قوام اور ہلکی پھلکی پٹائی



maliha hashmi جب سے اسلامی نظریاتی کونسل کی جانب سے مجوزہ تحفظ حقوق نسواں بل کی تفصیلات منظر عام پر آئی ہیں، تب سے ہماری پڑوسن کی خوشی کا تو کوئی ٹھکانہ ہی رہا ہے۔ پڑوسن کا کہنا ہے کہ ان کے شوہر نے ان سے وعدہ کر لیا ہے کہ بل کی منظوری کی صورت میں وہ قانون شناس ہونے کا عین ثبوت دیں گے اور ہرگز ہرگز بھی ان کی چھڑی سے پٹائی نہیں کریں گے جو کہ وہ بلاناغہ ڈاکٹر کی دوائی کی طرح صبح، دوپہر، شام کے حساب سے کرتے ہیں۔ کیونکہ ظاہر ہے کہ چھڑی سے مار پیٹ ہلکی پھلکی مار پیٹ کے زمرے میں ہرگز نہیں آئے گی۔ اب بھولی پڑوسن کو کون سمجھائے کہ ان کے شوہر نے انہیں لاٹھی سے نہ مارنے کا وعدہ کیا ہے، یہ ہرگز نہیں کہا کہ وہ انہیں ماریں گے نہیں۔ ویسے بھی انہیں اس مار پیٹ والے رویئے سے تائب ہونے کی ضرورت بھی کیا ہے؟ آخر کو اسلامی نظریاتی کونسل خود انہیں یہ حق فراہم کرنے جارہی ہے کہ وہ پٹائی کرسکیں۔ ویسے کیا ہی اچھا ہوتا کہ اگر اسلامی نظریاتی کونسل اس تجویز کے ساتھ ہی یہ بھی واضح کردیتی کہ اس کے نزدیک ہلکی مار پیٹ سے کیا مراد ہے؟ نیز اگر شرعی ہتھیار اور بیوی پر تشدد کے دینی طریقے پر بھی مناسب روشنی ڈال دی جاتی تو خوامخواہ کا ابہام نہ پیدا ہوتا۔ اب اگر کوئی اسلام پسند شخص بیوی کو اس کی پسند کے مطابق تیار نہ ہونے، یا اسے اس کی حسب منشاء تسکین پہنچانے میں ناکام رہنے پر عین اسلامی فعل سرانجام دیتے ہوئے اس کی پٹائی کرنے کا فیصلہ کرے گا تو وہ یقیناً اس الجھاؤ کا شکار رہے گا کہ چپل شرعی ہتھیار ہے یا بیلٹ؟ عین ممکن ہے کہ بیلٹ کے مغربی تہذیب کی علامت ہونے کے سبب اسے اس کے استعمال میں ہچکچاہٹ محسوس ہو اور وہ بیچارہ اپنے قانونی حق کے استعمال کے بعد احساس جرم کا شکار ہوجائے۔ مردوں کو اس احساس جرم سے نکالنے کے لئے ضروری تھا کہ ایسی وضاحت بھی کردی جاتی۔

پاکستان میں اسلام پسند حلقہ اور دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے افراد مغربی ذہن اور لبرل سوچ رکھنے والوں کو پاکستان اور خصوصاً اسلام کے لئے سب سے بڑا خطرہ محسوس کرتے ہیں لیکن نجانے کیوں جب جب بھی اس کونسل کی تجاویز کے بارے میں خبریں سامنے آتی ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دراصل وہ مغربی ایجنڈا جس کا رونا، یہ مذہب کے ٹھیکیدار صبح سے لے کر شامل تک ٹی وی سے نشر ہونے والے ہر پروگرام اور اخبارات کے کالم میں بلا ناغہ رونا نہیں بھولتے ہیں، خود انہیں علماء کے ہاتھوں ہی پورا ہورہا ہے۔ دور کیوں جائیں، حال ہی میں پنجاب اسمبلی میں خواتین کے تحفظ کے لئے پیش ہونے والے بل کی مخالفت میں علماء کی جانب سے جو مضحکہ خیز دلائل پیش کئے گئے تھے وہ بذات خود کسی بھی اوسط ذہنی استطاعت رکھنے والے سیدھے سادھے شخص کو مذہب سے دور رکھنے کے لئے کافی تھے۔ ان علماء کا استدلال یہ تھا کہ اگر ایک شخص نے دو یا اس سے زیادہ شادیاں کر رکھی ہوں اور ان میں سے کسی ایک بیوی کے ساتھ اس کے تعلقات خوشگوار نہ ہوں اور وہ شوہر کے خلاف تشدد کی شکایت درج کرواتی ہے جس کے نتیجے میں وہ گرفتار ہوتا ہے تو ایسے میں اس کی دیگر بیگمات کے گھر متاثر ہوں گے۔ مولانا صاحب نے البتہ اس معاملے پر روشنی ڈالنا مناسب نہیں سمجھا کہ پاکستان میں کتنے فیصد مرد بیک وقت دو، دو شادیاں کرتے ہیں۔ ویسے بھی اس اعتراض کو مد نظر رکھتے ہوئے چور، ڈاکو اور قاتلوں کے ساتھ بھی نرمی کا رویہ اپنانے کی ضرورت ہے، آخر کو انہیں سزائیں سنانے کی صورت میں بھی تو بے یارومددگار بیوی بچوں کی ایک فوج تیار ہوجاتی ہے۔

اسلامی نظریاتی کونسل کے اس بل نے مجھ سمیت بہت سوں کو اسی کونسل کا وہ تاریخی فیصلہ بھی ایک بار پھر یاد دلادیا ہے جس کے تحت زنا کے مجرموں کی شناخت کے لئے ڈی این اے کو بطور گواہی قبول کرنے سے انکار کیا گیا تھا۔ مگر خیر یہ تو بہت پرانی خبر ہوئی، خواتین کو چاہئے کہ اب وہ اس امر پر جشن منائیں کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی جانب سے اپنے بچوں کو دودھ نہ پلانے کی صورت میں ماؤں کی گرفتاری یا جرمانے یا پھر دونوں سزاؤں کی تجویز پیش نہیں کی گئی اور صرف دودھ کے ڈبوں کی تشہیر و فروخت پر ہی پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔

مجموعی طور پر اس بل کی شقوں کا جائزہ لیا جائے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل سے تعلق رکھنے والے علماء حضرات یہی فیصلہ نہیں کر پائے ہیں کہ وہ دور حاضر میں سانس لے رہے ہیں یا پھر یہ وہی دور ہے جب اہل عرب اسلام سے روشناس ہورہے تھے۔ خواتین کو جنگوں میں نشانہ نہ بنائے جانے کا فیصلہ اس کی واضح مثال ہے۔ ویسے یہ خبر اسلامی نظریاتی کونسل کے علماء سے متاثرہ علاقوں یعنی فاٹا اور اس جیسے دیگر علاقوں کی خواتین کے لئے یقیناً بے حد خوشی کا سبب ہوگی کیونکہ اب ان پر داغے جانے والے ڈرونز یقیناً ریاست پاکستان کے اس بل کے احترام میں خواتین کو نشانہ بنانے سے گریز کریں گے نیز امید ہے کہ طالبان کی جانب سے بھی اب سرکاری سکولوں کو نشانہ بنانے یا پولیو ویکسین پلانے والی خواتین کو نشانہ بنانے کے واقعات نہیں ہوں گے۔ البتہ اس سے ملتے جلتے حالات میں کام کرنے والے مرد اپنی حفاظت کے لئے زرہ کا استعمال کرسکتے ہیں۔

چلتے چلتے یاد آیا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی جانب سے شوہروں کو اپنی بیویوں سے مار پیٹ کی اجازت قرآن مجید کی جس آیت کی روشنی میں دیئے جانے کا امکان ہے، اس کا آغاز یہاں سے ہوتا ہے کہ ” مرد عورتوں پر قوام ہیں، اس لئے کہ اللہ نے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے، اور اس لئے کہ مرد اپنا مال خرچ کرتے ہیں، پھر جو نیک عورتیں ہیں، وہ فرماں بردار ہوتی ہیں، رازوں کی حفاظت کرتی ہیں، اس بنا پر کہ اللہ نے بھی رازوں کی حفاظت کی ہے۔ اور جن سے تمہیں سرکشی کا اندیشہ ہو، انہیں نصیحت کرو، اور ان کے بستروں میں انہیں تنہا چھوڑ دو اور انہیں سزا دو(سورۃ نساء )” کیا فرمائیں گے علماء حضرات ان مردوں کے بارے میں جو قوام ہونے کے لئے ضروری اس معیار یعنی کہ اپنے مال کو بیوی بچوں پرخرچ کرنے سے اعراض برتتے ہیں اور بیویاں ان کی مار پیٹ بھی سہتی ہیں اور نوکریاں کرکے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ بھی پالتی ہیں؟


Comments

FB Login Required - comments

ملیحہ ہاشمی

ملیحہ ہاشمی ایک ہاؤس وائف ہیں جو کل وقتی صحافتی ذمہ داریوں کی منزل سے گزرنے کر بعد اب جزوقتی صحافت سے وابستہ ہیں۔ خارجی حالات پر جو محسوس کرتی ہیں اسے سامنے لانے پر خود کو مجبور سمجھتی ہیں، اس لئے گاہے گاہے لکھنے کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

maliha-hashmi has 6 posts and counting.See all posts by maliha-hashmi