مستنصر حسین تارڑ اور شادی آن لائن


Mustansir-Hussain-Tarar

ہم تارڑ صاحب کی حسن پرستی کا قصہ سن کر دل تھام کر رہ گئے تھے کہ یہ تو سدا بہار جوان اور عشق پیشہ شخص ہیں۔ ایسے میں بے اختیار ایک سوال لبوں پر آ گیا اور ہم پوچھ بیٹھے کہ تارڑ صاحب آپ نے جو حسن کا ذکر کیا ہے کہ آپ کو فطرت کا حسن پسند ہے خواہ حسن خاتون میں دکھائی دے یا گھوڑے میں، تو شادی آن لائن بھی اسی وجہ سے آپ نے شروع کیا تھا؟

وہ کچھ مسکرائے اور پھر سنجیدگی سے کہنے لگے کہ ’میں ایک بہت خوش قسمت انسان ہوں۔ میں اگر پرائز بانڈ خریدتا ہوں نا دس لاکھ کا، تو شرطیہ طور پر وہ نہیں نکلے گا، میرے ساتھ والا دس روپے کا ایک لے لے گا تو اس کا ایک کروڑ روپے کا نکل آئے گا۔ یہ ہوا ہے میرے ساتھ۔ لوگوں کو چلتے چلتے بٹوے مل جاتے ہیں، مجھے آج تک چونی تک نہیں ملی۔ یہ کچھ ہے ایسا۔ لیکن میں نے جو بھی کری ایٹو (تخلیقی) لیول پر پروگرام کیا ہے، وہ میں نے تکا بھی لگایا ہے تو وہ تیر ہوا ہے۔ وہ میرا ’’پیار کا پہلا شہر‘‘ سے لے کر باقی جو بھی ہیں، جو جو کام میں نے کیے ہیں، ایکٹنگ کی ہے یا ماڈلنگ کی ہے، سم ہاؤ آر دا ادر (کسی نہ کسی طرح)، وہ چلے۔ چنانچہ شادی آن لائن (کے معاملے میں) یہ ہوا کہ جیو والوں نے مجھے بلایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ہے۔ میں تو خوفزدہ ہو گیا تھا، میرا تو امیج ہی اس قسم کا نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ نہیں ہمیں تو آپ جیسا (ہی شخص) چاہیے۔ ان کو بنیادی مسئلہ یہ تھا کہ اس قسم کے پروگرام کو لوگ سیریس نہیں لیتے۔ انہیں کوئی ایسا شخص چاہیے تھا جسے لوگ سیریس لیں۔ وہ کہنے لگے کہ جی آپ بیٹھے ہوں گے تو لوگ اس کو سیریس لیں گے، تو آپ اس کا پیٹرن جو بھی بنا لیں وغیرہ وغیرہ۔ تو میں نے (انکار کرنے کی خاطر) اس زمانے میں جو بھی میکسیممم (زیادہ سے زیادہ) جو بھی بندہ لے رہا تھا، مثلاً اگر دس ہزار روپے فی پروگرام کسی کو مل رہا تھا میکسیمم، تو میں نے کہا کہ مجھے پچیس دیں۔ انہوں نے کہا کہ جی دس ہیں، اور آپ کو بھی اتنا ہی ملتا رہا ہے وغیرہ وغیرہ‘۔

Mustansir-Hussain-Tarar-2

’میں نے کہا کہ جی میں یہ نہیں کر سکتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ نہیں یہ ہم نہیں دے سکتے ہیں۔ میں نے کہا اللہ بیلی اور واپس آ گیا۔ حج کا میرا پروگرام بن گیا۔ تو کیلکولیٹ کیا تو پیسے نہیں تھے۔ بیٹے کا وہ سارا ٹکٹ اور یہ وہ۔ میں اپنے بیٹے کے سر پر نہیں جانا چاہتا تھا کیونکہ میں نے آج تک اللہ کے فضل سے اپنے بیٹے سے ایک آنہ بھی نہیں لیا۔ میں اس پوزیشن میں ہوں کہ اگر ان کی کوئی ضرورت ہو تو پوری کروں۔ اسی طرح میں نہیں چاہتا تھا کہ یہ ہو۔ سمیر سے میں نے کہا کہ یار تم جاؤ، ایک بندہ جا سکتا ہے۔ تو وہ کہنے لگا کہ نہیں ابو آپ کر آئیں، بھائی وہاں پر ہے، یہ وہ۔ یہ اب ہم نے کینسل کر دیا (حج کا) پروگرام۔ اسی پچھلے پہر جیو والوں کا ٹیلیفون آ گیا کہ جی پرسوں اگر آپ آ سکتے ہیں تو آ جائیں۔ میں وہاں گیا اور جب واپس آیا تو میرے پاس پانچ حجوں کے پیسے تھے‘۔

ہمیں کچھ تعجب ہوا کہ کیا کسی کی شادی کروانا اتنا بھاری کام ہے کہ اس کے بعد پانچ حج کرنا لازم ہو جاتا ہے۔ یہ بھی گمان ہوا کہ مظلوم شوہروں کی آہ سے بچنے کی خاطر یہ کرنا مناسب لگا ہو گا اور ان کی ہچکچاہٹ کی وجہ بھی سمجھ آئی۔ پھر جب معاملے پر غور کیا تو رشک آیا کہ اور کس شادی دفتر والے کو شادی کرانے کا اتنا بھاری کمیشن ملتا ہو گا۔ بخدا ایک مرتبہ تو ہماری نیت بھِی ڈانوال ڈول ہو گئی کہ آئی ٹی وغیرہ کو چھوڑیں، اور شادی دفتر کھول لیں، شاید ہماری حسن پرستی کی بھی اس سے کچھ تشفی ہو جائے اور چار پیسے بھی بن جائیں گے۔ ابھی ہم یہ سب کچھ سوچ ہی رہے تھے کہ انہوں نے بات آگے بڑھائی۔

’ایک (قصہ) پہلے بھی سنایا ہے، مشہور قصہ ہے، کہ جب مغل اعظم بن رہی تھی تو اس میں شہزادہ سلیم اور انارکلی کا شب وصل کا منظر ہے۔ تو اس کے ساتھ ہی آواز آتی ہے، تان سین گا رہا ہے۔ تو ’کے آصف‘ نے نوشاد سے پوچھا کہ یہ تان سین کے لیے کون گائے گا؟ انہوں نے کہا کہ جی بڑے غلام علی خان کے علاوہ اور کوئی نہیں گا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جی چلیں۔ نوشاد نے کہا کہ جی وہ گاتے نہیں ہیں فلموں کے لیے۔ آصف نے کہا کہ جی تم چلو، بڑے غلام علی خان صاحب کے پاس بیٹھے، ان سے بات کی۔ اچھا ان کو کوئی پتہ نہیں تھا کہ یہ آصف کون ہے، وہ اپنی ترنگ کا آدمی تھا‘۔

’تو آصف نے کہا کہ یہ گانا ہے اور یہ دھن ہے، اور انہیں ہوا کے گھوڑے پر سوار کرنے کے لیے کہا کہ تان سین ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ تان سین آپ ہی ہیں۔ تو اس نے کہا کہ میاں ہم محفل کے گویے ہیں، ہم فلموں وغیرہ میں نہیں گایا کرتے۔ کیونکہ فلم کو بڑا گانے والا حقیر سمجھتا تھا، اب بھی سمجھتا ہے۔ ابھی آپ دیکھیں نہ کہ فلموں میں بہت کم کلاسیکل ہوتا ہے۔ اس لیے بھی کہ لوگ نہیں ہیں اور اس لیے بھی کہ وہ کہتے ہیں کہ یار فلموں کے لیے کیا گانا‘۔

’اب بڑی مصیبت ان کو پڑ گئی کہ یار یہ کیا کریں۔ نوشاد نے کہا آصف کو کہ آپ ذرا باہر سگریٹ پی آئیے۔ وہ سمجھ گئے اس بات کو۔ نوشاد نے بڑے احترام سے استاد بڑے غلام علی خان صاحب سے بات کی کہ میری نوکری کا سوال ہے۔ آپ نے نہ کر دی تو یہ مجھے بھی نکال دے گا۔ تو آپ یہ کریں کہ آپ پیسے ہی اتنے مانگ لیں کہ یہ دے نہ سکے۔ تو میری بھی ہو جائے گی اور انکار بھی ہو جائے گا۔ نوشاد کہتا ہے کہ اس وقت لتا منگیشکر ساڑھے چار سو روپے فی گانا لیتی تھیں۔ جب آصف واپس آئے تو انہوں نے کہا کہ بھئی ہم نے بہت غور کیا ہے، آپ آئے ہیں، لیکن ہم ایک گانے کے لیے پچیس ہزار سے کم نہیں لیتے ہیں۔ تو کہتے ہیں کہ آصف نے آنکھیں بھی نہیں جھپکیں۔ اس نے جیب سے پانچ ہزار روپے کی گڈی نکالی کہ یہ ایڈوانس ہے۔ یہ مغل اعظم اس طرح بنی‘۔

’چنانچہ میرے ساتھ بھی یہی ہوا۔ پروگرام ایسا ہٹ ہوا کہ آٹھ سال چلتا رہا اور اس نے مجھے متمول بھی کر دیا۔ میں نے گاڑی نئی لے لی اور چھت نئی ڈلوا لی‘۔

ہم غور کرنے لگے کہ اس شخص کی خوش قسمتی کا کیا عالم ہے، کہ جب حسن شیریں کو دیکھنے کا وقت تھا تو ایسی پریاں قطار در قطار آ موجود ہوئیں جن کو دیکھ کر شیریں بھی شرمائے۔ جب حسن فطرت کی طرف توجہ مبذول ہوئی تو فیری میڈوز سامنے آن کھڑی ہوئی۔ جب تمنا ہوئی کہ لاٹری نکل آئے تو شادی آن لائن ہو گئی۔ کم ہی خوش نصیب ہوتے ہیں جن کو شوق کے صلے میں چار پیسے بھی نصیب ہو جائیں۔

ہمارا رشک سے برا حال ہوا، مگر پھر یکلخت ایک خیال آیا جس نے اس معاملے کے تاریک پہلو کو بھی عیاں کر دیا جس کو یہ جواں حوصلہ شخص ایک مسکراہٹ تلے چھپائے ہوئے تھا۔ اس یونانی بادشاہ کا قصہ تو آپ نے سنا ہو گا کہ جس نے تمنا کی تھی کہ جس شے کو ہاتھ لگائے وہ سونا بن جائے، اور پھر کھانے پینے سے بھی محروم ہو گیا تھا۔ غور کیا تو ایسا ہی حال اس حسن پرست شخص کا نظر آیا جو کہ پروگرام میں آنے والی ہر حسن کی دیوی کو کسی دوسرے نوجوانوں سے بیاہنے پر مجبور تھا۔ خیال آیا کہ ایسے میں بندہ صوفی ہو کر روحانیت کی طرف مائل نہ ہو تو پھر اور کیا ہو؟

روحانیت کی بات چلی ہے تو بارے اگلے مضمون میں پھر تارڑ صاحب کے سفر حج کا بیان کرتے ہیں۔

پہلا مضمون: تارڑ: نکلے حسن کی تلاش میں


Comments

FB Login Required - comments

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 330 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar