کرنے کے علاوہ اسیر رہنمائوں کی واپسی ممکن بنائے۔ ان مشکل حالات میں کلثوم نواز نے پارٹی قیادت سنبھالی تو یہ ان کے لیے مشکل ترین وقت ثابت ہوا۔ انہوں نے ن لیگ کی ڈوبتی کشتی کو سہارا دینا چاہا تو ایک ناقابل یقین صورتحال کو اپنا منتظر پایا۔ راولپنڈی آئیں تو ان کا خیال تھا کہ یہاں کے لوگ نواز شریف سے اپنی والہانہ محبت نبھاتے ہوئے ان کا ساتھ دیں گے اور ان کے شانہ بشانہ سڑکوں پر ہوں گے، مگر ان کا یہ خواب چکنا چور ہو گیا۔ مصلحت کیش لیگی رہنمائوں نے ان کا فون سننے یا پیغام کا جواب دینے سے بھی گریز کیا۔ یہ وقت بیگم کلثوم نواز کی صلاحیتوں کا امتحان تھا، جس میں وہ سرخرو ٹھہریں۔

اس وقت کلثوم نواز مشرف کی غیر آئینی حکومت کے خلاف واحد مزحمتی قوت بن کر ابھریں۔ دس گھنٹے تک معلق گاڑی میں قید رہنے کے بعد ان کی گفتگو کے چند جملوں نے ان کی ہمت اور استقامت کو دنیا کے سامنے آشکار کر دیا اور وہ جرأت مند رہنما کے طور پر معروف ہوئیں۔ نوابزادہ نصراللہ خان نے ان کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا تھا کہ اس خاتون کے عزائم ظاہر کر رہے ہیں کہ یہ ڈرنے اور پیچھے ہٹنے والی نہیں ہیں۔ ان کے مخالف اور ق لیگ کے صدر میاں اظہر کا کہنا تھا کہ کلثوم نواز کا تعلق پہلوانوں کے خاندان سے ہے، اس سے کسی قسم کے ڈر اور خوف کی توقع نہ رکھیں، یہ ایسی ہی جرأت اور بہادری کا مظاہرہ کریں گی۔ بعد ازاں وہ نوابزادہ نصراللہ خان اور دیگر جمہوریت پسند رہنمائوں کے ساتھ جمہوریت کی بحالی کے لیے پوری جانفشانی کے ساتھ سرگرم عمل رہیں۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرے بارے میں یہ تاثر درست ہے کہ میں ایک گھریلو خاتون ہوں، جس کا سیاست سے کوئی سروکار نہیں، لیکن وقت آنے پر دوپٹے کو پرچم بنا لینا بھی ہماری قومی اور ملی روایت ہے۔ انہوں نے دوپٹے کو پرچم بنایا اور آمریت کے خلاف مزاحمت کا استعارہ بن گئیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ میں اپنے شوہر کی رہائی کے لیے احتجاجی تحریک چلا رہی ہوں، یہ بات بھی درست ہے لیکن درحقیقت میرا جذبہ اور مقصد ملک میں جمہوریت کی بحالی ہے۔

ذکر ہمارے سنگدل رویوں کا تھا۔ پانامہ کا قصہ چھڑا تو شریف خاندان پھر مسائل کے گرداب میں آ گیا، مگر ساتھ ہی یہ خبر بھی آئی کہ کلثوم نواز علیل ہیں۔ گزشتہ برس 17 اگست کو وہ لندن گئیں اور 22 اگست کو تشخیص ہوئی کہ وہ گلے کے سرطان میں مبتلا ہیں۔ وہ دوران علاج متعدد مرتبہ وینٹی لیٹر پر ڈالی گئیں مگر یہاں کہا جاتا رہا تھا کہ شریف خاندان ہمدردیاں سمیٹنے کے لیے ڈرامہ کر رہا ہے۔ ان کی بیماری کو جھوٹ اور بہانہ تک کہا گیا۔ ان کی بیماری کو نام نہاد عارضہ کہا جاتا رہا، جس کا مقصد شریف خاندان کے خلاف مقدمات پر عوام کی ہمدردیاں سمیٹنا اور عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرنا تھا۔ خدا ہمیں معاف کرے، ہم لوگوں نے جمہوریت کی خاطر جدوجہد کرنے والی ایک باہمت خاتون کی بیماری کا جی بھر کے مذاق اڑایا۔ اسی لیے جبار مرزا نے ان کی زبانی کہا ہے کہ میں ایک ایسے معاشرے سے تعلق رکھتی ہوں، جہاں اپنی بیماری کا یقین دلانے کے لیے مرنا پڑتا ہے۔

اب روگ کٹے بیماروں کے۔ صدمات کی طویل شب تمام ہوئی۔ پاکستانی سیاست کی ایک باہمت عورت نے ابدی وطن میں جا جھوک لگائی ہے، مگر اس کا نام ماہ و سال کے نگار خانوں میں روشن رہے گا۔

 

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں