جانے والوں کو کہاں روک سکا ہے کوئی


عمر بھر سنگ زنی کرتے رہے اہل وطن
یہ الگ بات کہ دفنائیں گے اعزاز کے ساتھ

اہل وطن نے اتنے سنگ سمیٹ لیے ہیں کہ اب کے پس مرگ بھی سنگ زنی جاری ہے۔ یہ کم و بیش سترہ برس ادھر کی بات ہے۔ ابھی وقت نے آمریت کی رعونت پہ خاک نہ ڈالی تھی۔ کوئی بول رہا تھا خدا کے لہجے میں۔ وقت ناں وقت ہوا چاہتا تھا۔ چشم زدن میں حالات نے ایسے پلٹا کھایا کہ بیشتر طوطا چشم عیاں ہوگئے۔ بڑے بڑے جغادری سیاست دان چوہدری، تمن دار، خان وڈیرے پانی کی جھاگ کی طرح بیٹھ گئے۔ شعلہ بیان مقرر جابر و قاہر بھی کونے میں پڑے تھے۔ اوّل تو کوئی حاکم وقت کے آگے بولتا نہ تھا۔ دوسرا جو بھی بولا پھر پلٹ کر نہ ندا آئی نہ صدا آئی۔

سیاہ سلاخوں کے پیچھے پیچ در پیچ راستے تھے جن کی سرحدیں زنداں کی دیواروں سے ملتی تھیں۔ زنداں بھی ایسا کہ نہ قاصد کو خبر ہووے نہ صیاد کو پتہ۔ جو بھی اترا اگر ڈوبا نہیں تو ابھرا بھی نہیں۔ دو راستے تھے اک تو وہی پرانا رستہ توبہ تائب کریں سب گناہ دہل جائیں اور کفارہ کے طور نون لیگ پہ تین حرف بھیج کر مشرف کی حمایت میں کمر کس لیں۔ راوی آپ کے لیے چین ہی چین لکھے گا۔ ہر جگہ سرخ قالین کے ساتھ آپ کا استقبال ہوگا۔ پھول شاخوں پہ کھلنے لگیں گے جام رندوں کو ملنے لگیں گے۔ اکثریت نے یہی راستہ چنا گلشن پرست تھے گُلوں کو عزیز رکھا کیوںکہ انہوں گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی تھی۔

دوسرا اور دشوار گزار راستہ جس پہ چلنا جان جوکھوں میں ڈالنے کا کام وہ حاکم وقت کے سامنے کلمہ حق کہنا اور سچ کے لیے ڈٹ جانا۔ حاکم وقت بھی وہ جس کی آگے نہ کوئی عدلیہ نہ ایوان جو آپ ہی مدعی اور آپ ہی منصف بن بیٹھا۔ جابر سلطان کے دربار میں کلمہ حق کہنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ صد کتاب وصد ورق پلٹیں تو اک دو ایسے نابغے ملتے ہیں جو سیل رواں کے آگے ٹھہرے ورنہ بیشتر موجوں کی تندی تیزی طغیانی کی رو میں بہہ نکلے۔

یہ قصہ ہے مرحومہ کلثوم نواز صاحبہ کی جدوجہد کا۔ مشرف صاحب نئے نئے اقتدار پہ قابض ہوئے تھے۔ نئے عشق کی تازہ چوٹیں تھیں اور رقیب خاص ہر وہ فرد جس کے نام کے آس پاس شریف کا سابقہ یا لاحقہ نظر آتا۔ وہ بھی دھر لئے گئے جس کی ہمدردی حمایت بھی اغیار کے ساتھ نظر آئی۔ میاں نوازشریف اور شہباز شریف بشمول فرزندان پابند سلاسل تھے۔ زندان کی فہرست میں ان کا بھی نام تھا جن سے سرکشی کی امید تھی۔ ایسا مہیب اندھیرا تھا جہاں سایہ بھی ساتھ چھوڑ جائے۔ محکوم عوام کی ڈبڈباتی نگاہیں منتظر تھیں شاید کوئی دیدہ ور پیدا ہو۔ عجب طرح کی گھٹن تھی فضا کے لہجے میں کوئی تو پھول کھلائے دعا کے لہجے میں۔ جمہوریت کا راگ الاپنے والے خاندانی سیاست دان سرکار دربار میں قصیدہ خواہ بن گئے۔ جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے۔

سیاست کی کشتی بھنور میں تھی لیکن ناخدا کا کوئی نام و نشان نہیں۔ ساحل پہ نظر آئے کتنے ہی تماشائی۔ ایسے میں چادر لیے چار دیواری میں رہنے والی عورت نے سیاست کا گرتا ہوا علم اٹھایا جب بڑے بڑے شہہ سوار اس بار گراں سے رو گردانی گر گئے۔ کسی نے کہا یہ آرام طلب ملکہ ہے دو دن میں بھاگ جائے گئی۔ کسی نے کہا سیاست اور احتجاج اس کے بس کا روگ نہیں۔ کسی نے کہا وہ دن ہوا ہوئے جب عورتیں تحریکیں چلایا کرتی تھیں۔ کوئی بولا یہ نقار خانے میں طوطی کی آواز ہے۔ لیکن اس آواز کی گن گرج سے بڑوں کی بولتی بند ہونے لگی۔ ساحل پہ کھڑے تماشائی تماش بین اور حاکمیت کی مسند پہ بیٹھا ڈکٹیٹر اس عورت کی ہمت کے آگے حوصلہ ہارنے گیا۔ کچے گھڑے نے جیت لی ندی چڑھی ہوئی۔

یہ محترمہ کلثوم نواز ہی کی جدوجہد تھی کہ میاں نوازشریف کو دوبارہ سیاسی زندگی ملی ورنہ نون کی سیاست کب کی مشت خاک ہوچکی ہوتی۔ مرحومہ نے واقعتاً ڈکٹیٹر کو ناکوں چنے چبوا دیے بلکہ یہ معمولی سی عورت لوہے کا چنا ثابت ہوئی۔ جس کی وجہ سے احتجاجی سیاست کو نیا رنگ ملا۔ محترمہ کلثوم نواز کا احتجاج رنگ لایا لیکن اور برف پگھلی جس کی بدولت جدہ کا رخت سفر باندھا گیا۔ کہتے ہیں جو بازار سیاست میں اترا پھر اس کا کہیں جی نہیں لگتا۔ سیاست کے چسکے کی آگ جسے لگ گئی پھر بجھائے نہ بجھے۔ مقام حیرت محترمہ کلثوم نواز یہاں بھی چپکے سے اپنی زندگی میں واپس چلی گئیں۔ جہاں فرصت کی رات دن میسر تھے یا پھر مرض الموت سے نبرد آزما ہونے گا وقت۔

سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔ اس میدان میں دن رات چادریں کھینچیں جاتیں ہیں صبح وشام پگڑیاں اچھلتی ہیں۔ بقول آغا شورش کاشمیری گھری ہوئی ہے طوائف تماش بینوں میں۔ اس کوچہ اغیار میں محترمہ کلثوم نواز عزت سادات بچا کر نکل گئیں۔ یہ بات شاید الفاظ کے پیرہن میں سمجھائی نہ جاسکے لیکن جہاں میاں نوازشریف اور ان کی آل اولاد کا دامن صد چاک ہوا ان کی جھولی میں سو چھید ہوئے وہاں بحیثیت مجموعی محترمہ کلثوم نواز پہ ذاتی نوعیت کی انگلی اٹھی نہ حرف آیا۔ میاں نوازشریف کی سیاست سے اختلاف تھا اور رہے گا۔ پہلے کی طرح وہ اب بھی مشق سخن و ستم رہیں گے لیکن میاں محمد بخش فرمائے گئے ہیں ” دشمن مرے تے خوشی نہ کریے سجناں وی مرجاناں ”۔

یہ اک مشرقی عورت اک پیکرعزم وفا کا نوحہ ہے۔ بجھی ہوئی شمع کا ماتم ہے جس کی روشنی تمام ہوئی مگر ہنوز سحر دور است۔ مقام اس راہ میں ویسے ہی بے محل ہے۔ اس عالم نا پائیدار میں کسی کی بنی ہے۔ جانے والوں کو کہاں روک سکا ہے کوئی۔ اس جہانی فانی سے آخر کوچ ہی کرنا ہے شب بیتی چاند بھی ڈوب چلا۔ کوئی اس جہان نا پائیدار میں آج تک ٹھہرا نہیں۔ اب محترمہ کلثوم نواز کا معاملہ اس خالق و مالک کائنات کے حضور ہے جو ستارالعیوب بھی اور غفور و رحیم بھی۔ زمینی بادشاہت تو دو چار دن کی ہے اس جہان فانی میں سب فانی ہے لیکن مالک کائنات کی بادشاہی سدا رہنے والی ہے۔ جو ازل سے ہے اور ابد تک رہے گی۔ دعا ہے اس رب جلیل سے سب پہ اپنا فضل و کرم فرمائے۔ سو برس جی کر بھی آخر مرنا ہے۔ بادشاہ ہو یا فقیر آخر کو چلے جانا ہے لیکن جس طرح لوگ پس مرگ بھی کسی کی موت کا مذاق بنا رہے ہیں لگتا ہے دو اموات ہوئیں ہیں اک تو محترمہ کلثوم نواز جہان فانی سے کوچ گئیں دوسرا ہمارے معاشرے سے اخلاقیات کی موت ہوگئی إنا للہ و انا الیہ راجعون۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں