ونڈو شاپنگ


naseer nasirکبھی کبھی جب میرا دل
تنہائی سے بھر جاتا ہے
تو مَیں، دنیا، تیری جانب
کچھ بھی لینے چل پڑتا ہوں
تیرے بازار میں دنیا
ریستوران ہیں، اونچے اونچے ہیبت ناک پلازے ہیں
سہ جہتی فلموں والے سنیما گھر ہیں
شاپنگ مال ہیں
شاپنگ مال جہاں پر
ایک ہی چھت کے نیچے
شیلفوں، ریکوں میں ہر چیز قرینے سے رکھی ہے
ہاتھ بڑھاؤ، لے لو
جو چاہو، جتنا چاہو
رکھ لو مال ٹرالی میں
جتنا جیب اجازت دیتی ہو

دنیا، تیرے دل میں پتھر کی آنکھیں ہیں
جو ان شیشوں سے، شو کیسوں سے جھانکتی رہتی ہیں
جن میں مجھ جیسوں کے خواب رکھے ہیں
جینے مرنے کے اسباب رکھے ہیں
ملکوں اور زمینوں کی ہر جنس پڑی ہے
افلاک، ستارے، مہتاب رکھے ہیں
تیرے ظرفاب میں دنیا
نیلی، پیلی، سرخ، سنہری
کتنے رنگوں کی اسماک سجی ہیں
کتنے سورج زیرِ آب رکھے ہیں
کچھ چیزوں پر سیل لگی ہے
کچھ کی قیمت پوری ہے
لیکن ہر خواہش کی تکمیل ادھوری ہے

تیری “سٹاپ اینڈ شاپ” میں دنیا
میرے مطلب کی ایک بھی چیز نہیں
مجھ کو تو یہ بھی معلوم نہیں کیا لینے آتا ہوں
دنیا! تجھ کو دیکھ کے واپس آ جاتا ہوں!!

 


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “ونڈو شاپنگ

  • 28-05-2016 at 10:22 pm
    Permalink

    ونڈو شاپنگ نہایت خوبصورت علامت ہے ایک ایسا عمل جسکے تحت ایک مفلس و قلاش شخض فروشگاہ یا نمایش گاہ میں رکھی گئی نوع بہ نوع اشیاء کو فقط دیکھتا ھے۔۔۔۔اور انہیں خریدنے کے بارہ میں کبھی اسے خیال بھی نہیں آتا۔۔۔۔نظم نگار نے اس نظم میں اسی مرکزی خیال کا بھرپور اظہار کرکے اپنے فن و ھنر کے جوھر دکھائے ہیں ۔۔۔
    دنیا واقعی ایک وسیع مغازہ یا بہت بڑی دکان ھے جس میں سے ھر کوئی اپنی بضاعت کے مطابق حظ اٹھاتا ھے اگر مبالغہ نہ سمجھا جائے تو شاید ، میں نے اردو میں اس سے بڑی کوئی نظم نہیں پڑھی ۔۔
    نظم نگار نے اس دنیا کو شاپنگ مال کہا ھے ۔۔جسطرح ایک شاپنگ مال میں میں رکھی گئی نوع بہ نوع اشیا کو دیکھنا تو ھر امیر و غریب کے لئے روا ھے لیکن کچھ خریدتا تو کوئی امیر ھی ھے۔۔۔
    ۔۔۔ اس طرح اس نظاروں سےبھری دنیا سے مشاہداتی حظ اٹھانا بھی کسی کسی کو نصیب ھوتا ھے۔۔۔نظم نگار نے بڑے ھی نرم و ملائم لہجے میں “شاپنگ ونڈو”
    کے اس لطیف خیال کو ایک بڑی نظم کے ذریعے اردو دنیا کو متعارف کرایا ھے۔۔۔
    مختلف افراد کی توفیقات و طبائع کے مطابق انکی استغناو تحریص اور اجباری و اختیاری ملی جلی کیفیتوں کا خوبصورتی سے اظہار کردیا ھے۔۔۔اور “شاپنگ ونڈو” کے مرکزی خیال کو بطور احسن برتا ھے
    جسطرح اس شاپنگ مال کے ایک ھی چھت کے نیچے ۔۔۔ شیلفوں میں سلیقے اور قرینے سے سجا کر رکھی گئی نوع بہ نوع قیمتی اور نفیس ترین اشیا موجود رہتی ہیں اسی طرح اس چرخ نیلی فام کے نیچے قدرت نے اپنے حسن و جمال کے خزانوں کو کو کئی مظاھر کی شکل میں بکھیر کر رکھا ھے۔ بیشک
    ھر کسی کی خرید ادکی بضاعت کے مطابق ھوتی ھے۔۔

    شاپنگ ونڈوز سے مراد پنجرے میں رکھی گئی نمائشی چیزوں کو اگر چہ بہت سے لوگ خرید نہیں سکتے لیکن وہ ان نعمتوں کے نظارہ سے اپنے دلوں کو تسکین پہنچانتے ہیں۔۔ ایسی صورت انکے لئے یہ شاپنگ مال۔۔۔فروشگاہ کی بجائے نمایش گا بن جاتا ھے۔۔
    ظاھر ھے نمایش گاہ میں رکھی گئی چیزوں کو کوئی خریدنے کی نیت سے نہیں دیکھتا بلکہ انکے جمال و زینت کے پہلوں کو دیکھتا ھے اور اپنے ذوق کو تسکین پہچاتا ھے۔۔
    اسطرح پہلی ہی قرائت میں رم جھم معانی برسنا شروع ھوجاتے اور م دھنک رنگ مفاھیم ھماری خیالی افق پر ظاھر ھونے لگتے ہیں۔۔۔۔۔۔
    جاری۔۔۔

  • 23-06-2016 at 11:11 pm
    Permalink

    شکریہ عبدالغنی صاحب!

Comments are closed.