تھر کے بچے ، چھوٹی قبریں اور گریبان


roshanشفاف صحافت کا اصول ہے کہ کوئی خبر بہت سادہ اور کسی کی تعریف و توصیف پر مبنی ہی کیوں نہ ہو ، اس کے ابلاغ سے پہلے اس کے درست ہونے کی تسلی ضرور کر لینی چاہیے ۔ اس کے برعکس اگر کسی خبر ، رائے اور تبصرے کے اظہار سے کسی فرد ، ادارے یا تنظیم کے متعلق منفی تاثر قائم ہونے کا امکان ہو تو پھرنشرو اشاعت سے قبل مزید تصدیق اور تسلی کرنا زیادہ ضروری ہو جاتا ہے…. کیا کیا جائے کہ ہمارے ہاں عام قلمکار ہی نہیں جید صحافی بھی اس طرح کے اصولوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اس بات کا احساس گذشتہ دنوں ایک نجی ٹی وی چینل کا پروگرام رپورٹ کارڈ دیکھ کر ہوا جس میں تھر کے بچوں کی اموات کے متعلق شرکاءسے رائے طلب کی گئی تھی۔ اس پروگرام سے دو دن پہلے وزیر اعظم نواز شریف غریب عوام کے لیے ایک ایسی ہیلتھ انشورنس سکیم کا اعلان کر چکے تھے جس کا ابتدائی دائرہ کار مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے حامل صوبوں پنجاب اور بلوچستان کے چند اضلاع تک محدود رکھا گیا ہے۔خیال یہی تھا کہ ٹی وی پروگرام کے شرکا تھر میں بچوں کی اموات کے لیے پیپلز پارٹی کی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرانے کے ساتھ مرکزی حکومت کے اس عمل پر بھی سوال ضرور اٹھائیں گے کہ جب پورے ملک میں تھر کے لوگوں سے زیادہ صحت کے تحفظ کی کسی سکیم سے مستفید ہونے کا حقدار کوئی دوسرا نہیں ہو سکتا تو پھر کیوں ان لوگوں تک اس سکیم کے ثمرات پہنچنے نہیں دیئے گئے جو آئے روز اپنے بچوں کی لاشیں اٹھاتے رہتے ہیں۔ مرکزی حکومت کے اس عمل کو یکسر نظرانداز کرتے ہوئے صحافت کی دنیا کے استاد سمجھے جانے والوں نے نہ جانے کیوں تھر کے سیاق و سباق میں صرف پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کو ہی تنقید کا نشانہ بنایا۔ان لوگوں کے عمل سے ایسے ظاہر ہوا جیسے سندھ حکومت کے متعلق منفی تاثر پیدا کرنے والی اپنی رائے انہوں نے تھر کی صورتحال سے وابستہ تمام پہلوﺅں کا تفصیلی جائزہ لے کر قائم نہیں کی بلکہ اس سلسلے میں صرف ٹی وی پر چلنے والے ٹکرز کی لفاظی پر اکتفا کیا۔
اکثر ٹی وی ٹکرز میں یہ بیان کیا جاتا ہے کہ تھر میں بچوں کی ہلاکتیں سندھ حکومت کی غفلت اور وہاں مناسب طبی سہولتیں فراہم نہ کرنے کی وجہ سے ہو رہی ہیں ۔ اس سلسلے میں سندھ حکومت کے ترجمان کہتے ہیں کہ تھر میں طبی سہولتوںاور دوائیوں کی کمی یا غذائی قلت کی وجہ سے نہیںبلکہ اس وجہ سے بچے مر رہے ہیں کہ ایک تو وہاںکم عمر بچیوں کی شادی کر دی جاتی ہے اور پھرکسی وقفے کے بغیر کمزور اور ناتواں بچوں کی پیدائش کا طویل سلسلہ جاری رہتا ہے۔
تھر کے بچوں کی اموات کے متعلق جب بھی خبریں جب بھی سامنے آئیں ان سے ایسے لگا جیسے کسی دوسرے مقصد اور مقام کے لیے لکھے گئے خط کے لفافے پرتھر کے بچوں کا پتہ لکھ دیا گیا ہو۔تھر میں بچوں کی اموات کے متعلق 2014 ءکے اوائل میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر پہلی خبران الفاظ میں بیان کی گئی تھی کہ ©©” تھر میں بچے قحط سے مر رہے تھے اور پیپلز پارٹی سندھ کلچرل فیسٹیول میں ناچ گانوں کی محفلیں سجا رہی تھی“۔ واضح رہے کہ بلاول نے سندھ کلچرل فیسٹیول منانے کے اعلان کے ساتھ یہ کہا تھا کہ اس میلے کے ذریعے وہ نوجوانوں کو دہشت گردی کی بجائے ثقافتی سرگرمیوں کی طرف مائل کرنے کی کوشش کریں گے ۔اس وقت ثقافتی میلے کی مخالفت کرنے والوں نے یہ پراپیگنڈہ کیا تھا کہ بلاول موہنجودڑو کے ہزاروں سال قدیم ورثے کو تباہ کرنے کے درپے ہے۔ اس طرح کی باتوں سے سندھ کلچرل فیسٹیول کو تو نہ روکا جاسکا مگر بعد ازاں تھر کے قحط کی خبروں نے بلاول کو اس میلے کے ثمرات سمیٹنے سے ضرور روک دیا۔ جاوید جبار نے اپنی تحقیقی تحریروں میں بہت کہا کہ تھر میں خوراک کا نہیں بلکہ حقائق کا قحط ہے مگر ان کی بات کسی نے نہ سنی ۔ پاکستانی محکمہ موسمیات میں ذیلی تنظیم کے طور پر قحط کی پیش گوئی کرنے والا ایک ڈائریکٹوریٹ موجود ہے مگر کسی نے بھی اس کے ماہرین کو تھر میں قحط کی حقیقت جاننے کے لیے زحمت نہ دی اورکسی کی ماہرانہ رائے کے بغیر ہی تھر میں قحط وقوع پذیر ہونے کا اعلان کر دیا۔ 2014 ءکے وسط تک میڈیا پر تھر کے قحط کا بھوت سوار رہامگر اس کے بعد دسمبر تک اس ضمن میں خاموشی چھائی رہی۔ 27 دسمبر 2014 ءکو بے نظیر بھٹو کی برسی کے موقع پر آصف علی زرداری نے تقریر میں ایک مخصوص ’بلے‘ کا ذکر کیا۔ اس تقریر کو اینٹی اسٹیبلشمنٹ کہا گیا ۔ ٹی وی چینلوں کے مباحثوں میں اس تقریر پر بہت لے دے ہوئی اور اس لے دے کے دوران ہی تھر کے بچوں کی اموات کا ذکر پھر سے شروع ہو گیا۔اس مرتبہ حیران کن طور پر قحط کی بجائے غذائی قلت کو بچوں کی اموات کا ذمہ دار قرار دیا گیا۔ یہ سلسلہ مارچ 2015 ءمیں منعقدہ سینٹ کے انتخابات تک جاری رہا۔ اس کے بعد پھر سے تھر اور وہاں کے بچوں کی اموات کو نظر انداز کر دیا گیا۔ اب دوبارہ تھر کے بچوں کی اموات کا ذکر ڈاکٹر عاصم کی خبروں کے جلو میں سامنے آیا ہے ۔ کہا جارہا ہے کہ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کی تمام تر توجہ جب اپنے بد عنوان لوگوں کو بچانے پر رہے گی تو تھر میں ہونے والی ہلاکتوں کی طرف اس کا دھیان کیسے جائے گا۔
تھر کے بچوں کی اموات کی خبریں پہلی مرتبہ سامنے آنے پر جب لاہور سے ٹی وی چینلوں کی رپورٹنگ ٹیمیں سندھ کی طرف روانہ ہونا شروع ہوئیں تو راقم نے داتا کی نگری کے کچھ قبرستانوں میں چھوٹی چھوٹی تازہ قبروں کی گنتی کر کے یہ جاننے کی کوشش کی تھی کہ جس شہر میں نہ قحط ہے نہ غذائی قلت وہاں بچوں کی اموات کی شرح کیا ہے۔ یقین کیجئے کہ صرف دس قبرستانوں میں موجود تازہ چھوٹی قبروں سے یہ اندازہ ہو گیا تھا کہ اس معاملے میں تھر بہت پسماندہ ہونے کے باوجود بھی لاہور جیسے خوشحال شہروں سے بہت پیچھے ہے۔ پھر اس اندازے کی تصدیق الائیڈ ہسپتال کے ایم ایس راشد مقبول کی اس رپورٹ سے بھی ہوئی جس میں بتایا گیا تھا کہ فیصل آباد جیسے صنعتی شہر کے جدید ترین ہسپتال میں 2013ءکے دوران 12 سال تک عمر کے 3000 بچوں کی اموات واقع ہوئی تھیں۔ اسی طرح سرگودھا کہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں دسمبر 2014 اور جنوری2015 کے دو مہینوں میں مرنے والے بچوں کی تعداد 100 سے بھی زیادہ تھی۔
اس پس منظر میں غور کیجئے کہ جو صحافی 19638 مربع کلومیٹر کے وسیع و عریض رقبے پر تھر کے بکھرے ہوئے صرف 13 لاکھ پسماندہ ترین لوگوں کے بچوں کی اموات پر اپنی ضرورت کے مطابق وقفے وقفے سے جذبات کا اظہار شروع کرتے رہتے ہیں کیاکبھی انہوں نے اپنے گریبانوں میں جھانک کر دیکھا ہے کہ لاہور، فیصل آباد اور راولپنڈی میں مرنے والے ہزاروں چھوٹے بچوں کے لیے ان کا جذبہ سرد کیوں ہے ؟آخر کس جذبے کے تحت انہوں نے قائم علی شاہ اور ان کی حکومت کے متعلق منفی تاثر پیدا کرنے کو ہی اپنی زندگی کا مقصد بنا رکھا ہے؟


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “تھر کے بچے ، چھوٹی قبریں اور گریبان

Comments are closed.