حریت انسان کی پہچان ہے


sajid aliجب انسانی شعور نے آنکھ وا کی تو اس نے اپنے آپ کو فطرت کی بے رحم طاقتوں کے سامنے بے بس محسوس کیا۔ انسانی فکر کی معلوم تاریخ دس ہزار برس سے کم ہے۔ اس تمام عرصے میں جس فکر کو غلبہ حاصل رہا وہ جبر کا فلسفہ ہے۔ دیومالائی قصوں سے لے کر جدید سائنس تک غالب رجحان اسی طرف ہے کہ انسان کی زندگی میں جو کچھ اسے درپیش آتا ہے وہ پہلے سے طے شدہ ہوتا ہے۔ اہل مذہب کہتے ہیں کہ ایک قادر مطلق خدا ہے جو سب انسانوں کی تقدیر کا خالق ہے۔ جدید سائنس والوں کا کہنا ہے کہ یہ سب جینز کا شاخسانہ ہے۔

اہل یونان کا ایک تصور تھا جسے میزان کا نام دیا جا سکتا ہے۔ یہ ایسے بے لچک اور عالمگیر قانون سے عبارت ہے جو دیوتاو ¿ں پر بھی حاوی ہے۔ اس مبرم تقدیر سے کوئی مفر نہیں۔ یوری پیڈیس کا مشہور ڈرامہ ایڈیپس اسی نظریے کا بیان ہے کہ انسان تقدیر کے ہاتھوں بے بس ہے۔ وہ بس ایک کٹھ پتلی ہے جس کی ڈوریں کوئی اور ہلا رہا ہے۔اگر ایڈیپس کی پیدائش پر اس کی جنم پتری نہ بنوائی جاتی ، اور یہ پیش گوئی نہ ہوتی کہ یہ بچہ بڑا ہو کر اپنے باپ کو قتل کرے گا اور اپنی ماں سے شادی کرے گا، اور بچے کا باپ ڈر کر اس کے قتل کا فرمان جاری نہ کرتا بلکہ محل میں معمول کے مطابق اس بچے کی پرورش ہوتی تو شاید یہ سانحہ رونما نہ ہوتا۔ مگر تقدیر سے کون بھاگ سکتا ہے اور ہونی ہو کر رہتی ہے۔

مسلم فکر کا اگر جائزہ لیا جائے تو ہمیں دکھائی دیتا ہے کہ یہاں بھی جبر کو ہی غلبہ حاصل ہے۔ معتزلہ نے انسانی آزادی کا اثبات کرنا چاہا مگر ان کی ایک افسوسناک غلطی کے نتیجے میں ان کے تمام افکار کو رد کر دیا گیا اور قدری کا لفظ ہمارے ہاں ایک حرف دشنام کی صورت اختیار کر گیا۔اس کے بعد ہمارے متکلمین، صوفیا اور شعرا نے اسی جبر کا خوب پرچار کیا ہے۔ بعض لوگوں نے، مثلاً ابوالحسن اشعری نے نظریہ کسب کے ذریعے کسی حد تک انسان کو اپنے افعال کا ذمہ دار قرار دینے کی ناتواں سعی ضرور کی ہے۔ کسب کا نظریہ بس اس قدر ہے کہ اگرچہ سب اسکرپٹ پہلے سے تحریر شدہ ہے مگر انسان اچھی یا بری اداکاری کی بنا پر جواب دہ ہے۔ اسی بنا پرابن تیمیہ نے کسب کومحالات کی قبیل سے قرار دیا تھا۔

حافظ شیراز کا یہ شعر زبان زد عام ہے:

در کوئے نیک نامی مارا گزرنہ دادند

گر تو نمی پسندی تغییرکن قضا را

فطرت بمقابلہ تربیت کی بحث بہت پرانی ہے مگر قبول عام اسی رائے کو حاصل ہوا ہے کہ تربیت سے فطرت کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ اس باب میں گلستان سعدی ایک حکایت بہت سبق آموز ہے جس میں اس بات کو واشگاف انداز میں بیان کیا گیا ہے کہ جس کی فطرت میں برائی ہے وہ اس کا ارتکاب ضرور کرے گا اور کوئی تربیت اسے فعل بد سے باز نہیںرکھ سکتی۔ڈاکوو ¿ں کے ایک گروہ کو گرفتار کرکے بادشاہ کے سامنے پیش کیا گیا تو بادشاہ نے سب کی گردن مارنے کا حکم دے دیا۔ ان میں ایک نوجوان بھی تھا جس کی ابھی داڑھی مونچھ نہیں اگی تھی۔ وزیر کو اس پر ترس آ گیا اور اس نے بادشاہ سے سفارش کی کہ اس کی جان بخشی کر دی جائے ؛اچھی تعلیم و تربیت سے یہ سدھر جائے گا اور بدی کی راہ چھوڑ دے گا۔ بادشاہ کی رائے تو یہی ہوتی ہے کہ نااہل اوربدفطرت کی تربیت کرنا ایسے ہی ہے جیسے گنبد پر اخروٹ رکھنے کی کوشش کی جائے مگر وہ تجربے کی خاطر وزیر کی بات کو تسلیم کر لیتا ہے۔ اس بچے کو بہترین ماحول فراہم کیا جاتا ہے، بہت عمدہ استاد اس کی تعلیم اور تربیت کے لیے مقرر کیا جاتا ہے تاہم دوبرس گزرنے کے بعد وہ کچھ بدقماش لوگوں کے ساتھ مل کر وزیر کے دو بیٹو ں کو قتل کرکے، بہت سا مال لوٹ کر فرار ہو جاتا ہے۔ اس پر بادشاہ افسوس اور حسرت کے ساتھ وزیر سے کہتا ہے:

شمشیر نیک ز آہن بد چوں کند کسے

نا کس بہ تربیت نہ شود اے حکیم کس

(برے لوہے سے عمدہ تلوار کوئی کیسے بنائے۔ اے عقل مند سکھانے پڑھانے کوئی نالائق لائق نہیں ہو سکتا۔)

مسلم فکر کے بالکل ابتدائی دور میں جہم بن صفوان نے جبر کا نظریہ پیش کیا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ انسان سے فعل کا انتساب کرنا ایسے ہی ہے جیسے درخت کا پھل لانا۔ یعنی دونوں میں کسی مرضی اور ارادے کو دخل نہیں ہوتا۔ جدید مغربی فلسفے میں سپینوزا اسی نظریے کا حامل تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ اگر ایک اینٹ کو ہوا میں اچھالا جائے اور اس سے پوچھا جائے تو وہ یہی جواب دے گی کہ وہ اپنی مرضی سے حرکت کر رہی ہے۔ ہم جسے آزادی قرار دیتے ہیں وہ دراصل ہماری لاعلمی کا دوسرا نام ہے۔ ہم چونکہ اپنے اعمال کے اسباب و علل سے آگاہ نہیںہوتے اس لیے سمجھتے ہیں کہ اہم اپنی مرضی سے رو بہ عمل ہیں۔

میر تقی میر صاحب کا کہنا ہے:

ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی

چاہتے ہیں سو آپ کرے ہیںہم کو عبث بدنام کیا

نظریہ جبر کی اس تمام تر ہمہ گیر ی کے علی الرغم جدید مغرب میں نشاة ثانیہ کی تحریک کے دوران آزاد اور خود مختار انسان کا ایک نیا تصور سامنے آیا جو انسانی تاریخ کا ایک انوکھا واقعہ تھا اور اسے روایت پسندوں نے خدا کے خلاف انسان کی بغاوت کا نام دیا۔ پندرھویں صدی کے اواخر [ 1486] میں اٹلی میں جووانی پیچو نے، جو میراندولا کے نواب خاندان سے تعلق رکھتا تھا، ایک کتاب لکھی جس کا عنوان تھا: شرف انسانی پر ایک خطاب۔ اس کتاب میں خدا انسان کو خطاب کرتے ہوئے یہ کہتا ہے:

[اے آدم]میں نے تمہیں نہ تو کوئی پیشگی طے شدہ مقام عطا کیا ہے، نہ کوئی خاص جہت،نہ کوئی اعلیٰ اعزاز کیونکہ تمہیں اپنی مرضی اور منشا سے ان کا اکتساب کرنا ہے۔ دیگر مخلوقات کی فطرت پر عاید پابندیاں میرے طے شدہ قوانین کی حدود میں ہیں۔ تمہیں اپنی فطرت کا خود تعین کرنا ہے کسی جبر و اکراہ کے بغیر، اس آزادی کو استعمال کرتے ہوئے جس کی استعداد میں نے تمہیں عطا کی ہے۔ میں نے تمہیں بنایا ہے نہ سماوی نہ ارضی، نہ فانی نہ لافانی، تاکہ ایک آزاد ا ور خود مختار صناع کے مانند تم اپنے آپ کو اس صورت پر ڈھال سکو جس کو تم نے اپنے لیے خود پسند کیا ہو۔

”ایک آزاد ا ور خود مختار صناع“ یہ ہے وہ تصور جو کانٹ سے لے کر بیسویں صدی کے ان تمام فلسفیوں میں مشترک ہے جو روشن خیالی کے فلسفے کے علم بردار ہیں۔ اس تصور نے اس دعوے کی جڑ بنیاد ہلا کر رکھ دی کہ انسان کوئی مخصوص فطرت لے کر پیدا ہوتا ہے۔ فطرت تو حیوانوں کے اندر ہوتی ہے اور وہ اپنی فطرت کے مطابق زندگی گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ بھڑیے ہمیشہ سے ایک ہی طرح کی زندگی بسر کر رہے ہیں اور بھیڑوں کا وتیرہ بھی ہمیشہ سے ایک سا رہا ہے۔ نہ کسی بھیڑیے نے کبھی بھیڑ کا شعار اپنایا ہے اور نہ بھیڑ کبھی بھیڑیا بنی ہے۔ مگر انسان کے پاس ارادہ ہے اور انتخاب کی آزادی ہے اس لیے اسے اپنی راہ عمل کا تعین خود کرنا ہے اور اس کے نتائج و عواقب کا بھی سامنا کرنا ہے۔ ہمارے ہاں جنگل کے قانون کا ایک محاورہ بولا جاتا ہے حالانکہ جنگل کا کوئی قانون نہیںہوتا۔ قانون و اخلاق کا تعلق انسانی زندگی کے ساتھ ہے۔ خیر و شر ، نیکی بدی، رحم دلی اور سنگ دلی کے تصورات کا تعلق صرف اور صرف انسانوں کے ساتھ مخصوص ہے، حیوانات یا نباتات و جمادات پر ان کا کوئی اطلاق ممکن نہیں۔

کانٹ نے انسان کی خود مختاری کا نظریہ پیش کیا کہ انسان ترقی کرکے اب اس مقام پر پہنچ گیا ہے جہاں وہ اپنے ذرائع پر انحصار کرتے ہوئے علم حاصل کر سکتا ہے اور اسے کسی خارجی رہنمائی کی حاجت نہیں رہی۔ کانٹ کی اسی دلیل سے اقبال نے ختم نبوت کا اثبات کیا ہے۔ جب تک انسانیت عدم بلوغت کی حالت میں تھی اسے خارجی سہاروں کی ضرورت تھی۔مرتبہ بلوغت کو پہنچنے کے بعد اس ان بیساکھیوں کی ضرورت نہیں رہی۔

مسلم فکر میں اس اعتبار سے اقبال کو یہ شرف حاصل ہے کہ اس نے انسان کی تخلیقی آزادی کو بہت بلند آہنگ کے ساتھ بیان کیا ہے۔ اقبال کا خدا اور انسان دونوں ہی ہمہ وقت مصروف تخلیق ہیں۔ خدا کی تخلیق ماضی کا کوئی واقعہ نہیں بلکہ ہر آن فعال لما یرید خدا اپنی تخلیق میں اضافہ کر رہا ہے:

یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید

کہ آ رہی ہے دما دم صدائے کن فیکون

اور انسان بھی اپنے خلاقانہ جوہر دکھا رہا ہے۔ جبر و قدر کے مابعد الطبیعیاتی دلائل کو ایک طرف رکھیے، انسان کی گزشتہ چند ہزار سال کی تاریخ اس کی تخلیقی آزادی کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ اقبال کے نزدیک ایک ایسا وقت آتا ہے جب انسان خدا کا ہمکار بن جاتا ہے۔ انسانی زندگی تخلیق و جستجو سے عبارت ہے۔ حرکت زندگی ہے اور جمود موت کا نام ہے۔اس لیے وہ خدا سے مخاطب ہو کر کہتا ہے:

طرح نو افگن کہ ما جدت پسند افتادہ ایم

ایں چہ حیرت خانہءامروز و فردا ساختی

اقبال کی یہ فکر ہے جس پر روایت پسند حلقوںسے صدائے احتجاج بلند ہوتی رہتی ہے اور اس پر کفر کے فتاوی صادر کرتے رہتے ہیں۔ اقبال اس کے برعکس ملا کے مذہب کو نباتات و جمادات کا مذہب قرار دیتے ہیں۔ اسے تو وہ جنت بھی قبول نہیںجو آرزو اور جستجوسے تہی ہو:

گر نجات ما فراغ از جستجو ست

گور خوشتر از بہشت رنگ و بو ست

انسانی آزادی کا مطلب یہی ہے کہ اگر ہم چاہیں تو سعی و جہد سے حیات انسانی کو خوش رنگ بنا سکتے ہیں اور چاہیں تو اسے جہنم کی شکل دے ڈالیں۔ اس کا فیصلہ ہمارے اپنے ہاتھوں میں ہے۔ ہم دنیا میں جنت تو تعمیر نہیں کر سکتے مگر ہم کچھ گلستان و گلزار ضرور تعمیر کر سکتے ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments