مُردوں کا پاکستان


ایچ ایم کلوز (ستارہ امتیاز المعروف با با استاد)، ایک برطانوی پروفیسر تھا جو 1947ء میں اپنے کچھ سابقہ طالبلعلموں سے ملنے دہلی (ہندوستان) سے پشاور (پاکستان) کے دورے پرآئے۔ اس دوران اِن کی ملاقات اس وقت کے صوبہ سرحد کے گورنر سر اولف کیرو سے ہوئی، جنہوں نے ایچ ایم کلوزکو پشاور کے اسلامیہ کالج میں پڑھانے کی دعوت دی۔ پختونوں (اپنے سابقہ کچھ سٹوڈنٹس) سے محبت کے پیش نظر ایچ ایم کلوزنے یہ دعوت قبول کرلی اور ایسے قبول کرلی کہ پکا پشاوری بن گئے۔ وہ یہاں تقریباً 40 سال تک اسلامیہ کالج کے طالبلعلموں کو انگریزی پڑھاتے رہے، فلاحی کاموں میں پیش پیش رہے، پشتو زبان پر عبور حاصل کی اور مرتے دم تک یہی رہے۔

میں نے بابا استاد کو دیکھا نہیں لیکن جب اسلامیہ کالج میں فرسٹ ائیر کا داخلہ ملا تو کئی سینئرز سے ان کے قصے سنے۔
قصہ مختصر یہ کہ ایک دن میں نے اپنے استاد محترم اباسین یوسفزے سے پوچھا کہ ہمارے اس ملک کا کیا بنے گا؟ وہ کچھ توقف کے بعد مجھے دیکھ کر کہنے لگے، ایچ ایم کلوز کا نام سنا ہے، میں نے فوراً جواب دیا جی بلکل سنا ہے، کہنے لگے یہی سوال ایک بار ہم نے ان سے پوچھا تھا اور یہ بھی استفسار کیا تھا کہ آخرہم کیوں یورپی ممالک کی طرح اپنے مسائل حل نہیں کر سکتے؟ ایچ ایم کلوز نے بڑا مختصر لیکن جامع جواب دیا تھا۔

”ہم یورپین لوگوں میں ایک خوبی ہے کہ وہ زندہ لوگوں کی قدر کرتے ہیں، وہاں کسی بندے میں تھوڑا بھی دم خم ہوں تو ہر میدان میں عزت پاتا ہے، ہاں جب وہاں کوئی مر جاتا ہے تو ان کے اعزاز میں ایک مختصر تقریب منعقد کرنے کے بعد اسے دفنا کر فوراً اپنی زندگی کی طرف لوٹ آتے ہیں۔ لیکن دوسری طرف تم پاکستانیوں کی سب سے بڑی خامی یہ ہے تم لوگوں کے پاس زندہ انسانوں کی قدر نہیں، یہاں چاہے کوئی کتنی بڑی ہستی کیوں نہ ہو، اگر وہ زندہ ہے تو گمنام ہے، مگر جس دن وہ اس دنیا سے چلا جائے، عین اس دن سے مرحوم کا قد کاٹھ آسمان کو چھونے لگتا ہے، مختصر یہ کہ تمھیں مردہ لوگوں سے پیار ہے اور ہمیں زندہ لوگوں سے“۔

یہ واقعہ میں نے 20 سال سے زیادہ عرصہ ہوئے سنا ہے لیکن جب جب پاکستان میں کوئی گمنام ہستی مرنے کے فوراً بعد شہرت کی بلندی کو چھوتا ہے تو اچانک فلیش بیک میں ایچ ایم کلوز بابا کی یاد آجاتی ہے۔

کئی دن تک دل و دماغ میں الجھن رہتی ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے۔ میری ناقص رائے میں اس کی بڑی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ ہم مِن حیث القوم اخلاقی پستی، انتہاپسندی اور بے انصافی کا شکار ہو چکے ہیں۔ ہم وہی کچھ سننا اور دیکھنا چاہتے ہیں جو ہمارے مزاج کے مطابق ہو، چاہے وہ کتنا غلط کیوں نہ ہو، چاہے اس سے کسی کی زندگی برباد کیوں نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی کسی کو اختیار ملتا ہے، چاہے وہ مسجد کا منبر ہو یا اقتدار کی کرسی، کسی جلسے کا سٹیج ہو یا کسی گلی کا نکڑ، سوشل میڈیا کا سہارا ہو یاکسی ریڈیو یا ٹیلی ویژن کا مائیک، موقع ملتے ہی شروع ہوجاتے ہیں۔ پھر کسی کی تعریف کرنی ہو یا تنقید، ہم زمین وآسمان کی قلابیں ایک کرتے ہیں اور اس کی بنیاد میرٹ پر نہیں بلکہ اپنی ذاتی انا، مفاد اور پسند نا پسند پر ہوتی ہے۔ پھر اپنے جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کے لئے اپنے حساب سے مذ ہب، سائنس اور تاریخ کی تشریح کرکے اپنے غلط موقف پر ڈٹے رہتے ہیں، تب تک جب اپنے مخالف کو قبر تک نہ پہنچائے۔

یہ سب انجانے میں نہیں ہوتا، کچھ مخصوص لوگ اپنی دکان چمکانے کے لئے ایسی روش اپناتے ہیں، اور رفتہ رفتہ پورے معاشرے کو زیرِ اثر لاتے ہیں۔ اگر وہ ایسا نہ کریں تو 40 لاکھ تو دور کی بات کوئی انہیں 40 ہزار ماہانہ تنخواہ پر بھی بھرتی نہ کریں۔ اس لئے حسب ضرورت ہر دور میں ایسے کئی سارے عامر لیاقت اور مبشر لقمان نظر آتے رہیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی کتنا پہنچا ہوا کیوں نہ ہو، ایسے عناصر کے زیرعتاب رہے گا، اگر زندہ ہے تو شرابی اور چرسی کہلائے گا ہاں جب موت کے آغوش میں پناہ لے لیتا ہے تو تب جا کے ساحر لدھیانوی بن جاتا ہے۔ اگر جی رہا ہے تو باغی اور غدار، دنیا سے کوچ کر جائے تو ولی خان، فیض احمد فیض اور حبیب جالب۔

بہتر ہے کہ ہم ایسے مفاد پرست ٹولے کی قید میں نہ رہیں کہ جب یہ عناصر کسی انسان کے بے جا تذلیل کریں اور ہم اس کا حصہ بن جائے اور جب اِنہی کے زیرِعتاب کو ئی فوت ہو جائے تو یہ پلٹی مار کے ماتم بھی کرنے لگے۔ ایسی روش اپنانے سے ملک میں بسنے والے ہزاروں، لاکھوں گمنام ہستیوں کو نام کمانے یا اپنے اوپر لگنے والے داغ دھونے کے لئے مرنے کا انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔ پھر ملٹی ٹییلنٹڈ عاشر عظیم (مشہور ٹی وی سیریل دھواں کے رائٹر اور کردار) کو کینڈا میں جا کر ٹرک چلانے کی ضرورت نہیں پڑے گی، پشتو موسیقی کے جگجیت سنگ (ہارون باچا) اور مشہور سنگر گلزار عالم کو دیار غیر میں بسنے کی نوبت نہیں آئے گی اور مذہبی سکالر جاوید احمد غامدی ملائیشیا کی بجائے اپنے ملک پاکستان میں بیٹھ کر لیکچر دے پائیں گے۔ اور اگر ایسا نہ کر پائے تو کئی جنید جمشید اور کلثوم نواز انہی عناصر کے ہاتھوں زندگی میں ذلیل ہوتے رہیں گے پھر مرنے پر یہی لوگ ماتم بھی کریں گے اور ہم یہ تماشا دیکھتے رہیں گے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں