ہلکا ہلکا، ہولے ہولے، پھر وہ بولے


inam-rana-3

صاحبو کہتے ہیں کہ ایک گھرانہ تھا؛ ان کا جنھیں ہم میراثی کہتے ہیں۔ گو یہ لفظ ایک سماجی برائی بن چکا اور بطور طعنہ استعمال ہوتا ہے۔ مگر صدیوں پہلے کے سماج نے جب پیشوں کی بنا پر طبقاتی تقسیم کی تو سرسوتی کے ودان، موسیقی کی حفاظت کا ذمہ ان لوگوں نے یوں اٹھایا کہ اسے میراث بنا لیا۔ کوئی جنگ کے ہنر کی بنا پر راجپوت تھا تو کوئی مذہبی علم کی بنا پر براہمن۔ کوئی کھیتی کر کے زمین کی تہہ سے اناج اگانے والا جاٹ، کوئی وحشی بھینس کو قابو کر کے اس کا دودھ نکالنے والا گوجر تو کوئی پانی کی گہرائیوں سے رزق کا کھوجی ماچھی۔ وقت نے سب پیشوں کو گڈ مڈ کر دیا۔ آج راجپوت دودھ بیچتے اور گوجر مچھلی فارم چلاتے نظر آتے ہیں، رہے جاٹ تو کئی سعودیہ میں موچی بن کر ریت گانٹھتے ہیں۔ مگر پیشوں سے وابستہ شناختیں اور ان پر عصبیت آج بھی قائم ہے اور یہی عصبیت خود کو دوسروں سے برتر گمان کرواتی ہے۔ زرا سوچیے، آج ہزاروں سال بعد بھی کون ہیں جو اپنے پیشے پر پوری طرح قائم ہیں اور اپنے آبا کی میراث کی حفاظت کرتے ہیں؟یہی فنکار گھرانے جنھیں ہم نخوت سے میراثی کہہ دیتے ہیں۔

تو صاحبو، انھی فنکار گھرانوں میں سے ایک کا بزرگ بستر مرگ پر تھا۔ گمان غالب ہے کہ ملک الموت کو کسی پیچیدہ راگ میں الجھا بیٹھا تھا کہ جان نکلنے میں دیر لگ رہی تھی۔ بابا جی کے پانچ چھ بیٹے جو اکٹھے ہوئے بیٹھے تھے منتظر تھے کہ کب بابا جی کہ پران نکلیں اور اگلے مراحل طے ہوں۔ اب یہ فنکار زیادہ دیر سنجیدہ نہیں رہ سکتے۔ تو ایک بیٹے نے دبی سی آواز میں کہا ’بھائیو، قسمت نال اکٹھے بیٹھے آں، ہلکی ہلکی ڈھولکی نہ ہو جائے (بھائیو قسمت سے اکٹھے بیٹھے ہیں، ہلکی ہلکی ڈھولکی نہ ہو جائے) ؟

اپنے اسلام آباد میں بھی کچھ ’اہل میراث‘ ہیں جو جب بھی اکٹھے ہوں سوچتے ہیں کہ کچھ ہلکا ہلکا ہو نہ جائے۔ ڈھولک پہ تازہ تھاپ دی ہے استاد شیرانی نے۔ فرماتے ہیں، ’شوہر بیوی کی اصلاح کیلیے ہلکی سی سزا دے سکتا ہے‘۔ استاد جی نے البتہ یہ نہیں بتایا کہ ہلکی کا معیار کیا ہو گا۔ کیا وہ تھپڑ جو گال پر پانچ انگلیاں چھاپ دے ہلکا تصور ہو گا یا چپل سے ڈنڈا ڈولی کی بھی اجازت ہے۔؟ خیر وہ استاد ہیں، صاحب میراث ہیں اور میں فقط کن رسیا، مطلب طالب علم۔ پوچھنا تھا کہ قرآن نے ہلکی سزا کہہ کر اجازت دی یا مناہی کی؟ چودہ سو سال پہلے کا مردانہ معاشرہ جہاں ٹوہ ٹاہ کر عورتیں خرید و فروخت ہوتی تھیں اور مرد مالک تصور ہوتا تھا کہ جو چاہے سلوک کرے۔ وہاں ’نشور‘ کی شرط کے ساتھ ہلکی سی مار کی اجازت عورت کو سہولت تھی یا سزا؟ اور چونکہ استاد صاحب میراث ہیں تو عرض ہے کہ سنت سے کوئی ایک مثال درکار ہے جب ہماری کسی ماں کو ’ہلکی سی سزا‘ ہی دی گئی ہو۔ سنت صرف داڑھی، سرمے، پائنچوں اور چار شادیوں کا ہی نام ہے یا اس عظیم ترین کردار کی پیروی کا بھی کچھ ارادہ ہے؟

استاد نے ہلکے سے مزید یہ بھی فرمایا ہے کہ ’نرس مردوں کا علاج نہیں کر سکتی‘۔ عرض ہے کہ بلاشبہ نرس کو ہوس بھری نظر اور ہاتھ کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اور یقینا آپ سے بیٹیوں کی یہ بے بسی دیکھی نہیں گئی۔ مگر ہجور، کوئی فتوی کوئی تنبیہ ان مردوں کو بھی جن کی وجہ سے آپکو بیٹیوں کا یہ احساس کرنا پڑا۔ ویسے بچپن سے پڑھ رہے تھے کہ ’مسلمان مجاہدین جنگ لڑتے تھے اور عورتیں پیچھے کھڑی حوصلہ دیتیں اور زخمیوں کی مرہم پٹی کرتیں۔ ہائے کتنے ہی زمانے گذر گئے جہاں لوگ عورتوں سے پٹی کرانے کی ’غیر شرعی‘ حرکتیں کرتے رہے۔ یا اللہ انھیں کوئی استاد شیرانی و ہمنوا نصیب نہ تھے، ان کی یہ لغزش معاف فرما، سارے بولو آمین۔

میں نے ساری پریس ریلیز غور سے پڑھی۔ یقین کیجیے اس میں کئی ایسی تجاویز ہیں کہ نافذ ہوں تو واقعی دونوں ہاتھ جوڑ کر اس کونسل کو پرنام کروں۔ مگر بیچ میں یہ دو چار تجاویز ایسے تھیں کہ دودھ میں مینگنیاں پڑ گئیں۔ آپ نے کئی فلموں میں کامیڈی کردار دیکھے ہوں گے جو سب اچھا کرتے کرتے یک دم کچھ ایسا کرتے ہیں کہ سارے کیے کرائے پر پانی پھر جاتا ہے۔ ہم بے اختیار ایسے سین پر ہنس پڑتے ہیں۔ شیرانی و ہمنوا سے گزارش ہے کہ آپ ’اہل میراث‘ ہیں، اب کامیڈین تو نہ بنیے۔


Comments

FB Login Required - comments

انعام رانا

انعام رانا لندن میں مقیم ایک ایسے وکیل ہیں جن پر یک دم یہ انکشاف ہوا کہ وہ لکھنا بھی جانتے ہیں۔ ان کی تحاریر زیادہ تر پادری کے سامنے اعترافات ہیں جنہیں کرنے کے بعد انعام رانا جنت کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔ فیس بک پر ان سے رابطہ کے لئے: https://www.facebook.com/Inamranawriter/

inam-rana has 35 posts and counting.See all posts by inam-rana

One thought on “ہلکا ہلکا، ہولے ہولے، پھر وہ بولے

  • 31-05-2016 at 1:25 pm
    Permalink

    Dear Rana sb

    it is very dangerous to read your writings during office timings, in front of the serious, solemn colleagues

    God bless you

Comments are closed.