پیمرا کی اُڈاری


1-yasir-pirzadaسیکس، ایک ایسی چیز ہے جو پوری دنیا میں ہاٹ کیک کی طرح بِکتی ہے ۔ اپنے ہاں چونکہ سر عام اس جنس کا چھابہ لگانا ذرا مشکل کام ہے سو یہ کام کچھ ٹی وی چینلز کی عورتوں (اور مبینہ مردوں)نے اپنے ذمے لے لیا ہے ۔ یہ لوگ آج کل ایسے ڈرامے بنا رہے ہیں جنہیں انگریزی میں بولڈ کہتے ہیں جبکہ مشتاق احمد یوسفی کے بقول پشتو میں ان کے لئے بہت برا لفظ ہے ۔پہلے تو اِن ڈراموں میں سٹار پلس کی نقل میں ساس بہو کے جھگڑے نمٹائے جاتے تھے، اب بھی بیشتر ڈراموں کا یہی موضوع ہے مگر فرق یہ پڑا ہے کہ اب اس مصالحے کی ہانڈی سے لوگ بور ہونے لگے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں ڈرامہ بنانے والوں نے اپنے ڈراموں کو ’’ہاٹ ‘ ‘ کرنا شروع کر دیا ہے ، یہ پایسی خوب رنگ جما رہی ہے اسی لئے اب ہر دوسرے ڈرامے میں لو افئیرز کی بھرمار ہو گئی ہے ۔بات لو افئیرز دکھانے تک رہتی تو شائد ٹھیک تھا مگر ہم پاکستانیوں کی ایک عادت ہے کہ اگر ہمیں ذرا سی چھوٹ ملے تو ہم حدود میں رہنے کی بجائے حد سے باہر نکل جاتے ہیں اور اس وقت تک حد میں واپس نہیں آتے جب تک کوئی ہمیں چھڑی سے ہانک کر واپس نہ لائے ، یہی پاکستانی ڈراموں کے ساتھ بھی ہو رہا ہے ۔

آج کل ایسے ہی ایک نجی چینل پر نشر ہونے والے ڈرامے میں ایک ایسے شخص کا کردار دکھایا گیا ہے جواپنی سوتیلی بیٹی پر بُری نظر رکھتاہے ۔ اس ڈرامے سے متعلق پیمرا کو بے شمار شکایات موصول ہوئیں جن پر کاروائی کرتے ہوئے پیمرا نے چینل کی انتظامیہ کو اظہار وجوہ کا نوٹس بھجوایا جس میں یہ کہا گیا کہ ڈرامے کے مذکورہ سین نا مناسب ہیں ۔ اِس بات کے بعد ہماری انگریزی بولنے والی اشرافیہ نے اِس ڈرامے کے حق میں ایک مہم شروع کر دی جس میں یہ دلیل تراشی گئی کہ ہمارے معاشرے میں یہ مکروہ کردار بستے ہیں اور وہ ایسی گھناؤنی حرکتیں کرتے ہیں ، ہمیں ایسے کرداروں کو اپنے ڈراموں میں ایکسپوز کرنا چاہیے تاکہ معاشرے میں اِس سے متعلق لوگوں میں شعور پیدا ہو ، کسی ایسی بات پر پابندی لگانا جو معاشرے میں وجود رکھتی ہو کبوتر کی طر ح آنکھیں بند کرنے کے مترادف ہے ۔ مذکورہ ڈرامے کے حق میں یہ مہم زیادہ تر انگریزی اخبارات ، بلاگز اور سوشل میڈیا پر چلائی جا رہی ہے جس میں یہ کہہ کر چینل کی تحسین کی جا رہی ہے کہ اِس چینل نے ایک بیباک قدم اٹھاتے ہوئے ’’نوبل کاذ ‘ ‘ کے تحت ایک معاشرتی برائی کو بے نقاب کیا جسے ہم ہضم نہیں کر پا رہے ۔

پہلے تو یہ بات طے کر لی جائے کہ کیا ایسے ڈراموں کا مقصد تفریح ہے یا عوام میں کسی قسم کے شعور کی بیداری ؟ جب بھی کوئی چینل یا پروڈیوسر کوئی تفریحی ڈرامہ بنانے کا فیصلہ کرتا ہے تو سب سے پہلے جو چیز اس کے ذہن میں آتی ہے اسے ریٹنگ کہتے ہیں جس کی بنیاد پر چینل کو اشتہارات ملتے اور جس سے ڈرامے کا منافع کمایا جاتا ہے ، لہذا اگر کسی صاحب یا صاحبہ کا خیال ہے کہ ایسے ڈراموں کا مقصد معاشرتی برائیوں کو بے نقاب کرنا یا عوام میں شعور اجاگر کرنا ہوتاہے تو میرا انہیں مشورہ ہے کہ گرمی کے اس موسم میں سردائی پئیں جس سے ان کے دماغ کی گرمی بھی کچھ کم ہوگی۔جن لوگوں کا نیک نیتی سے یہ مقصد ہو کہ بچوں میں یہ شعور اجاگر کیا جائے کہ انہیں کس طرح خود کو محفوظ رکھنا ہے ، وہ لوگ اس قسم کے ڈرامے بنانے کی بجائے چھوٹی چھوٹی تعلیمی ویڈیوز بناتے ہیں جن میں بچوں کو اُن کی سطح پر آ کر یہ سمجھایا جاتا ہے کہ انہیں اپنے جسم کے حصوں کو کب ، کیسےاور کس طرح کے لوگوں سے بچانا اور چھپانا چاہیے۔ دوسری طرف یہ ڈرامے ہیں جن میں ہدایت کار اور مصنف کو ذرا بھی خیال نہیں آیا کہ وہ دس بار ہ برس کی بچی سے ایک ایسا کردار کروارہے ہیں جس میں اُس کا سوتیلا باپ اسے نامناب انداز میں ہاتھ لگاتا ہے ، اس بچی کے دماغ پر اِس کا کیا اثر ہوگا ، اپنے چار پیسوں کے لئے اس ڈرامے کے تخلیق کار نے ایک مرتبہ بھی اس بچی کے بارے میں نہیں سوچا جس نے یہ کردار ادا کیا ہے ۔

جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ معاشرے میں یہ گھناؤنی برائیاں پائی جاتی ہیں تو انہیں ایکسپوز کیوں نہ کیا جائے، تو اس دلیل کو بنیاد بنا کر معاشرے میں ہونے والی تمام حرکتوں کو اگر ٹی وی پر نشر کرنا شروع کردیا جائے تو پھر وہ خواتین بھی ٹی وی نہیں دیکھ سکیں گی جو اِس قسم کے ڈرامے بناتی ہیں ۔ اگر آپ کا مقصد نیک نیتی سے کسی برائی کے مضمرات کوسامنے لانا ہو تو اس کی ٹریٹمنٹ ایسے کی جائے جس سے ڈرامے کے ناظرین کو سمجھ بھی آجائے اور کسی کو گراں بھی نہ گذرے ۔ کیا ہر قسط میں بار بار دو تین طویل سین ڈالنا ضروری ہےجس میں یہ دکھایا جائے کہ سوتیلا با پ اس بچی کے ساتھ کیا کرتا ہے ؟ اگر ضروری تھا تو اس کا ایک ہی مطلب ہے کہ آپ کا مقصد کسی معاشرتی برائی کا خاتمہ نہیں ، اسے پروان چڑھانا ہے ۔ جو کچھ اس ڈرامے میں دکھایا گیا ہے وہ بہرحال ایک exceptionہے معمول کی بات نہیں ،سو ایک منٹ کے لئے فرض کریں کہ کسی گھر میں ایک سوتیلا باپ اپنی بیٹی کے ساتھ یہ ڈرامہ دیکھ رہا ہو تو اس ڈرامے کے سین ان کے ذہنوں پر کیا نقش چھوڑیں گے ؟رہی بات ’’نوبل کاذ ‘ ‘ کی تو اس سے بڑا لطیفہ شائد کوئی نہ ہو کیونکہ یہ ڈرامہ ایک کینیڈین این جی او کے تعاون سے بنایا گیا ہے ، اگر مذکورہ ٹی وی چینل کو یہ ’’نیک کام ‘ ‘ کرنا ہی تھا تو اپنے ذرائع سے کرتے ، اس بات کا انتظار کیوں کیا کہ کوئی انہیں پیسے دے گا تو یہ ڈرامہ بنائیں گے!بات ایک ڈرامے کی نہیں ، بات منافقت کی ہے ۔ ایک بچہ بھی یہ جانتا ہے کہ ایسے تمام ڈرامے منافع کمانے کی غرض سے بنائے جاتے ہیں اور اِس میں قطعا کوئی حرج نہیں ، سوال تب اٹھتا ہے جب کوئی اخلاقیات کا عَلم بلند کرتا ہے اور یہ تاثر دیتا ہے کہ وہ تو اصل میں معاشرے کی اصلاح کا کام کررہا ہے ، پیسے کی حیثیت تو ثانوی ہے ۔
اس سارے معاملے میں پیمرا کا کردار قابل ستائش ہے ، جب سے ابصار عالم نے بطور چئیرمین اس ادارے کی سربراہی سنبھالی ہے پیمرا میں واضح فعالیت نظر آرہی ہے ۔ چند روز پہلے پیمرا نے ان تمام کرائم شوز پر بھی پابندی لگا دی جو ریٹنگ کے چکر میں ٹی وی چینلز پر دکھائے جاتے تھے ، خوشگوار حیرت اس بات کی ہے کہ نہ صرف لوگوں کی بڑی تعداد نے اس فیصلے کی حمایت کی ہے بلکہ بہت سے ٹی وی چینلز اور میڈیا ہاؤسز سے بھی اس اقدام کو سراہا ہے ۔ دراصل سیلف سنسر شپ کا یہ کام خود ٹی وی چینلز کو کرنا تھا مگر جب چینلز اس کام میں ناکام ہو گئے تو پیمرا کو مجبورا یہ پابندی لگانی پڑی جس کے لئے ابصار عالم کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے ۔ کیا ہی اچھا ہو اگر تمام ٹی وی چینلز اپنا ایڈیٹوریل بورڈ تشکیل دیں جس کے وہ قانوناً پابند ہیں تاکہ مستقبل میں پیمرا کے کسی انتہائی اقدام سے پہلے وہ اپنے طور پر اس بات کا تعین کر لیں کہ کون سا پروگرام نشر ہونے کے قابل نہیں ۔ ایک بات جو اس سارے قصے میں سامنے آئی ہے وہ یہ کہ لوگ خرافات نہیں دیکھنا چاہتے ، اگر ان پروگراموں کی ریٹنگ تھی تو کا مطلب یہ نہیں کہ لوگ انہیں پسند بھی کرتے تھے ، اگر ایسا ہوتا تو پیمرا کی پابندی کی وسیع پیمانے پر مخالفت کی جاتی ، ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ ویل ڈن ابصار عالم!


Comments

FB Login Required - comments