ایک تحریر مولانا شیرانی کی حمایت میں


hashir ibne irshadایک طوفان بپا ہے۔ جسے دیکھو، چھری، تلوار، تیر، ٹوکہ برہنہ کیے اسلامی نظریاتی کونسل پر حملہ آور ہے۔ کوئی طنز کے زہریلے بان چلا رہا ہے تو کوئی اشتعال انگیز گولہ باری میں مصروف ہے۔ شیرانی صاحب زیادہ بولتے نہیں ہیں اور جب بولتے ہیں تو کسی کو سمجھ نہیں آتی کہ بول کیا رہے ہیں ۔ ہماری نظر میں ایک مسلمہ معصومیت کے پیکر ہیں اور یار لوگوں نے ان کی اس صلح جوئی سے شہہ پا کر انہیں نشانے پر رکھ لیا ہے۔ ہر کوئ اپنی تشریح اور تفسیر جھاڑ رہا ہے اور یہ ثابت کرنے پر مصر ہے کہ یہ نابکار ملا عورت کے حقوق، اس کی آزادی اور اس کی عزت نفس کے دشمن ہیں۔

ہوا کیا ہے۔ بس ایک بل ہی تو پیش کیا ہے۔ آپ کو یاد ہو گا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کے اس بل کی کہانی شروع ہوئی تھی اس قانون سے جو عورتوں پر تشدد کے خلاف وجود میں آیا تھا ۔ تو آج کی بحث اسی نکتے تک محدود رکھتے ہیں۔ باقی شقیں یوں بھی جما جنج نال جیسی ہیں اور بہت سوں کا تعلق نہ اسلام سے ہے نہ نظریے سے اور نہ ہی عقل سے تو ان پر بات کر کے وقت کیوں ضائع کیا جائے ۔

ہمارے کچھ بہت محترم دوستوں نے جب “ہلکی پھلکی مار” پر اپنے غم و غصے کا اظہار شروع کیا تو ہم نے ڈرتے ڈرتے ایک دو سے پوچھا کہ بھائی اتنا دکھ کاہے کا لگا بیٹھے ہو۔ انسانیت کا درد انگڑائی کے کر اچانک جاگا ہے تو کیوں ۔ ہمارا خیال تھا کہ کوئی انسانی شعور کی پامالی کا رونا سننے کو ملے گا، کوئی فیمینزم کے اسلوب گنوائے گا ۔ کوئی جدید دنیا میں پتھر کے دور کی روایتوں کے احیاء پر انگشت بدنداں نظر آئے گا ۔ کوئی عقل و خرد کے پیمانوں میں ان سفارشات کو تولے گا ۔ کوئی مساوات انسانی کی مثال دے گا تو کوئی انسانی رشتوں کی حرمت روندے جانے پر دو آنسو ٹپکائے گا پر کہاں صاحب ۔ وہ بات جو فسانے میں مذکور تھی ہی نہیں سب کو بس وہ ناگوار گزری ہے ۔ ہر کوئی اس بات پر گرج رہا تھا کہ ملا نے اسلام کا نام بدنام کر دیا ہے۔ ہر کسی کو یہ کچوکے لگ رہے تھے کہ قرآن کی من مانی تشریح کی جا رہی ہے۔ ہر ایک اسلام کی امن پسند روح اور اس میں عورت ذات کو دئیے گئے حقوق کو مجروح کرنے پر شعلہ بجاں تھا ۔

ایک نے چلا کر کہا ” یہ کون سے قرآن میں لکھا ہے کہ عورت پر ہاتھ اٹھاو”

ایک اور صاحب جنہیں تفسیر اور ترجمے کے فرق کا بھی معلوم نہ تھا، برسے ” ارے، یہ مذہب کی من مانی تشریح نہیں چلے گی”

ایک پر تیقن آواز آئی ” ارے ایسے تھوڑی مار سکتے ہیں ۔ اس کی کچھ شرائط ہیں ۔میں نے جو تفسیر پڑھی ہے اس میں ایسا تو نہیں لکھا”

اس پر ہم سے رہا نہ گیا اور اپنے حقیر بے مایہ علم میں اضافے کی خاطر ہم پوچھ بیٹھے کہ بی بی کون سی تفسیر کا ذکر خیر ہے ۔ تس پہ جواب ملا کہ مجھے مفسرین کے نام یاد نہیں رہتے۔

ہماری شامت اعمال کہ ہم دبکے ہونے کے بجائے پوچھ بیٹھے کہ اچھا وہ شرائط کیا ہیں جن پر ہلکی پھلکی مار جائز ٹہرتی ہے تو انتہائی تیقن سے جواب ملا کہ اگر بیوی کسی اور مرد کے ساتھ جنسی تعلق بنا لے تب تھوڑا بہت مار سکتے ہیں پر پھر بھی چہرے پر نہیں مارتے ۔

چونکہ ناموں کے معاملے میں یادداشت کمزور ہونے کا اعتراف پہلے ہی ہو چکا تھا اس لئے ہم نے یہ تو نہیں پوچھا کہ یہ نادر رائے کس مفسر کی ہے پر یہ استفسار کر بیٹھے کہ زنا بالرضا کی سزا حدیث میں رجم سے کم نہیں ٹہرتی اور اہل قرآن کبھی سو کوڑوں پر اور کبھی موت تک قید تنہائی سے کم پر راضی نہیں ہوتے اور آپ کہتی ہیں کہ دو چار چپتیں سر پر لگا دی جائیں تو وہ کافی ہیں ۔ کچھ زیادہ ہی رعایتی پیشکش نہیں ہو گئ ؟

اس کے بعد مکالمہ کچھ ناقابل تحریر موڑ مڑ کر پٹری سے نیچے اتر گیا اور ہم اپنی راہ لگ لیے اور وہ اپنی راہ ۔

ایک اور معترض نے فرمایا کہ میرا اعتراض قرآن کی غلط تشریح پر ہے جس کے ذریعے عورتوں کو بیجا دبایا جا رہا ہے۔ ابھی ان کا اعتراض منہ میں ہی تھا کہ ہمنواؤں کی ایک پوری ٹولی تالیاں بجاتی اسی مصرع کی گردان کرتی امڈ آئی ۔ اب ہمنواؤں کو کون روکے ۔ ایک مصرع اٹھانے کو مل جائے اور حاضرین واہ واہ کے ڈونگرے بھی برسا رہے ہوں تو عرش بریں سے پہلے سفر تمام نہیں ہوتا اور یاد رکھئے کہ براق اس سفر میں مددگار نہیں ہوتا اس لئے وقت کی کوئی قید نہیں ہے۔

اس شور قیامت میں معترض اول کے بالیں ہم نے کہا کہ صحیح تشریح کا کوئی حوالہ تو عنایت کر دیجئیے لیکن شور اتنا تھا کہ ان کو سنائی نہیں دیا ۔ ایک ہمنوا قابو آیا تو اسے محفل سے تھوڑا دور لے گئے، اس کے منہ پر ہاتھ رکھا اور سورہ النساء کی آیت 34 کی تشریح نذر کی۔ انہوں نے سنا پھر منہ سے ہاتھ ہٹوایا اور گھور کر ہمیں آنکھوں سے سالم چبانے کے بعد کمال بے نیازی سے کہا ” لیکن یہ اصل میں اس طرح نہیں ہے۔ آپ کو کیا پتہ درست تشریح کا”

ہمیں لگا ہم ہی نے ساری عمر جھک ماری ہے۔ ساری عمر غلط تراجم اور تفاسیر پڑھتے رہے اور غلط مفہوم اخذ کرتے رہے ۔ پتہ نہیں مفاہیم کو کس طرح دیکھنا چاہئے تھا اور ہم کس طرح دیکھتے رہے۔ سر نہیہوڑائے محفل سے نکلے اور سیدھے میاں انٹرنیٹ اور جناب گوگل سے رجوع کیا ۔ ارادہ تھا کہ آج ڈھونڈ کر وہ تشریحات نکالیں گے جن کے سہارے ہمارے عالم فاضل دوست مولانا شیرانی کی بھد اڑانے پر تلے ہوئے ہیں ۔ اپنی چھوٹی اسٹڈی میں پہلے ہی ڈھنڈیا ناکام ہو چکی تھی اس لئے عالمی علمی خزانے سے رجوع کرنا واحد حل تھا۔

اس بات کو کئی پہر گزر گئے ہیں ۔ درجنوں تراجم، تفاسیر اور تشریحات کنگھال ڈالیں ۔ تنگی داماں ہے اس لئے سب آپ سے بانٹ تو نہیں سکتا پر یقین رکھئے بات ہر جگہ ایک سی ہے۔ یقینا میری ناقص سمجھ کا ہی قصور ہے جو اس میں سے کوئی جدید مفہوم برآمد نہیں کر پایا اور چونکہ مولانا شیرانی کی فہم پر تو فتوی عام پہلے ہی موجود ہے اس لئے شاید وہ بے چارے بھی دور کی کوڑی نہیں لا سکے۔ اب اس میں جتنا وہ قصوروار ٹہرتے ہیں اتنا ہی قصوروار میں اپنے کو بھی پاتا ہوں۔ چلئے کچھ حوالے دیکھ ہی لیتے ہیں پھر بتائیے گا کہ اعتراض متن پر ہے کہ تفہیم پر ۔ لیکن یہ یاد رکھئے گا کہ متن پر اعتراض تو مملکت خداداد میں غیر قانونی ہی نہیں، قابل گردن زنی بھی ہے۔ لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام ۔ میں بہرحال یہ واضح کرتا چلوں کہ آپ لاکھ مجھے لنڈے کا لبرل سمجھیں لیکن یہ جسارت میرے بس میں تو نہیں کہ میں اپنی مرضی کی تشریح کروں ۔ لنڈے کے باقی لبرل اپنی شرح کے خود ذمہ دار ہیں ۔ میں اسی لئے مولانا شیرانی کے کیمپ میں کھڑا ہوں ۔

 تو حضور یہ رہے حوالہ جات۔ دیکھیں کہ آیت مذکور کے بارے میں تفسیر ابن کثیر کیا کہتی ہے۔

ابن کثیر کا ترجمہ کچھ یوں ہے

” مرد عورتوں پر حاکم ہیں اس واسطے کہ الله نے ایک کو ایک پر فضیلت دی ہے اور اس واسطے کہ انہوں نے اپنے مال خرچ کیے ہیں پھر جو عورتیں نیک ہیں وہ تابعدار ہیں مردوں کے پیٹھ پیچھے الله کی نگرانی میں (ان کے حقوق کی) حفاظت کرتی ہیں اور جن عورتو ں سےتمہیں سرکشی کا خطرہ ہو تو انہیں سمجھاؤ اور سونے میں جدا کر دو اور مارو پھر اگر تمہارا کہا مان جائیں تو ان پر الزام لگانے کے لیے بہانے مت تلاش کرو بے شک الله سب سے اوپر بڑا ہے”

اس کے بعد حدیث کے ماخذ سے ابن کثیر اس کی شرح کچھ یوں کرتا ہے

” صحیح مسلم میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حجتہ الوداع کے خطبہ میں ہے کہ عورتوں کے بارے میں فرمایا اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہا کرو وہ تمہاری خدمت گزار اور ماتحت ہیں تمہارا حق ان پر یہ ہے کہ جس کے آنے جانے سے تم خفا ہو اسے نہ آنے دیں اگر وہ ایسا نہ کریں تو انہیں یونہی سے تنبیہہ بھی تم کر سکتے ہو لیکن سخت مار جو ظاہر ہو نہیں مار سکتے تم پر ان کا حق یہ ہے کہ انہیں کھلاتے پلاتے پہناتے اڑھاتے رہو۔ پس ایسی مار نہ مارنی چاہیے جس کا نشان باقی رہے جس سے کوئی عضو ٹوٹ جائے یا کوئی زخم آئے”

ابن کثیر ہی کا ایک اور حوالہ کچھ یوں ہے

” حضرت اشعث رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ایک مرتبہ میں حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مہمان ہوا اتفاقاً اس روز میاں بیوی میں کچھ ناچاقی ہو گئی اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی بیوی صاحبہ کو مارا پھر مجھ سے فرمانے لگے اشعث تین باتیں یاد رکھ جو میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سن کر یاد رکھی ہیں ایک تو یہ کہ مرد سے یہ نہ پوچھا جائے گا کہ اس نے اپنی عورت کو کس بنا پر مارا؟ دوسری یہ کہ وتر پڑھے بغیر سونا مت اور اور تیسری بات راوی کے ذہن سے نکل گئی (نسائی)”

اسی آیت کا ترجمہ جناب احمد رضا خان بریلوی اس طرح کرتے ہیں

“مرد افسر ہیں عورتوں پر اس لیے کہ اللہ نے ان میں ایک کو دوسرے پر فضیلت دی اور اس لئے کہ مردوں نے ان پر اپنے مال خرچ کیے تو نیک بخت عورتیں ادب والیاں ہیں خاوند کے پیچھے حفاظت رکھتی ہیں جس طرح اللہ نے حفاظت کا حکم دیا اور جن عورتوں کی نافرمانی کا تمہیں اندیشہ ہو تو انہیں سمجھاؤ اور ان سے الگ سوؤ اور انہیں مارو پھر اگر وہ تمہارے حکم میں آ جائیں تو ان پر زیادتی کی کوئی راہ نہ چاہو بیشک اللہ بلند بڑا ہے”

ہمارے اکثر دوست مودودی صاحب کے بہت معتقد ہیں اور ان کے خیال میں مودودی صاحب کی تفہیم عقل ودانش کی ہر کسوٹی پر کھری اترتی ہے ۔ تو ان کا ترجمہ بھی دیکھ لیتے ہیں ۔

“مرد عورتوں پر قوام ہیں، اس بنا پر کہ اللہ نے اُن میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے، اور اس بنا پر کہ مرد اپنے مال خرچ کرتے ہیں پس جو صالح عورتیں ہیں وہ اطاعت شعار ہوتی ہیں اور مردوں کے پیچھے اللہ کی حفاظت و نگرانی میں اُن کے حقوق کی حفاظت کرتی ہیں اور جن عورتوں سے تمہیں سرکشی کا اندیشہ ہو انہیں سمجھاؤ، خواب گاہوں میں اُن سے علیحدہ رہو اور مارو، پھر اگر تم وہ تمہاری مطیع ہو جائیں تو خواہ مخواہ ان پر دست درازی کے لیے بہانے تلاش نہ کرو، یقین رکھو کہ اوپر اللہ موجود ہے جو بڑا اور بالا تر ہے”

تشریح طویل ہے لیکن مودودی صاحب کے اس ضمن میں ارشاد کردہ چند جملے نقل کئے دیتے ہیں

“بعض عورتیں ایسی ہوتی ہیں جو پٹے بغیر درست ہی نہیں ہوتیں ۔ ایسی حالت میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہدایت فرمائی ہے کہ منہ پر نہ مارا جائے، بے رحمی سے نہ مارا جائے اور ایسی چیز سے نہ مارا جائے جو جسم پر نشان چھوڑ جائے”

اب آپ مجھے ملا کہئے ۔ عورتوں کا دشمن گردانیں ۔ جاہل کا خطاب دیں یا احمق کہیں۔ میں کہوں گا وہی جو دکھتا ہے۔ اس آیت کے متن سے یہ صاف ظاہر ہے کہ مارنے کا حق مرد کے ہی پاس ہے ۔ کس بات پر مارنا ہے یہ حق بھی اس کے پاس ہے ۔ عدالت کا کوئی عمل اور دخل نہیں ہے اس فیصلے میں ۔ مفسرین نے مار کے طریقے بھی بیان کر دئیے ہیں ۔ ہڈی وڈی توڑنے سے بھی منع کر دیا ہے۔ کچھ نے چہرے پر مارنے سے بھی پرہیز بتایا ہے لیکن کسی ایک نے بھی مارنے سے منع نہیں کیا ۔ ہاں کیسے مارنا ہے اس پر بہت تفصیل موجود ہے۔ بیچارے شیرانی صاحب بھی تو ہلکا پھلکا کہہ کر طریقہ ہی بتا رہے ہیں ۔ باقی اپنی عقل مرد خود بھی استعمال کر سکتے ہیں ۔عورت نے چونکہ مارنا نہیں ہے بلکہ صرف مار کھانی ہے کیونکہ سرکش صرف عورت ہوتی ہے۔ مرد تو کبھی سیدھی راہ سے نہیں ہٹتا ۔اس لئے اس کو کوئی مشورہ دینے کی ضرورت نہ متن میں ہے نہ ہی تفسیر میں اور یوں بھی عورت نامی مخلوق ناقص العقل ہے چنانچہ اس سے عقل اور شعور کی کسی بھی سطح پر کوئی بھی توقع رکھنا عبث ہے۔

تو بھائیوں اور بہنوں، یہ کس بات کا شور مچایا ہوا ہے۔ آئیں پاکستان کے مطابق قرآن سپریم ہے۔ حاکمیت اعلئ خدا کی ہے۔ جب یہ صاف صاف لکھا ہے کہ عورت کی پٹائی مرد کا اختیار ہے جب وہ سرکشی اختیار کرے تو پھر مولانا شیرانی پر تبرا کیوں ۔ اسلامی نظریاتی کونسل کی مخالفت کس برتے پر۔ خدا کے عذاب کو دعوت نہ دیں ۔ مولانا شیرانی کا ساتھ دیں ۔ کتاب کی راہ پر چلیں ۔ روگردانی کی تو وہاں تو پکڑ ہو گی ہی لیکن میرے خیال سے تو ان سارے مخالفین پر یہاں بھی توہین مذہب کا مقدمہ بنانا چاہئے تاکہ سب کو کان ہو جائیں ۔ یہ فیمینزم، حقوق انسانی، اجتماعی شعور، صنفی مساوات اور لبرلزم جیسی اصطلاحات چولہےمیں ڈالئے۔ 1400 سال گزریں یا 14000 سال ۔ جو لکھا ہے بس وہی حق ہے ۔ کیوں کیا خیال ہے؟


Comments

FB Login Required - comments

حاشر ابن ارشاد

حاشر ابن ارشاد کو سوچنے کا مرض ہے۔ تاہم عمل سے پرہیز برتتے ہیں۔ کتاب، موسیقی، فلم اور بحث کے شوقین ہیں اور اس میں کسی خاص معیار کا لحاظ نہیں رکھتے۔ ان کا من پسند مشغلہ اس بات کی کھوج کرنا ہے کہ زندگی ان سے اور زندگی سے وہ آخر چاہتے کیا ہیں۔ تادم تحریر کھوج جاری ہے۔

hashir-irshad has 43 posts and counting.See all posts by hashir-irshad