بٹھنڈہ کے مسلمان ماسٹر کو بھگانے والی ستی ساوتری ہندو لڑکی


عورت اور لاٹھی

ایک کہاوت ہے کہ ” عورت اور لاٹھی اس کی جس کے قبضہ میں ہو“۔ یعنی عورت جس کے قبضہ میں ہو، وہ اس کے زیر اثر ہوا کرتی ہے۔ اور لاٹھی جس کے ہا تھوں میں ہو، اسے وہ جیسے چاہے، استعمال کرے۔ عورت کے زیر اثر ہونے کے سلسلہ میں چند و اقعات سنئے:۔

تبادلہ آبادی سے پہلے کی بات ہے، بٹھنڈہ میں ایک مسلمان سکول ماسٹر وہاں ملازم تھے۔ اس سکول ماسٹر کے بالکل سامنے بنیوں کا ایک گھر تھا۔ اس بنیے کی ایک جوان لڑکی تھی، جس کی ابھی شادی نہیں ہوئی تھی۔ اس سکول ماسٹر اور بنیے کی لڑکی میں محبت کے تعلقات پیدا ہو گئے اور لڑکی کبھی کبھی موقع ملنے پر رات کو ماسٹر کے ہاں آ جایا کرتی۔ کچھ عرصہ تو یہ سلسلہ راز میں رہا۔ مگر بعد میں لڑکی والدین کو پتہ چل گیا، تو لڑکی پر پابندیاں عائد کر دی گئیں۔ یعنی نہ تو ماسٹر کے مکان کے سامنے کی کھڑکی کبھی کھلے، اور نہ لڑکی کبھی گھر کے دروازے سے باہر جائے۔

لڑکی پر لگائی گئی یہ پابندیاں کچھ روز جاری رہیں۔ مگر ہندی کے مشہور شاعر بہاری کے قول کے مطابق سیلاب اور شباب کی تباہیوں آج تک کوئی روکنے والا پیدا نہ ہوا۔ لڑکی نے موقع ملنے پر ماسٹر کو کہلوایا کہ ماسٹر جی اسے گھر سے نکال کر لے جائیں۔ چنانچہ ایک روز پروگرام کے مطابق رات کو ماسٹر جی اس لڑکی کو لے کر سمہ سٹہ جانے والی ٹرین میں سوار ہو گئے۔

سمہ سٹہ کے قریب بہاولپور پہنچے۔ وہاں تھانہ میں لڑکی سے یہ بیان دلوایا، کہ وہ بالغ ہے، اور اپنی مرضی سے گھر سے آئی ہے۔ یعنی ماسٹر جی نے اس کا اغوا نہیں کیا۔ اس کے بعد وہ ایک مولوی صاحب کے ہاتھوں ” مشرف بہ اسلام“ ہوئی۔ ان مولوی صاحب ہی نے ان دونوں کا نکاح پڑھوایا۔ میاں بیوی دونوں نے بہاولپور میں سکونت اختیار کرلی، اور ماسٹر جی نے اپنی ملازمت کے لئے محکمہ تعلیم میں کو شش شروع کر دی۔

لڑکی اور ماسٹر جی کے بٹھنڈہ سے رات کو روانہ ہونے کے بعد جب صبح ہوئی، تو لڑکی کی ماں نے دیکھا، کہ لڑکی اپنی چارپائی پر موجود نہیں۔ مکان کے باہر کا دروازہ دیکھا گیا، تو وہ کھلا تھا۔ معلوم کیا، تو پتہ چلا، کہ ماسٹر جی بھی غائب ہیں۔ یہ حالت دیکھ کر لالہ جی کا گھر ایک ماتم کدہ بن گیا۔ لوگوں نے بطور ہمدردی آنا شروع کیا۔ ہندو مہا سبھا ٹائپ کے بعض لوگوں نے اسے ہندو مسلم سوال بنانا چاہا، اور تھانہ میں رپورٹ لکھوائی گئی، کہ ماسٹر لڑکی کو اغوا کر کے لے گیا ہے، لڑکی اپنے ساتھ کئی ہزار روپیہ کا زیور لے گئی ہے۔ حالانکہ یہ ایک پیسہ کا زیور اپنے ساتھ نہ لے گئی تھی۔

تھانہ کا اسسٹنٹ سب انسپکٹر تفتیش پر مقرر ہوا۔ لڑکی اور ماسٹر جی کے وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے۔ کچھ روز کے بعد پولیس کو جب پتہ چلا، کہ ملزم بہاولپور میں ہیں، تو یہ اسسٹنٹ سب انسپکٹر پولیس لڑکی اور ماسٹر جی کے وارنٹ گرفتاری لے کر بہاولپور پہنچا، وہاں اس نے دونوں کو گرفتار کر لیا۔ چونکہ پٹیالہ اور بہاولپور الگ الگ ریاستیں تھیں، قانون حوالگی ( ایکسٹرا ڈیشن ایکٹ ) کے مطابق یہ مسئلہ بہاولپور کے ڈاسٹرکٹ مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہوا، کہ اس جوڑے کو پٹیالہ پولیس کے حوالے کیا جائے، یا نہیں۔

بہاولپور کے مسلمان حکام تو اس کوشش میں تھے، کہ ان کو پٹیالہ کے حوالے نہ کیا جائے۔ لڑکی بالغ اور شادی شدہ ہے۔ مگر ہندو حکام چاہتے تھے، ماسٹر کو پٹیالہ پولیس کے حوالہ کر دیا جائے۔ پانچ سات روز یہ کشمکش جاری رہی، تو ریاست بہاولپور کے فارن ڈیپارٹمنٹ (وزارت خارجہ ) نے فیصلہ کیا، کہ ملزموں کو پٹیالہ پولیس کے حوالہ کر دیا جائے۔ چنانچہ اس حکم کے مطابق پٹیالہ کا اسسٹنٹ سب انسپکٹر پولیس لڑکی اور ماسٹر کو گرفتاری کی حالت میں بٹھنڈہ لایا۔ راستہ میں لڑکی ماسٹر کو یقین دلاتی رہی، کہ وہ کوئی فکر نہ کرے، وہ عدالت میں بیان دے گی، کہ وہ بالغ ہے۔ وہ اپنی مرضی سے بہاولپور گئی ہے، اور اس نے اپنی مرضی سے ہی اسلام قبول کرنے کے بعد نکاح کیا۔ ماسٹر جی اس بیان سے مطمئن تھے، اور ان کو یقین تھا، کہ لڑکی کے بیان کے بعد وہ رہا ہو کر واپس بہاولپور آجائیں گے، اور میاں بیوی وہاں مزے کی زندگی گزاریں گے۔

اسسٹنٹ سب انسپکٹر دونوں ملزموں کو اپنے ساتھ بٹھنڈہ لایا، اور اس نے مجسٹریٹ کے سامنے ان کو پیش کیا۔ ماسٹر کو تا فیصلہ مقدمہ بغیر ضمانت جیل بھیج دیا گیا، اور لڑکی کو اس کے والدین کی تحویل میں دے دیا۔ حالا نکہ لڑکی نے رو رو کر عدالت سے التجا کی، کہ وہ اپنے والدین کے گھر جانا نہیں چاہتی، چاہے اسے بھی جیل بھیج دیا جائے۔ عدالت نے لڑکی کی اس درخواست کی کوائی پروا نہ کی، اور اپنے حکم میں یہ لکھ کر لڑکی کو اس کے والدین کے حوالے کر دیا، کہ چونکہ یہ امر فیصلہ طلب ہے، کہ لڑکی بالغ ہے، یا نا بالغ، اور لڑکی کو محفوظ رکھنے کی اور کوئی جگہ نہیں، لڑکی کو اپنے والدین کی پروٹیکشن میں رہنا چاہئے۔

ماسٹر جی اس حکم کے بعد جیل کو روانہ ہو ئے، اور لڑکی اپنے والدین کے ساتھ بھیجی گئی۔ عدالت نے مقدمہ کی سماعت کے لئے تاریخ مقرر کر دی۔ چنانچہ اگلی پیشی پر استغاثہ کے گواہوں کی شہادت شروع ہوئی۔ سب سے پہلے اسسٹنٹ سب انسپکٹر نے گواہی دی۔ پھر پڑوس کے گواہ پیش ہوئے، اور پھر لڑکی کو بطور گواہ پیش کیا گیا۔ ماسٹر جی لڑکی کے اس بیان سے پہلے مطمئن تھے، اور ان کو یقین تھا، کہ لڑکی ایک ان کے حق میں بیان دے گی اور اپنی مرضی سے بہاولپور جانے، اور وہاں خود ہی بغیر کسی جبر کے اسلام قبول کر کے نکاح کرنے کا اقرار کرے گی۔ مگر حالات قطعی بدل چکے تھے۔

لڑکی کے والدین کے ہاں جانے کے بعد جب لڑکی کی ماں نے رو رو کر لڑکی سے محبت کا اظہار کیا، اور خاندان کی عزت کے تباہ ہونے پر توجہ دلائی، تو لڑکی اپنی ماں کے زیر اثر ہو چکی تھی۔ اس نے پولیس اور سرکاری وکیل کی مرضی کے مطابق عدالت میں بیان دیا، کہ یہ اپنے گھر کا دروازہ بند کرنے کے لئے مکان کی اوپر کی منزل سے نیچے آئی تھی۔ ماسٹر نے اسے پکڑا لیا تھا۔ اس کے منہ میں کپڑا ٹھونس دیا، تا کہ یہ شور پیدا نہ کرے۔ اسے چاقو دکھا کر کہا گیا کہ اسے ہلاک کر دیا جائے گا اور اسے خوفزدہ اور نیم بیہوشی کی حالت میں ہی برقعہ میں لپیٹ کر ریلوے ٹرین میں بہاولپور لے جایا گیا۔ جہاں اس سے تھانہ میں رپورٹ لکھوائی، اور بغیر اس کی مرضی کے مولوی کے سامنے نکاح پڑھوایا گیا۔

ماسٹر صاحب لڑکی اس بیان سے پہلے مطمئن اور خوش تھے، اور ان کا ذہن اپنی دلہن کو واپس بہاولپور لے جانے اور آرام، خوشی اور مسرت کی زندگی بسر کرنے کی سکیمیں بنا رہا تھا۔ اس نے جب لڑکی کا یہ بیان سنا، تو حیران رہ گیا۔ کیونکہ اصل میں اس نے لڑکی کو اغوا نہ کیا تھا، بلکہ لڑکی ماسٹر کو اغوا کر کے بہاولپور لے جانے کی مجرم تھی۔ کیونکہ اس نے ماسٹر نے مجبور کیا تھا، کہ وہ اس کو کسی دوسرے شہر میں لے جائے، جہاں کہ دونوں آزادی کے ساتھ عیش و عشرت کی زندگی بسر کریں۔ اور ماسٹر اگر مجرم تھا، تو صرف بیوقوفی اور حماقت کے جرم کا، جس نے ایک الہڑ اور نا تجربہ کار لڑکی کی زبان پر اعتبار کیا۔

لڑکی کے بیان کے بعد ایک دو اور شہادتیں ہوئیں، اور ان شہادتوں کے بعد ماسٹر جی پر فرد جر م لگایا گیا۔ ڈیفنس شروع ہوا، تو ماسٹر سے عدالت نے جرم کے متعلق سوالات کیے۔ جن کے جواب میں ماسٹر نے مغموم اور افسردہ حالت میں صرف یہ کہا، جس صورت میں کہ لڑکی ہی یہ کہتی ہے، اس کے منہ میں کپڑا ٹھونس کر اور چاقو دکھا کر میں اسے بہاولپور لے گیا، میرا ڈیفنس کیا ہو سکتا ہے۔ میر ا کوئی ڈیفنس نہیں، عدالت جو چاہے فیصلہ دے۔ ماسٹر کے اس بیان کے بعد عدالت نے لڑکی کو اغوا کرنے کے جرم میں تین برس قید سخت کی سزا دی۔

چنانچہ اگر لڑکی پروٹیکشن کے لئے اپنے والدین کی تحویل میں نہ دی جاتی، اور اپنی والدہ کے زیر اثر نہ رہتی، تو وہ یقینا؍؍ ماسٹر کی مرضی کے مطابق جواب دیتی، اور ماسٹر بری ہو جاتا۔ مگر ”عورت اور لاتھی اس کی، جس کے قبضہ میں ہو“ کے مصداق لڑکی نے تو اپنے والدین کی خواہش کے مطابق ہی بیان دنیا تھا، جن کے زیر اثر تھی۔

کتاب سیف و قلم سے اقتباس

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

دیوان سنگھ مفتوں

سردار دیوان سنگھ مفتوں، ایڈیٹر ہفتہ وار ”ریاست“ دہلی۔ کسی زمانے میں راجاؤں، مہاراجوں اور نوابوں کا دشمن، ان کے راز فاش کرنے والا مداری، صحافت میں ایک نئے خام مگر بہت زور دار انداز تحریر کا مالک، دوستوں کا دوست بلکہ خادم اور دشمنوں کا ظالم ترین دشمن۔ سعادت حسن منٹو کے الفاظ۔

dewan-singh-maftoon has 8 posts and counting.See all posts by dewan-singh-maftoon