شوہر کی پٹائی کا درست طریقہ


lubna mirzaاکثر ادھر ادھر سے وڈیوز اور تحاریر سامنے آتی رہتی ہیں‌ کہ بیوی کو مارنے کا درست طریقہ کیا ہے، بچوں‌ کو مارنے کا درست طریقہ کیا ہے۔ میں‌ نے کافی ڈھونڈا لیکن کہیں‌ کوئی وڈیو یا تحریر ایسی نظر نہیں‌ آئی جس میں‌ شوہر کی پٹائی کا درست طریقہ بیان کیا گیا ہو۔ اس لئے میں‌ نے اس بات کی ضرورت محسوس کی کہ اس اہم موضوع پر بھی کچھ لکھنا چاہئیے۔

وقت کے ساتھ معاشرتی تبدیلیوں‌ کے باوجود لوگ شادیاں‌ کرتے ہیں۔ لوگ کیوں‌ شادی کرتے ہیں؟ شادی ایک سماجی اور تاریخی بندھن ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ شادیوں‌ کے طریقے اور نوعیت بھی بدلتی گئی۔ وہ اب بھی بدل رہی ہے۔ اتفاق سے ایک ایسی شادی کے وقت میں‌ ایک بلڈنگ میں‌ موجود تھی جہاں‌ دو خواتین ایک دوسرے سے شادی کر رہی تھیں۔ جب وہ راستے میں‌ سے گزریں‌ تو بچیاں‌ ان پر پھول پھینک رہی تھیں‌ اور میں‌ بدلتے ہوئے وقت پر غور کرتی رہ گئی۔ امریکی سپریم کورٹ نے تاریخی فیصلہ دیتے ہوئے ہم جنس جوڑوں‌ کو شادی کرنے کی اجازت دی۔ آخر ہم جنس جوڑوں‌ کو شادی کرنے کی ضرورت کیوں‌ پیش آئی جبکہ وہ تو پہلے سے ہی ساتھ رہ رہے تھے۔ شادی کرنے کے کیا فائدے ہیں؟ یہ ان سوالات میں‌ سے کچھ ہیں‌ جن کا آج ہم جائزہ لیں‌ گے۔

ایک روایتی میاں‌ بیوی کے جوڑے کے برعکس آج کے زمانے کی شادیوں‌ میں‌ دو مرد بھی شادی شدہ ہوسکتے ہیں، دو خواتین بھی اور ٹرانس جینڈر بھی۔ جو بھی دو بالغ افراد ایک دوسرے کے ساتھ تمام زندگی نباہنے کا عہد کریں‌ اور اس کے ساتھ آنے والی قانونی، معاشرتی اور سماجی ذمہ داریاں‌ نبھانے کے لئے تیار ہوں‌ وہ اس رشتے میں‌ بندھ سکتے ہیں اور اس کو ختم بھی کرسکتے ہیں۔ میں‌ اپنے مشاہدے اور معلومات کی بنیاد پر شادی کے حق میں‌ ہوں‌۔ شادیاں‌ اچھی بھی ہوتی ہیں، بری بھی ہوتی ہیں۔ ایک اچھی شادی میں‌ ہونا زندگی کا سب سے بڑا انعام ہے ایک انسان کے لئے بھی اور ایک معاشرے کے لئے بھی۔ اور ایک بری شادی میں‌ رہنا یا اس سے نکلنا زندگی کا ایک بڑا تجربہ ہوتا ہے جس سے انسان بہت کچھ سیکھتا ہے۔

اگر آپ ایک اچھی شادی میں‌ ہیں‌ تو یہ تو بہت اچھی بات ہے۔ سب لوگو‌ں‌ کو اپنے گھروں‌ میں خوش ہی رہنا چاہئیے۔ جو لوگ اپنی زندگی میں‌ اور اپنے گھروں‌ میں‌ خوش نہیں‌ ہوتے وہ باہر جا کر بھی چار لوگوں‌ سے الجھتے ہیں‌ اور کام ٹھیک سے نہیں‌ کرتے۔ اگر ان کی جاب لیڈرشپ یا بڑے بزنس ہوں‌ تو وہ ان جگہوں‌ پر غلط فیصلے کرتے ہیں‌ جن سے دیگر افراد کی زندگیاں‌ منفی طور پر متاثر ہوتی ہیں۔

iran-cafe-coupleسوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر آپ کے شوہر کو پٹائی کی ضرورت پڑے تو اس کا مناسب طریقہ کیا ہے؟ کیا ان کو بھائیوں‌ سے کہہ کر پٹوایا جائے یا ابا سے پٹوایا جائے یا پھر کرائے کے بندے ہائر کرکے ان سے کہا جائے کہ سرتاج کی پٹائی کریں؟ یا پھر قانون کو اپنے ہاتھوں‌ میں‌ لیا جائے؟

انسانوں‌ کے لئے محبت نہایت ضروری ہے۔ میرے خیال میں‌ بہت ساری بیماریوں‌، معاشرتی مسائل اور جنگوں‌ کی وجہ محبت سے محروم افراد ہیں۔ ایک بہت پرانی ریسرچ میں‌ یہ دیکھا گیا کہ جب نئے پیدا ہوئے بچوں‌ کو صرف دودھ پلانے اور صاف کرنے کو اٹھایا گیا اور باقی وقت ان کو کسی سے نہ گود میں‌ لیا اور نہ ہی چھوا تو وہ بچے خود بخود مر گئے۔ ان ننھے منھے بچوں‌ نے اپنی زندگی دے کر ہم سب کے لئے یہ سبق چھوڑا کہ ہم محبت کے بغیر زندہ نہیں‌ رہ سکتے ہیں۔ ہر انسان کو محبت کا حق حاصل ہے۔ اگر سب کی شادی اپنی خوشی اور پسند سے ہو تو بہت اچھا ہے۔ اگر آپ کو اپنے شوہر پسند ہیں تو مبارک ہو اور اگر زبردستی کی شادی تھی تو مجھے آپ سے ہمدردی ہے کیونکہ آپ کی شادی ہوئی ہی نہیں‌ ہے۔

شادی شدہ افراد کی صحت غیر شادی شدہ افراد کی صحت سے بہتر ہوتی ہے۔ 2002 میں‌ ہونے والی ایک اسٹڈی کے مطابق کسی آدمی کی جتنی زیادہ پڑھی لکھی بیوی ہو، اس میں‌ دل کی بیماری، ہائی بلڈ پریشر، مٹاپا، ہائی کولیسٹرول اور سگریٹ پینے میں‌ کمی ہوتی ہے۔ جاپانی تحقیق دانوں‌ نے یہ بیان کیا کہ شادی شدہ آدمیوں‌ میں‌ ناگہانی موت کی شرح غیر شادی شدہ آدمیوں‌ میں‌ موت کی شرح سے تین گنا کم ہوتی ہے۔ ایک اور اسٹڈی میں‌ دیکھا گیا کہ شادی شدہ افراد پروسٹیٹ کینسر کے بعد زیادہ طویل عرصہ تک زندہ رہے۔ جلد کا کینسر بھی شادی شدہ افراد میں‌ جلدی دریافت ہوا۔

0003

ذیابیطس ایک طویل عرصے کی پیچیدہ بیماری ہے جس کا مناسب علاج نہایت ضرور ی ہے۔ ذیابیطس کی بیماری میں مریض کا اپنے علاج میں دلچسپی لینا ، بلڈ شوگر چیک کرنا اور دوائیاں پابندی سے لینا شامل ہے۔ میرے کئی ذیابیطس کے مریض اپنے اسپاؤس کے ساتھ آتے ہیں۔ ذیابیطس کے مریضوں کے فیملی ممبرز کے لئے یہ لازمی ہے کہ وہ بھی ذیابیطس کے بارے میں اپنی معلومات میں اضافہ کریں تاکہ لمبے عرصے کی یا اچانک سے ہوجانے والی اس کی پیچیدگیوں سے بچا جاسکے۔ انہیں یہ بھی معلوم ہونا چاہئیے کہ اگر کوئی ایمرجنسی پیش آئے تو اس سے کیسے نبٹا جائے۔ جن مریضوں کی بیویاں زیادہ پڑھی لکھی ہوتی ہیں وہ اپنے ساتھ سارے ریکارڈ لاتی ہیں۔ ہر ضروری بات کو لکھ لیتی ہیں ۔

یہ بات تو ہم پہلے سے ہی جانتے ہیں کہ تعلیم ہر انسان کو ایک بہتر انسان بناتی ہے۔انڈیا میں تعلیم کی شرح 75 فیصد اورپاکستان میں 50 فیصد ہے۔ خواتین میں تعلیم کی شرح اس سے بھی کہیں کم ہے۔ جب آپ تعلیم کی شرح کے اعداد وشمار دیکھیں تو یہ ضرور دیکھیں کہ یہ نمبر کس طرح حاصل کئیے گئے ہیں۔ کئی جگہوں پر اگر کوئی اپنا نام لکھ سکتا ہو تو اس کو پڑھا لکھا گنا جاتا ہے۔ اوکلاہوما میں تعلیم کی شرح 80٪ ہے وہ اس لئے کہ جو بھی نویں جماعت کے لیول کا نہ پڑھ سکتا ہو اس کو پڑھا لکھا شمار نہیں کیا جاتا۔ اکثر لوگوں کا یہ خیال ہوتا ہے کہ پڑھی لکھی بیوی ہونا کوئی ضروری یا اہم بات نہیں ہے۔ اور کچھ لوگ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اگر بیوی زیادہ پڑھی لکھی ہوئی تو وہ اپنے شوہر کا اور بچوں کا زیادہ خیال نہیں رکھے گی۔ کچھ خواتین بھی تمام عمر اس لئے شادی نہیں کر پاتیں کہ ان کے برابر پڑھا لکھا بندہ نہیں ملتا۔ ہماری میڈیکل اسکول کی کئی کلاس فیلوز ہیں جو ابھی تک سنگل ہیں ۔ اوکلاہوما میں مجھے یہ چیز دیکھ کر نہایت حیرانی ہوئی کہ ٹرک ڈرائیور اور کھیتوں میں کام کرنے والوں کی بیویاں اتنی پڑھی لکھی ہیں ۔کچھ نے تو پی ایچ ڈی تک کی ہوئی ہے۔ یہ وہ جوڑے ہیں جو ہائی اسکول سوئیٹ ہارٹ تھے اور ایک اسپاؤس کام کر کے پیسے لاتا رہا اور دوسرے نے تعلیم جاری رکھی۔ اور کس نے کیا کیا وہ ان کی جنس پر نہیں بلکہ ان کی
ذاتی دلچسپی پر منحصر تھا۔ پھر ان بیویوں کی وجہ سے ان کی اولاد بھی آگے چل کر تعلیم یافتہ بنی اور ان کی نسلیں تک بہتر زندگی گذارنے کے لائق ہوئیں۔

0002شادی کے مالی فائدے بھی ہیں۔ کچھ فیملیز میں‌ دونوں‌میاں‌اور بیوی کام کرتے ہیں۔ اگر ایسا گھر بنایا ہے جس میں‌ ایک اسپاؤس کام کرکے پیسے لا رہا ہو اور دوسرا بچے پال رہا ہو اور بازار سے گروسری لاتا ہو تو ایسا کرنے سے ایک فیملی کا بہت سارا وقت اور پیسے بچتے ہیں۔ ایسے کئی خاندان ہیں‌ جن میں‌ خاتون ڈاکٹر ہیں‌ یا ان کی اور کوئی اہم جاب ہے اور ان کے شوہر گھر پر رہتے ہیں۔ اگر وہ لوگ اپنے گھر میں‌ خوش رہ رہے ہیں‌اور اپنے بچے پال رہے ہیں‌ تو ہمیں‌ کیوں‌ تکلیف ہونی چاہئیے؟ کئی سال پہلے میری ایک انڈین ڈاکٹر آنٹی سے دوستی ہو گئی تھی۔ میں‌ نے ان کے شوہر سے پوچھا کہ درشن انکل آپ کیا کرتے ہیں؟ انہوں‌ نے کہا کہ ہم پتنی کی سیوا کرتے ہیں۔ اس وقت ہم لوگ چھوٹے تھے اور مجھے یہ بات کچھ زیادہ سمجھ نہیں‌ آئی۔ پھر بہت بعد میں‌ سمجھ میں‌ آئی کہ دونوں‌ میاں‌ بیوی کام کریں، چائلڈ‌ کئر میں‌ پیسہ دیں‌ اور ڈھیر سارا ٹیکس دیں‌ اس سے بہتر ہے کہ زیادہ کمائی والا اسپاؤس کام کرتا رہے اور دوسرا اس کو سپورٹ کرے۔ یہ ان خاندانو‌ں‌ کے لئے بہتر ہوتا ہے۔ اگر آپ شادی شدہ ہیں ‌تو اپنے اسپاؤس کے مرنے کے بعد پینشن بھی جمع کرسکتی ہیں۔

اگر آپ کے شوہر یا بیوی کے پاس نوکری ہے جس سے ہیلتھ انشورنس ملتی ہے تو اس سے آپ کا اور آپ کے بچوں‌ کا فائدہ ہو گا۔

پرانے زمانے کی انڈیا کی کہانیوں‌ میں‌ تعریفی باتیں‌ لکھی ہوتی تھیں‌ کہ دیکھو فلاں‌ خاتون کتنی اچھی ہیں‌ کہ میاں‌ باہر راتیں‌ گزارتے ہیں‌ تو وہ کھانا پکا کر بھجوا دیتی ہیں۔ کیا آپ کو لگتا ہے کہ نشے کا عادی ہونا یا باہر ناجائز تعلقات رکھنا کوئی معصوم باتیں‌ ہیں؟ یہ معصوم باتیں‌ نہیں‌ ہیں۔ جو لوگ نشئی ہوتے ہیں ان کی صحبت بھی نشئی ہوتی ہے۔ وہ اپنے نشے کے ضرورت میں‌ سب کچھ جھونک دیں‌ گے۔ نشے کے عادی افراد کو اپنے علاوہ کسی انسان کی پروا نہیں‌ رہتی۔ اور ان کے دوست بھی مجرمانہ سرگرمیوں‌ میں‌ ملوث ہوتے ہیں۔ اوکلاہوما میں‌ جیلوں‌ میں‌ خواتین کی شرح‌ ساری دنیا کے مقابلے میں‌ زیادہ ہے جن میں‌ سے زیادہ تر اپنے بوائے فرینڈ یا شوہروں‌ کے نشے کے کاروبار کی وجہ سے بند ہیں۔ ایک خاتون کو جیل میں‌ ڈال کر ان کی بچی فاسٹر کئر میں‌ دی گئی تو فاسٹر ماں‌ نے اس کو جان سے مار دیا۔

Senior man giving woman piggyback ride through autumn woodsجنسی تعلقات سے نہ صرف غیر ضروری بچے پیدا ہوتے ہیں‌ بلکہ اس میں‌ جراثیم بھی ایک انسان سے دوسرے انسان تک پہنچتے ہیں۔ کچھ ایسے وائرس ہیں‌ جو آپ کو ایک دفعہ لگ جائیں‌ تو وہ کبھی نہیں‌ چھوڑتے جیسے کہ ہرپیز اور ایچ آئی وی۔ یہ بیماریاں‌ آپ سے آپ کے بچوں‌ میں‌ منتقل ہوتی ہیں۔ جس طرح‌ ایک بیوی کا اپنے شوہر سے وفادار ہونا ضروری ہے بالکل اسی طرح‌ ایک شوہر کا بھی اپنی بیوی سے وفادار رہنا ضروری ہے۔

اسپاؤس ایک دوسرے کے لیگل گارڈین ہوتے ہیں یعنی وہ ایک دوسرے کے لئے زندگی موت کا فیصلہ کرسکتے ہیں۔ فرض کرتے ہیں کہ ایک آدمی کار ایکسیڈنٹ میں‌ زخمی ہو جاتا ہے اور اس کی زندگی صرف مشین سے قائم ہے۔ ایسی سچوئیشن میں‌ اس کی بیوی سے پوچھا جائے گا کہ کیا اس سلسلے کو جاری رکھا جائے یا پلگ نکال دیا جائے؟ جب ہم جنس افراد شادی نہیں کرسکتے تھے تو ان کے رشتے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں‌ تھی اور وہ ایسا وقت پڑنے پر فیصلہ تو کیا کبھی کبھار اپنے پارٹنر سے مل تک نہیں سکتے تھے۔ اسی لئے ایک طویل قانونی جنگ کے بعد یہ حقوق انہوں‌ نے اپنے لئے جیتے۔

کبھی کبھار کچھ خواتین کو نہایت برے شوہر شادی میں‌ مل جاتے ہیں۔ کیونکہ ہمارے معاشرے میں‌ یہ بات عام ہے کہ لوگ اپنے بیٹوں‌ کی اچھی تربیت نہیں‌ کرتے اور جب وہ بگڑے ہوئے بڑے ہوں‌ تو ماں‌ باپ کہتے ہیں‌ کہ چلو اس کی شادی کردیتے ہیں تو بیوی آکر سدھار لے گی۔ میں‌ خود ایسے کئی افراد کو جانتی ہوں‌ جو نشے کے عادی ہیں اور شادی کے باہر بھی چکر جاری۔ ان لوگوں‌ کو شادی نہیں‌ سدھارتی۔ وہ لوگ دوسرے لوگوں‌ کی زندگیاں‌ خراب کرتے ہیں۔ ایک باپ ہونا اور ایک شوہر ہونا بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ ہر کوئی یہ ذمہ داری صحیح‌ طرح‌ سے نہیں‌ نبھا سکتا۔ ہر کسی کی یہ اپنی ذمہ داری ہے کہ چادر دیکھ کر پیر پھیلائیں۔ درجن بھر بچے پیدا نہ کریں‌ اور ان کی اچھی تربیت کریں۔ اپنی ذمہ داری کو کم عمر لڑکیوں‌ کے کاندھوں‌ پر مت پھینکیں۔ ایسا سوچنے سے کیا فائدہ ہے کہ 15 سال کی بہو لے آئیں‌ جو شوہر سے ابیوز بھی برداشت کرے اور ناشتے میں‌ آپ کے لئے پھلکے بھی پکائے۔ یہ تو نہایت خود غرضی ہے۔ ان لوگوں‌ کی اپنی بھی کوئی زندگی ہے، ان کے خواب ہیں، حقوق ہیں۔ اور اس طرح‌ہم خود ان لوگوں‌سے پھلکے پکوا رہے ہیں‌جو ہمارے دل کی سرجری کرنا سیکھ سکتے تھے۔ اگر سوچا جائے تو اس طرح‌ہم خود اپنے پیروں‌ پر کلہاڑی مارتے ہیں۔

شادی کر لینا زیادہ آسان ہے لیکن اس کو ساری زندگی نبھانا اتنا آسان نہیں۔ کافی لوگ جلدی ہمت بھی ہار دیتے ہیں اور کوشش نہیں‌ کرتے۔ میرے خیال میں‌ شادی کو 00006100 فیصد چانس دینا ضروری ہے کیونکہ اگر شادی اچھی چلے گی تو اس میں‌ لوگوں‌ کا اپنا بھی فائدہ ہے اور بچے بھی ایک اچھے ماحول میں‌ بڑے ہوں‌ گے، آپ اپنی توانائیاں‌ تعمیر میں‌ استعمال کرسکیں‌ گے اور اس طرح‌ آپ کا پورا خاندان دنیا میں‌ نہ صرف سروائو کرے گا بلکہ اس کی کامیابی کے چانسز زیادہ ہوں‌گے۔ کوئی بھی دو افراد دنیا میں‌ ایک جیسے نہیں‌ ہوتے اور ہر رشتے میں کمپرومائز کرنا ضروری ہے۔ ہر رشتے میں‌ ہمیں‌ کچھ دینا ہوتا ہے اور کچھ لینا ہوتا ہے۔ شادی میں‌ محبت، وفاداری اور خلوص اہم ہیں۔

میاں‌ اور بیوی ایک ماڈرن دنیا میں‌ ایک گاڑی کے دو برابر پہئیے ہیں۔ ان کی ذمہ داریاں‌ اور ایک دوسرے پر حقوق برابر ہیں۔ دونوں‌ کو اپنی اپنی زندگی میں‌ ذاتی اور پروفیشنل دائروں‌ میں‌ کامیابی اور خوشی کا حق ہے۔

اگر آپ کے حصے میں‌ ایک متشدد شوہر آ چکے ہیں‌ تو بچے ہونے سے پہلے چھٹکارا لینا مناسب ہے کیونکہ لوگ نہیں‌ بدلتے۔ ہمارے اپنے جاننے والوں‌ میں‌ ایک لڑکی شادی کے اگلے دن واپس آئی تو اس کی کمر پر مار کے نشان تھے۔ اس کو واپس بلالیا اب دوسرے شوہر کے ساتھ خوش ہے۔ اپنے آپ کو اور دنیا کو دھوکا دینے کا کوئی فائدہ نہیں‌ ہے۔ جس خاتون کو اس کے شوہر نے نارمن میں‌ پیٹ میں‌ چھری مار کر جان سے مار دیا تھا وہ ایک ہفتہ پہلے تک لوگوں‌ سے اس کی بدسلوکی چھپا رہی تھی اور اس کی تعریفیں‌ کرتی نہیں‌ تھکتی تھی۔ اس نے ایک چھ سال کا بچہ پیچھے چھوڑا۔ آپ کی طرح‌ آپ کے بچوں‌ سے کوئی محبت نہیں‌ کرسکتا۔

shahid malik with famامریکہ میں‌ طلاق کی صورت میں‌ آپ نے اپنی شادی شدہ زندگی میں‌ جو بھی اکھٹے بنایا چاہے آپ دونوں‌ میں‌ سے کوئی بھی جاب کرتا ہو، سارے مکان، بینک بیلنس ہر چیز میں‌ آپ 50 فیصد کی مالک بھی ہیں‌ اور جب تک آپ کے بچے 18 سال کے ہو جائیں‌ ان کی چائلڈ سپورٹ‌ بھی آپ لے سکتی ہیں۔ اگر کوئی خود سے نہ دے تو تنخواہ میں‌ سے کاٹ لی جاتی ہے۔

اگر آپ کی شادی صحیح‌ نہیں‌ چل رہی تو کاؤنسلنگ ضرور ٹرائی کریں۔ اگر سب کچھ کرنے کے بعد آپ اس سطح پر پہنچ جائیں‌ جہاں‌ آپ کو لگے کہ اب آپ کے شوہر پٹائی کھائے بغیر سدھرنے والے نہیں‌ تو اپنے ہاتھ پیر اور حواس سنبھالیں کیونکہ ہاتھا پائی کرنا ایک تہزیب یافتہ، تعلیم یافتہ اور ذمہ دار شہری کو زیب نہیں‌ دیتا۔ ایک ایسا گھر کس کام کا جس میں‌ چیخ‌ پکار، لڑائی چل رہی ہو اور چھوٹے بچے ڈر کر چلا رہے ہوں۔ ہر انسان کو اپنے گھر واپس آکر سکون محسوس کرنے کا حق ہے۔ انسان غاروں‌ سے نکل چکا ہے۔ ایسے اداروں‌ میں‌ مت جائیں‌ جو آپ کو الٹی سیدھی پرانے زمانے کی نصیحتیں‌ کریں۔ ان کا کچھ فائدہ نہیں۔ اپنے ملک کے قانون کے مطابق اپنے حقوق جانیں اور اگر آپ چاہیں‌ تو علیحدگی اختیار کریں۔ اس کے بعد کام کریں، پیسے کمائیں، اپنے بل خود دیں، بچے خود پالیں اور اگر چاہیں‌ تو دوبارہ شادی کریں‌ ورنہ نہیں۔ ایک برے شوہر سے اچھا ہے کہ اکیلے رہا جائے۔ کیونکہ ایک متشدد ماحول میں‌ بڑے ہونے والے بچے بڑے ہو کر یا تو خود متشدد بنتے ہیں‌ یا پھر وہ خود دوسروں‌ پر تشدد کرتے ہیں۔ اگر آپ اپنی زندگی میں‌ خوش رہیں‌ اور آپ کے بچے بھی تو بس سمجھ لیں‌ کہ شوہر کی پٹائی لگ چکی ہے کیونکہ آپ دیکھیں‌ گی اور دیگر افراد بھی کہ آپ وہ دنیا بنانے میں‌ کامیاب ہو گئیں جو ان کی برابر کی ذمہ داری تھی۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “شوہر کی پٹائی کا درست طریقہ

  • 28-05-2016 at 2:39 pm
    Permalink

    ڈاکٹر صاحبہ کی تحریر کی خاص بات خود کلامی، وسیع مطالعہ اور گہرا مشاھدہ ہے.

Comments are closed.