انہیں قدرت نے بنایا ہی ڈیم بنانے کے لئے ہے


علامہ اقبال نے فرمایا ہے کہ نہیں ہے چیز نکمی کوئی زمانے میں، کوئی برا نہیں قدرت کے کارخانے میں۔ ہر شے کوئی نہ کوئی مقصدِ حیات رکھتی ہے۔ وہ مقصد اس کی فطرت میں بھی شامل ہوتا ہے اور اس کی زندگی اسی کے گرد گھومتی ہے۔ ہم آج ایک ایسی ہی ہستی کی بات کریں گے جس کا مقصد حیات صرف ڈیم بنانا اور اس کے بعد ادھر ایک کٹیا بنا کر رہنا ہوتا ہے۔ اس مقصدِ حیات میں کامیابی کے لئے وہ ہستی خود سے سینکڑوں گنا بڑی رکاوٹوں کو بھی ڈھیر کر دیتی ہے۔ دشمنوں سے بھی بچ نکلتی ہے۔ بالآخر وہ بہت بڑا ڈیم بنانے میں کامیاب ہو جاتی ہے۔

ہم بات کر رہے ہیں لدھر کی۔ لدھر کی یہ قسم جسے انگریزی میں بیور کہتے ہیں، امریکہ اور یورپ میں پائی جاتی ہے۔ لدھر بظاہر ایک چھوٹا سا جانور ہے۔ لیکن سینکڑوں فٹ اونچے درخت کو ایک لدھر تن تنہا گرا سکتا ہے تاکہ ڈیم بنا سکے۔ لدھر سارا دن ڈیم بنانے میں مصروف رہتے ہیں۔ جب ڈیم بن جاتا ہے تو پھر اس کے اندر لکڑی کی کٹیا بنانا شروع کر دیتے ہیں۔ اس کے بعد وہ ڈیم کا پہرہ دیتے ہیں اور جیسے ہی کسی جگہ ڈیم کو نقصان پہنچے تو دیوانہ وار ادھر پہنچ کر ڈیم کی مرمت میں مصروف ہو جاتے ہیں۔

بیور دنیا کا دوسرا سب سے بڑا چوہا ہے۔ انگریزی میں تو اسے بیور کہا جاتا ہے مگر اردو میں اس کا ترجمہ بھی وہی کیا جاتا ہے جو اوٹر کا، یعنی لدھر یا اود بلاؤ۔ یہ نیم آبی مخلوق ہے اور ڈیم، نہریں اور کٹیا بنانے کے لئے مشہور ہے۔ اس کی چوڑی دم ہوتی ہے جس سے یہ چپو کا کام لے سکتا ہے۔ اگر کوئی دشمن دکھائی دے جائے تو یہی دم پانی میں اس زور سے مارتا ہے کہ دور دور تک آواز جاتی ہے اور تمام لدھر کچھ مدت کے لئے زیر آب چلے جاتے ہیں۔ اس قابلِ فخر دم کے علاوہ اس کے پنجے جھلی دار ہوتے ہیں جو اسے تیرنے میں مدد دیتے ہیں۔ یہ اپنی زمین پر تو نہایت ہی سست لدھڑ ہوتا ہے لیکن پانی کا نام آتے ہی اس کی پھرتیاں دیکھنے کے لائق ہوتی ہیں۔

اپنی کالونی بسانے کو یہ دریا یا چشمے پر کوئی مناسب جگہ تلاش کرتے ہیں۔ اس کے بعد بڑے چھوٹے درخت کاٹ کر ادھر ڈیم کا پشتہ بنانے کے لئے لاتے ہیں۔ لدھر درخت کاٹتے کیسے ہیں؟ ان کے دانتوں میں لوہا موجود ہوتا ہے۔ یہ دانت ساری عمر اگتے رہتے ہیں اور خود بخود تیز ہوتے رہتے ہیں۔ یعنی یہ کاٹ کھانے پر اتر آئیں تو کسی کو نہیں بخشتے۔ یہ بڑے سے بڑا درخت اپنے ان چار لوہے کے دانتوں کی مدد سے گرا سکتے ہیں۔

یہ ننھی سی جان سینکڑوں فٹ لمبا درخت اٹھا کر ڈیم کی لوکیشن تک تو لانے سے قاصر ہوتی ہے، مگر جہاں عزم ہو وہاں وزن بھلا کبھی رکاوٹ بنتا ہے؟ یہ درخت سے ڈیم تک نہر بنا لیتے ہیں اور درخت کو پانی میں کھینچ کر پشتہ بنانے کے مقام تک لے آتے ہیں۔ پہلے عمودی رخ پر درخت گاڑے جاتے ہیں۔ اس کے بعد افقی رخ پر پتھر اور لکڑی کی چھپٹیاں رکھ کر ان کو گارے سے باندھا جاتا ہے۔ یہ پشتے پانی کا بہت زیادہ دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

جب ڈیم بن جاتا ہے اور ادھر مناسب مقدار میں گہرا پانی جمع ہو جاتا ہے تو پھر یہ اپنی لاج یعنی کٹیا بنانے کی فکر کرتے ہیں۔ کٹیا بنانے کے لئے پانی کے بیچ میں دوبارہ لکڑیاں اکٹھی کی جانے لگتی ہیں۔ لکڑی اور پتھر کا ایک کئی گز اونچا ڈھیر بنا لیا جاتا ہے۔ اس ڈھیر کے درمیان میں کچھ خالی جگہ چھوڑ دی جاتی ہے جب ڈھیر بن جاتا ہے تو پھر اس کی کیچڑ سے لپائی کی جاتی ہے اور یہ کٹیا بالکل سیل بند ہو جاتی ہے۔ گارا بالکل پتھر کی طرح سخت ہو جاتا ہے۔

گارے کی یہ پرت کٹیا کو موسم کی شدت سے بھی محفوظ رکھتی ہے اور دشمنوں سے بھی۔ اس کے بعد لدھر پانی کے نیچے اس کی بنیاد تک جاتے ہیں اور ایک سرنگ بنا کر نیچے ہی نیچے کٹیا میں جانے کا راستہ بنا لیتے ہیں۔ لدھروں کی کٹیا میں عام طور پر چار بڑے اور چھے سات بچے رہتے ہیں۔

اب یہ اس کٹیا میں اپنے بچوں سمیت محفوظ رہ سکتے ہیں۔ لدھر کے دشمن بھیڑیے، گیدڑ اور ریچھ ہوتے ہیں۔ ڈیم میں کٹیا بننے کے بعد یہ شکاری جانور پہلے تو پانی میں تیر کر اس کٹیا تک پہنچنے میں دشواری محسوس کریں گے۔ بفرض محال پہنچ بھی گئے تو گارے اور لکڑی کے مضبوط قلعے میں شگاف کر کے اندر پہنچنا ان کے لئے ممکن نہیں۔ پانی کے نیچے موجود سرنگ کے ذریعے اندر پہنچنا بھی ناممکن ہے۔ یوں لدھر اپنے گھر میں دشمنوں سے محفوظ رہتے ہیں۔ لدھروں کی موجودگی میں ڈیم کو نقصان پہنچانا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔ یہ پورا ڈیم راتوں رات دوبارہ بنا سکتے ہیں۔

لدھروں کے اس ڈیم کے بے شمار فائدے ہوتے ہیں۔ ان کی وجہ سے جگہ جگہ تالاب بن جاتے ہیں جن کا دوسرے جانور اور پودے فائدہ اٹھاتے ہیں، یہ سیلابوں سے بچاتے ہیں اور زمین کے نیچے واٹر ٹیبل برقرار رکھتے ہیں۔ انسانوں کو اس مثالی جانور سے سیکھنا چاہیے کہ ڈیم کس طرح بناتے ہیں اور کس طرح ڈیم اور اپنی لاج کی حفاظت کرتے ہیں۔

پاکستان کی بدقسمتی ہے کہ یہ پاکستان میں نہیں پائے جاتے۔ ہو بھی تو ایک آدھا دانہ ہی ہو گا جو کسی نے شوق سے پال رکھا ہو گا۔ اگر ان کو بڑے پیمانے پر پاکستان میں لا کر دریاؤں اور ندی نالوں میں چھوڑ دیا جائے تو خود بخود بے شمار ڈیم بن جائیں گے۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ یہ لدھر سرد ترین مقامات پر بھی رہ سکتا ہے۔ اس لئے اگر اسے شمالی علاقہ جات میں چھوڑ دیا جائے تو ہمیں کچھ کرنے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گا اور یہی لدھر سارے ڈیم بنا دے گا اور ان قدرتی ڈیموں پر کوئی سیاسی تنازع بھی کھڑا نہیں ہو گا۔ انہیں قدرت نے بنایا ہی ڈیم بنانے کے لئے ہے۔ ہمیں اس قدرتی تحفے کا فائدہ اٹھانا چاہیے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1010 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar