آئینہ بدل کیوں نہیں لیتے؟


farrah lodhiآگہی کسی عذاب سے کم تو نہیں۔ جب آپ ایک حد سے زیادہ علم رکھنے لگتے ہیں تو آپ خطرہ بن جاتے ہیں۔ اپنے لیے بعد میں اور اپنے اطراف میں بسے بے حس معاشرے کے لیے پہلے۔

جو راگ آپ کو کم از کم دس سال رٹائے جاتے ہیں اگر آپ ان کے علاوہ کوئی نیا سر چھیڑیں تو ان معزز سماعتوں کو ناگوار گزرتا ہے جو ازل سے ہی جھوٹی تاریخ، بے بنیاد روایات اور فضول معاشرتی عقائد کے سامعین ہیں۔ اور یہ سوال اٹھانے کی عادت تو مضر صحت ہے۔ کیوں اٹھاتے ہو آواز ایک بہرے معاشرے میں۔ جب ہم جیسی بے چین روحیں بات بات پر سوال اٹھاتی ہیں تو پتا ہے کس قدر گہری نیند میں ڈوبے سماج کو مخل کرتے ہیں؟ فائدہ کچھ نہیں۔ یہ آوازیں پلٹ کر ہمارے ہی پردوں سے ٹکرا جاتی ہیں مگر کچھ الفاظ، القاب، خطاب، تنبیہات اور شکایات کے ساتھ۔

میں کیوں پوچھتی ہوں کہ وہ اسکواش چیمپین کیوں ملک چھوڑ گئی؟ یہ کیوں ٹی وی پہ دکھاتے ہیں کہ باپ نے بیٹی سے زیادتی کی؟ مدرسے سے بچے کی برہنہ لاش کیوں ملی؟ اور یہ شرمین سال دو سال بعد ملک کو کیوں بدنام کرتی ہے؟ اتنا اچھا ملک ہے، اتنے بھلے لوگ۔ کیا ہوا کہ ایک دو درجن پر تیزاب ڈال دیتے ہیں، پچاس پچپن کو کاٹ کے پھینک دیتے ہیں، جلاتے، بہاتے یا دفنا دیتے ہیں۔ اس قدر معصوم اور پر سکون معاشرہ ہے۔ دیکھو ہمارے ایبٹ آباد کے لوگ کیسی گہری نیند سوتے ہیں کہ نہ انہیں امریکی ہیلی کاپٹر کی گڑ گڑ جگا پاتی ہے اور نہ اس بچی کی چیخیں جسے گھسیٹ کر، باندھ کر، جلا کر مار دیتے ہیں۔ آخر کیوں دوست کی مدد کی؟ بھئی پسند کی شادی کا حق مذہب اور قانون نے دیا ہے مگر معاشرے نے نہیں۔ چلی تھیں معاشرے کو للکارنے۔

یہ میری ہمدردی بھی نہ سر دردی بنتی جا رہی ہے۔ اب اس دل میں نیا درد اٹھا ہے پشاور میں اس مخنث کے تڑپ تڑپ کر مرنے کا۔ ارے اس دلنوازی اور شوق کا اندازہ لگائیے جو اس منچلے ڈاکٹر نے دکھائی جب مریض کو اس کے حال پہ چھوڑ کر اس کے ساتھی سے پوچھا گیا: “ایک رات کا کیا معاوضہ لیتے ہو؟”

مگر خیر قوم بدنام نہ ہو جائے۔ یوں لگتا ہے یہ آئینے ہی ہم سے جلتے ہیں جو اس قدر بھدا اور بد صورت عکس دکھاتے ہیں۔ اتنا معصوم، رحمدل، پرخلوص اور ہم آہنگی سے بھرپور معاشرہ ہے۔ نجانے مجھ جیسے لوگ “چھوٹی چھوٹی بات” پر دل چھوٹا کیوں کر لیتے ہیں۔

چلو آئینہ بدل لیتے ہیں۔ داغ جائے نہ جائے کسے پرواہ۔ ایک ایسا آئینہ ہو جو سکون، چین اور خوبصورتی دکھائے۔ نہ اس میں کسی مسیحی جوڑے کی سوختہ لاشیں دکھیں، نہ صفورا گوٹھ پہ خون کے چھینٹے۔ نہ اس میں کسی ماں کی بچوں سمیت خودکشی ہو اور نہ کسی عامل کے ہاتھوں لٹی لڑکی کے زخم۔

آخر میں ان سب سے گزارش جو ناراض ہو کر اپنی تمام توانائی میرے ان باکس کی نذر کرنے والے ہیں، فیض صاحب آپ سب کے نام۔۔

دیکھیں ہے کون کون، ضرورت نہیں رہی

کوئے ستم میں سب کو خفا کر چکے ہیں ہم


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “آئینہ بدل کیوں نہیں لیتے؟

  • 28-05-2016 at 2:53 pm
    Permalink

    سنا تھا
    “آئینہ جھوٹ نہیں بولتا”
    جھوٹ سنا تھا.

  • 29-05-2016 at 12:01 am
    Permalink

    Zabradst well written

Comments are closed.