جیب گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ


ali arqamکہتے ہیں کہ پولیس انٹرویوز کے دوران ایک نوجوان سے سوال ہوا کہ اگر کہیں مجمع کو منتشر کرنا ہو تو کیا کریں گے، نوجوان جو کہ شاید کسی مذہبی جماعت کا پس منظر رکھتا تھا اُس نے جواب دیا، “جی میں وہاں پہنچ کر چندہ مانگنا شروع کردوں گا۔”

لگتا ہے پاکستان کے تمام ریاستی ادارے بھی ایسی ہی ایپروچ پر عمل پیرا ہیں کہ ہر واقعے، ہر حادثے سے کھلنے والی ونڈو آف اپرچیونیٹی سے مالی فوائد کیسے اخذ کئے جائیں جیسے اختر منصور کی ہلاکت کے بعد پوری ریاستی انتظامیہ سکتے کی حالت میں مبتلا ہرجانے کے بعد جب ہوش میں آئی ہے تو سوچا کہ اب مال کیسے بنائیں اور نیا سرکس کیا کھڑا کریں سو پہلے تو منصور کو کراچی میں پراپرٹی دلانے والے کی پکڑ دھکڑ شروع کی تاکہ کچھ مال اُگلیں، پھر وزیر داخلہ کی جانب سے اعلان کے بعد شناختی کارڈ کے معاملے میں نادرا میں اکھاڑ پچھاڑ شروع ہوگئی تا کہ نئی تعیناتیوں اور ٹرانسفرز میں مال بنائیں۔

اب ملک کے مختلف علاقوں میں ایف آئی ay کی جانب سےان بروکرز اور ایجنٹس جو اکثرو بیشتر سیاسی جماعتوں کے لوکل عہدیداران یا قیادت کے منظور نظر کارکنان ہیں ان کی پکڑ دھکڑ شروع ہوگئی جنہوں نے نادرا آفیشلز کے ساتھ مل کر شناختی کارڈ بنانے کے پراسس کو ہموار کیا۔ اس کی آڑ میں فاٹا کی مختلف ایجنسیوں سے تعلق رکھنے والے پشتونوں کو بھی افغانی قرار دے کر ان سے شناختی کارڈ کی مد میں پیسے بٹورنے جاتے رہے۔ اب ایف آئی اے والے ہلکی پھینٹی لگا کر ان سے اپنا حصہ مانگیں گے۔

پولیس کیوں پیچھے رہے گی وہ چھوٹے موٹے اسٹالز اور خوانچے لگانے والے پشتونوں کو اٹھا کے بند کریں گے تاکہ وہ بھی بونس سیزن کے ثمرات سے فیض یاب ہو اور رمضان کے بابرکت مہینے کے اضافی اخراجات اور عید کے انتظامات کر سکیں۔

اس پورے معاملے میں حقیقت خرافات میں کھو گئی کے مصداق یہ بات نظر انداز ہوتی ہے کہ نادرا ایسا ہی ویریفیکیشن پراسس پہلے سے ہی کررہی ہے جن لوگوں کے شناختی کارڈ دو ہزار پانچ سے پہلے بنے ہیں ان کا بائیو میٹرک ریکارڈ نہیں ہے اس لئے جب شناختی کارڈ ایکسپائری کے بعد دوبارہ اجراء کی بات آتی ہے تو ساری تصدیق دوبارہ سے کی جاتی ہے۔ جبکہ ہزاروں کے حساب سے شناختی کارڈ منسوخ کئے جا چکے ہیں ۔ اس لئے وزارت داخلہ کے اعلانات صرف کھسیانی بلی کھمبا نوچے والی بات ہے۔

رہے اس پورے عمل کے متاثرین تو وہ عام لوگ ہیں جن کا تعلق مہمند، وزیرستان، باجوڑ اور دیگر ایجنسیوں سے ہو یا وہ کسی اور پشتون علاقے سے ہوں لیکن والدین نے شناختی کاغذات وغیرہ کے معاملے میں بے احتیاطی دکھائی ہو ایسے لوگوں میں اکثر اوقات والدہ کا شناختی کارڈ موجود نہیں ہوتا ہے۔

کراچی میں شناختی کارڈ کے معاملے سے ایک اور تنازعہ بھی جُڑا رہا ہے جس کا تعلق یہاں کی لسانی سیاست سے رہا ہے اور عارضی اور مستقل پتہ کے اندراج سے ہے۔ پختونخواہ، بلوچستان اور پنجاب سے یہاں آکر بس جانے والے افراد مستقل پتہ میں اپنے آبائی علاقے کا نام لکھ دیتے ہیں چاہے انہیں کراچی میں قیام کئے دہائیاں ہی کیوں نہ بیت گئی ہوں۔ اب جب الیکشن کمیشن نے اس بنیاد پر نادرا کے ڈیٹا کے بنیاد پر انتخابی فہرستیں مرتب کرنا چاہیں تو سیاسی بنیادوں پر ووٹر لسٹ میں اندراج کے لئے مستقل پتے کو بنیاد بنا کر ہزاروں لوگوں کو کراچی میں ووٹ کے حق سے ہی محروم کردیا۔ پھر سیاسی جماعتوں کے احتجاج اور مداخلت کے باعث کسی حد تک معاملے پر نظر ثانی ہوئی لیکن اب بھی بہت سے لوگوں کو یہ معاملہ درپیش ہوتا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments